انفارمیشن کا لالچ (23)۔۔وہاراامباکر

پودے روشنی کی طرف جاتے ہیں۔ ان کے حل کرنے کا معمہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ روشنی کونسی پوزیشن میں حاصل ہو سکے گی۔ اگر آپ پودوں کے بڑھنے کی ویڈیو فاسٹ موشن میں دیکھیں تو نظر آئے گا کہ وہ روشنی کے ذریعے کی طرف بڑھتے ہیں اور کچھ آگے نکل جاتے ہیں اور پھر اپنی سمت بدلتے ہیں اور اس بار کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہی پیٹرن نظر آئے گا۔ یہ پہلے سے پلان کئے جانے والے مشن کے بجائے خود کی اصلاح کا جھومتا رقص لگے گا۔
بیکٹیریا بھی اسی طرح کی حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔ اگر فرض کیجئے کہ کھانے کی میز پر تھوڑی سا میٹھا گر گیا ہے، بیکٹیریا اپنی مرغوب خوراک کے سورس کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے مرکز تک پہنچنا ہے۔ اس کے لئے یہ تین سادہ اور خوبصورت اصول اپناتے ہیں۔
پہلا: کسی بھی سمت کو منتخب کر لیں اور سیدھا چلتے رہیں۔
دوسرا: اگر چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں تو اسی سمت میں سفر جاری رکھیں۔
تیسرا: اگر چیزیں خراب ہو رہی ہیں تو رینڈم طریقے سے سمت تبدیل کر لیں۔
خلاصہ کہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب بہتری ہو رہی ہو تو جو کر رہے ہیں، اسے جاری رکھیں اور اگر خراب ہو رہی ہیں تو کچھ نیا کریں۔ اس سادہ پالیسی کی وجہ سے بیکٹیریا انتہائی پُھرتی اور ایفی شنٹ طریقے سے خوراک کے ذریعے کے سب سے بہترین مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دماغ پر بھی یہی اصول کام کر رہا ہے۔ دماغ کا مقصد روشنی یا خوراک نہیں بلکہ انفارمیشن ہے۔ اس کی حکمتِ عملی اس کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔ اس کو انفوٹروپزم کہا جا سکتا ہے۔ یہ تجویز کرتا ہے کہ نیورل سرکٹ کی تبدیلی خود کو مسلسل تبدیل اس طریقے سے کرتی ہے کہ ماحول سے زیادہ سے زیادہ انفارمیشن حاصل کی جا سکے۔
دماغ حسیاتی اعضاء سے آنے والی انفارمیشن کو استعمال کرتا ہے۔ فوٹون، الیکٹرک فیلڈ یا بو کے مالیکیول۔ دماغ جسم کو حرکت دیتا ہے، خواہ ٹانگیں ہوں، پر، پنکھ یا روبوٹک بازو۔ جو بھی ہو، دماغ اپنے سرکٹ کو فائن ٹیون کرتا ہے کہ دنیا سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کی سٹریم اس کو مل سکے۔ اس فائن ٹیوننگ کو مدد کرنے کے انعامات ہیں۔ یہ اس پورے نیٹ ورک میں اعلان کرتے ہیں کہ کس حکمتِ عملی نے کام کیا ہے۔ اور یوں، کم سے کم پروگرامنگ میں سسٹم خود کو دنیا سے انٹرایکشن کے لئے optimize کر لیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ زبان سیکھنے کے لئے نشیب و فراز کس طریقے سے بناتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ اہمیت کے حامل ڈیٹا کو اکٹھا کیا جا سکے۔
وقت کا سکیل طویل کریں تو ایک نابینا کے لئے دوسری حسیات بصری کورٹیکس کے علاقے پر قبضہ کرنے لگتی ہیں۔ نیورون یہ کام کیسے سرانجام دیتے ہیں؟ اس پر تفصیل آئندہ لیکن یہ سب اس لئے ہے کہ دماغ اپنے ذرائع کو اس طریقے سے استعمال کر رہا ہے کہ اس تک پہنچنے والے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا سے معنی اخذ کر سکے۔ جس طرح پودے کو روشنی کا، بیکٹیریا کو شوگر کا لالچ ہے، دماغ کا لالچ انفارمیشن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیورون کی سطح پر اس کی مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ ہمارا ریٹینا (آنکھ کے پیچھے کی جگہ) دنیا کو دن اور رات کو انفارمیشن کو فرق طریقے سے پڑھتا ہے۔ دوپہر کی چمکتی دھوپ میں پکڑنے کے لئے بے تحاشا فوٹون ہیں اور ہر فوٹوریسپٹر منظر کے چھوٹے سے نقطے کی پرواہ کرتا ہے اور اچھی ریزولیوشن مل جاتی ہے۔ رات کو کہانی ایسی نہیں۔ فوٹونز کی قلت ہے۔ اب یہ جاننا تو اہم کہ کوئی شے موجود ہے لیکن ریزولیوشن اتنی اہم نہیں۔ فوٹوریسپٹر اب جس طریقے سے کام کرتے ہیں، وہ تکنیک ہی مختلف ہے۔ اندرونی مالیکیولر cascade کی تفصیلات ہی بدل جاتی ہیں اور یہ الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے ملکر کام کرنے لگتے ہیں۔ اس طریقے میں یہ ڈیٹکٹ کرنے میں تو وقت لگتا ہے کہ کوئی شے موجود ہے لیکن ملکر کام کرنے کی وجہ سے روشنی کی بہت کم سطح پر بھی بصارت کام کرتی رہتی ہے۔ یہ زبردست حکمتِ عملی ہے جس کی وجہ سے ریٹینا روشنی کے بہت سے لیولز پر آسانی سے اپنا فنکشن جاری رکھتا ہے۔ جب روشنی زیادہ ہے تو یہ نظام اپنی ریزولیوشن بڑھا کر واضح تصویر دکھا دیتا ہے۔ جب اندھیرا ہے تو فوٹوریسٹپرز آپس میں تعاون کر کے فوٹون پکڑنے کی حساس مشین بن جاتے ہیں۔کم روشنی میں بھی بصارت جاری رہتی ہے۔ سسٹم اس پر بے تحاشا کام کرتا ہے کہ انفارمیشن مفید ترین انفارمیشن پکڑی جائے۔ اور انفارمیشن کا بہاوٗ بیرونی حالات کے مطابق زیادہ سے زیادہ رکھا جا سکے۔ فوٹون زیادہ ہوں یا کم، ریٹینا کی optimisation ڈیٹا پکڑنے کے لئے ہے۔ دن میں خرگوش دور سے نظر آ جائے گا۔ مدہم روشنی میں حرکت کرتے جانور کا ہیولہ پہچانا جائے گا۔ قدرت نے نہ صرف یہ دریافت کر لیا ہے کہ آنکھ کیسے بنانی ہے بلکہ یہ بھی کہ اس کے سرکٹ کو بدلتے تناظر کے ساتھ کیسے ہم آہنگ رکھنا ہے۔ جو کچھ بھی دستیاب ہے، اس کا بہترین استعمال کرنا کیسے ہے۔
بائیولوجیکل مشینری انفارمیشن مشینری ہے۔ بائیولوجیکل مشینری کی اعلٰی ترین trick دماغ ہے۔ دماغ کی دلچسپی کا محور انفارمیشن ہے۔ انفارمیشن زنده رکھتی ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *