رمضان میں کچھ مساجد خواتین پر بند کیوں کردی گئیں ؟

اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں اور برطانیہ میں کچھ مساجد میں خواتین کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دے جا رہی ہے لیکن بعض خواتین اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ صورتحال تبدیل ہو۔

الماس اپنی روزمرہ کی زندگی میں مذہبی عبادات کے لیے بمشکل ہی وقت نکال پاتی ہیں۔ وہ تین بچوں کی ماں ہیں اور اکیلی ہیں۔ وہ بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ یونیورسٹی کی ڈگری بھی حاصل کر رہی ہیں۔ اسی لیے رمضان کا مقدس مہینہ اُن کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

tripako tours pakistan

وہ کہتی ہیں ‘میں ہفتے کے آخر میں نماز تراویح پڑھنے کی منتظر تھی خاص طور پر جب ہمارے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘لیکن جب میں نے اپنی مقامی مسجد سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ‘بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو اجازت نہیں ہے۔‘

الماس اس پابندی کا سامنا کرنے میں تنہا نہیں ہیں۔ برطانیہ میں متعدد مساجد نے خواتین کے لیے مسجد میں موجود نماز کی جگہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیادہ تر کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی پابندیاں ہیں۔

الماس جیسی خواتین صرف رمضان کے دوران نماز باجماعت تراویح کی نماز ہی سے محروم نہیں بلکہ وہ نماز جمعہ سمیت مسجد میں عبادت نہیں کرسکتی ہیں۔

دوسرے درجے کی شہری

گو کہ بہت سے خاندان گھر میں ایک ساتھ نماز ادا کرتے ہیں، مساجد میں عبادت صنفی بنیادوں پر علیحدہ ادا کی جاتی ہے۔

کچھ جگہوں پر خواتین ایک ہی جگہ پر مردوں کی صفحوں کے پیچھے نماز پڑھتی ہیں۔ زیادہ تر مساجد میں مردوں اور عورتوں کے لیے نماز پڑھنے کے لیے علیحدہ جگہ ہوتی ہے جہاں مرکزی ہال میں مرد جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ ہال ہوتا ہے۔

لیکن تمام مساجد میں خواتین کے لیے جگہ نہیں بنائی جاتی ہے۔ برطانیہ میں ایک چوتھائی سے زیادہ مساجد میں خواتین کے لیے مختص کوئی بھی جگہ نہیں ہے۔ ایسی مساجد جن میں مرد اور خواتین دونوں کے لیے جگہ بنائی جاتی ہے وہ ہمیشہ برابر نہیں ہوتی۔

انیتا نیئر، جو سب کے لیے مساجد تک رسائی ممکن بنانے کے لیے Open my Mosque نامی مہم چلاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ‘خواتین کے حصے میں اکثر سیکنڈ کلاس جگہ آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ مردوں کے حصے سے چھوٹی ہوسکتی ہے، تہہ خانوں میں، بند دروازوں کے پیچھے یا ان تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا پڑتا ہے، یا بعض جگہوں پر یہ صرف کبھی کبھار کھلی ہوتی ہیں۔‘

اور وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وبا کے دوران ایسی مساجد جن میں خواتین کے لیے مختص جگہ ہوتی تھی وہاں خواتین کو یا تو مردوں کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے نہیں آنے دیا جا رہا یہ اس وجہ سے کہ انتظامیہ محسوس کرتی ہے کہ وہ خواتین کے لیے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں پر عمل پیرا ہونے کا اہتمام نہیں کرسکتے۔‘

مسلم خاتون

بی بی سی نے ماہ رمضان کے بارے میں پالیسی جاننے کے لیے برطانیہ کی سب سے بڑی 29 مساجد سے رابطہ کیا۔

پانچ کے پاس خواتین کے لیے مخصوص جگہ نہیں ہے، جبکہ چھ مساجد نے یہ جواب دیا کہ وہ کووڈ 19 سے منسلک صحت اور حفاظتی تدابیر کی وجہ سے خواتین کے لیے گنجائش نہیں نکال سکتے ہیں۔ 12 مساجد خواتین کے لیے کھلی ہیں، جبکہ سات نے جواب نہیں دیا۔

ان میں لندن کی بیت الفتوح مسجد اور گرینیچ اسلامک سینٹر کے علاوہ لوٹن میں جامعہ ال اکبریا اور سکاٹ لینڈ میں لنارکشائر مسجد شامل ہیں۔

بی بی سی نے الماس کی مسجد، ملٹن کینز اسلامک سینٹر سے رابطہ کیا، پہلے تو مسجد نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن بعد میں کہا کہ مرکز خواتین کے لیے نماز کے لیے کھلا ہے اور 2021 کے رمضان کے بارے میں ان کی پالیسی سے متعلق جو آن لائن معلومات ہیں کہ بوڑھے، 12 سال سے کم عمر کے بچے اور عورتوں نہیں آسکتے، وہ دراصل پالیسی کا ’آزمائشی دور‘ تھا۔

الماس کا کہنا ہے کہ ‘مایوس کن بات یہ ہے کہ یہاں خواتین کے لیے مختص جگہ ہے اور نیچے تین بڑے کمرے موجود ہیں۔’ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ‘میں مسجد میں دوسری خواتین کو بھی جانتی ہوں جو بیوہ ہیں اور جو اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہتی ہیں۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔

’اگر اس سے مجھ پر اثر پڑ رہا ہے تو، میں سمجھ سکتی ہوں کہ اس سے ان خواتین پر کیا اثر پڑ رہا ہوگا۔‘

‘یہ بالکل ممکن ہے’

برطانوی مساجد تک خواتین کی رسائی زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے کوشاں حقوق نسواں کے لیے مہم چلانے والی جولی صدیقی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں اس موضوع پر بات کی گئی ہے کہ اس مہینے میں انگلینڈ کے علاقے سلاؤ میں واقع ان کی مسجد، جامع مسجد اینڈ اسلامک سینٹر خواتین کے لے بند ہے۔

انہیں برطانیہ سے سینکڑوں خواتین کے پیغامات موصول ہوئے جن کے اس معاملے میں ایک ہی جیسے تجربات تھے۔

وہ کہتی ہیں ‘میں صحت اور حفاظتی تدابیر کی بات سمجھتی ہوں۔’

وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘ہماری مسجد میں کافی جگہ ہے، یہ اس مسجد میں مکمل طور پر قابل عمل ہے۔ تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ بات کووڈ سے آگے کی ہے۔ یہ ایک خاص ذہنیت کا مسئلہ ہے۔ ایک ایسی ذہنیت جو مردوں کو بتاتی ہے کہ وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا خواتین مسجد میں نماز پڑھنے جاسکتی ہیں‘۔

اُن کی مسجد کی انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی خواتین رضاکاروں سے مشورہ کرنے کے بعد لیا تھا جو خواتین میں وسائل کی کمی کے بارے میں فکر مند تھیں۔ مسجد کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ رضاکاروں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

لندن کی بیت الفتوح مسجد کا جہاں خواتین کی آمد پر پابندی ہے، کہنا ہے کہ ‘اسلام میں خواتین کا مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا فرض نہیں ہے جبکہ مردوں کے لیے یہ فرض ہے۔‘

کچھ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ باجماعت نماز مردوں کے لیے فرض ہے جبکہ خواتین پر فرض نہیں، وہ گھر میں بھی عبادت کرسکتی ہیں۔

مسجد نے اپنے بیان میں مزید کہا ‘جیسے ہی پابندیوں میں کمی آئے گی، خواتین ایک بار پھر نماز کے لیے مسجد کا استعمال کرسکیں گی۔‘

لیسٹر شہر کے ایک امام، شیخ ابراہیم موگرا کا کہنا ہے کہ ‘مردوں اور عورتوں دونوں کو مساجد میں یکساں جگہ دینی چاہیے’ لیکن انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ‘کچھ روایات کے مطابق خواتین کے مساجد میں اجتماع سے بہتر ہے کہ وہ گھر میں نماز ادا کریں، لہذا مسلمانوں میں اس بارے میں رائے منقسم ہے۔‘

کچھ مساجد نے اپنا مؤقف بدلہ ہے۔ ہاؤنسلو جامعہ مسجد اینڈ اسلامک سینٹر نے پہلے صرف مردوں کے لیے مخصوص کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن رمضان کے آغاز میں خواتین کی مساجد تک رسائی کے بارے میں ان لائن بحث کے بعد انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی۔

مسلم کاؤنسل آف برٹین کی صدر زارا محمد نے کہا ہے کہ مساجد کے لیے ادارے کے رہنما اصول یہ ہیں کہ مردوں اور خواتین کے لیے رمضان کے دوران یا سال بھر منصفانہ طور پر رسائی ممکن بنائی جانی چاہیے۔

’خواتین کو مساجد کی معمولات اور اس کی ترقی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے اور ہم اس بارے میں بامقصد مذاکرات کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور خواتین کی مساجد تک رسائی کو یقینی بنانے کے عملی حل ڈھونڈنے چاہییں۔‘

Advertisements
merkit.pk

بی بی سی رپورٹ

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply