• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لغت سے “جہاد ” کا لفظ غائب ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اسد مفتی

لغت سے “جہاد ” کا لفظ غائب ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اسد مفتی

گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک نجی ٹی وی کے چینل پرجہاد کے موضوع پر مولانا غامدی کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا تب مجھے کچھ عرصہ قبل اکانومسٹ میں لکھے ایک مضمون کی یاد آئی جس میں اکانومسٹ کے نامہ نگار نے لکھا تھا کہ مستقبل میں پاکستان کی سرکاری لغت سے “جہاد ” کا لفظ غائب ہو جائے گا ۔نامہ نگار نے پاکستان کے داخلی حالات کا ذکر کرتے ہوئے جہالت اور غربت کے خلاف جدوجہد کو جہاد قرار دیا تھا ۔پروفیسر /مولانا غامدی کی گفتگو کا وہ پہلو جس نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ جہاد کے بارے میں ان کا نقطہ نظر ہے ۔میرے خیال میں انہوں نے اس ضمن میں جو کہا اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے ہمیں جہاد کی مکمل سوجھ بوجھ اور سمجھ ہونی چاہئیے۔اسلام میں جہاد صرف عسکری جہاد تک محدود نہیں ،کبھی ہم نے بھوک ،جہالت اور پسماندگی کے خلاف جہاد کا سوچاہے ؟حالانکہ پاکستان میں اس جہادکی ضرورت ہے ۔حضورؐ نے عسکری جہاد کو چھوٹا اور بھوک وہ پسماندگی کے خلاف جہاد کو جہاد ِاکبر قرار دیاہے لیکن پاکستانیوں نے تو عسکری جہاد پھیلانے کا ٹھیکہ لے رکھاہے ۔

جہاد کے معنی عربی زبان میں ہیں ،بھر پور کوشش کرنا ،پوری طاقت صرف کر دینا ۔یہ لفظ عمومی استعمال میں ایسے موقع  کے لئیے بولا جاتا ہے جب کسی مقصدکے حصول کے لئیے اپنی ساری کوشش لگا دی جائیں ،بعض لوگوں کے نزدیک جہاد یہ ہے کہ وقت کے حکمرانوں سے لڑ  نا یا دہشت پھیلا کو اقتدار کی کنجیاں چھینی جائیں  مگر اس قسم کے نظریے کا کوئی تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ جہاد سے۔

قرآن میں اسلامی جہاد کا لفظ تین مواقع کے لئیے استعمال کیا گیا ہے قرآن وحدیث کے ذخیرے میں کوئی ایک حکم بھی ایسا موجود نہیں ہے جس سے اس “انقلابی جہاد “کا حکم نکلتا ہو ۔قرآن کے مطابق جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے جب ایک قابل لحاظ گروہ اس قسم کی زندگی اختیار کر لیتاہے تو بطور انعام زمین کا اقتدار بھی دے دیا جاتا ہے (نور 55)مگر ہو یہ رہا ہے کہ یہ گروہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر خدا کے حصے کا کام بھی انجام دینا چاہتا ہے یہ نظریہ اسلام کے پورے معاملے کو الٹ دیتا ہے وہ اسلام کو عملاً ایک قسم کے سیاسی عمل کا عنوان بنا دیتاہے جس سے اس نظریے کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے “احتساب خویش”کے بجائے “احتساب کائنات”آدمی کا نصب العین بن جاتا ہے ۔آدمی کی کوششوں کا نشانہ اس کی اپنی ذات کی بجائے خارجی دنیا ہو جاتی ہے ۔وہ اپنی اصلاح کے لئیے بیتاب ہونے کی بجائے وقت کے حکمرانوں سے لڑنے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیتاہےتا کہ اس سے اقتدار کی کنجیاں چھین کر خود اسلام کا ٹھیکیدار بن جائے ۔۔۔۔

یہ “مکمل اسلام “اس قدر ناقص اسلام ہے کہ اسلام کا کوئی ایک جز بھی اس کے اندر صحیح طور پہ اپنی جگہ نہیں پاتا سب سے زیادہ برا پھل جو اس نام نہاد “مکمل اسلام”سے نکلتاہے وہ دین حق کی الٹی شہادت ہے اس نظریے کے نتیجہ میں دین کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہےکہ دین نام ہے آپس کی لڑائی کا اور جنوننیت پھیلانے کا ،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب کے اصولوں کی حفاظت تشدد سے ہی ہو سکتی ہے ۔یہ خیال سرے سے ہی غلط ہے دوسرے لوگ جس طرح سوچتے ہیں اس میں بھی صداقت ہو سکتی ہے انتہا پسندی مرض نہیں علامت ہے مرض تو اپنے سوچنے کے ڈھنگ کو حرف ِ آخر سمجھنا اور دوسروں کو غلط قرار دے کر ان پر اپنا نظریہ تھوپنا ہے ۔اس وقت پاکستان میں طر ح طرح کی بغاوتوں ،حکومت کی نافرمانیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔جہادی کوششوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا دور دورہ ہے۔یہ گروپ اور ہر فرقہ مسلح ہے مذہبی انتہا پسندی عروج پہ ہے ۔اونچے اونچے  بلند وبالا پہاڑی سلسلوں اور پہاڑی راستوں پر ابھی تک طالبان قابض ہیں ۔خون ریزی،بد امنی،قتل و غارت ،بم دھماکے اور دہشت گردانہ کاروائیاں جاری و ساری ہیں جو جہاد کے نام لیوا جہاد کے نام پہ کر رہےہیں ۔جہادیوں نے اپنے مورچے پختہ کر لئیے ہیں ۔میرے حساب سے ایک عالمی سازش کے تحت بعض علمائے اسلام نے اسلام کے فلسفہ جہاد کی  اسطلاح  بدل دی ہے اور لفظ جہاد کی تاویل اس قدر مذموم انداز میں پیش کی ہے کہ دنیا جہاد کو محض دہشت گردی سمجھنے لگی ہے اس طرح مملکت خداداد میں بہت سے جہادی دہشتگردی کوجہاد کے مترادف سمجھنے لگے ہیں ،حالانکہ دہشت گردی نام ہے مہذب سماج میں تخریب کاری کا ،شریفانہ ماحول میں خوف و ہراس پیدا کرنے کا ،معصوم اور بے قصور لوگوں کو قتل یا طاقت کے ذریعے زیر کرنے کا بے قصور لوگوں کی جان لینےکا اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرنے کا ،آئین و وفاق کے چیتھڑے اڑانے کا ،انصاف و آزادی کے قتل کا ،امن و سلامتی سے کھیلنے کا ،اتحاد و ہم آہنگی کے خاتمے کا اور ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا ۔۔۔کسی بھی حوالے سے یا خالص اسلامی نقطہ نظر سے بھی جہادی تنظیموں ،جہادی نقظہ نظر رکھنے والی مذہبی جماعتوں یا پاکی افغانی طالبانوں سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا ۔

بظاہر یہ عام مسلمانوں کے لئیےبہت اچھی بات ہے کہ   کتاب پر ہمارا ایمان ہے اورجس قرآن  کو زندگی کا عنوان بنائےبغیر ہم اچھے مسلمان نہیں بن سکتے اسی قرآن کو ہم سوچ سمجھ کر پڑھیں مگر محلاً ہوتا یہ ہے کہ درسِ قرآن پر اصرار کرنے والے درسِ تفہیم القرآن پر اصرار کرتے ہیں ۔مولانا ابوالکلام آزاد یا دوسرے حقیقی عالم دین کی ترجمان القرآن یا مفسر قرآن کی تفسیر پڑھانے سے ان جہادیوں کی تسلی و تشفی نہیں ہوتی۔یہ طرزِ عمل کوئی مستحسن عمل نہیں ہے۔تفسیر قرآن کے بارے میں ہم یہ کبھی نہیں بھول سکتے کہ یہ منشاِ خدا وندی کو سمجھنے کی کوشش ہے اور ہر انسان کی کوشش کی حدود متعین ہوتی ہت،کسی ایک تفسیر کو یم حرفِ آکر نہیں کہہ سکتے چاہے وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو،آخر یہ مجھے غامدی صاحب کے حوالے سے حکومت وقت سے یہ کہنا ہے کہ اگر ان انتہا پسندوں ،جہادیوں ،دہشت گردوں ،جنگجوؤں ،فدائیوں یا جو بھی ہیں کو بہر حال اکثریت میں نہیں ہیں   مرحلے پر کمزور نہ کیا گیا تو پھر ملک کمزور ہوگا اور ملک کمزور ہواتو افراتفری کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگے گا،اور افراتفری پھیل گئی تو وہ کچھ ہوسکتا ہے جس کا ہمیں ابھی تک یقین نہیں ہے۔

ہمارا  حال اے ساقی ہوا ہے کچھ کہ ہونا تھا

تری محفل اگر اجڑی تیرا انجام کیا ہوگا؟

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *