ورکنگ وومن؟۔۔۔شمائلہ حسین

میں ہمیشہ سے دیکھتی آرہی ہوں کہ گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں سے بہت زیادہ ہمدردی کا اظہار انہیں بے چارہ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ کسی کے گھر میں جھاڑو لگانا، برتن صاف کرنا اور کپڑے دھونا ایک ذلت کا پیشہ خیال کیا جاتا ہے۔ ان کی محدود تنخواہ کے متعلق افسوس کا اظہار کرنا اور ان کی غربت کو بھی ترس کی نگاہ سے دیکھنا ہمارے روزمرہ کے رویوں میں شامل ہے۔ اور وہ خواتین بھی خود کو اکثر اوقات اتنا ہی بے چارہ اور مزدور دکھا کر ہمدردی کے ساتھ ساتھ کپڑے ، جوتے ، کھلونے اور روپے بٹورتی رہتی ہیں۔لیکن ان کے مقابلے میں کسی بھی عام خاتون کو جو ملازمت کرتی ہو ، تعلیم یافتہ ہو، گھر ، بچے ، سسرال اور شوہر کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اپنی ملازمت میں بھی اپنی ذمہ داریاں اچھے سے نبھاتی ہو اس کے بارے میں شاذو نادر ہی ہمدردی کا ظہار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر کسی کے گھر میں جھاڑو پوچا لگانا باعث شرم ہے تو کسی کے ادارے میں جا کر ملازمت کرنا بھی تو ویسا ہی ہوا نا۔ باس کسی گھر کا مالک ہو یاکسی ادارے کا سربراہ جب وہ آپ کو کام کی اجرت دیتا ہے تو آپ کاخون نچوڑنا اپنا فرض سمجھتا ہے ۔یہاں بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کسی اونچی پوسٹ پر کام کرنے والی خاتون اور کسی کے گھر میں کام کرنے والی خاتون کے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے تو یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جو اپنی زندگی میں زیادہ محنت کرلیتا ہے اپنے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وہ کہیں نا کہیں خود کو سنبھال جاتا ہے یا اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ نہیں مانے ؟ چلیں یہاں آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں۔۔۔

دو سہیلیاں تھیں، پانچویں جماعت تک وہ ایک ہی سکول میں پڑھتی تھیں ۔ دراصل وہ سہیلیاں کم اور کلاس فیلوز زیادہ تھیں ۔ اگر کوئی بات دونوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھتی تھی تو وہ تھی کلاس کی قیادت میں شریک ہونا۔ دونوں مانیٹرز تھیں اور جیسا کہ سرکاری سکولوں میں ہوتا ہے مانیٹر آدھا کلاس ٹیچر بھی ہوتا ہے تو ایسا ہی تھا وہ دونوں کلاس کو ریاضی اور اردو املا کی مشق کرواتی تھیں ۔ ایک سہیلی ناٹے قد کی ، گندمی رنگت اور چھوٹے چھوٹے بالوں والی پھدکتی ہوئی کسی چڑیا کے جیسی تھی ۔ اور ایک کے بال لمبے ، ہمیشہ دو چوٹیاں گندھی ہوئی ، سیاہی مائل رنگت اور چڑیا کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محنتی ، ذہین اور متین تھی ۔ ہم پہلی سہیلی کو چڑیا اور دوسری سہیلی کو بیا کہہ سکتے ہیں۔ دونوں کے گھریلو اور معاشی حالات بھی تقریباً ملتے جلتے تھے ۔ پانچویں جماعت کے بعد چڑیا اور بیا ہائی سکول میں داخل ہوئیں ۔ دونوں کو الگ الگ سیکشنز میں داخلہ ملا اور ان کی رفاقت یہیں ختم ہوگئی۔ مدت گزری اور چڑیا نے میٹرک کیا، پھر کالج کی تعلیم اپنے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مکمل کی پھر کسی نا کسی طرح وہ یونیورسٹی تک پہنچ گئی ۔ ایم اے کیا اور آخر کار ایک سرکاری ملازمت پانے میں کامیاب ہوگئی اور واپس اپنے ہی شہر میں آن بسی۔

اس سارے عرصے میں اس نے کبھی بیا کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ لیکن اگر کبھی سوچتی تو اس کے بال اور ذہین و فطین آنکھیں ہی اس کی یادداشت میں جگمگا اٹھتیں۔ اسے یقین تھا کہ بیا بھی ہمت تو نہیں ہاری ہوگی ۔ کچھ نا کچھ اپنی زندگی کے ساتھ کرہی لیا ہو گا۔ اسے ملازمت کیے ہوئے دو تین سال گزر گئے اور ایک دن اپنی ایک کولیگ کے گھر کھانے کی دعوت پر جانا ہوا۔ کولیگ کی والدہ سے ملاقات ہوئی گپ شپ کے بعد جب کھانا لگانے کا وقت ہوا تو چڑیا کی کولیگ نے اپنی بھابھی کو آواز دی کہ کھانا لگوا دیں۔ اتنے میں دروازے پر ایک لڑکی نمودار ہوئی ۔ چڑیا نے سمجھا کہ وہ بھابھی ہیں لیکن اس کا پہناوا اور تاثرات کسی بھی طرح گھر کے دیگر افراد جیسا نہیں تھا۔ اس کی کولیگ نے اس کی آنکھوں کی حیرت بھانپ لی اور ہنس کر کہا کہ یہ ہماری ملازمہ ہے بھابھی کچن میں ہیں ۔ وہ ملازمہ ہنستی ہوئی لوٹ گئی لیکن چڑیا کو لگا اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے ۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور وہ ملازمہ کھانے کے برتن لگانے اور اٹھانے کے سلسلے میں دوسری تیسری بار سامنے آئی تو اس کے سر سے دوپٹہ اتر گیا ۔ اس کے بال بہت سیاہ اور گھنے تھے اور ایک چوٹی کس کے باندھ رکھی تھی ۔اس کا سانولا سا چہرہ جو چڑیا کو شناسا لگا تھا یک دم اس کی یادداشت میں عود آیا۔ یہ بیا تھی اس کی وہی کلاس فیلو جس کی ذہانت سے وہ بیک وقت متاثر بھی تھی اور حسد بھی کرتی تھی۔ فوری طور پر اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا بولے لیکن جب بیا کمرے سے چلی گئی تو چڑیا نے کولیگ سے اس کے متعلق استفسار کیا تو اس کے شبے کی تصدیق ہو گئی کہ وہ واقعی بیا تھی۔ اس نے رونا شروع کردیا۔چڑیا اسے بتانا چاہتی تھی کہ میں وہی ہوں تمہاری ہم جماعت لیکن کولیگ نے منع کر دیا کہ بیا کو دکھ ہوگا اور وہ خود کو کم تر سمجھے گی ۔ لیکن چڑیا نے جب اس کے گھریلو حالات کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ وہ اور بیا تقریباً ایک جیسے حالات سے گزرے لیکن آٹھویں جماعت کے بعد اس نے اپنے گھر والوں کی غربت کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا۔ غربت تو چڑیا نے بھی سہی تھی پینتالیس منٹ روزانہ پیدل سکول جانے والی چڑیا کے پاوں میں جوتا بھی سردی گرمی میں ایک ہی سینڈل ہوا کرتا تھا جو اس کے پاوں کے سائز سے ایک نمبر بڑا تھا۔ اس کی سکول یونیفارم بھی اس کی بہن کی اترن ہوا کرتی تھی اور کتابیں بھی سیکنڈ ہینڈ لیکن چڑیا نے ہمت نہیں ہاری تھی جبکہ بیا کہیں رک گئی تھی ۔

آپ لوگ سوچیں گے کہ کیا بی بی نے کہانیوں میں الجھا دیا ہے ۔ وہ بھی فلمی طرز کی کہانیاں بس اس میں ایک ہیرو کی کمی رہ گئی ہے باقی ۔۔۔لیکن معزز خواتین و حضرات ! یہ کہانی میری اپنی ہے وہ چڑیا میں ہوں اور بیا کا اصل نام میں یہاں لکھنا نہیں چاہتی ۔ ہم اسے دانہ بلایا کرتے تھے ۔ بات صرف اتنی ہے کہ جو جتنی کوشش کرتا ہے اتنا پا لیتا ہے ۔ شرط صرف اور صرف ہمت نہ ہارنے کی ہے ۔ اور اگر کوئی کسی مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے نفرت کرنے کی بجائے اپنی کوشش میں رہ جانے والی کمیوں پر توجہ کریں ۔ ہر سطح پر کام کرنے والی خواتین کو ورکنگ وومن سمجھیں ۔ کوئی بے چارہ نہیں ہے ۔ اور اگر کوئی ہے تو پھر سب بے چارے ہیں کیونکہ مزدور تو سب ہیں، بس اپنی اپنی سطح پر اپنی اپنی کوشش اور صلاحیت کے مطابق کام کرنا اور کام کرتے رہنا اور معاشی طور پر خود مختار ہونا زندگی کی اولیں ترجیح ہونی چاہیے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *