شکریہ ڈرون شریف

تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ      APS      School    کے ماسٹر مائنڈ امیر عمر خالد خراسانی ڈرون حملے میں جاں بحق ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغان صوبے پکتیا میں ڈرون حملے میں تحریک طالبان  کمانڈرز عمر منصور اور خالد خراسانی  اپنے 9 ساتھیوں کے ساتھ  مارے گئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اندوہناک واقعات میں سے ایک واقعہ APS   School کے بچوں کی شہادت تھی، یہی وہ واقعہ تھا جس کے بعد ہمارے تمام حکومتی ادارے آخری بار ایک پیج پر جمع ہوئے تھے  اور  پارلیمنٹ میں ایک تاریخی فیصلے کے بعد فوجی عدالتوں کی اجازت دی گئی تھی۔ اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف کو یہ اختیار دیا اور ایک بڑے بجٹ کے ساتھ آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا ۔

لیکن بد قسمتی سے APS        School کے شہید بچوں کے لواحقین آج بھی انصاف کا رستہ  دیکھ  رہے ہیں، اس واقعہ کے بعد سے اب تک احسان اللہ احسان کی گرفتاری یا رضاکارانہ گرفتاری کے باوجود تاحال کوئی مثبت عملی اقدام نظر نہیں  آیا۔ جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا کہ اصل مجرموں کو کوئی سزا مل سکی ہے۔

ریاست کے اس تصور کا احساس کتنا تکلیف دہ ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پچھلے ہفتے میں امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاعات پر پاکستانی آرمی نے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرکے ایک کینیڈین جوڑا بازیاب کروالیا، مذکورہ جوڑے میں موجود خاتون کا تعلق امریکہ سے تھا، اس بازیابی کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کے لئے شکریہ کا ٹوئٹ، اور گزشتہ دو ماہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی سرد مہری میں یکایک ایک گرمجوشی اور تبدیلی کا باعث بنا۔ ایک ریاست جو اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے اور تیسری دنیا کے ایک ملک کا شکریہ ادا کرتی ہے، صرف ایک شہری کے لئے، کیونکہ مہذب ریاست کے نزدیک اس کا ایک ایک شہری اتنا قابل عزت اور اہمیت کا حامل ہے ۔

لیکن پاکستان کی آرمی آج بھی پاک افغان سرحد محفوظ نہ کر سکی، آج بھی یہ سرحد پر مزید 750 قلعے اور ہر 400 میٹر پر ایک پوسٹ بنانے کا عندیہ دے کر عوام کو سرحد محفوظ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں ۔پاکستان کی عوام نے نواز شریف کو ووٹ کی طاقت سے منتخب کر کے شکریہ نواز شریف کہا۔پاکستان کی عوام نے چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف کو سر آنکھوں پر بٹھا کر شکریہ راحیل شریف کہا۔لیکن انہوں نے پاکستان کی عوام کی ہر امید پر پانی پھیر دیا۔گزشتہ 15 سالوں میں ہر مرکزی دہشتگرد کو  ڈرون کے ذریعے ہی مارا گیا، ورنہ پاکستان کی آرمی کے کریڈٹ میں تو صرف عصمت اللہ معاویہ اور احسان اللہ احسان ہی ہیں۔جن کو  جیسے مین اسٹریم  پر لایا گیا ہے ، اس پر مزید بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔

پاکستان کے ایک عام شہری کی حیثیت سے میں تو بس یہ کہوں گا۔
نہ  ہی شکریہ نواز شریف
نہ  ہی شکریہ راحیل شریف

بس صرف اور صرف شکریہ ڈرون شریف !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *