کتابیں، کتابوں کے اُوپرکتابیں۔۔ادریس آزاد

کسی خشک لکڑی کےکیڑے نےکرمِ کتابی سے پوچھا
تمہاری نظر میں یہ سارے شجر کتنے عرصے میں سوُکھیں گے؟
کتنی بہاریں ابھی میرے رستے کو روکھے کھڑی ہیں؟
وہ رستے جہاں سے جہنم کا ساقی مجھے آملے گا؟

وہ کرمِ کتابی کتابوں میں گم تھا
اُسے فکرتھی تو فقط فکر تصدیق روح ِ مقالہ
جہانِ فسردہ کی آتش کہاں سے اُٹھائی گئی تھی؟
کتاب ِ ازل کب کھلی، کیوں کھلی تھی؟
یہ کب ختم ہوگی؟
وہ اعداد کیسے نکلتے ہیں جن کی کوئی عقلی تاویل ہوتی نہیں ہے؟
وہ مزدور کس کو کہا جارہاہے جسے اپنے آگے نہ پیچھے
کوئی چھوڑناہے
کوئی نسل، کوئی عقیدہ، کوئی شہرتِ دائمی کا قصیدہ
کہاں پر ملے گی وہ ہیگل کی تعمیر کردہ
وہ ’’ہونے نہ ہونے‘‘کے مابین کی راہداری؟
وہ غزلیں کہاں ہیں
جو بعداز سلیمان لکھی گئی تھیں
وہ رنگین قالین جس پر کسی کی گلابی حسیں ایڑھیوں
کے نشاں تھے

کتابوں کے کیڑے نے لکڑی کے کیڑے کے تشکیل کردہ سوالوں کو
یوں ان سنا کردیا جیسے کانوں میں رُوئی کے گالے دبے ہوں
وہ سرکوجھکائے، جھُکی ناک پر کالی عینک لگائے
غزالی پہ لکھے گئے اِک مخالف مقالے
کے مٹتے حوالوں کوتکنے پرکھنے میں مشغول ہونے کی
جھوٹی اداکاریاں کررہا تھا۔

یہ مغرور کیڑا جو اخلاق پر عزمِ سقراط سے حکمتِ کانٹ تک
کتنی آبی کتابوں کے انبار ازبر کیے سالہاسال سے
علم پر ناگ بن، پھن کو پھیلائے بیٹھاہوا تھا
کئی ساعتوں تک نہ بولا تو لکڑی کے کیڑے نے
بوسیدہ کرسی کا پایہ اُٹھایا
تو مغرور کیڑے نے عینک کے پیچھے سے آنکھیں گھماتے ہوئے
اُس کو دیکھا
ذرا دیر رک کر تحمّل سےبولا
مجھے پچھلے سوسال سےفرصتیں ہیں
کتابیں کتابوں کے اُوپر پڑی ہیں
کتابوں کے اُوپر کتابیں، کتابوں کے اُوپر کتابیں،کتابوں کے اُوپر کتابیں پڑی ہیں
کتب خانے میرے تسلط میں آکر
مقدمات میں اور مقالوں میں ڈھلتے ہوئے
دن بدن بڑھ رہے ہیں
میں اکیس سوسال میں اتنی فصلوں کا مالک نہیں تھا
مجھے اپنی نسلوں کو اتنی کتابیں کھلانے سے فرصت ملے گی
تو لکڑی کے بارے میں بھی سوچ لونگا

ابھی کچھ بہاریں ذرا صبر کرلو!
تو پھر ہم ہمیشہ ہمیشہ کے ذہنی دباؤ سےفارغ
کسی سبز پیپل کی چھاؤں میں آرام سے بیٹھ کر
خوب تفصیل سے اُس جہنم کی باتیں کرینگے
ابھی بس تسلی کو اتنا کہونگا
کتابوں میں لکھاہے
دوزخ میں پتھرجلیں گے
وہ پتھر جو قسوہ ہیں
دنیا کے سب سے خطرناک پتھر
تو دوزخ میں لکڑی جلانے کا کوئی کہیں تذکرہ ہی نہیں ہے
یہ سن کر وہ لکڑی کا کیڑا
وہ پیڑوں کی لاشیں چباتاہوا مردہ خوری کامارا، خزاں زاد
لکڑی کا کیڑا
اداسی کے گھبمیر لہجے میں بولا
تو پھر کیا شجر سارےباقی رہینگے؟
توپھرکیا پرندوں کے گھر سارے باقی رہینگے؟

توکرمِ کتابی نےسر کوہلایا
ذرا مسکرا کر بتایا
پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
مجھے اتنے سالوں، مقالوں میں اک آخری بات معلوم ہوتی رہی ہے
وہ یہ بات ہے کہ،
’’جہنم سے پہلے کہیں کوئی جنت نہیں ہے‘‘
مجھے اتنا معلوم ہےمیرے مزدور بھائی!
کہ صدیوں کا مارا ہوا آدمی تھک چکاہے
جوبَکنا تھا اس کو وہ سب بَک چکاہے
یہ اب جی سکا تو
بشرطیکہ یہ واقعی جی سکا تو
بہاروں کوآنے، درختوں کو جھولا جھلانے سے
کوئی بھی کیڑا نہیں روک پائے گا
انسان ہے، اس کو
کوئی بھی کیڑا کبھی روک سکتا نہیں ہے۔

ادریس آزاد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *