پاڈوا کا پروفیسر (27)۔۔وہاراامباکر

ونسنزو گلیلی نے اپنے بیٹے کو میڈیسن پڑھنے یونیورسٹی آف پیسا بھیجا۔ گلیلیو کو میڈیسن سے زیادہ ریاضی سے دلچسپی تھی۔ انہوں نے اقلیدس اور ارشمیدس کو اور ارسطو کو پڑھنا شروع کر دیا۔ جب والد کو معلوم ہوا تو ان کے لئے یہ دھچکا تھا۔ انہوں نے گلیلیو کے لئے اچھی زندگی کی خواہش کی تھی۔ ریاضی سے میز پر کھانا نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ نہ ہی گلیلیو نے میڈیسن کی تعلیم مکمل کی، نہ ریاضی کی اور نہ ہی کسی بھی اور چیز کی۔ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑ دی اور ایک اور فکری سفر شروع کیا جو مالیاتی آسودگی کا نہیں تھا۔

پہلے ریاضی کی ٹیوشن پڑھاتے رہے۔ بعد میں بولونیا یونیورسٹی کی جونیئیر پوزیشن کے لئے اپلائی کیا لیکن ملازمت نہ ملی۔ اس سے دو سال بعد ایک موقع آیا جہاں پر وہ پیسا میں استاد بن گئے اور اپنے پسندیدہ اقلیدس کے کورس پڑھانے لگے۔ دوسرا مضمون جو وہ پڑھاتے تھے، وہ آسٹرولوجی تھی۔ یہ کورس اس لئے تھا کہ اس میں میڈیکل سٹوڈنٹس کو بتایا جاتا تھا کہ لہوکاری کے لئے اچھا وقت کیا ہو گا۔

جی ہاں، آپ نے درست پڑھا۔ سائنسی انقلاب برپا کرنے والے ایک اہم ترین شخص آنے والے ڈاکٹروں کو یہ تعلیم دیا کرتے تھے کہ اگر مریض کا برج جوزا ہے تو اسے جونکیں کس دن لگائی جائیں۔

ظاہر ہے کہ آج تو ہم آسٹرولوجی کا مذاق آسانی سے اڑا سکتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھئے کہ اس کی وجہ ہمارا فطری قوانین کے بارے میں حاصل کردہ علم ہے۔ اُس دور میں جب اِن قوانین کا زیادہ علم نہیں تھا، یہ خیال کہ فلکیاتی جسم کسی طرح ہماری زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں، غیرمعقول نہیں تھا۔ آخر یہ تو ہمیں بہت عرصے سے معلوم تھا کہ کسی پرسرار طریقے سے (اس وقت گریویٹی کا علم نہ تھا) سورج اور چاند سمندری لہروں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

گلیلیو مستقبل کے زائچے بنا کر پیشگوئیاں بھی کرتے تھے۔ ایک پیشگوئی کے لئے بارہ سکوڈی معاوضہ لیتے تھے۔ (ان کی سالانہ تنخواہ ساٹھ سکوڈی تھی)۔ ان کا ایک اور شوق جوا کھیلنا بھی تھا اور اس وقت میں جب پرابیبیلیٹی کی ریاضی موجود نہیں تھی، وہ اس میں اچھے تھے۔

عام طور پر گلیلیو لوگوں میں پسند کئے جانے والے تھے اور اتھارٹی کا احترام کرنے والے تھے۔ لیکن جب پیسا یونیورسٹی نے اپنے پروفیسروں کے لئے لازم قرار دیا کہ وہ اپنا اکیڈمک گاوٗن شہر میں جاتے وقت بھی پہنا کریں تو اس ضابطے کے خلاف ایک طنزیہ نظم لکھی جس کی پاداش میں نکال دئے گئے۔ ان کی اگلی ملازمت پاڈوا یونیورسٹی میں تھی اور تنخواہ بھی اچھی تھی۔ انہیں نے اٹھارہ سال وہاں گزارے۔

جب تک گلیلیو پاڈوا پہنچے، وہ ارسطوئی فزکس سے متنفر ہو چکے تھے۔ ان کے خیال میں اس فزکس میں ایک اہم جزو موجود نہیں تھا اور وہ تجربہ کرنا تھا۔ گلیلیو نے تجرباتی فزکس اور تھیوریٹیکل فزکس دونوں کو آگے بڑھایا۔ اس سے پہلے سکالر صدیوں سے تجربات کرتے تو آئے تھے لیکن یہ عام طور پر اپنے آئیڈیا کو ثابت کرنے کے لئے کئے جاتے تھے۔ آج جب سائنسدان تجربہ ڈیزائن کرتے ہیں تو وہ اپنا خیال فطرت کو پیش کر کے اس سے جواب حاصل کرنے کی کوشش کے لئے ہوتا ہے۔ گلیلیو کے تجربات ان دونوں کے بیچ میں تھے۔ کڑے ٹیسٹ تو نہیں تھے لیکن ایکسپلوریشن تھی۔

گلیلیو کی اپروچ کے دو پہلو اہم تھے۔ پہلا یہ کہ جب کوئی نتیجہ ملتا جو انہیں حیران کر دیتا تو وہ اسے مسترد نہیں کر دیتے تھے بلکہ اپنی سوچ پر سوال کرتے تھے۔ دوسری چیز یہ کہ ان تجربات میں پیمائش کیا کرتے تھے جو اپنے وقت کا ایک نیا انقلابی آئیڈیا تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *