کرونا،نہ کرونا۔۔۔فاخرہ نورین

دروازہ زور زور سے دھڑدھڑایا جا رہا تھا۔

زبیر ، اوئے اٹھ اتاں مجھی کٹی دتی آ، کٹی توں کاں تے اڈا

ابا جی نے دروازہ دھڑدھڑایا اور کہہ کر دارے میں چلے گئے۔
میرے تو سر سے لگی اور تلووں پر بھی نہ بجھی۔ زمین تپنے اور میں ٹاپنے لگی۔
یہ کیا ہے یار ! تم اب اس لیے رہ گئے ہو کہ کٹیوں سے کاں اڑاتے پھرو۔ کوئی سٹیٹس ہے کہ نہیں ؟

زبیر میری اچھل کود کو اہمیت دیے بغیر ابا جی کے حکم کی تعمیل میں تیزی سے چپل اڑستا فارم کو بھاگا۔ کچھ دیر بعد میں نے فارم میں جھانکا تو میرا بزنس مین زبیر ماجھی بنا کٹے ہنکا رہا تھا۔ میں ہیر نہ تھی وہ رانجھا نہ تھا اور تو اور یہ روپ دھارن بھی اس نے میرے عشق میں نہیں کیا تھا پھر بھی مجھے اس پر پیار اور غصہ دونوں اکٹھے آئے۔

ماجھی اوئے ، کٹی تو کاں اڈے کہ نہیں؟

میں نے اسے چھیڑنے کے لیے آواز لگائ اور وہ ہنستے ہنستے مجھے اندر جانے کا اشارہ کرنے لگا۔ اگلے دن وہ بھینس کے سینگ کاٹ رہا تھا۔( جی ہاں میرا بھینس سے جیلس ہونا بے مقصد اور بلا وجہ نہیں ۔بھینس میری اور اس کی کہانی میں خاصے ٹھسے اور بھاری جثے سے مستقل قیام پذیر ہے مجھے ڈر ہے کسی دن وہ بستر پر بنفسِ غیر نفیس یوں بیٹھی پائی جائے گی کہ اس کے گوبر کی بو میرے نتھنے پھاڑ کر میری آنکھیں کھول دے گی۔) میں بھینس کے سینگ کٹنے کی چشم دید گواہ بننے فارم میں چلی گئی۔
( ارے صرف میرے کس بل نکالنا اس کے نام تھوڑی ہے یہ تو ہر بھینس وچھی کٹی کے سینگ کاٹتا پھرتا ہے۔)
زچہ بھینس اور بچہ کٹی بھی قریب بالترتیب آرام اور اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔

“یہ کٹی ہے نئی والی “۔
اس نے لہجے میں نرمی اور محبت بھر کر مجھے بتایا یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ کہ یہ نرمی اور محبت میرے لیے ہے کہ کٹی کے لیے۔
میں کٹی میں اس کے نقوش ڈھونڈنے میں مگن ہو گئی۔
آنکھیں تو اس کی بھی چھوٹی ہی لگ رہی تھیں۔ اففففف میرا دماغ۔

زبیر !

ہاں جی ؟

اس کٹی کی پیدائش میں تمہارا کیا کردار ہے؟؟؟

میں نے اپنے شکوک و شبہات کو ملفوف کر کے اس کی طرف روانہ کیا۔وہ ہنس پڑا

اگر تمہاری زبان میں کہوں تو دلال کا، سنٖڈھے کا ارینج میں نے کیا تھا۔

اووع ۔مجھے ابکائی آگئی۔

تم کبھی کوئی معزز کام نہیں کر سکتے؟ میں نے ابا جی کے برعکس امیج کے
آئینے میں اسے دیکھا بھالا۔
“نہیں ۔ سیدھےاور معزز آدمی تمہیں کہاں پسند آتے ہیں۔ منٹو کی چمچی “۔
“اچھا ، اس کی آنکھیں تو اتنی بڑی نہیں ہیں”۔ میں نے کٹی کی آنکھوں میں سچ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ وہ سمجھ گیا۔
” اچھا اب جائیں آپ ادھر بندے آنے والے ہیں”۔
آنکھوں سے ساتھ کام کرتے مصلی کی طرف اشارہ کیا کہ پھر فرائیڈ کا لچ ڈیپ فرائی کرنے مت بیٹھنا۔میں چپ کر کے گھر کے اندر چلی گئی۔لیکن یہ بھینسانہ مصروفیات زچہ بچہ دیکھ بھال پروگرام بھلے ابا جی کو پسند ہو مجھے کیسے گوارا ہو کہ وہ اس حال اور اس حالت میں بھینس کے گرد پدری فرائض منصبی ادا کرتا پھرے۔میں نے شام پھر رولا چھیڑ دیا۔
“یار زبیر کچھ عزت دارانہ مصروفیت بناؤ، یہ بھینس کٹی تھنگ میرے لیے ناقابل برداشت ہے۔ تم بھینس کی زچگی کے ذمہ دار نہیں ہو پلیز”۔
میں نے اپنا پرانا مقدمہ پیش کرنا شروع ہی کیا تھا کہ وہ فورا بول اٹھا
“آپ بتائیں کیا کروں؟؟؟؟”
“تم۔۔۔ تم ۔۔تم شجرکاری کیوں نہیں کرتے”۔ مجھے یاد آگیا درخت ابھی تک دنیا کی واحد چیز تھے جن سے اس کی قربت سے مجھے جیلسی نہیں ہوتی تھی۔
“چلیں ہم اپنی سائیڈ کے صحن کا گارڈن ترتیب دیتے ہیں۔ لیکن آپ میرے ساتھ کام کرائیں گی”۔
میں خوش باش اس کی کاشت کاری اور شجرکاری مہم میں شامل ہونے کو تیار ہو گئی۔
مٹی سدھی پدھری کرنے کسی اور کو بلایا گیا جبکہ پودوں کے انتخاب پر میں نے مشاورت میں بھرپور حصہ لیا۔ اگلے کچھ دن گارڈن کی زمین سیدھی ہموار کرتے اور اس پر نرم زرخیز مٹی لا کر بھرتے گزرے۔یوم شجر کاری پر دستانے پہنے میں اس کے ساتھ ایک کونے میں پڑے پودے باری باری اٹھا کر لانے جیسے اہم فریضے میں مگن رہی جبکہ اس نے محض فیتے سے پودوں کا باہمی فاصلہ ناپا، کھرپے سے زمین کھودی ، پودا رکھ کر مٹی ڈالی اور پانی دیا۔
کوئی مجھ سے پوچھے کہ سسرال میں زبیر کے علاوہ مجھے کیا اچھا لگتا ہے تو میرا جواب ہو گا
مغربی صحن میں لگا تیز گلابی پھولوں والا پودا، جس کے پھول ہمیشہ گرتے بلکہ کِرتے رہتے ہیں۔ اس کے نیچے میں نے کبھی پتہ گرا نہیں دیکھا، البتہ پھولوں کا پھیلاؤ اسے ایک دلبری سی عطا کرتا ہے۔
اس پودے کا گند مجھے بہت پسند ہے، یہ بس پھول گراتا ہے۔
ہم اپنے صحن میں بھی یہ پودا لگائیں گے زبیر ، مجھے اچھا لگتا ہے یہ، محبت ہی محبت ہے یہ ، اس کا تو گند بھی اچھا لگتا ہے ، ہے نا
میں نے پودے کے تھالے میں بکھرے گلابی پھولوں کی طرف اشارہ کیا۔
اور زبیر وہ پودا لے آیا، محبت کا پودا، اسے ہم دونوں نے مل کر لگایا، یہ پودا نہیں دعا تھی، بسم اللہ کہہ کر زمین میں بیج دی۔ اس کے پھول اپنے صحن میں بکھرنے، ان پھولوں سے اپنے بچوں کے کھیلنے کی دعا۔ مل کر ان پھولوں کو بکھرے دیکھنے کی دعا۔ یہ میری خواہش تھی، خواب تھا اور اس نے تعبیر لا کر میرے صحن میں بو دی، میرا بس چلتا میں اس پودے کو جادو کے زور سے اسی شام بڑا کر دیتی، اور تھالے میں بکھرے گلابی پھولوں کو زبیر پر پھینکتے ہوئے ہنستی۔لیکن میں صرف رومانی نہیں بے چین روح بھی ہوں ، سو
یہ کب تک اگ جائیں گے؟
یہ کتنے دن میں پھول دیں گے؟
اس پر پھل کب لگے گاَ؟
کیا ہم لاک داؤن کے دوران اس کے پھول دیکھ سکیں گے ؟
،کیا ہم اس باغ کے پھل کھا سکیں گے؟
چنار کی چھاؤں جب اس صحن میں آئے گی تو منجی بچھائیں گے یا گارڈن چئئرز سے کام چلے گا؟
۔اگر جائینٹ سسٹم ختم ہوا تو کیا تب بھی ہم ان کو اپنے لان میں بیٹھنے دیں گے؟
اگر ہم نے پنڈی رہنا ہے تو ہم یہ مشقت کس لیے کر رہے ہیں ؟
یہ اور اس جیسے دیگر خدشہ ہائے دوردراز پر مبنی سوالات کی بارش البتہ اس پر میں نے مسلسل کی تا کہ مجھے بوریت اور اسے محویت کا احساس نہ ہو۔
“یار یہ لوٹا بھر کے لے آئیں پانی سے ، بوتل پام کو مزید پانی دینا ہے”۔
“میں کیوں دوں؟؟ “میں نے تنک کر کہا میرے اتنے اہم سوالوں کا جواب خاموشی تھا نہ یہ ہدایت ،سو مجھے غصہ آ گیا۔
“میں کیوں دوں پانی دینا تمہارا کام ہے “۔
“ہاں ۔۔۔ پانی دینا میرا کام ہے”۔۔
اس نے مجھے ٹھنڈا کرنے کے لیے شرارت اپنے لہجے میں بھری اور میں تو ڈھے ہی گئی۔
“پتہ نہیں کب پھل پھول لگیں گے، پتہ نہیں کب ہریاول ہو گی”۔
مالی دا کم پانی دینا، بھر بھر مشکاں پاوے
وہ اپنے تئیں میاں محمد بخش بن کرسیف الملوک کا غیر اخلاقی استعمال کرنے لگا۔
“پتہ نہیں مالک کی کیا مرضی ہے، پھل پھول لگائے یا نا”۔ میں نے مایوسی اور بے یقینی کا اظہار کیا۔
“لگائے گا، ضرور لگائے گا۔ہمارے حصے کے پھل پھول ہیں ، ضرور ہیں اور وہ دے گا بھی۔ ہمارا کام پانی دینا ہے، ہم اپنا کام کرتے ہیں وہ اپنا کرے گا، ضرور کرے گا”۔ اس کے لہجے میں وہی پختہ ایمان اور تسلی تھی جس سے میرے دماغ کا تپتا تنور ہمیشہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
کرونا کا ایک تحفہ لوگوں کو شجر کاری اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ اور مشغول رکھنا بھی ہے، اس لیے ہم مصروف ہیں کیونکہ
مالی دا کم پانی دینا سو بھر بھر مشکاں پاوے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *