عثمان بن عفان ؓ۔۔پروفیسر محمد عمران ملک

18 ذی الحجہ 35 ھجری
17 جون 656
یوم شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی دو ایسی خصوصیات ہیں جو دنیا میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوئیں
(1) حضرت عثمان غنیؓ کے نکاح میں حضوراکرم ﷺ کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثومؓ اور حضرت رقیہؓ آئیں کسی بھی نبی کی دو بیٹیاں کسی بھی ایک شخص کے نکاح میں نہیں آئیں۔

(2) ایک موقع پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا آج کے بعد عثمان غنی خطا بھی کریں گے تو وہ نیکی لکھی جائے گی یہ اعزاز بھی حضرت عثمان غنی کے علاوہ دنیا میں کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔۔

حضرت بدر بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یوم الدار کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہمارے پاس کھڑے ہوئے اور کہا کیا تم اس شخص سے حیاء نہیں کرتے جس سے ملائکہ بھی حیاء کرتے ہیں ہم نے کہا وہ کون ہے؟ راوی نے کہا میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ میرے پاس تھا جب عثمان میرے پاس سے گزرا تو اس نے کہا یہ شخص شہید ہے اس کی قوم اس کو قتل کرے گی اور ہم ملائکہ اس سے حیاء کرتے ہیں بدر (راوی) کہتے ہیں کہ پھر ہم نے آپ رضی اللہ عنہ سے لوگوں کے ایک گروہ کو دور کیا اس کو امام طبرانی نے ’’المعجم الکبير‘‘ میں بیان کیاہے۔‘‘

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 5 / 159، الحديث رقم : 4939، و الطبراني في مسند الشاميين، 2 / 258، الحديث رقم : 1297، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 82.

سیدنا عثمان غنی کی ایک اور فضیلت ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَشَدُّ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ.

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔ اس حدیث کو ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔‘‘

أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 1 / 56، و ابن أبی عاصم في السنة، 2 / 587، الحديث رقم : 1281.

‏‎خلیفۂ ثالث و راشد ، پیکر حمیت و غنیت، ذوالنورین ، ذوالھجرتین ، ذوالبیعتین ، ذوالبشارتین ، ناشر القرآن ، مظلوم مدینہ ، سیدنا عثمان غنی رضی الله عنہ کے مختصر حالات زندگی اور مناقب و فضائل

‏‎نام مبارک آپ کا عثمان اور لقب ذوالنورین تھا۔‏‎آپ کا نسب اطہر پانچویں پشت میں سید عالم ﷺ سے جا ملتا ہے۔ عبد مناف کے دو فرزندوں میں سے ایک کی اولاد جناب رسول الله ﷺ ہیں جبکہ دوسرے کی اولاد سیدنا عثمان بن عفان رضی الله عنه ہیں۔ آپ کی والدہ ارویٰ رسول الله ﷺ کی پھوپھی ام حکیم بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی ہیں۔ ام حکیم نبی کریم ﷺ کے والد حضرت عبدالله کے ساتھ توام (جڑواں ) پیدا ہوئیں۔ ان دونوں نسبتوں میں سیدنا عثمان رضی الله عنه نبی کریم ﷺ کے ساتھ بہت قریب کی قرابت رکھتے تھے۔
‏‎ولادت مبارک واقعہ فیل کے چھ(6) برس بعد ہوئی۔‏‎سیدنا عثمان ذوالنورین رضی الله عنه سیدنا صدیق اکبر رضی الله عنه کی رہنمائی سے مشرف با اسلام ہوئے ۔ صدیق اکبر رضی الله عنه سے قبل اسلام بھی آپ کے گہرے مراسم تھے۔

‏آپ کا قد درمیانہ ، رنگ مائل بہ زردی تھا ، چہرہ انور پر چیچک کے چند نشانات تھے۔ سینہ کشادہ ، داڑھی گھنی تھی، سر میں بال رکھتے تھے اور اخیر عمر میں زرد خضاب بالوں میں لگاتے تھے اورہلتے دانتوں کو سونے کی تار سے بندھوایا کرتے تھے۔

‏‎خاندان قریش کے باعزت لوگوں میں سے تھے۔ ثروت و سخاوت میں ثانی نہ رکھتے تھے اور پیکر حمیت و حیاء تب بھی تھے ۔ گھر کے اندر بھی دروازہ بند کرکے نہانے کے لئے کپڑے اتارتے تھے اور کبھی کھڑے ہو کے نہ نہاتے تھے۔‏‎بت پرستی اور شرک سے بے زار تھے اور کبھی شراب نہیں پی۔ اس صفت میں سیدنا صدیق اکبر رضی الله عنه اور سیدنا عثمان رضی الله عنه ممتاز ہیں۔

‏‎اسلام قبول کرنے کے بعد دیگر صحابه کی طرح آپ نے بھی تکالیف برداشت کیں۔ آپ کے چچا حکم بن عاص نے آپ کو رسی سے مضبوط باندھ کر کہا :

‏‎”تم نے اپنے باپ دادا کا دین ترک کرکے نیا دین اختیار کیا ہے۔ الله کی قسم میں تم کو نہ کھولوں گا یہاں تک کے تم اس نئے دین کو ترک نہ کر دو”۔
‏‎سیدنا عثمان غنی رضی الله عنه نے جواباََ فرمایا:

‏‎”الله کی قسم میں دین اسلام کبھی ترک نہ کروں گا”۔
‏‎آپ کی استقامت دیکھ کر چچا عاجز آگئے اور آپکو رہا کر دیا۔ (تاریخ الخلفاء)۔

‏‎ایک یگانہ و منفرد اعزاز:

‏‎جہاں آپ کے اعزازات کی ایک طویل فہرست ہے وہیں پر ایک سب سے الگ یہ بھی ہے کہ سیدنا ابراہیم خلیل الله علیه السلام و لوط علیه السلام کے بعد عثمان غنی رضی الله نے اپنے اہل بیت کے ہمراہ ہجرت حبشہ فرمائی اور دو بار فرمائی۔ اسی لئے صدیق اکبر رضی الله عنه نے فرمایا کہ:

‏‎”عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے بعد ابراہیم و لوط علیهم السلام کے مع اپنے اہل بیت کے ہجرت کی”۔

‏‎آپ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں بہ نفس نفیس شریک رہے ۔ غزوۂ بدرکے موقع پر نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی اور آپ کی زوجہ مطہرہ سیدہ رقیه سلام الله علیها چونکہ علیل تھیں اس لئے سید عالم ﷺ نے حضرت ذوالنورین سے فرمایا:

‏‎”اے عثمان ! تم رقیہ کی تیمارداری کرو تم کو شرکت بدر کا ثواب ملے گا”۔
‏‎
نبی کریم ﷺ نے ان کو بدریوں میں شمار فرمایا اور بدر کے مال غنیمت سے ان کو حصہ عطا فرمایا۔

‏‎ایک نفیس نُکتہ:

‏‎دیکھئے بدر میں عدم شرکت کے باوجود بدری صحابه میں شمار ہے حضرت عثمان رضی الله عنه کا، جو ان کے خلوص و ایمانداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
‏‎دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں قزمان نامی شخص جو بدر میں مسلمانوں کی جانب سے لڑتا ہوا قتل ہوا، اور محض اپنے قبیلے کی سربلندی کے لئے لڑا نہ کہ اسلام کی سربلندی کے لئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اس کے لئےجہنم کی وعید سنائی باوجود اس کے ، کہ صحابہ اس قزمان کی شجاعت اور میدان جنگ میں کفار کے خلاف لڑتا دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔ سیدنا سہل بن سعدی رضی الله عنه نے قزمان کےمتلعق فرمایا:

‏‎((ما اجز امنا الیوم احد کما اجزاََ فلان))
‏‎”آج ہم میں سے کسی نے اتنا کام نہیں کیا کہ جتنا کام فلاں نے کیا”۔

‏‎قزمان کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ :
‏‎(اما انہ من اھل النار)
‏‎”آگاہ ہو جاؤ کہ وہ(قزمان) دوزخی ہے”۔(بخاری ، باب من قاتل لتکون کلمۃ الله ھی العلیا)

‏‎سیدنا عثمان رضی الله عنه کی فضیلت، بدر میں عدم شرکت کے باوجود بھی اسی طرح اظہر من الشمس ہے ، اور قزمان کی شرکت اور اس کا لڑنا اس کے جہنمی ہونے کی وجہ تھی۔
‏‎یہ ہے مقام صحابه کہ جو نسبی یا قبائلی شرف نہیں بلکہ خالصتاََ الله کا چناؤ اور اس کا فضل ہے۔

بیعت رضوان بیعت مبارکہ

لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًاۙ•

ترجمہ؛ یقینا الله تعالی مؤمنوں سے خوش ہوگیا، جب کہ وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کررہے تھے، ان کے دلوں میں جو تھا اس نے اسے معلوم کرلیا ، اور ان پر اطمینان نازل فرمایا ، اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔

صلح حدیبیه کے موقع پر جب سیدنا عثمان رضی الله عنه کو بطور سفیر مقرر فرما کر مکے بھیجا گیا تو ان کے متعلق افواہ پھیلی کہ (معاذ الله) انکو شہید کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے 1400 صحابہ سے موت کی بیعت لی، مگر جب خبر ہوئی کہ عثمان رضی الله عنه زندہ تو ہیں مگر ان کو قید کر دیا گیا ہے، اس پر نبی ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیا اور دوسرے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا:”یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے”۔
اسی بیعت کو “بیعت رضوان” کہتے ہیں جس کا ذکر آیت بالا میں گزر چکا اور جس کی بنیاد پر صحابہ کرام کے خلوص اور ایمان کی گواہی حق تعالی شانه نے خود دی۔

امام اہلسنت علامہ عبدالشکور لکھنویؒ فرماتے ہیں:”حضرت عثمان رضی الله عنه کا اس بیعت میں سب سے زیادہ حصہ رہا کیونکہ انہوں نے رسول الله ﷺ کے ہاتھ سے رسول الله ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی”۔(خلفائے راشدین، ص 161)

حضرت عثمان زوالنورین رضی الله عنه کی خدمات:

بئر رومه  کی خرید اور اس کا مسلمانوں کے لئے وقف ؛

مدینہ منورہ میں مکة مکرمة سے ہجرت کرنے والے تشریف لائے تو مدینہ میں پانی کی قلت تھی۔
ایک ہی میٹھے پانی کا کنواں ، اور اس کا مالک بھی یہودی ، جو مہنگے داموں مسلمانوں کو پانی فروخت کرتا تھا ، رسول الله ﷺ کی ترغیب پہ سیدنا عثمان رضی الله عنه نے کم و بیش پینتیس ہزار درہم اور ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ درھم قیمت دے کر وہ خریدا اور فی سبیل الله وقف کر دیا۔ اس پر حضور ﷺ نے عثمان رضی الله عنه سے فرمایا:

” عثمان جنت تجھ پہ واجب ہوچکی ”

بئر رومه کا تفصیلی واقعہ یوں ہے:

حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنه اس یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا ، اس لیے یہودی نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ، توحضرت عثمان رضی الله عنه نے یہ تدبیر کی ، کہ پورا کنواں نہ سہی ، آدھا کنواں فروخت کر دو۔۔۔ آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا۔۔یہودی ان کی اس پیشکش پر لالچ میں آ گیا۔۔۔ اس نے سوچا کہ میں اپنے دن میں پانی مہنگے داموں فرخت کروں گا ، اس طرح مجھے زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا۔۔ چنانچہ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنه کو فروخت کر دیا۔
سیدنا عثمان غنی رضی الله عنه نے وہ کنواں الله کی رضا کے لئے وقف کر کے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی، لوگ حضرت عثمان غنی رضی الله عنه کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لئے بھی ذخیرہ کر لیتے۔۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہ جاتا ، یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت تو ختم ہوگئی ہے ، تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی پیشکش کر دی جس پر حضرت عثمان راضی ہو گئے ، اور پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔
اس دوران ایک مالدار آدمی نے عثمان غنی رضی الله عنه کو کنواں دوگنی قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی، حضرت عثمان نے فرمایا کہ “مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے” تو وہ شخص بھی اپنی پیشکش بڑھاتاچلاگیا اور حضرت عثمان یہی جواب دیتے رہے۔یہاں تک اس آدمی نے کہا کہ “حضرت آخر کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہا ہے؟”سیدنا عثمان رضی الله عنه نے فرمایا کہ’میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا یہاں تک کہ عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه کے دورِ خلافت میں اس کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا ، جو آج تک موجود ہے،

آلِ سعود کے عہد میں اس باغ میں کھجور کے درختوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو پچاس ہو گئی ، تو حکومتِ وقت نے اس باغ کے گرد چاردیواری بنوائی ، اور یہ جگہ میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنه کے نام پر رجسٹرڈ کر دی ، وزارتِ زراعت یہاں کی کھجوریں بازار میں فروخت کرتی ، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سیدنا عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنه کے نام پر بینک میں جمع کرواتی رہی ، چلتے چلتے یہاں تک اس اکاونٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی ، کہ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ میں اس باغ کی آمدنی سے ایک کشادہ پلاٹ لیا گیا ، جہاں فندق عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنه کے نام سے ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیا جانے لگا۔

اس رہائشی ہوٹل سے سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی متوقع ہے

جس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں کی کفالت ، اور باقی آدھا حضرت عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنه کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا ، ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی الله عنه کے اس عمل اور خلوصِ نیت کو الله رب العزت نے اپنی بارگاہ میں ایسے قبول فرمایا اور اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دیا۔حضرت عثمان کا اکاوئنٹ یہاں بھی موجود ہے اور وہاں بھی موجود ہے ، جہاں کے اکاؤنٹ کسی کو نظر تو نہیں آتے ، لیکن حقیقی اور اصلی اکاؤنٹ وہی ہیں ، جن کے ” وہاں ” کے اکاؤنٹس مال سے بھرے ہوئے ہیں ، دنیا وآخرت میں کامیاب و کامران وہی لوگ ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں ، جن کی جانیں اور مال الله تعالیٰ نے اپنی جنتوں کے بدلے خرید لئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے الله کے ساتھ تجارت کی،جنہوں نے الله عزوجل کو قرض دیا، اچھا قرض اور پھر الله تعالیٰ نے انہیں کئی گنا بڑھا کر لوٹایا۔

جیش عسرت ( غزوۂ تبوک ) کے لئے ذوالنورین رضی الله عنه کی سخاوت:

غزوہ تبوک کے موقع پر عثمان رضی الله عنه نے پہلی ترغیب پر ایک سو اونٹ سازو سامان سے لدھے ہوئے پیش کئے۔ بنی کریمﷺ نے فرمایا:
”جو شخص اس لشکر کا سامان درست کرے گا اس کو جنت ملے گی”۔
عثمان رضی الله عنه نے کھڑے ہوکر کہا:
“یا رسول الله میں 300 اونٹ مال تجارت سے لدے ہوئے دوں گا”۔

دوسری بار پھر آپ نے اپیل کی ، عثمان کھڑے ہوئے ، اور 300 مزید اونٹوں کا ہدیہ بارگاہ رسالت میں پیش کردیا ، تیسری مرتبہ پھر رسول الله ﷺ نے فرمایا ، تو آپ پھر اٹھے ، 300 اونٹ سامان کے لدے لدائے بارگاہ رسالت میں پھر پیش کردئے ،

چوتھی بار رسول الله صلی الله علیه وسلم نے پھر اعلان کیا ،
عثمان رضی الله عنه اٹھے ، اپنے گھر گئے اور 1000 اشرفیاں لاکر نبی کریم ﷺ کے دامن میں ڈال دیں۔ نبی کریم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ان اشرفیوں کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں ڈالتے تھے اور فرماتے تھے:

(ما ضر عثمان ما عمل بعد الیوم)
“یعنی آج کے دن کے بعد عثمان جو چاہے کریں کوئی عمل ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا”۔ (خلفائے راشدین، ص 161، عبدالشکورؒ)

ابو عمر کی روایت ہے کہ اونٹوں کی تعداد ساڑھے نوسو (950) بتائی گئی علاوہ ازیں پچاس گھوڑے بھی ساتھ کر دئے۔ جناب قتادہ کی روایت کے مطابق عثمان رضی الله عنه نے ایک ہزار (1000) صحابہ کو اونٹوں پر اور ستر (70) کو گھوڑوں پر جنگ کرنے کے لئے تیار کیا۔ (دشمنان امیر معاویه رضی الله عنه کا علمی محاسبہ، جلد دوم، ص 231)

حضرت عثمان غنی رضی الله عنه مسجد نبوی کی توسیع کے لئے پچیس ہزار (25000) درہم دے کر یہ سودا کر لیا،
مسجد حرام بیت الله کی توسیع کے لئے جب ایک مکان کو اس میں شامل کرنے کا وقت آیا ، تو حضرت عثمان رضی الله عنه نے وہ مکان دس ہزار(10000) درہم عطا کرکے مکان خرید لیا اور پھر اسے مسجد حرام میں شامل کرلیا۔

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور فیکلٹی ممبر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی اسکالر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *