گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(14)

حنان اور طیبہ کا ساتواں چکر مکمل ہونے والا تھا۔

ہر طرف پُرنور دھند چھائی ہوئی تھی۔ دودھ میں دُھلی دھند اور سفید فوارے کے گرد ہاتھ تھامے چکر لگاتے ہوئے دو فرشتہ صف انسان! ایسا منظر شاید ہی کبھی انسانی آنکھ نے دیکھا ہو، ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے سات چکر پورے ہوتے ہی پٹاخے پھوٹیں گے، روشنیاں چمکیں گی، تالی بجے گی، کھیل جمے گا اور برف باری شروع ہو جائے گی۔ لگے ہاتھوں طیبہ کی ملتان میں برف باری دیکھنے کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔ بات اب استخارےسے بہت آگے نکل چکی تھی۔ اب صرف ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایک پری اور اس کا شہزادہ ایک مستقل بندھن میں بندھنے جا رہے تھے۔ دونوں کے دلوں کے تار اور بتیس بتیس دانت ساتھ ساتھ بج رہے تھے۔ سیتا اور رام کی پریم داستاں اک خوبصورت موڑ پہ آ چکی تھی۔

اک آہٹ ہوئی، پھر دوسری آہٹ، پھر تیسری۔ راون آن پہنچا تھا۔ عثمان بھائی اپنی نئی نویلی ہاؤس آفیسر کو گوگی گارڈن  سیر کروانے بعد مینگو گارڈن داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے آج ہی اسے لنچ میں مفتا لگوایا تھا اور شام کو بڑی حسرتوں سے نشتر کی سیر کرا رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ آج میدان خالی ہو گا۔ وہ خوش گپیاں کرتے ہوئے پودوں کے درمیان میں سے بنی راہداری سے مینگو گارڈن وارد ہو رہے تھے۔ طیبہ نے قدموں کی آہٹ سنی۔ کان کھڑے ہو گئے۔ حنان استخارے میں مست جھومتا ہوا آخری چکر کی خوشی سے مدہوش ہو رہا تھا۔

طیبہ نے سرگوشی کی:
“حنان کوئی دیکھ رہا ہے۔ کوئی آرہا ہے، حنان۔”

“ہہم” حنان نے عالمِ مدہوشی اور عالم سرشاری سے نظریں اوپر اٹھائے بغیر جواب دیا۔

عثمان بھائی اور ان کی ہاؤس آفیسر کے قریب آتے ہی ان کی خوش گپیاں طیبہ کے کانوں میں پڑنے لگیں۔ یہ ایک مانوس آواز تھی۔ وہ آواز جس نے تھرڈ ائیر میں میتھڈذ کرائے تھے، وہ آواز جو طیبہ پچھلے چار ماہ سے Whatsapp پہ  سن رہی تھی۔ طیبہ کو دھچکا سا لگا۔ اس نے فوراً حنان کا ہاتھ جھٹکا۔

“حنان! تم استخارہ اور مراقبہ مکمل کرو۔ میری ٹانگیں جواب دے گئی ہیں۔ میں بنچ پر  جا کے بیٹھتی ہوں۔”

یہ کہتے ہی وہ فوراً فوارے سے بھاگتے ہوئے درخت کے نیچے پڑے بنچ کی طرف بھاگی۔

حنان کا عالمِ سرشاری ٹوٹا۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ صرف تین فٹ کے فاصلے سے آخری چکر نامکمل رہ گیا تھا۔ سیتا اور رام کی پریم داستاں مکمل ہونے سے ایک لمحہ پیچھے رہ گئی۔ وہ راون کا لمحہ تھا۔
حنان نے فوارے پہ  آپہنچے دو اور انسانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جمپ لگا کے ساتواں چکر مکمل کیا۔ اس نے فوارے پہ  رکھی ٹوپی اٹھا کے سر پہ سجائی۔ مفلر سے گلہ بند گیا۔ اور دیوانہ وار آنکھیں بند کر کے مراقبہ میں جھومنے لگا۔

عثمان بھائی اور ان کی ہاؤس آفیسر اسے کوئی مجذوب یا نشئی سمجھ کر ہنستے ہوئے گزر گئے اور درخت کے نیچے جا پہنچے۔ طیبہ کا بیٹھے بیٹھے سانس چڑھ چکا تھا۔ اس کے کان، ناک، آنکھ، رخسار، سب سرخ ہو چکے تھے۔ بینچ کے قریب پہنچتے ہی عثمان بھائی وہاں براجمان دوشیزہ کو دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ ان کے دل میں ایک انجانا سا خوف اور شبہ پیدا ہوا۔ عثمان بھائی نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔ انہوں نےوارڈ، وارڈ کے چکر لگائے تھے۔ وہ لوگوں خصوصاً صنف نازک کو چلنے پھرنے، بولنے حتیٰ کہ بیٹھنے کے انداز سے بھی پہچان لیتے تھے۔ اتنے تجربہ کار تھے عثمان بھائی۔

“نہیں یہ وہ نہیں ہو سکتی۔ وہ تو بہت معصوم اور گڑیا جیسی ہے۔ وہ تو کسی لڑکے کو منہ تک نہیں لگاتی۔ وہ تو صرف مجھ سے بات کرتی ہے۔ یہاں اس کا کیا کام! کہیں اس مجذوب کے ساتھ۔۔۔لاحول ولا قوۃ ۔ یہ وہ نہیں ہے لیکن لگ وہی رہی ہے۔” عثمان بھائی کے ذہن میں خیالات سردلہر کی طرح دوڑ رہے تھے۔ ہاؤس آفیسر خاموش کھڑی سردی سے ٹھٹھر رہی تھی۔

عثمان بھائی شک دور کرنے کے لیے بنچ پہ  بیٹھی ہوئی لڑکی سے مخاطب ہونے لگے۔

“ایکسکیوز می”

جواب ندارد۔ مکمل خاموشی۔

“ایکسکیوز می! ہمیں یہاں بیٹھنے دیں گی؟” عثمان بھائی صرف آواز سننا چاہتے تھے۔

جواب نداد۔ حرکت شل۔

عثمان بھائی کا شک سچ میں بدل رہا تھا۔ انہوں نے پھر سے مخاطب کیا۔ مگر بنچ پہ  بیٹھی ہوئی ہستی کے پاؤں گھبراہٹ میں زمین پر پھدکنے لگے مگر آواز نہ نکالی۔ عثمان بھائی کا خدشہ درست ثابت ہو چکا تھا۔ ان کے خوابوں کا محل زمین بوس ہو رہا تھا۔ ان کے چہرے پر حیرانی و پریشانی کے آثارآ  جا  رہے تھے۔ ہاؤس آفیسر اندھیرے کی وجہ سےعثمان بھائی کے قیمتی اور منفرد تاثرات دیکھنے سے محروم رہ گئی۔ عثمان بھائی کے اندر غم و غصہ کی لہر دوڑ رہی تھی۔ ان کا دل کر رہا تھا کہ اسی وقت فوارے کے ساتھ چپکے مجذوب کو زدوکوب کرتے ہوئے گھسیٹیں اور طیبہ کو یونیورسٹی سے Expel کرادیں۔ وہ غصے پہ  قابو پاتے ہوئے ہاؤس آفیسر کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولنے لگے:

“اوہ سردی لگ رہی ہے؟ بہت سردی ہے یہاں۔ چلو یہاں سے ہوٹل چلتے ہیں۔”

عثمان بھائی کا دل کر رہا تھا کہ مراقبے میں مست مجذوب کو کم از کم دو چار ٹانگیں تو رسید کرتے جائیں۔ مگر ہاؤس آفیسر کا ساتھ آڑے  آگیا۔

“پتا نہیں، کون بے غیرت، بدتمیز، بے شرم، بے حیا، نامراد لوگ اس وقت یہاں، اتنی سردی میں رنگ رلیاں منانے آتے ہیں۔” عثمان بھائی غصے سے بلند آواز میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل رہے تھے۔ ہاؤس آفیسر شرمندہ تھی کہ یہ عثمان بھائی اپنے اور اس کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے۔

“لُچے کہیں کے!” عثمان بھائی پیچھے دیکھ کر آخری بار بڑبڑائے اور باہر نکل گئے۔

طیبہ فوراً حنان کے پاس پہنچی۔

“حنان! حنان!” طیبہ نے حنان کو جھنجھوڑا۔

“رزلٹ، رزلٹ، فارما، رزلٹ، فارما، پیتھو، فارما، فارما۔” حنان یکدم آنکھیں کھولتے ہی نیم مستانہ انداز میں دہرانے لگا۔

“کیا ہوا حنان؟ کیا بنا رزلٹ کا؟”

حنان ہوش میں واپس آرہا تھا۔ وہ گویا ہوا:
“رزلٹ آرہا ہے۔ آج آرہا ہے۔”

طیبہ پہ  آج صدمے گزر رہے تھے۔
” آج؟ آج کب! نو تو بج گئے۔”

“آج، ابھی، چند گھنٹوں میں!”حنان مراقبے کی حالت سے باہر چکا تھا۔

“اور حنان میری Distinction؟؟” طیبہ بے دھڑک بولی۔

جاری ہے۔۔

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *