• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کافروں کی بنائی چیزیں نکال کر گھر میں کیا بچے گا؟۔۔۔حافظ صفوان محمد

کافروں کی بنائی چیزیں نکال کر گھر میں کیا بچے گا؟۔۔۔حافظ صفوان محمد

چند دن سے یہ جملہ کئی پوسٹوں اور ٹویٹس پر نظر آ رہا ہے کہ آپ اگر کافروں کی بنائی چیزیں نکال دیں تو گھر میں کیا بچے گا؟ مجھے یہ سوال اور اس کا جواب پہلی بار 2002 میں شارع ستین مکہ مکرمہ میں ملا۔

میں حج پر تھا اور ایک سہ پہر ہم لوگ پاکستان کے ایک معروف سائنسدان کے ہاں مدعو تھے جو وہاں ریٹائرمنٹ کے بعد رہ رہے تھے۔ تبلیغی مرکز رائے ونڈ کے ایک بڑے بزرگ نے کھانے سے پہلے تبلیغی گفتگو فرمائی جس میں اسلامی ثقافت کے رنگ پھیکے پڑنے اور کفار کی ثقافتوں کے چھا جانے کو نام بنام ذکر کیا۔ فرماتے رہے کہ کفار کی ثقافت ہمارے گھروں میں داخل ہوگئی ہے اور مدینے والی سنتیں ہمارے گھروں سے نکل گئی ہیں۔ ہم مسلمان انگریز کا لباس پہنتے ہیں اور ہم اپنے گھروں کی تعمیر اطالوی طرز پر کرتے ہیں۔ ہمیں نبوی طرز والی سادہ سنت زندگی کو زندہ کرنا ہے اور اسے رواج دینا ہے۔ مولانا فرما رہے تھے کہ مسلمانوں کی ترقی کی انتہا یہ ہے کہ وہ مدینہ والے دور میں واپس پہنچ جائیں تاکہ دورِ نبوی والی برکتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مولانا کا بیان جاری تھا اور میں دیکھ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر میں B&B Italia کا خوبصورت فرنیچر رکھا ہے۔

بہرحال مولانا کا بیان ختم ہوا۔ پھر کھانے کا دور چلا۔ جب بیشتر مہمان چلے گئے اور ہم انفارمل گپ شپ کرنے لگے تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ مولانا، آپ کی بات درست ہے کہ ہم مسلمانوں کی ترقی کی انتہا یہ ہے کہ ہم مدینہ والے دور میں واپس پہنچ جائیں، لیکن جس طرح آپ پاکستان سے جہاز پر بیٹھ کر مزے سے جدہ آئے ہیں ہم اسی طرح سہولت سے مدینہ والے دور میں جائیں گے۔ میرے ڈرائنگ روم میں بھی اٹالین فرنیچر ہے اور بیڈ روم میں بھی Carlo کا فرنیچر ہے۔ ان غیر ملکی برانڈز کو مکہ اور مدینہ لاکر ہم ان لوگوں کو اسلام کے ماحول اور ثقافت سے قریب کر رہے ہیں تاکہ یہ لوگ اسلام لے آئیں۔ کافروں کی بنائی چیزیں ہم گھروں سے تو بعد میں نکالیں گے، کافروں کی بنائی چیزیں اگر ہم خانہ کعبہ سے نکال دیں تو پیچھے خالی میدان بچے گا جس میں مٹی کے ڈھیلوں اور جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور اہلِ ایمان بعد از وٹوانی جھاڑیوں سے لکڑیاں توڑ کر مسواک فرما رہے ہوں گے۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اسلام ساری دنیا کے لیے اور قیامت تک کے لیے آیا ہے نہ کہ چند مخصوص علاقوں کے لیے۔ کیا برفانی علاقوں میں ٹخنوں سے اوپر شلواریں پہن کر گھوما جاسکتا ہے؟ برفانی علاقوں کے رہنے والے لوگ کیا اسلامی سادگی کے نام پر گھروں سے ان کافروں کا ایجاد کردہ حرارت کا نظام نکال باہر پھینکیں؟ گرم ممالک میں اے سی کی کیا ضرورت؟ کیوں نہ اسلامی سادگی کے نام پر لیلیٰ و محمل کے زمانے کے مزے لوٹے جائیں اور کھجور کے پتوں سے بنے مورچھل جھلے جائیں؟ اور ہاں، کافروں کی بنائی مشینوں سے سلائی کرنے کے بجائے اپنے لباس کی عین سنتِ رسول کی پیروی میں خود بیٹھ کر پیوند کاری کیجیے۔ کافروں کے ملک میں کافر ڈاکٹر جو کلمہ پڑھے بغیر چیر پھاڑ شروع کر دیتے ہیں ان کے پاس جانے کے بجائے پچھنے لگوانے والے سرجنِ اعظم کے پاس جایا کیجیے۔ اسلامی سادگی اپنائیے اور اپنی بیویوں کے لیے حجرات تعمیر کیجیے، اور دنیا و عقبیٰ میں فیض یاب ہوئیے۔ صاف بات ہے کہ اگر آپ نے مدینہ کی یہ والی زندگی گزارنی ہے تو کچے مکانوں میں رہیے، بکریاں پالیے، حج کے حج گوشت کھائیے اور سال کے باقی دنوں میں وہی کھائیے جو اپنے اونٹ کو کھلاتے ہیں۔ اور اگر مدنی زندگی سے مراد اسلامی زندگی ہے تو ان عظیم مسلمانوں کے اطوار اپنائیے، کوئی کنواں خرید کر وقف کیجیے، کسی بڑھیا کی چکی پیسیے، کسی بچے کو پڑھا دیجیے۔۔۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ باتیں اس مزے مزے کے پنجابی چٹکلوں میں لپیٹ کر کہیں کہ مزہ آگیا۔ ان کے زمزمے آج تک کانوں میں گونجتے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کافروں کی بنائی چیزیں نکال کر گھر میں کیا بچے گا؟۔۔۔حافظ صفوان محمد

  1. بہت خوبصورتی سے دین کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو
    نہایت چبھتی ہوئی بات کہ دی ہے حافظ صاحب۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *