• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • قاری اساس تنقید کے ضمن میں Virtual Textual analysis کی تکنیک پر ایک وضاحتی نو ٹ(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

قاری اساس تنقید کے ضمن میں Virtual Textual analysis کی تکنیک پر ایک وضاحتی نو ٹ(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱)اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید کی ایک جہت، یعنی ہئیتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی قرآت کے عمل کی کشید ہے اور زمان اور مکان کے لا محدود فاصلے معنی آفرینی کو کچھ کا کچھ بنا سکتے ہیں تو یہ بات لگ بھگ طے ہو گئی تھی کہ خلق ہونے کے بعد تخلیق نہ صرف ایک آزاد اور خود کفیل اکائی بن جاتی ہے ،یعنی ایک ایسی اکائی معرض وجود میں آتی ہے جس کا تعلق اپنے خالق سے قطع ہو چکا ہے، بلکہ ہر نئے ماحول میں یہ ’کارگہہ ٔ شیشہ گری‘ اپنا الگ وجود رکھتی ہے۔کسی بھی شعری متن کی ’’خود مکتفیت‘‘ کو تسلیم کرنا قاری اساس تنقید کا بنیادی اصول ہے ۔ قاری اِسے اپنے وقت اور ماحول کی عینک سے دیکھ کر  اس میں ریاضیاتی درستگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی بات کر سکتا ہے اور انجانے میں ہی اپنے زمان و مکان سے ماخوذ رسم و رواج، سوچنے اور رہن سہن کے طریقے کو اس متن پر منظبق کر کے اپنے مخصوص معانی اخذ کر سکتا ہے ۔۔ Brooks کے گل بوٹوں سے مزیّن کیے ہوئے مرتبان کی طرح دیکھ کراس پر اپنا فیصلہ صادر کر سکتا ہے ۔ پس ساختیاتی تنقید نے بھی بارتھ کے اس نظریے میں خامیاں تلاش کی تھیں کہ صرف  سٹرکچر (پیاز کے چھلکوں کی تاویل) پر ہی انحصار رکھ کر کسی گٹھلی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس لیے پس ساختیاتی  سکول کے مطابق کسی بھی شعری متن کو تنقید کے عمل سے گزارنے کا صحیح طریق کا ر اس میں اجزاء  کے بہم دگر پیوست ہونے کے عمل کی پرکھ ہے، جو اس کے لسانی نظام کو خشت بر خشت عمارت کی طرح پیوستہ رکھتا ہے ۔اس طرح پس ساختیاتی تنقید شرع و تفسیر کے عمل میں قاری اساس تنقید کے طریق ِ کار کی اصل شروعات تسلیم کی گئی ہے۔

قاری    اساس تنقید وقت کے دریا کو پار کرنے کے لیے اس پُل کا کام کرتی ہے جو کسی بھی متن کو زمانہ ٔ حال کی خارجی دنیا سے براہ راست متعلق کر دیتی ہے۔اس طریق کار میں کسی بھی متن کی معنیات کو’’ تخلیق‘‘ یا ’’فصلـ‘‘ کا نام دے کر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ کوئی بھی قاری، کہیں رہتا ہوا قاری، کسی بھی زمانے کا قاری، اس ’فصل‘ کو اپنے زمان اور مکان کے ’سابق اور حال‘ سے رشتہ جوڑتا ہوا حق بجانب ہے کہ اس سیاق و سباق میں اسے پرکھ کی کسوٹی پر رکھ کر اپنا کام کرے۔ نظم کا رشتہ جو شاعر سے قائم تھا، اس وقت ہی منقطع ہو گیا تھا جب وہ معرض ولادت میں آئی تھی۔ اس وقت کی حقیقت آج کی فرضیت نہیں، آج کی حقیقت ہے۔ تین نئی اصطلاحات جو اس سلسلے کی کڑیاں ہیں، وہ ہیں،

(۱)قاری

(۲)قرآت کا طریق کار اور

(۳) رد ِ عمل ۔۔۔

اس میں قاری کا قرآتی طریق ِ کار اوّلیں اہمیت کا حامل ہے۔اس عمل کے دوران قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متن کی شکست و ریخت کرے، ایسے ہی جیسے کسی عمارت کو ڈھا کر اس کا ملبہ بکھرا دیا جاتا ہے۔ پھرموضوع کی سطح پر اپنے مطالعے ، تجربے اور ذاتی ترجیحات کے پیمانوں سے اس کی مناجیات کی قدر و منزلت کو پرکھے اور اس کی نئی تعریف بھی متعین کرے۔ اس کام کے دوران میں دو عوامل کا ظہور ناگزیر ہے۔ پہلا عمل تشکیلی ہے اور اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پرانے متن اور نئے قاری کے مابین معنویت کی مصالحت کا سمجھوتا قرار پا جائے ۔ دوسرا موضوع سے متعلق ہے کہ قاری کو یہ کلّی اختیار ہے کہ وہ متن کی تشریح (توسیع کی حد تک) اپنی منشا کے مطابق کرے۔

ایک پروفیسر کے طور پر میرا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ یہ کام قاری سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا کہ متن کے لسانی اور ہیئتی نظم کو کھنگال کر ’’آج‘‘ کے سیاق و سباق میں اس کے معنی تلاش کرے۔ متن کی معینہ صورت صرف کا غذ کے ایک پرزے پر ہے یا ایک کتاب میں ہے ۔ زمان و مکان کی توسیع کا عمل اتنا تیز تر ہے کہ کاغذ کے پرزے پر تحریر کردہ متن کی خود مرتکز یت صرف ادب کے مورخ اور محقق پر انحصار رکھ سکتی ہے،عام قاری پر نہیں۔ تعلیق کے ہر دم رواں دواں عمل ِ مسلسل سے گذرتے ہوئے اس متن کے معانی دن رات تغیر پذیر رہتے ہیں اور یہ نئے نئے معانی کے غلاف اوڑھتا اور اُتارتا رہتا ہے۔ قرآت کے عمل کی تھیوری الفاظ کے باہم رشتوں کو سمجھ کر، اور انہیں اپنے آس پاس کی سچائیوں سے منسلک کر کے ایک ایسی صورتحال کو کھوج نکالتی ہے جو قاری کی سچائی ہے اور آج کی سچائی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے ، جس میں قاری اور متن مصافحہ کرتے ہیں،اور گلے ملتے ہیں۔ قاری متن کے ہاتھ کی گرفت اور اس کے جسم کی لطافت کو محسوس کرتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ کو متن کے جسم پر پھیر کر ہر اس عضو کو ٹٹولتا ہے جو اس کے خیال میں اہم ہے۔ یہ اعضا الفاظ ہیں جو عبارت میں پروئے ہوئے ہیں۔ان میں صرفی، نحوی،تصریفی، ملّخص، منصرف، قواعدی صفات ہیں۔اسی عبارت میں روز مرہ، محاورہ، مرصع انشائ، تلطیف عبارت، ضرب المثل، مصطلحات وغیرہ بھی ہیں، جچے تلے الفاظ بھی ہیں، ماقل و دل، من وعن تطبیق الفاظ بھی ہے اور ’’مولویت‘‘ بھی۔۔۔۔۔ بقول وہ خصوصیت بھی ہے، جسے وہ کہتا ہے، یعنی جہاں مصنف نے یعنی جان بوجھ کر (بوجوہ) اپنے متن میں شکست و ریخت یا دوبارہ عمارت سازی کا جتن کیا ہے، گویا کہ ملبے کے اوپر ہی ایک نیا محل تعمیر کر لیا ہے۔ (غالب کے ہاں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے) ۔ انگریزی میں سترھویں صدی کے وسط میں میٹا فزیکل پوئٹس کے ہاں بھی یہ خوبی بکثرت ملتی ہے۔ ۔۔

اب اگر اپنی تخلیق کے وقت ایک نظم یا غزل کا ایک شعر کسی طلسم کدے کی نقاب کشائی کرتا بھی تھا ، تو آج وہ نا پید ہے۔ قاری کے حیطہ ء  ادراک میں اس کا آنا ایسے ہی ہے جیسے آج کے جودھپور میں رہنے والے کسی قاری نے شیلےؔ کے اسکائی لارک کوواقعی اڑتا ہوا دیکھ لیا ہو ۔ یا ایک خشک خطے میں بسے ہوئے قاری کو ، جسے سمندر یا سمندری جہاز اور اس کی deck کبھی دیکھی ہی نہ ہو، یہ سطر سمجھنے میں کیا دشواری پیش نہیں آ سکتی ہے اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔The boy stood on the burning deck ۔۔۔۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ قاری کا فرض قطعا ً یہ نہیں ہے کہ وہ علامت اور ایہام کے نقاب میں پوشیدہ اس چہرے کی صحیح (یا کم از کم ’نقل برابر اصل‘) شناخت کرے جو شیلےؔ نے اپنے خواب ِ بیداری میں یا افیون کے نشے میں کسی کالریجؔ نے دو صدیاں پہلے اپنے نشہ آور خواب میں دیکھا تھا۔

(۲)تدریس رشد و ہدایت کا عمل ہے۔ مشق اور ممارست اس کے اوزار ہیں۔ جسمانی ڈرل کی طرح تربیتی ریاضیات کی اہمیت کو بدیر تسلیم کیا گیا لیکن اب یہ مغربی جامعات میں ایک قدر ِ عام ہے۔ ادب کی تفہیم میں اب بلیک بورڈ کے علاوہ اووَر ہیڈ یا فلم پروجیکٹروغیرہ ، دیگر فرنیچر کی طرح ہی کسی بھی کمرہء  جماعت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ صرف اور صرف زبانی لیکچر پر انحصار نہیں کیا جاتا۔ اس لیے یورپ اور امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیز کے مضامین کی تدریس بھی ان لوازمات پر انحصار رکھتی ہے کہ یہ اب کمرہ ٔ جماعت کا جزو ِ لاینففک بن چکے ہیں۔ یہ میرے اپنے تجربے کی بات ہے کہ تیس چالیس برس پہلے تک ادب کے کورسز کسی حد تک ان سے غیر متعلق تھے لیکن میں نے ان برسوں کی تدریسی زندگی میں رفتہ رفتہ کمرہ ٔ جماعت میں ان کی کارگردگی پر پروفیسروں کے انحصار کو دیکھا ہے۔ چاک سے تختہ ٔ سیاہ پر لکھنے کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔ کاپی، اقتباس، حوالہ، مثنیٰ، نقل، خاکہ، فلو چارٹ، نقشہ، تصویر،وغیرہ اب اووَر ہیڈ پروجیکٹر سے باّسانی پروجیکٹ کیے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔ میرا اپنا میدان اختصاص کمپیریٹو لٹریچر (تقابلی ادب) کی نصاب سازی ہے اور اس میں میری مہارت کی وجہ سے ہی مجھے امریکا کی کئی جامعات میں نصاب سازی میں مدد دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ لٹریچر(۱ ) ۔۔۔ اور۔ لٹریچر (۲) کے انڈر گریجویٹ کے (تین تین کریڈٹ کے ) کورسز میں جہاں متن فہمی ایک زبانی عمل ہے، وہاں یہ ایک ایسا تحریری عمل بھی ہے جو ایک ایک لفظ، اصطلاح، محاورہ، (اور ان کے ہم زوج، ہم زائیدہ، مشترک الاشتقاق الفاظ یا کلمہ جات) کی زبانی اور تحریری ورزش پر انحصار رکھتا ہے۔ اسے بھی کہا گیا ہے، اور یہ قاری اساس تنقید کی اسی مد کا زائیدہ ہے، جس کے تحت متن میں موجود معروضی متعلقات کو (قاری اپنے وقت اور مقام میں حاصل کی ہوئی تربیت اور تعلیم کی بنا پر ) موضوعی سطح پر ایک دوسرے سے چھان بین کر الگ کرتا ہے۔ اسی میں عملی تنقید کا وہ عنصر شامل ہے جس کی عملی تربیت کے لیے (جو سمسٹر امتحان کے لیے ہے ) اور صرف ) (جو طلبہ کی کلاس روم پریکٹس کا خاصہ ہے ) کی تکنیک کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔میں نے واشنگٹن ڈی سی کی دو یونیورسٹیوں میں یہ کورسز سالہا سال تک پڑھائے ہیں۔

(۳)اوپر قاری اساس تنقید کے طریق ِ کار کے بارے میں تین مفروضات پیش کیے گئے ہیں۔ (ایک) قاری کون ہے، کہاں ہے، کس ملک کا باسی ہے، اس کی عمر کیا ہے ، اس کی زباندانی کا علم کس سطح کا ہے، اس کا معاشی اور معاشرتی پس منظر کیا ہے۔ (دو) متن کی قرآت کا طریق ِ کار کیا ہے۔ کیا وہ کمرہ ٔ جماعت میں بیٹھا ہوا ایک طالبعلم ہے۔ گھر میں آرام سے بیٹھی ہوئی ایک خاتون ِ خانہ ہے، کلب میں یا کسی ادبی مجلس میں دیگر احباب کے ساتھ بحث میں مصروف ایک قلمکار ہے یا رات کو سونے سے پہلے کتاب پڑھتا ہوا ایک بوڑھا قاری ہے۔ (تین) اب آخری مسئلہ ’’رد ِ عمل ‘‘ کا ہے۔ یہ رد ِ عمل ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت میں، ایک ہی قسم کے ماحول میں بیٹھ کر اپنا رد عمل لکھتے ہوئے ’قارئین‘ کا بھی ان کی ذاتی پسند یا نا پسند (جو ان کے ذاتی حالات کے نتیجے کے طور پر ان کی گھٹّی میں پڑی ہے) کے طور پر مختلف ہو سکتا ہے۔

یہ نہیں کہ ناقدین نے ان امور پر غور ہی نہ کیا ہو۔ ڈی ۔آر۔اولسن، Olson, D.R. From uttermost to Text: The Rise of Language in Speech and Writing, Harward Educational Review 47. (3) pp.257-81 نے لکھا ہے کہ معنی کی ترسیل میں شرح اور تفسیر دونوں ہی ممکن الااصل ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک دوسری سے سبقت لے جائے۔ اسی طرح بارتھ نے بھی اس مسئلے کواٹھایا ہے۔ کہ قاری متن کا اصل جنم داتا ہے۔وہ دو نئی اصطلاحات وضع کرتا ہے۔ Readerly Or Visible اور Writerly OR Scriptable مصنف کسی متن کا خالق تھا، تو تھا، لیکن اب نہیں ہے۔اور اگر آج کے دن کے سیاق و سباق میں اسے متن کا خالق تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ اس کی شرح یا تفسیر کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا یہ قاری ہے جو ان دو اقسام کے متون کے معانی کو اپنے دانست سے تشکیل دیتا ہے۔اور یہی اس متن کے معانی کی درستگی کا پیمانہ ہے۔

اب دیگر امریکی یونیورسٹیوں کی طرح میری یونیورسٹی میں بھی ان کورسزکی تدریس کے طریق کار دیکھتے ہیں۔ کلاس روم ٹیچر اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کر کے زبانی ہدایات دے سکتا ہے لیکن خصوصی طور پر Virtual Textual Analysis یعنی کورس نمبر (۱) میں اس کا طریق ِ کار ایک ہی ہے۔ (یہ ’’لیکچر پیریڈ‘‘ نہیں ہوتا، بلکہ سائنس کے طلبہ کی طرح ہی جو سائنس لیب میں جمع ہوتے ہیں ،یہ طلبہ لینگویج لیب میں اکٹھے ہوتے ہیں)۔ چونکہ یہ لیب پریکٹس کا ایک حصہ ہے، اس میں طلبہ سے ان کی تحریریں اکٹھی کر کے گریڈ نہیں دیے جاتے۔ لیکن سمسٹر امتحان میں یہ اکٹھے کر لیے جاتے ہیں کہ ان پر گریڈ دیا جاتا ہے۔اسی پریکٹس کا یعنی نمبر (۲) کورس ہے ، جس میں ’تنقید‘ کا عنصر بڑھا دیا جاتا ہے اور متنی یا اسلوبیاتی تنقیدپر زیادہ وقت صر ف کیا جاتا ہے ۔
پینتالیس منٹ کے پیریڈ میں پہلے پندہ منٹ طلبہ کو دیے جاتے ہیں کہ وہ اوور ہیڈ پروجیکٹر سے اسکرین پر پروجیکٹ کیے گئے متن کو غور سے پڑھیں۔ یہ متن اندازاً بیس سے تیس سطروں تک طویل ہو سکتا ہے۔ عام طور پر متعدد ٹیچر اپنے پاس دس یا بارہ تک ایسے متون کی نقول رکھتے ہیں، جن میں سے کسی ایک کو وہ پروجیکٹر سے اسکرین پر پروجیک کرتے ہیں۔ یہ ٹیچر کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کون سے متن کا انتخاب کرے لیکن عموماً ایسے ٹیکسٹ ہی پسند کیے جاتے ہیں جنہیں طلبہ مشہور و معروف شعرا کی تحریر وں کے طور پر نہ پہچان سکیں۔ یہ بھی نہ فرض کر سکیں کہ یہ کس زمان و مکان میں خلق کیا گیا ہو گا۔ فی زمانہ مستعمل انگریزی میں دوسری زبانوں کے تراجم بھی لیے جاتے ہیں۔ ( میں خود عام طور پر انیسویں صدی کے انگریزی شعرا، ٹینی سن، برائوننگ، لانگ فیلو، وغیرہ سے ان کی نظموں کے متون، یا ان کے کچھ حصص، منتخب کرتا رہا ہوں۔جو کئی برسوں سے کورسز سے خارج ہو چکے ہیں )

اب طلبہ کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اپنی نوٹ بک میں ان سب الفاظ کو نوٹ کریں جو اسم (نام، کلمہ جس سے کسی شخص، جانور، جگہ یا چیزکو پہچانا جائے) کی ذیل میں آتے ہیں۔ ان میں اسمِ معرفہ ، اسمِ نکرہ، اسم ِ علم، اسم ظرف، اسم صفت، اسم جنس، اسم ِمعرفہ، اسمِ موصول، اسم ِ ذات، اسم ِ صفت، اسم ِ فاعل، اسمِ مفعول،وغیرہم ۔۔۔سب بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ پھر اپنے پاس ڈسک پر موجود ڈکشنری اور تھیسارس سے ان کے ہم معنیs تلاش کریں۔ ایک ایک کر کے ان سب کو شاعر کے استعمال کیے گئے الفاظ کے ساتھ یا اوپر رکھ کر یہ دیکھیں کہ جملہ سازی میں اور جملے کے معانی میں اور اس معانی کے مکمل متن کے تناظر میں کون سا لفظ (طالبعلم کے خیال میں) زیادہ موزوں ہے۔ میں اپنے انتخاب کی وجہ تسمیہ بھی لکھتے جائیں۔۔ پھر اس پر دس یا بارہ جملوں میں اپنی تنقید لکھیں، جسے وہ ٹوٹے پھوٹے جملوں میں بھی لکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ انہیں پڑھ کر سنانا ہوتی ہے اور اس پر گریڈنگ نہیں کی جاتی۔یہ سب کام وہ پہلے پندرہ منٹوں میں کرتے ہیں۔
لیب پریکٹس کے پیریڈ کے آخری بیس پچیس منٹوں میں طلبہ کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جو کوئی بھی چاہے،ہاتھ کھڑا کر کے اپنا تحریر کردہ متن پڑھ کر سنا سکتا ہے، جسے ٹیچر اور دیگر طلبہ سنتے ہیں، اس سے سوال کرتے ہیں، بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ ہنسی کے فوارے چھوٹتے ہیں،الفاظ کے انتخاب پر لطیفے بھی گھڑے جاتے ہیں کچھ طلبہ ڈسک پر موجود متن سے ایسے ایسے معانی اخذ کرتے ہیں کہ اللہ پناہ ! (یہ سب اس مجموعی عمل کا حصہ ہے جسے جسمانی ڈرِل میں ’’ورزش‘‘ کہا جاتا ہے) البتہ تین چار ایسی کلاسز میں شرکت کے بعد آہستہ آہستہ سب طالبعلم یہ سیکھتے جاتے ہیں کہ نوع انسان کی اساس ’’ایک‘‘ ہے، صر ف رسم و رواج ’’مختلف‘‘ ہیں۔ مادرانہ شفقت سب زمانوں میں اور سب ملکوں میں ایک جیسی ہے۔ اپنے بچوں کی حفاظت میں ایک جانور اور ایک انسان اپنی جان تک قربان کر سکتے ہیں۔ ’قدیم‘ سے ’جدید‘ زمانوں تک پہنچتے پہنچتے قبائلی رسم ورواج پھیکے پڑتے پڑتے یا تو بد رنگ ہو جاتے ہیں یا حب الوطنی کے جذبے کے تحت بدلتے جاتے ہیں۔ مذاہب کیا کچھ سکھاتے ہیں اور لوگ انہیں اپنے علاقے اور وقت کے چلن کے مطابق کیسے کیسے نئے معانی کی قبائیں پہنا دیتے ہیں۔ ’عشق‘ کا تصور تعشق سے روحانیت تک کیسے کیسے مراحل سے گذرتا ہے اور ممنوعہ افعال (مثلاً اسلام میں شراب نوشی) کو کچھ زبانوں (مثلاً فارسی اور اردو) میں کیسے بطور موضوع یا استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
VTPCمیں ( جو VTA کی ہی دوسری سٹیج ہے، ایک طالبعلم عملی تنقید یعنی کے عنصرکو، جو اس کا آخری حصہ ہوتا ہے، بروئے کار لاتا ہے اور متن پر ایک تنقیدی نوٹ لکھتا ہے۔ اس میں وہ استعمال میں لاتا ہے اور تفصیل سے وہ سب کچھ لکھتا ہے جو اسے سمجھ میں آتا ہے۔ یہاں وہ تنقید کی تکنیکی زبان کا استعمال بھی بخوبی کرتا ہے کہ اس ایڈوانس کورس میں اسے یہ تربیت مل چکی ہوتی ہے۔

جاری ہے!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *