میں حقوق کے سلسلے میں جنس کی تخصیص کا مخالف ہوں۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق یکساں ہونے چاہییں لیکن کیا کبھی یہ یکساں تھے بھی؟ کیا کہیں یکساں ہیں بھی؟ کیا کبھی یکساں ہونگے بھی؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔← مزید پڑھیے
اگر لوگوں کی اکثریت سوچتی ہو کہ وہ ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو ایسا سوچنے کی وجوہ ہوں گی۔ جیسے کہ لوگ ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح← مزید پڑھیے
میں گھر پہنچا اور تقریبا” چیختے ہوئے کہا،” اگر بیاہ پر پابندی لگانا ممکن نہیں تو کم از کم ایک بچے سے زائد پیدا کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے ۔” ہمارے گھر کی عقبی دیوار کے پیچھے کھیت ہوا← مزید پڑھیے
کئی سال پہلے، شکار پور سندھ میں اپنے مہربان دوست رحیم بخش جعفری سے کہا کہ میں نے آج تک بلوچستان نہیں دیکھا۔ وہ بولے ابھی دکھا لاتے ہیں پھر وہ مجھے سندھ کی سرحد سے پار بلوچستان کے ایک← مزید پڑھیے
کہانی نمبر 1 1982 کی بات ہے جب میں ایران کے شمال میں فیروز کوہ کے ایک خوبصورت پہاڑی قصبہ زیراب کی میڈیکل ایمرجنسی کا سربراہ تعینات تھا۔ ہم میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا۔ خاتون اپنے رویوں میں بہت ”← مزید پڑھیے
مارک زکربرگ نے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء اور پھر بتدریج امریکہ کی دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء کو تعلق اور ڈیٹنگ کی خاطر جوڑنے کے لیے “دی فیس بک ” کا آغاز کیا تھا۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں طلباء کے← مزید پڑھیے
پاکستان کی چند بہت باغی خواتین میں سے کشور ناہید اور عذرا عباس جب بھی ملیں انہوں نے پھر سے نام پوچھا۔ اس میں اچنبھا بھی نہیں کہ میں ملا تو پھر سے سالوں بعد ملا اور ان کے مستقل← مزید پڑھیے
“بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور” محض روحانیت یا فلسفہ نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ لاش کو تو بس ہم لوگ ہی اس شخص کی لاش سمجھتے ہیں جو مر گیا ہو مگر حقیقت میں← مزید پڑھیے
مظاہر پرستی سے بت پرستی تک اور کثیرلالوہیت سے وحدانیت پر ایمان اور اس ضمن میں اپنے اپنے طور پر عبادات آج بھی کروڑوں افراد کرتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرستش اور عبادات کرنے والے سارے ہی← مزید پڑھیے
اپنے تمام سیاسی، سماجی اور تہذیبی نقائص کے باوجود اپنا وطن مولد کیوں اچھا لگتا ہے؟ اس کا جواب کوئی یہ کہہ کے دے کہ حب الوطنی کے سبب اور کیا، تو وہ مجھے یا تو معصوم لگے گا یا← مزید پڑھیے
امریکہ اور یورپی ملکوں کے علاوہ بہت سے دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم اور صحت سے متعلق نجی ادارے وجود رکھتے ہیں۔ ادارے چاہے نجی ہوں یا سرکاری وہ عمومی معاشرے کے رجحانات کے عکّاس ہوتے← مزید پڑھیے
میرے والد مرزا محمد رفیق صاحب کے دو بھائی تھے۔ بڑے مرزا محمد صِدٌیق صاحب اور چھوٹے مرزا محمد یامین صاحب۔ تایا جی کو میں نے بچپن میں دیکھا تھا جب وہ نسیاں کا شکار تھے۔ وہ گورکھ پور میں← مزید پڑھیے
وہ آزادی ء نسواں کا پرچارک ہی نہیں بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کا خواہاں بھی تھا۔ جس طرح ایک زمانے میں انگلستان میں دو چار عملی سوشلسٹ سرمایہ دار پیدا ہوئے تھے جنہوں نے مزدوروں کو بنیادی انسانی سہولیات← مزید پڑھیے
میتھیو گرین نام کا ایک سفید فام اور خوش شکل جوان امریکی، امریکہ میں تعلیم یافتہ خاتون سے بیاہ کرکے ماسکو میں آن بسا تھا۔ اس نے اپنے طور پر پیراسائکولوجی سے متعلق نصابی کتب لکھیں اور کورس مشتہر کیا۔← مزید پڑھیے
معاشی نظام دو ہی طرح کے ہیں ایک سرمایہ دارانہ اور ایک اشتمالی یا بہت حد تک کہا جائے تو اشتراکی، باقی جو بھی نام لیا جائے گا وہ انہی دو میں سے ایک کا ذیلی ورژن ہوگا۔ ہم سرمایہ← مزید پڑھیے
عمر، مطالعے، تجربے، مشاہدے، وسیع تر میل ملاپ اور باہمی تبادلہ خیالات انسان کی سوچ کو جامد نہیں ہونے دیتے۔ ضروری نہیں کہ اگر انسان دس پندرہ بیس سال پہلے کسی معاملے سے متعلق ایک خیال رکھتا تھا اس کا← مزید پڑھیے
ادب اور صحافت سے وابستہ لوگ مجھے ڈاکٹر نہیں مانتے چونکہ ان کے نزدیک ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جس نے پہلے اردو میں ایم اے کیا ہو اور پھر ” بل بلندر” قسم کا کوئی عنوان منتخب کرکے اس پر← مزید پڑھیے
ایک پوسٹ گردش میں ہے جس میں دوسرے سیارے کے دو افراد کی خیالی تصویر ہے۔ ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ یہ زمین والے تہوار کیا منا رہے ہیں۔ دوسرا جواب دیتا ہے کہ ان کے سیارے نے اپنے← مزید پڑھیے
2014 میں شائع ہوئی اپنی انگریزی نظموں کی کتاب Quagmire Of Being کے تعارف کا کچھ حصے کا ترجمہ : صدیوں پہلے ایک صوفی نے کہا تھا،” میں تھا، میں ہوں، میں ہوں گا ” تاہم انہوں نے، نے یعنی← مزید پڑھیے
کوئی انشاء پردازی نہیں درکار، کسی نوع کی لفّاظی کی ضرورت نہیں ہے، اگر سینے میں حساس انسان کا دل دھڑکتا ہے، اگر کوئی کسی نظریے یا مقصد سے بے حسی کا شکار نہیں ہوا تو وہ کل سے ایک← مزید پڑھیے