انتہا ۔۔ مختار پارس

انتہا جدا کر دیتی ہےاورجدائی ناخدا بنا دیتی ہے۔ ناخدائی خدا کے قریب لے جاتی ہے اور خدائی بندگی کا قرب عطا کر دیتی ہے۔ گر بندگانِ عجز و کسل نہ ہوں تو تخت ہاۓ سماوات و ارض کی شہ نشینی کا مطلب ہی کچھ نہیں۔ فرشتوں پر حاکمیت کا حاصل سجدوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ انتظامِ کائناتِ نو کےلیے سر جھکانے کے علاوہ سر اٹھانے کی بھی ضرورت تھی۔ انتہاۓ شوق میں جب اس نے ‘کن’ کہا تو منتہاۓ عزم و جستجو کے پیکر خاک پر اتر کر بکھر گئے۔ اور یوں اس ساعتِ عظیم کا آغاز ہوا جس کی ابتدا انتہا سے ہوئی اور جس کی انتہا ابتدا پر ہے۔

خواہشیں نہ جرم ہیں اور نہ گناہ، انسان کی روح میں طلب ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ جستجو نہ کرے۔ خواہشوں کا گلہ گھونٹ کر خوشیاں نصیب نہیں ہو سکتیں۔ زمین پر خدا نے نعمتیں بھر دیں تاکہ ہم اس میں سے اپنے حصے کی عطا سمیٹ سکیں۔ پھر اس نے ہمیں مانگنے کے طریقے سکھاۓ، کبھی ہم اس سے لڑ کر مانگتے ہیں اور کبھی رو کر مانگتے ہیں، کبھی سر جھکا کر اور کبھی سر اٹھا کر اور وہ دیتا ہے۔ خواہشیں اور خوشیاں جرم ہوتیں تو کیا وہ ہمیں گڑگڑا کر مانگنے کا کہتا؟ گناہ اس وقت سرزد ہوتا ہے جب خواہش کی عدم تکمیل انسان کو بغاوت پر اکساتی ہے۔ جرم تب ہوتا ہے جب اپنی جھولی خالی ہونے کی وجہ سمجھ نہ آ رہی ہو۔ یہ بات انسان کے مرتبے کے خلاف ہے کہ وہ ادھوری خواہشوں کی تکمیل میں رستہ بھول جاۓ۔ اسے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا کہ نہ ابتدا اس کے ہاتھ میں ہے اور نہ انتہا ۔

محبت اور عدوات کے مرحلوں میں بھی انسان انتہاؤں کا قائل ہے۔ ہم دوسروں سے دوستی اور دشمنی اپنی اناؤں کو تسکین پہنچانے کےلیے کرتے ہیں۔ محبت اور نفرت ایک جذبہ ہے جو ابتدا میں ایک خیال ہوتا ہے اور انتہا میں حقیقت بن جاتا ہے۔ محبت کسی انسان کےلیے ہو تو عقیدت ہے، کسی پتھر کےلیے ہو تو شرک ہے اور خدا کےلیے ہو تو عبادت ہے۔ شکوہ کسی انسان سے ہو تو اس کی وجہ بھی کسی سے عقیدت ہی ہو گی، احتجاج کسی پتھر کےلیے ہو گا تو اس کی طاقتِ اسرار کی نفی کرنے کےلیے ہو گا اور شکایت خدا سے ہو گی تو اس کی وجہ بھی عبادت ہی ہو گی۔ نفرت بھی محبت ہے، نفی بھی اقرار ہے، شکوہ بھی شکار ہے۔ ہر جذبے کی بنیاد اس کی انتہا میں رکھی جاتی ہے۔ جو وہاں پہنچ جاۓ اسے نروان مل جاتا ہے۔ جو نہ پہنچ سکے وہ حقیقت کے دائروں کے درمیان مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔

ایک جہانِ خرد ہے جس کی انتہا ہی نہیں۔ اس شہر کے باسیوں کو یہ غرض ہی نہیں کہ آسمان سات ہیں یا کہکشائیں اور بھی ہیں۔ ان کا ادراک انہیں کسی یقین پر ٹھہرنے ہی نہیں دیتا سواۓ اس کے کہ مکافاتِ عمل میں اسباب و علل کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ ایک وقت تھا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ کمزور کا سر قلم کیا جانا بقاۓ حیات کےلیے ضروری ہے۔ انہیں یقین تھا کہ جو رحم کرتا ہے وہ بھی کمزور ہے اور جو درگزر کا قائل ہے وہ تاریخ میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ اس جہانِ تگ و دو میں خطاکار معافی کا حقدار نہیں۔ پتھر اور سونے میں کوئی فرق نہیں مگر سونا چھوڑ کر پتھر اٹھانے والوں کو احمق ہی کہا جاتا ہے۔ ان دیکھے جہانوں کی آس میں کسی کے سر پر ہاتھ رکھنے والے لوگوں کو کون بر سرِ توقیر گردانتا ہے؟ یہی وہ نقطہ ہے جس کے سہارے انصاف کا ترازو پلڑوں میں پڑا وزن بتاۓ گا،ایک طرف وہ ہے جو نظر آتا ہے اور دوسری طرف وہ ہے جو سمجھ آتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جن کو نظر آتا ہے، ان کو سمجھ میں بھی آتا ہے یا نہیں اور جن کو سمجھ آتا ہے، ان کو نظر بھی آتا ہے یا نہیں۔

میری انتہا کی خبر میری مٹی کے خمیر کو ہے۔ مجھے آرزوۓ عشق ہے تو مجھے پہلے خود کو ترازو میں رکھ کر تولنا ہے اور پھر بولنا ہے۔ مجھے اگر کسی کا ہونا ہے تو پہلے خود کو کچھ اس طرح سے مٹانا ہے کہ نہ میں رہوں اور نہ میری آرزو رہے مگر وہ رہے اور وہی رہے۔ جب اندوہ اور انبساط کی منزل ایک ہے تو پھر میں سایہء شجر بن کر مسافروں کو اپنے دامن میں کیوں نہ سمیٹوں۔ ہر ظلم ایک نہ ایک دن چھناکے سے ٹوٹ جاتا ہے، ہر بار کوئی نہ کوئی جستجو گھٹنوں کے بل آ گرتی ہے، ہر شہ زور نے کسی روز ہچکی لے کر دم توڑ دینا ہے۔ جو سمجھ آتا ہے یہی ہے کہ انسان کی عظمت کے مینار انسانیت کے معیار ہی بنا سکتے ہیں۔ صرف بندگی ہی انہیں قربِ الٰہی عطا کر سکتی ہے اور بندگی عبادت سے نہیں معاملات کے سیدھا ہونے سے ثابت ہو سکتی ہے۔ کسی کی حاجت روائی سے بڑھ کر جہاد نہیں۔ خوف، طاقت اور لالچ کے سمے میں خود پر جبر ہی انسان کو پھر سے تخلیق کرتا ہے۔ اگر وہ اس بات پر قادر ہو جاۓ تو پھر وہ صرف وہی کرتا ہے جو بہتر ہوتا ہے۔ انسان کی دوبارہ تخلیق اس کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ یہی خدائی اسے تنہا کر دیتی ہے، یہی انتہا اسے سب سے جدا کر سکتی ہے۔

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *