• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رسم “رخصتی”،”ہوم سکنس” اورسب سے بڑی معاشرتی”بدعت”۔۔سلیم جاوید

رسم “رخصتی”،”ہوم سکنس” اورسب سے بڑی معاشرتی”بدعت”۔۔سلیم جاوید

تین مختلف اصطلاحات ہیں- ان پرالگ الگ ہی گفتگو کروں گا مگردیکھیے گا کہ ان تین زاویوں سے کیونکرایک 3D تصویرابھرتی ہے-

1-پہلی ٹرم جس پربات کرنا چاہتا ہوں اسے انگریزی میں “Home sickness” کہا جاتا ہے-

دیکھئے، عورت کے برعکس، مرد بڑا کٹھور دل، ہرجائی اور بے وفا ہوتا ہے- (عمومی طورپر)-

خاکسار کی عمر تیرہ سال تھی جب پہلی باراماں ابا سے دوری کا رنج جھیلا- والد صاحب مجھے کوہاٹ کیڈٹ کالج چھوڑ کر، کوئی سوگز دور گئے ہونگے جب آنکھوں کی نمی نے انکی گاڑی دھندلا دی تھی-ایک ہفتہ تک ہمارے ڈورم کا عالم یہ تھا کہ ” آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں”- یہاں پہلی بار انگریزی لفظ”ہوم سکنس “سنا تھا-

جب انجنئیرنگ یونیورسٹی پشاور میں آئے توعمر اٹھارہ برس ہوچکی تھی اورغریب الدیاری کا چسکہ پڑچکا تھا- یونیورسٹی میں مگرایسے نوجوان جو اپنے گھروں سے پہلی بار ڈائریکٹ ہاسٹل میں آئے تھے، انکی سرخ آنکھیں بہت کچھ بتادیتی تھیں-( خدا نے آخر یونہی تو گھر کو سکون کی جگہ نہیں قراردیا؟)-

پھر 2003ء میں یہ خاکسار پہلی بارسعودی عرب آیا تومسفرت میں کندن ہوچکا تھا-یہاں پردیس میں، پختون نوجوان روتے نہیں تھے، مگرانکو دیکھ کررونا آتا تھا- بہن بھائی، ماں باپ – یہ رشتے خون میں دوڑا کرتے ہیں-

2-لڑکی کی “رسم رخصتی”-

احساس کی وادی میں ایک خیال سراٹھاتا ہے کہ جب ایک بیٹی کو گھر کی دہلیز سے ہمیشہ کیلئے الوداع کہا جارہا ہو، تو اس معصوم کے دل میں غم کا کیا عالم ہوگا؟- عورت تو ویسے ہی محبت کا دوسرا نام ہے- وہ کس دل سے بابا کا گھر چھوڑتی ہوگی اور وہ بھی بلاقصور؟- بس یہی اس کا قصور کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے-( میری بات کو وہی سمجھ سکیں گے جو سینے میں پتھر کا دل نہیں رکھتے)-

فرق ایک اور بھی ہوتا ہے- کیڈٹ کالج میں مجھے ابو خود چھوڑ کرگئے تھے مگربیٹی کو تو گھر کی دہلیز سے تنہا روانہ کیا جاتا ہے-

یونیورسٹی ہاسٹل میں میرے ساتھ سینکڑوں دیگر بھی میری طرح مسافر ساتھ تھے- بیٹی مگروہاں جاتی ہے جہاں اسکی کوئی اور سکھی سہیلی ساتھ نہیں ہوتی-

پردیسیوں کوگھر کی یاد ستائے تو اپنی مرضی سے گھر واپس جاسکیں مگر یہ بیٹی ، بھائی بہن کا  چہرہ دیکھنےکو آزاد نہیں ہوتی- دلہن، جو نہی ماں باپ کے گھر سے نکلی تواگلی صبح اسکے سر پرساس، سسر، نند، دیور سارے سپروائیزر مقررہوجاتے ہیں- اسکی ایک غلطی اسکے ماں باپ کو طعنہ کا سبب بن سکتی ہے- کیا ٹنشن بھری مسافرت ہے اور کیا بے گناہی قیدہے؟-

بھلے لوگو!

عقل ومنطق کے ہرپیمانے پر تولیئے، انصاف یہی معلوم ہوگا کہ شادی کے وقت، کمزوردل لڑکی کی بجائے شیردل لڑکے کو گھرچھوڑ کرسسرال میں آنا چاہیئے تھا- ( جیسا کہ سری لنکا کا رواج ہے)-

تاہم، لڑکے کی ہجرت بھی کئی ایشو کھڑے کرسکتی ہے- پس میں نے عربوں کو دیکھا، انگریزوں کا پتہ کیا- افریقہ بارے معلوم کیا- ہرجگہ یہی دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی ، شادی کے وقت دونوں اپنے گھر چھوڑ کر، ایک الگ گھر میں شفٹ ہوجاتے-

3-سارے انبیاء اور جمیع صحابہ کی سنت:

میں نے سیرت کی کتب کو کھنگالا مگر مجھے رسول اکرم سمیت کوئی ایک صحابی ایسا معلوم نہیں پڑا جس نےاپنی بیوی کو ساس کے ساتھ رکھا ہو- میں نے پچھلے انبیاء کی سیرت پڑھی تو”گھرداماد” نبی تلاش کرلیا مگر ایسا کوئی نظر نہیں آیا جس نے اپنی بیوی، اپنے ماں باپ کے ہمراہ رکھی ہو-( حضرت موسی ، دس سال سسر کے گھر رہے- معلوم ہوا کہ سسرال کا بیٹا نہ ہو تو داماد کو سنت موسوی ادا کرنا چاہیئے)-

یادش بخیر!

ایک بار رائے ونڈ سے ایک جماعت کے ساتھ تشکیل ہوئی جس میں ایک بزرگ مفتی صاحب ساتھ تھے- فرما رہے تھے کہ داڑھی رکھنا، جمیع انبیاء اور سارے صحابہ کی سنت ہے- داڑھی کے فضائل کے ضمن میں یہ بھی بتایا کہ ایک صحابی کے چہرہ پرصرف ایک بال تھا-لمبی کہانی سنائی مگر یہ کہ اس صحابی نے وہ بال کاٹ لیا تو حضور ناراض ہوگئے- خاکسار چونکہ کلچرل عادات کو سنت نہیں سمجھتا اس لئے سوال کیا کہ جناب، کم ازکم ایک صحابی سے داڑھی شیو کرنا ثابت ہوگیا نا؟-( اس پرانہوں نے طول طویل تاویلات فرمائیں اور میں بھی خوفِ فساد خلق کی وجہ سے خاموش ہوگیا)-

آج مگر مولوی صاحبان سے پوچھتا ہوں کہ اگرکلچر کوسنت مان لیں تو پھر بیوی کو ساس سے الگ گھر میں رکھنا، جمیع انبیاء اور سارے صحابہ کی سنت ہے- اس سنت کو بیان کرتے آپکی زبان پہ آبلے کیوں پڑجاتے ہیں؟-

یہ ڈولی میں لڑکی کوہمیشہ کیلئے گھرنکالا دینا، فقط ہندو کلچرکی نقل ہے- اسی وجہ سے خاندان برباد ہورہے ہیں- یقین مانئے کہ میں نے سعودی لڑکوں سے زیادہ ماں کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں پایا- مگر بیوہ ماں بھی ہے تو اسکو الگ فلیٹ( شقہ) دیا ہوا ہے، خدامہ دی ہوئی ہے، الگ ڈرائیور اور گاڑی دی ہوئی ہے، روزانہ سارے بھائ ماں کا ماتھا چوم کرڈیوٹی پہ جاتے ہیں مگر اسکو گھر میں بہو کے ساتھ نہیں رکھا ہوا-

یاد رکھئے کہ اپنے ماں باپ کی خدمت کرنا، خود لڑکے کے ذمہ ہے نہ کہ پرائی لڑکی کے ذمہ- مگرجب آپ بیوی کو الگ گھر دوگے تو وہ آپکے سارے رشتوں کو، آپ سے بھی زیادہ عزت کے ساتھ سنبھالے گی- تجربہ شرط ہے-مگر اس معقول ماحول کو پیدا کرنا بھی مولوی صاحبان کا ہی وظیفہ ہے (اگر وہ اسلام آباد پہ قبضے سے فرصت پائیں تو)-

مضمون کے عنوان مطابق تینوں terms پربات ہوچکی ہے اور سمجھنے والے بخوبی سمجھ گئے ہونگے- مگرمولوی صاحبان کو رگڑا لگانا باقی ہے تو دوپیراگراف مزید پیش کرتا ہوں ( تاکہ بات مزیدواضح ہوجائے)-

جوایئنٹ فیملی سسٹم ایک ہندوانہ کلچر ہے-

عرض یہ ہے کہ اسلام ، دراصل ہراس رسم وراج کو ختم کرنے آیا تھا جو انسانوں کا جینا حرام کرتا ہو- اس بات کومولوی نے سمجھا یا نہیں مگر رسول اکرم کے ساتھ رہنے والا ایک بدو اور ان پڑھ بھی بخوبی سمجھ چکاتھا- چنانچہ وقت کی سپرپاور(فارس) کے چیف آف آرمی سٹاف( رستم) کےساتھ عین محاذ پر مذاکرات کرنے کیلئے بھی کسی معروف بیورکریٹ( قعقاع وغیرہ جیسا) کی بجائے ایک جونیئر کمانڈر( ربعی بن عامر) کو بھیجا گیا تھا جسنے اپنی مہم جوئی کا صرف چار سطری مقصد بیان کیا تھا، اور اسکی دوسری شق میں فرمایا تھا ” ہم اس لئے بھیجے گئے تاکہ لوگوں کو انکے برے رسم وراج کے زنجیروں سے آزاد کراسکیں”-

صحابہ، انسانیت کے اس درد کا کتنا سمجھتے تھے؟- مدینہ کی غذائی ضروریات کابڑا حصہ مصر کے زرعی ٹیکس سے پورا ہوتا تھا- وہاں مصر میں کسانوں کے ایک قبیلے کی یہ رسم تھی کہ قحط سالی سے بچنے، سمندر دیوتا کے نام ہر سال ایک لڑکی کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے-

اب دیکھئے کہ مسلمانوں کے لشکر نے وہاں کے مقامی لوگوں کے کلچر، عقائد یا عبادات میں کوئی دخل اندازی نہیں کی تھی مگر ایک بے گناہ لڑکی کی جان جائے،( اگرچہ وہ کافرتھی) یہ برداشت نہیں ہوگا( اس پر چاہے بغاوت کیوں نہ ہوجائے)- کسانوں نے اپنےعقیدے مطابق جواب دیا کہ حضور،لڑکی کو سمندر میں نہیں ڈالیں گے تو پھر فصل بھی نہیں ہوگی تو آپ لگان اور ٹیکس مت مانگنا- فرمایا کہ بھاڑ میں جائے ہماری اکانومی مگر ہمارے ہوتے ہوئے کسی بے گناہ کی جان نہیں جائے گی-

تاہم، چونکہ یہ معاملہ، رعایا کی ایک اقلیت کے مذہبی عقیدےکا بھی تھا اور فاتح مصر کویہ اتھارٹی حاصل نہیں تھی کہ ازخود کسی کے عقائد پر کرفیو لگادے لہذا عمرو بن عاص نے خلیفہ کو لکھ کرحکومتی پالیسی مانگی- خلیفہ بھی تو اسی انسانیت والے دین کا پیروکارتھا ورنہ کہہ دیتا کہ بھئی، لڑکی انکی جاتی ہے، ہمیں کیا؟- صاحب بصیرت خیلفہ نےوہم پرست کافروں کا علاج یوں کیا کہ ایک خط دریا کے نام لکھ دیا اور فرمایا انکو کہو، اس بار لڑکی کی بجائے میرا خط ڈال کردیکھیں کیا ہوتا ہے؟-

آمدم برسر مطلب!

شادی کے رسومات میں سے جو چیز دائمی تکلیف کا سبب بنتی ہے( دونوں خاندانوں کیلئے) وہ ہے جواینٹ فیملی سسٹم- اب ہمارے دوستوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک غریب آدمی بھلا کیسے بیوی کو الگ گھر لے کر دے؟-

حضور، بات یہ ہے کہ جب کوئی چیز کلچرمیں رواج پاجاتی ہے تو اسکا کرنا آسان ہوجاتا ہے- حالانکہ جتنا خرچہ جہیز ، شادی وغیرہ رسومات پہ ہوتا ہے، اتنے میں پانچ مرلے کا گھر آجاتا ہے- جو غریب آدمی، اپنی بیوی کو الگ کرائے کے گھر میں رکھنے جوگا نہیں ہوتا وہی اپنی بہن کے جہیز کیلئے دس لاکھ اکٹھا کرچکا ہوتا- عرب لوگوں میں رواج ہے کہ لڑکا ، الگ گھرمہیا کرے گا تو اسکی شادی ہوگی- کیا وہاں غریب لوگ نہیں بستے؟- مگر چونکہ ایک چیز رواج میں ہے تو طوعا” وکرہا” انتظام ہوہی جاتا ہے-

سنت وبدعت پرمناظرے کرنے والے مولوی کہاں ہیں؟-

کسی بھی رواج کو بدلنے والی طاقت صرف مذہب کی ہے- لوگوں کا کلچر اورعقیدہ بدلنے کی طاقت ،حکومت کے پاس بھی نہیں ہے- یہ وظیفہ ہے ہی مولوی کا کہ وہ رواجات کو بدل کردکھائے- چند سال پہلے جنید جمشیدمرحوم اور مولانا طارق جمیل صاحب، عزیزیہ میں بھائی عتیق کے ہاں ٹھہرے تھے- میں نے عرض کیاکہ حضور، جہیز کو ختم کرنے کیلئے کوئی عملی قدم اٹھائیں- فرمایا کہ ہم تو پر بیان میں اس پر زور دیتے ہیں- عرض کیا حضور، بیان سے آگے بڑھیں- آپ جیسے چند جید علماء اگر اعلان کردیں کہ پاکستان میں جہاں بھی کوئی سادہ شادی کرے گا، مولانا طارق جمیل خود وہاں جاکر اسکا نکاح پڑھائے گا تو چند سالوں میں انقلاب دیکھیں گے-

بہرحال، مجھے اصل غصہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت پرہے- دیکھئے اسلام کے چار شعبے ہیں- سیاست( حکومت)، شریعت( تھنک ٹینک)، طریقت( فردی کردار سازی ) اور معاشرت(اجتماعی کردار سازی)- علمائے دیوبند نے اسکی ترتیب یوں بنائی کہ ،سیاست جمیعت علماء کے ذمہ(مولانا فضل الرحمان)، شریعت، مدارس کے ذمہ ( مولانا تقی عثمانی)، طریقت، اہل تصوف کے ذمہ ( مولانا ذوالفقار نقشبندی ) اور معاشرت، تبلیغی جماعت کے ذمہ ( رائے ونڈ کا مشورہ)-

رسومات کو ختم کرنے کا اصل فیلڈ، تبلیغی جماعت کا ہے اور اسکی پہلی سٹرٹجی یہ ہے کہ سماج کواپنے بڑوں کے مشورہ ماننے کا پابند بنایا جائے- شومئی قسمت، سماج کو جوڑنا تو دور رہا، خود تبلیغی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ گئی ہے اور یہ نظام اپنی اخری سانسیں لے رہا ہے- چنانچہ، اب اس جماعت کی ڈیوٹی بھی جمیعت علمائے اسلام کے مولویوں کے سر پر ہے-

غصہ اسی پہ آتا ہے جس پر کوئ امید ہوتی ہے- کٹھ ملاؤں (جامعۃ الرشید جیسے) اور ٹھیٹھ ملاؤں( صوفی حضرات) سے تو کوئی امید ہی نہیں مگر جمیعت والے مولویوں میں پوٹنشل ضرورہے- طرفہ تماشا یہ ہے پاکستان میں ایک سیاسی فرد ایسا ہے جسکی ذات کو کروڑوں نوجوان دل وجان سے فالو کرتے ہیں اور وہ ہے عمران خان – مگر اسکی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں تو بندہ کیا عرض کرے؟- دوسری طرف ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جسکے پاس ملک کے طول وعرض میں جمعہ کا منبر موجود ہے اوروہ قوم کا رخ پلٹ سکتے ہیں- وہ ہے جمیعت علمائے اسلام- مگر اسکے لیڈروں کو اسلام آباد پہ قبضے سے فرصت نہیں تو صرف کارکنان کیا کریں؟- اور یہ دونوں جماعتیں، ایک دوسرے کا کندھا بننے کی بجائے، خونی دشمن بن چکی ہیں- اسی منجی کتھے ڈھایئے؟-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”رسم “رخصتی”،”ہوم سکنس” اورسب سے بڑی معاشرتی”بدعت”۔۔سلیم جاوید

  1. میرے بھائی دس لاکھ کا کون جہیز لے کر دیتا ہے اور دوسری بات دس لاکھ میں آج کل کون سا گھر ملتا ہے اور کہاں ملتا ہے. میں آپ کو جیسے تیسے کر کے دس لاکھ فراہم کرتا ہوں مجھے 5 مرلے نہ سہی 3 مرلے کا گھر ہی دلوا دیں مگر ایسے علاقے میں جہاں ضروریات زندگی کی تمام سہولیات دستیاب ہوں(پانی, بجلی, گیس وغیرہ) کسی جنگل میں نہیں.
    ہوائی قلعے تعمیر کرنا چھوڑیں حقیقت کی دنیا میں واپس آ جائیں.
    یہاں لوگوں کے پاس 2 وقت کا کھانا فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے اور آپ کو علیحدہ گھر کی پڑی ہے
    اس کے علاوہ یہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی مشکلات میں ان کی امداد کرے مگر ریاست کو اپنی لوٹ مار سے فرصت نہیں.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *