• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جنرل مشرف ۔ بین الاقوامی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کے لئے صرف چلا ہوا کارتوس ۔۔غیور شاہ ترمذی

جنرل مشرف ۔ بین الاقوامی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کے لئے صرف چلا ہوا کارتوس ۔۔غیور شاہ ترمذی

گئے زمانوں میں رواج تھا کہ عنان حکومت بادشاہوں کے ہاتھ ہوا کرتی تھی اور وہ تمام سیاہ و سفید کے مالک ہوا کرتے تھے۔ اُن کی زبان سے نکلا ہر لفظ قانون ہوا کرتا تھا۔ مگر پھر وقت نے کروٹ لے لی۔ تعلیم عام ہونے اور شعور بلند ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بادشاہت کی زنجیریں توڑ کر آزادی کی خواہش نے جنم لیا۔ بادشاہت کے دوران وسائل اور اختیارات پر قابض طبقات یعنی اسٹیبلشمنٹ نے عوامی بیداری کی اس لہر سے ڈر کر بظاہر عوامی حکومتوں کا ڈول ڈالا اور جمہوریت کے ذریعہ عوامی حکومتیں قائم کرنے کا چلن عام ہوا۔ کچھ ممالک نے زیادہ بیداری دیکھی تو وہاں حکمران طبقات نے عوام کو ڈیلیور بھی کیا جس کے نتیجہ میں وہ ممالک ترقی کرتے چلے گئے۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ہمارے جیسے بھی تھے جہاں بظاہر عوام کو ووٹ ڈالنے کے حقوق ضرور بھیک کی طرح مل جاتے ہیں لیکن اصلی اور حقیقی عوامی و جمہوری نمائندگان کا انتخاب کرنے کی منزل ابھی کافی دورہے۔ ہم ووٹ تو ڈالتے ہیں مگر منتخب صرف انہیں ہی کرتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے مختلف گروہوں کے کارپرداز ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود مختلف الخیال گروہوں کی لڑائی میں کبھی ایک حاوی ہو جاتا ہے تو اُس کی مرضی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو کبھی کچھ عرصہ بعد دوسرے کا داؤ لگ جاتا ہے تو وہ حاوی ہو جاتا ہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف بھی کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ترقی پسند گروپ کی نمائندگی کرتے تھے جس کے متعدد افسران فیصلہ کن پوزیشن میں پہنچ چکے تھے۔ جنرل مشرف کی خوش قسمتی ہوئی کہ امریکہ بہادر میں 9/11 کا سانحہ سنہ 2011ء میں ہو گیا جس کے نتیجہ میں امریکہ نے طالبان اور القاعدہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے امریکہ اور اُس کی حواری عالمی طاقتوں کو پاکستان میں ایک ’’ٰیس مین‘‘ کی ضرورت تھی۔ سویلین حکمران جتنے بھی اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہوں مگر ایک سٹیج ایسی آ جاتی ہے کہ وہ انتخابات کے تسلسل کی وجہ سے عوامی مقبولیت کھو دینے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے وہ بعض اوقات بین الاقوامی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف اور عوام کے مفادات کے لئے فیصلے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب بین الاقوامی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ اُس حکمران کو فراہم کردہ اپنی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ افغانستان پر اپنی چڑھائی کے دوران امریکہ نے جنرل مشرف کا خوب استعمال کیا۔ امریکہ کی اس ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل مشرف نے اپنی حکومت کو خاصا طول بھی فراہم کر لیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد جنرل مشرف نے امریکہ سے ڈبل گیم شروع کر دی اور جنرل حمید گل کی تجویز کردہ اسٹریٹیجک ڈیپتھ پالیسی پر کام کرتے ہوئے امریکی امداد بھی جاری رکھی اور ساتھ میں طالبان کو بھی پروان چڑھاتے رہے۔ یہ ڈبل پالیسی کچھ عرصہ تو خوب چلتی رہی مگر بہت دیر تک کسی کو بھی بےوقوف بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ امریکہ اور اتحادی افواج کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ جنرل مشرف کیا گیم کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنرل مشرف بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ایک مضبوط دھڑے کی حمایت سے محروم ہو گئے اگرچہ انہیں پھر بھی کچھ ایسے دھڑوں کی حمایت حاصل رہی جو کمزور تو ہوئے تھے مگر اس قدر بے بس نہیں کہ دوبارہ کبھی طاقت نہ حاصل کر سکیں۔

مقامی سطح پر بھی جنرل مشرف نے اسٹیبلشمنٹ کے ایک سے زیادہ دھڑوں کو ناراض کر لیا تھا جس میں امریکہ کو حوالے کیے جانے والے طالبان کے ہمدرد، پردے میں رہتے ہوئے کنٹرولڈ جمہوریت کو جاری رکھنے والے گروپ، ترقی پسند خیالات والے گروپ شامل تھے۔ ایک مرحلہ پر جنرل مشرف کے خلاف تمام گروپ ایک نقطہ پر اکٹھے ہو گئے جس کا مقصد ’’مشرف ہٹاؤ‘‘ تک متفق ہو گیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور جنرل مشرف پر پے درپے قاتلانہ حملے کروا کر پہلے اُن کا مورال ڈاؤن کروایا گیا پھر بعد میں نہایت چالاکی سے اُنہیں پہلے وردی اور بعد میں اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ جنرل مشرف اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ اُن کی زندگی بچ گئی اور وہ صرف اقتدار کی کرسی سے ہی محروم ہوئے ورنہ ایسے معاملات میں چلے ہوئے کارتوسوں کی زندگی بھی لے لی جاتی ہے تاکہ بعد میں کسی ممکنہ بدمزگی سے بچا جا سکے۔ جنرل مشرف کی اس خوش قسمتی میں زیادہ دخل اُن کے پرانے دوست میجر شبیر شریف شہید (نشان حیدر) کے خاندان سے اُن کے تعلقات کا بھی رہا جن کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف نے کچھ عرصہ بعد پاکستانی فوج کی سربراہی بھی کی۔

میجر شبیر اور راحیل شریف

چیف جسٹس افتخار چوہدری

اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی جنرل مشرف کی زندگی ہائی رسک پر ہی رہی ہے جس کی وجہ اُن کے سخت نا مقبول فیصلے اور کچھ ایسے سانحات ہیں جو اُن کے دور اقتدار میں وقوع پزیر ہوئے لہذا ان کے الزامات بھی جنرل مشرف پر ہی لگتے رہے، چاہے وہ اُنہوں نے کروائے ہوں یا جنرل مشرف کے بقول اسٹیبلشمنٹ کے کچھ دھڑوں کے حمایت یافتہ نان اسٹیٹ ایکٹرز نے ۔ ان فیصلوں اور سانحات میں سر فہرست محترمہ بےنظیر بھٹوکا قتل بھی شامل ہے جس کے الزامات کی بازگشت جنرل مشرف کی دیوڑھی تک جاتی سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی ایک راکٹ حملہ میں ہلاکت بھی شامل ہے جس کا الزام بھی جنرل مشرف پر لگایا جاتا ہے کہ یہ راکٹ حملہ اُن کے احکامات پر کیا گیا تھا۔ جنرل مشرف پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کرنے، درجنوں طالبان راہنماؤں کی امریکہ حوالگی، سینکڑوں طالبان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلوں میں ہلاکت، اسلام آباد میں لال مسجد اپریشن اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معذولی جیسے اقدامات بھی جنرل مشرف کے کھاتے میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایک اور سخت غیر مقبول فیصلہ بھی کیا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو معزول کر دیا تھا اور جنرل افتخار چوہدری کے حامیوں کی بجائے اپنی مرضی کے جج لگا کر نیا عدالتی نظام بنانے کی کوشش کی تاکہ اُن کا اقتدار طوالت حاصل کر سکے۔ یہی وہ کیس ہے جس کی بنیاد پر انہیں آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے خصوصی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ

جنرل مشرف نے 2 نومبر سنہ 2007 ء میں پاکستان کا آئین معطل کردیا تھا۔ انہوں نے آئین معطل کرتے ہوئے ایمر جنسی نافذ کی جو کہ جنرل پرویز مشرف کی بجائے صدر پرویز مشرف کا اختیار تھا مگر اس اختیار کو ایک اجنبی جنرل پرویز مشرف نے غصب کر کے استعمال کر لیا۔دراصل جنرل پرویزمشرف کو یہ یقین نہیں تھا کہ اگر وہ یہی حکم صدر پرویز مشرف کے نام سے جاری کرے گا تو کیا مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے یا نہیں؟۔ ایمرجنسی میں اعلیٰ عدلیہ کے پاس جو اختیارات آئینی حدود میں دستیاب اور باقی رہتے ہیں، وہ بھی غصب کر لئے گئے۔ ماہرین کے مطابق جنرل مشرف کے ایسے انہونے اقدامات دراصل ایمرجنسی کا abuse تھے۔ اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے بعد ازاں اسے آئین توڑنے اور آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران جنرل ‏مشرف کے وکیل نے عدالت سے کہا اگر سزا دینی  ہے تو اُس وقت کے پی سی او  کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس ڈوگر, وزیراعظم اور وزیر قانون کو بھی دیں۔ عدالت نے استغاثہ سے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ان کور کمانڈروں کو بھی سزا دیں جنہوں  نے مارشل لاء میں مدد کی ؟، تو وکیل صاحب نے خاموشی اختیار کر لی اور بات کو پلٹ دیا۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تحقیقاتی کمیٹی کو بیان دینے کی پیش کش کی مگر اُسے مسترد کیا گیا، مجھے چند لوگوں کی وجہ سے ذاتی عداوت کا نشانہ بنایا گیا تاہم پاکستانی عدلیہ سے انصاف کی امید رکھتا ہوں‘‘۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کےخلاف فیصلہ بالکل شفاف ٹرائل کے بعد ہوا ہے۔ عدالت نے 167مرتبہ انہیں بیان دینے کے لئے بلایا مگر وہ 6سال سےبھاگے ہوئے ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہوئے‘‘۔ معروف قانون دان احمد سرفراز ایڈووکیٹ نے جنرل پرویزمشرف کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں ہو سکتی ہے ، اپیل دائر کرنے کے لئے 30 دن کا وقت ہے ، سپریم کورٹ میں اپیل اس وقت ہی دائر ہوسکتی ہے جب پرویز مشرف پاکستان واپس آکر خود کو قانون کے حوالے کریں۔

احسن اقبال

دوسری طرف یہ لطیفہ اپنی جگہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت وقت عدالت میں مقدمہ جیت لینے کے بعد فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے- موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے سنہ 2007 ء میں ایمرجنسی لگانے پر جنرل مشرف کے لئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا تھا جسے خصوصی عدالت نے پوری کر دیا ہے تو اب عمران خان قبول نہیں کر رہےحالانکہ جو نعرہ انہوں نے لگایا تھا وہ پورا ہو رہا ہے- اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز رویہ پاکستان مسلم لیگ نون کا ہے جس نے اپنے دور حکومت میں یہ مقدمہ دائر کیا تھا اور آج وہ بھی اس کا کریڈٹ لینے سے بھی ہچکچا رہی ہے- نواز شریف شدید بیمار ہیں تو اس لئے خاموش ہیں جبکہ جماعت کے صدر جناب شہباز شریف اس لئے خاموش ہیں کہ انہیں اور جنرل مشرف کو ایک ہی بیماری لاحق ہے، یعنی ہر نازک موقعے پر دونوں کی کمر کے  زیریں حصے میں میٹھا میٹھا درد جاگ جاتا ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد جنرل مشرف اور میاں شہباز شریف دونوں کی یہ کسک شدت اختیار کر گئی ہے- نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز کو شاید ڈر ہے کہ اگر انہوں نے اپنا منہ کھولا یا ٹویٹر پر کچھ بیان دیا تو لندن جانے کا موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ خواجہ آصف کا بیانیہ تو ہمیشہ سے اس طرح کے معاملات میں ’’دیکھیں جی، یہ جو ہے، وہ جو ہے، یوں بھی ہے اور یوں بھی ہے‘‘ جیسے گومگو بیانات پر مشتمل ہوا کرتا ہے۔ ایسے میں جناب احسن اقبال کے حوصلے کی داد بنتی ہے جناب نے جانے کہاں سے اتنی ہمت مجتمع کی کہ ایک دو بیان داغ ڈالے۔

یہ تو طے ہے کہ جنرل مشرف کو دی جانے والی اس سزا پر عمل درآمد تقریباًنا ممکن ہی سمجھیں  ، تاہم یہ ایک فوجی حکمران کی پہلی مثال ہے جو پاکستان میں اعلی ٰ غداری کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ملک فوجی حکمرانی کی تاریخ سے لیس ہے اور پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی آرمی جنرل کو آئین شکنی کا مجرم قرار دیتے ہوئے کوئی سزا سنائی گئی ہو اس لئے ہمیں حیرانگی ہو رہی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی جرنیل عوامی اور جمہوری حکومتوں کو توڑتے رہے، آئین شکنی کرتے رہے اور منتخب نمائندوں کو پھانسی اور قید کی سزائیں سناتے رہے۔ سنگین غداری کیس میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزائے موت عدلیہ کی آزادی کی دلیل ہے نہ کسی اچھی شروعات کی علامت۔ اس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ کے متعدد گروپوں کا عدلیہ جیسے ادارے میں ویسا ہی اثرورسوخ ہے جیسا کبھی پہلے ہوا کرتا تھا۔ بادی النظر میں یہ فیصلہ بھی کسی بڑے منصوبے کا حصہ لگ رہا ہے ورنہ سنگین غداری کے اس جرم میں شریک ملزمان بھی کٹہرے میں ہوتے۔ جنرل مشرف نے یہ ایمرجنسی اکیلے تو نہیں لگائی تھی بلکہ اسے لگانے میں انہیں اپنی کابینہ اور کئی ساتھیوں کی مشاورت اور قانونی و سیاسی امداد حاصل رہی تھی۔ پھر یہ امر بھی تو نہایت غور طلب ہے کہ جب تک جنرل (ر) پرویز مشرف اقتدار اور طاقت میں رہے یا اثرورسوخ کے حامل رہے اس وقت انہیں محفوظ راستے دئیے گئے اور اب جب جنرل (ر) پرویز مشرف ذہنی اور جسمانی کسی بھی حوالے سے مناسب حالت میں نہیں ہیں تو ایسے میں ایک سنگین جرم میں صرف ایک شخص کو سزائے موت اور باقیوں کو اس مقدمہ سے چپکے سے الگ کر دینا بظاہر کسی اور ہی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

معروف لکھاری محمد اشفاق نے اپنی فیس بک وال پر لکھا ہے کہ ’’لگتا یہ ہے کہ عوام کا اجتماعی شعور حکمران اشرافیہ سے کہیں آگے نکل چکا ہے- آج پی ٹی آئی کے بیشتر حامی بھی، کم از کم میری لسٹ میں پائے جانے والے، مشرف کی سزا کے فیصلے کو درست سمجھ رہے ہیں۔ باقی تمام سیاسی جماعتوں کے حامیوں کا تو خوشی سے بُرا حال ہے- مگر عوام کے جذبات کی ترجمانی صرف بلاول بھٹو اور محسن داوڑ کر پائے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ جنریشن گیپ بھی ہے، ستر فیصد نوجوانوں پر مشتمل آبادی کی نمائندگی ستر سال کے بابوں کے بس کا روگ نہیں رہی، نوجوان قیادت ہی نوجوانوں کی نمائندگی کر سکتی ہے- نیا پاکستان بن رہا ہے- اس کے کیا خدوخال ہوں گے، کیسے بال و پر نکلیں گے، یہ پرانے پاکستان سے کتنا بہتر اور کتنا مختلف ہوگا؟۔ ان سوالوں کا جواب میرے اور آپ کے پاس نہیں، نہ ہی کسی اور کے پاس ہے۔ وقت ان سوالوں کا جواب دے گا۔ مگر ہم جیسوں کیلئے یہی کیا کم ہے کہ ہم ایک نئی تاریخ رقم ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور اس عمل میں کہیں نہ کہیں ایک نقطے، ایک ریت کے ذرے کے برابر ہمارا بھی کردار ہے- اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، مصلحتوں، عصبیتوں اور مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کھل کر اپنے اپنے حصے کی گواہی دیتے رہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ قدرت آپ کی چھوٹی سے چھوٹی کوشش بھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *