• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انقلاب ایران: “اٹھا ہوں آنکھوں میں اک خواب ناتمام لیے”( قسط چہارم)… ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

انقلاب ایران: “اٹھا ہوں آنکھوں میں اک خواب ناتمام لیے”( قسط چہارم)… ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

SHOPPING
SHOPPING

انقلاب، آئیڈیالوجی اور  انقلابی وسائل کا استعمال

انقلاب کے نظریہ ساز چارلس ٹلی Charles  Tilly  کے مطابق انقلاب کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ گورنمٹ اور انقلاب کے لیڈروں کے پاس جو جو وسائل موجود ہوں، وہ انہیں کس طرح حرکت میں لاتے ہیں۔ وسائل سے مراد انسانوں کی تعداد، رقم، ہتھیار اور  پراپیگنڈا کرنے کی صلاحیت وغیرہ سبھی کچھ شامل ہے۔ یہ تمام وسائل انقلاب کے عمل میں حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم ہوتے ہیں۔ برخلاف خیال عام تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انقلاب کے لئے موزوں زمینی حالات پیدا کرنے میں انقلابی گروپوں کا، ان کے لیڈروں اور ان کی آئیڈیالوجی کا ہاتھ تلاس کرنا کافی مشکل امر ہے۔ پروفیسر تھیڈا سکوک پول کا انقلاب کا تجزیہ اسی طرف توجہ دلاتا ہے کہ حکومت کے انتظامی ڈھانچے کا کمزور ہونا اور ریاست کے نظام کا بگڑنا انقلاب کی پہلی  شرط ہے۔ ریاست کا نظام اپنے اندونی تضادات یا باہر کے کسی ملک کے ساتھ جنگ کی وجہ سے کمزور ہو کر ٹوٹتا ہے۔ ایران میں رضا شاہ نے حکومت کرتے ہوئے ایران کے شہریوں کو انسان کی بجائے اشیائے صرف سمجھنا شروع کر دیا تھا اور یوں انقلاب کی وجوہات خود ہی مہیا  کر دی تھیں۔ ایران کی معاشی بنیادوں کی کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ریاست اپنی آمدنی کے لئے صرف تیل اور گیس پر انحصار کر رہی تھی۔ “ریسورس کرس” کا ذکر پہلے ہو چکا ہے، اسے ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

بھلے دنوں میں ایران کی 98 فیصد آمدنی کا ذریعہ یہی دو  زمینی وسائل تھے یعنی تیل اور گیس۔ انیس سو ستر کی دہائی کے وسط میں پوری دنیا میں معاشی بحران آیا تو تیل کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔ 1976 کے پہلے چند مہینوں میں ایران اپنے واجبات کی ادائیگی میں 3 بلین ڈالر پیچھے تھا۔ ملک کے اندر بھی حالات بگڑنے لگے اور امراء نے اورصنعتی اداروں نے اپنا سرمایہ تیزی کے ساتھ ملک سے باہر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ہر مہینے ایک سو ملین ڈالر ایران سے باہر نکالے جا رہے تھے۔ ملک کے اندر ہر قسم کی اشیاء اور اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا تھا۔ شہری علاقوں میں عمومی طور پر اور تہران میں رہائش کے اخراجات 1974-76 میں تین سو فیصد اوپر چلے گئے۔ ملازمت پیشہ عوام کا روزگار چھن گیا ۔  شہروں میں 9 سے10 فیصد اور دیہاتوں میں 20 سے 30 فیصد لوگ بے روزگار ہو گئے۔ حکومتی علماء کی مالی مراعات میں کمی کر دی گئی اور ضروریات زندگی کی  قیمت کو نیچے لے کر آنے کے لئے بازار کے تاجروں پر جرمانے عائد کئے جانے لگے۔ شاہ کے پورے دور حکومت میں صرف ایک بازار ہی ان کی “اصلاحات” سے بچا تھا، حزب رستہ خیز  پارٹی بنا کر اور  1978 میں جرمانے کر کے شاہ نے وہاں بھی اپنے نام کی لٹیا ڈبو دی۔ یہی بازاری انقلاب کے دوران ایک بہت بڑی طاقت بن کر سامنے آئے۔

انقلاب کے بعد امام خمینی کے صاحبزادے نے اپنی ایک تقریر میں مذہبی علما کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک وہ جو بادشاہ کے حمایتی تھے۔ دوسرا بہت بڑا گروہ  ان علماء کا تھا جو  اپنے آپ کو  سیاست سے دور رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے انہیں ان کی مذہبی دین داری کے نامعتبر ہو جانے کا ڈر تھا۔مگر حالات کے ساتھ سوچ اور نظریات بھی بدل جاتے ہیں۔انقلاب کے دوران یہ گروپ اپنے سے بہت چھوٹے گروپ سے جا ملا جن کے نزدیک سیاست اسلام کا حصہ ہے۔  امام خمینی صاحب اس تیسرے گروپ کے لیڈر کے طور پر اپنی جگہ 1963 سے بنا چکے جب انہوں سیاست اور مفادات کی بدلتی رو کو محسوس کر لیا تھا۔ اس کے بعد ابتدا میں انہوں نے قید و بند اور پھر جلا وطنی کے پندرہ سال کاٹے۔ آخری دنوں میں وہ فرانس میں تھے۔ زرعی زمین کی اصلاحات کے بارے میں انہوں نے شاہ کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا، “۔۔۔یہ حکومت اسلام اور اس کے مقدس قوانین کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ صرف اسلام اور مذہبی علماء ہی ہیں جو کلونیل ازم کا راستہ روک سکتے ہیں”۔

ایران میں انقلاب کا عمل

جیرلڈ گرین لکھتے ہیں کہ انقلاب کے عمل کی چند خصوصیات ہر جگہ نظر آتی ہیں: اس میں مختلف الخیال گروپ اور گروہ اکٹھے ہونے لگتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حکومتی اشرافیہ میں پھوٹ پڑنے لگتی ہے۔ ریاست کا اثرورسوخ کمزور ہو جاتا ہے اور وہ لوگ جو سیاست سے دور رہتے ہیں وہ بھی سیاست کے میدان میں آجاتے ہیں۔ ایسے میں انقلاب کو شروع کرنے کےلئے ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے جواب میں ریاست کا رد عمل حالات کو سدھارنے کی بجائے مزید بگاڑتا ہے۔

منطقی طور پر اب ہمیں انقلاب ایران کے واقعات کی جانب نگاہ کرنی چاہئے۔ چونکہ یہ تفصیل ہر کتاب اور اخبار میں موجود ہے اور بآسانی میسر ہے، اس لئےمضمون کی طوالت کے پیش نظر آگے چل کر صرف دو تین واقعات کا حوالہ دیا جائے گا۔ [واقعات کی ٹائم لائن سے متعلقہ مواد بروکنگ انسٹیٹوٹ کی ویب سائٹ، بی بی سی اور وکی پیڈیا پر ترتیب وار موجود ہے] ۔

ان واقعات کو پڑہتے ہوئے انقلاب کے بارے میں جو بصیرت  کشید کی جا سکتی ہے اس میں اشرافیہ میں پھوٹ پڑنے کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔ انقلاب کی وجوہات اور شروعات میں آئیڈیالوجی کا دخل بہت کم ہوتا ہے۔ انقلاب میں سب سے اہم کام مناسب وقت پر عوامی قوت کو استعمال کرنا ایک لازمی امر ہے۔یہ عجیب اتفاق ہے یا قسمت کی ستم ظریفی  کہ ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھنے والے گروپ بھی ایک دوسرے کے قریب آنے لگتے ہیں جنہیں حکومت کے بیوقوف رویے اور زیادہ قریب ہونے کا جواز فراہم کر دیتے ہیں مگر متحارب گروپ نظریاتی طور پر صلح نہیں کرتے۔ ان کا اتحاد وقتی ہوتا ہے۔یہ سارے نکات حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

جنوری 1978 میں تہران کے اخبار “اطلاعات” نے امام خمینی صاحب کے خلاف جھوٹ پر مبنی زہر بھرا خط شائع کیا۔ اس سے شہر قم کے مذہبی حلقوں میں آگ لگ گئی۔ مظاہرے ہوئے جنہیں حکومت وقت نے طاقت سے دبانے کی کوشش کی۔ اب جو ہلاکتیں ہوئیں، اس کے جواب میں شیعہ مسلک کی چالیس روز تک سوگ منانے کی پرانی روایت  بہت کام آئی۔ سوگ کی اس روایت نے شاہ کے خلاف احتجاج کی لہر کو مرنے نہیں دیا۔ فروری 78ء میں آبادان کے ریکس سینما میں پراسرار طور پر آگ لگنے سے قریبا چار سے پانچ سو افراد ہلاک ہوئے۔ شاہ نے اس واقعے کو اپنے مخالفین کا شاخسانہ قرار دیا۔اس کے جواب میں ملاو٘ں نے اس آگ کی تفتیش خود کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہاں تفتیش کا نتیجہ اہم نہیں۔ ملاوْں کے اس اعلان سے بادشاہ اور ریاست کی کمزوری سامنے آتی ہے اور ملاو٘ں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جرات کہ اب وہ کھلے عام ریاست کا انتظام اور اس کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ ریاست ایران کے اندر متوازی ریاست کی ابتدا ہے۔

قصہ مختصر، امریکہ اور مغربی طاقتیں جو رضا شاہ کو  آخر وقت تک علاقے میں توازن اور استحکام کی علامت سمجھتی رہیں، عام انسانوں کے بیم و رجا سے پرت پرت کھلتے اور ہر روز سامنے آنے والے نئے واقعات کے رولر کوسٹر کے سامنے بے بس نظر آنے لگیں۔ با لآخر انہوں نے جنوری 1979 کی ” گوادلوپ کانفرنس” میں مل بیٹھ کر حالات پر نظر  کی تو ان پر انکشاف ہوا کہ شاہ کے مکافات عمل کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اس پر انہوں نے بھی شاہ کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ بادشاہ رضا شاہ پہلوی ہفتہ دس دن کے اندر ایران چھوڑ کر چلے گئے۔ امام خمینی یکم فروری 1979 کو تہران واپس آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا۔

ایران میں انقلاب کے بعد امام خمینی کا سیاست پر کنٹرول

ایک سوال جو انقلاب کے طالب علموں کے ذہنوں میں رہتا ہے کہ جب ایرانی معاشرے کا ہر طبقہ شاہ کے خلاف انقلاب کے عمل میں شامل تھا تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ صرف امام خمینی انقلاب کے راہنما بن کر سامنے آئے؟ اس کا جواب بہت آسان ہے ۔تاریخ کے تناظر میں مذہبی علما کا طبقہ ایران میں ایک مراعت یافتہ طبقہ رہا ہے۔ان کے پاس زمینیں، تعلیم، عدالتی اختیارات اور نذرنذرانے جیسے مالی وسائل چھوٹی موٹی اونچ نیچ کے ساتھ صدیوں سےچلے آ رہے تھے۔ شہروں اور دیہاتوں میں ان کے اثرورسوخ کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے۔ ہم جانتے ہیں مذہبی علما کے کی طرف سے شاہ کی حکومت پر  سوال اٹھائے گئے ۔شاہ کی حکومت، اختیارات اور  سیاسی اور سماجی ناکامی پر  سوال تین اور اطراف سے بھی آئے۔  ایک بائیں بازو کے سماجی دیدہ ور  اور دوسرے مذہبی دانشور  جو کلچر کے اعتبار سے آزاد خیال تھے اور تیسرے روشن خیال انٹیلی جنشیا۔ تاریخی طور پر یہ تینوں  گروپ اتنے منظم نہیں تھے جیسے مذہبی علماء تھے۔ شاہ نے اپنے مخالف مذہبی علماء کو اور روشن خیال دانشوروں پر پابندیاں عاید کیں اور انہیں ہر طرح سے دبا کر رکھنے کی پالیسی اختیار کی۔شاہ کے زمانے میں بائیں بازو اور آزاد خیال دانشوروں پر ٹوٹنے والے جبر و قہر  کی طویل داستان جان لینے کے باوجود یہ سوال ابھی تک تشنہ ہے کہ شاہ پہلوی دوم کی ایران سے رخصتی کے بعد عنان حکومت امام خمینی صاحب کے ہاتھ میں کیسے آئی؟

انقلاب کے بعد ریاست پر کنٹرول کا اصول: تشدد کی صلاحیت

انقلابات عالم کی تاریخ سے کوئی نتیجہ نکالنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ شاہ کے بعد اقتدار اور ملک کے مستقبل کے تصور انقلاب میں شامل تمام گروپ ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ شاہ کے خلاف وہ ایک مشترکہ قوت تھے مگر مستقبل کے سماج کی شکل کے بارے میں وہ ہم خیال نہیں تھے۔ ایران میں اس مقام پر انقلاب کی کلاسک چپقلش سامنے آتی ہے۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انقلاب کے فورا” بعد مختلف الخیال گروپ جو کچھ ہی دیر پہلے ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں، مستقبل کے خدوخال وضع کرنے کے لئے ایک دوسرے سے الجھنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے جیتتا کون ہے؟ انقلاب کے اس مقام پر جیت اس کی ہوتی ہے جس کے پاس تشدد کی منظم قوت زیادہ ہوتی ہے اور یاد رہے کہ جیتتا وہ گروپ جو تشدد سے گریز نہ کرے۔ انقلابات عالم اس اصول کے گواہ ہیں بشمول ایران کی تاریخ کے جو شاہ کے بعد رقم ہوئی۔ بہت سے لوگوں کا خیال کہ امام خمینی کی ایران واپسی سے انقلاب مکمل ہو گیا۔ انقلاب ایران امام خمینی کی تہران واپسی کے ساتھ مکمل نہیں ہوا۔ اس میں مزید تین سال لگے تب کہیں جا کرعنان حکومت پر ان کا کنٹرول مکمل ہوا ۔

امام خمینی نے تہران واپسی کے دو تین دن کے بعد شاہ کے آخری وزیراعظم شاپوربختیار کے مقابل اپنا وزیر اعظم مہدی بازرگان کھڑا کر دیا اور باقاعدہ حلف لیا۔ شاپور بختیار ایک ہفتے کے اندر اپنا بوریا بستر لپیٹ کر فرانس میں جلا وطن ہو گئے۔ وزیراعظم مہدی بازرگان کو بہت جلد یہ احساس ہو گیا کہ ان کی حیثیت کٹھ پتلی وزیراعظم سے زیادہ نہیں کیونکہ امام خمینی اور ان کے بنیاد پرست حواری ہر معاملے کو اپنی مرضی کے مطابق طے کرتے ہیں۔ وزیر اعظم ہونے کے باوجود انہیں ہر فیصلے کے لئے امام خمینی کا دست نگر رہنا پڑتا ہے۔  کچھ مہینوں کے بعد نومبر  79 میں مہدی بازرگان بھی رخصت ہو جاتے ہیں.

جاری……….

قسط اول۔۔۔                         https://www.mukaalma.com/108812/

قسط دوم…..https://www.mukaalma.com/108912/

SHOPPING

قسط سوم….https://www.mukaalma.com/109157/

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *