کچھ اہل عرب کے بارے میں(حصہ اوّل)۔۔سلمان اسلم

اقوام عالم کی تاریخ میں جب بھی انعام یافتہ اقوام کا تذکرہ کیا جائے گا تو سب سے پہلے اور نمایاں نام بنی اسرائیل کا آئے گا۔ بنی اسرائیل صفحہ ہستی پہ وہ قوم تھی جس کو اللہ نے بہت عزت وفضیلت دی تھی اور اللہ جل شانہ عزوجل نے کئی بار قرآن میں اس کا تذکرہ فرمایا؛

اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔
(سورہ بقرہ)

اور یہ فضیلت صرف زبانی کلامی نہیں تھی بلکہ قرآن اس بات کا شاہد ہے کہ ان کو من و سلوی کی صورت میں اللہ جل شانہ کھانا عطا فرماتا تھا۔ اور دنیا کی امامت کا رتبہ اور حق بھی انہی کے نسل میں سے چلی آرہی تھی۔ اور جب تک امامت کا حق ان کے پاس تھا تو تب تک قبلہ و مرکز بھی وہی بیت القدس رہا جو سلیمان علیہ السلام نے منتخب فرمایا تھا۔ مگر بنی اسرائیل فطرتا ناشکری اور بد بخت قوم تھی۔ انہوں نے اللہ جل شانہ کے احکامات میں حیل وحجت شروع کی اور یہی چیز ان کی تباہی کا موجب ٹھہری۔ جہاں اللہ نے قرآن میں بنی اسرائیل پہ کیے گئے انعامات و اکرامات کا تذکرہ کیا ہے وہاں اللہ عزوجل نے بڑی سخت تنبیہ بھی دی تھی۔

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا (سورہ انعام: 6)

لیکن بنی اسرائیل اپنے شیطانی اور فسادی الطبع سوچ سے بعض نہ آئے اور یوں وہ اللہ جل شانہ کے قہر و غضب کے مستحق ٹھہرے۔ اللہ جل شانہ نے انہیں دریامیں غرق کردیا اور اسکے بعد یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ جل شانہ نے اک نئی نسل پیدا فرمائی جو عہد حاضر میں اہل عرب کہلائے اور بنی اسرائیل کے بعد یہی اہل عرب منعم علیہ قوم ٹھہری۔ اور اللہ جل شانہ نے اپنا حبیب، رحمت العالمین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اسی عرب قوم میں سے مبعوث فرمایا۔ اور یہ حقیقتا انسانی دنیا کی تاریخ میں کسی بھی قوم پہ سب سے زیادہ اور بہت بڑا انعام ہے۔ بظاہر ساختی اعتبار سے ناقابل پسندیدہ زمین رکھنے واللہ یہ خط اللہ کے خصوصی انعام و اکرام کا موجب دو عظیم ہستیوں کی بابت بنا۔ آباء ابراھیم علیہ السلام کی دعا اور رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سے۔ ابراھیم علیہ السلام نے دعا فرمائی۔۔۔؛

جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں پھلوں کی روزیاں دے۔ (سورہ بقرہ 126)

اللہ جل شانہ نے اپنے خلیل کی دعا کو من وعن قبول فرما کر سب سے پہلا انعام رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہستی کی ولادت باسعادت سے فرمایا۔ اور پھر اس خطے کو ہر قسم کے شیطانی سرگرمیوں، شیطان الطبع نفوس اور شرک پرستی کا خاتمہ فرما کر اپنے ہی حبیب کے ہاتھوں امن کا گہوارہ بنا دیا۔ اور پھر اس صحرائے نما عرب کی سرزمین پہ رہنے والوں کو زمین کے اوپر (کجور) اور اس کے اندر پیدا ہونے والے (بعد میں دریافت ہونے والی تیل کی پیداوار) پھلوں سے مستفید کرا کر اسی سے روزی عطا فرمائی۔ اور وہ فضل آج تک قائم و دائم ہے۔ عہد حاضر میں روئے زمین پہ بسنے والا تقریبا ہر ذی نفس عربوں کی اس خوش بختی سے بخوبی واقف ہے۔ یہ جس قسم کی منعم یافتہ زندگی گزار رہے ہیں وہ شائد ہی کسی اور ملک میں کوئی اور قوم گزار رہی ہو۔ قدرت کا اک اصول ہے جب کسی قوم پہ کوئی انعام کیا جاتا ہے تو اللہ جل شانہ اس انعام کی قیمت (اس قوم سے) آزمائش کی صورت میں وصول کرتا ہے۔ اسکا مقصد صرف اور صرف اس قوم میں موجود شکر گزاری کے معیار کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کیا وہ قوم اتنے انعامات کے بعد اللہ کے شکر گزار بھی ہیں یا نہیں۔ اور اس کے بارے میں اللہ نے قرآن میں نہایت واضح انداز میں فرمایا۔۔۔

اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
(سورہ ابراھیم آیت 7)

اب اگر بنی اسرائیل کا حال دیکھیں تو وہ بھی آزمائش کی گھڑی سے گزر نہ سکے اور انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی تو پس اللہ نے ان کو صفحہ ء ہستی سے مٹا دیا۔ اور یہ اصول تاقیامت زندہ رہے گا کیونکہ قرآن کریم بھی تا قیامت زندہ رہے گی اور اس میں موجود احکام شریعہ بھی تاقیامت رہے گی۔ آج اہل عرب بنی اسرائیل کے نقش پہ چلنا شروع ہو چکے ہیں۔ عربوں میں سے ہر دوسرا تیسرا شخص اللہ کے عذاب کو برملا دعوت دے رہا ہے۔ استاد مرحوم محترم ڈاکٹر اسرار صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اہل عرب قیامت کے روز سب سے پہلے اور بڑے مجرم ہونگے۔ کیونکہ اللہ نے جو شریعت اپنے حبیب کے توسط سے ان میں نازل فرمائی تھی وہ انکی اپنی آبائی زبان میں تھی مگر پھر بھی انہوں نے اسکو اس طور سے اس انداز سے نہیں اپنایا جس انداز سے اس کو اپنانے کا حق تھا۔ اب بنی اسرائیل کی طرح اور ان کے بعد اہل عرب اللہ جل شانہ کے غضب کے شکار ہونے والے ہیں۔
میں نے پچھلے پانچ برسوں میں عرب امارات میں عربوں کی حالت اور رہن سہن کا اپنی بساط بھر کے موافق بڑے غور سے مشاہدہ کیا۔ عرب آج اپنے رہن سہن کے اعتبار سے مغربی معاشرہ سے کسی قدر کم نہیں بلکہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہونگا کہ عرب معاشرہ مغربی معاشرے سے بڑھ کر ہے۔ دنیائے اسلام میں اہل عرب دینی اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے بہت معتبر اور دین پرست تصور کیے جاتے ہیں۔ مگر نہایت معذرت کے ساتھ اپنی ذاتی مشاہدے کے بعد مری نظر میں عہد حاضر میں اہل اعرب اپنے اعمال کے موجب منافق، عیاش پرست اور، بدتہذیب قوم ہے۔ ذیل میں ان کے متعلق چند اک باتوں کو سامنے رکھ کر اپنے نظریے کی وضاحت کرونگا۔

جاری ہے

Avatar
سلمان اسلم
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *