ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل← مزید پڑھیے
بچوں نے اُس کا ناک میں دم کردیا تھا۔جناح ایونیو کی دُکانوں سے ڈھیر سارے کھلونے خرید کر بھی وہ مطمین نہیں ہوئے تھے۔ اب وہ بیت المکرم کی طرف جانا چاہتے تھے۔خوقان وہاں سے ماؤتھ آرگن خریدنا چاہتا تھا۔وہ← مزید پڑھیے
دمشق میں پہلا دن، پہلا کام، پہلا نشہ مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل← مزید پڑھیے
کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔بہتیرا← مزید پڑھیے
اِن دنوں اردوان کی انتظامیہ اعتراضات، سوالات اور ڈھیر سارے خدشات کی زد میں ہے۔عالمی اور داخلی دونوں سطح پر محاذ کھل گئے ہیں۔معترضین کا پہلا اعتراض ڈیڈ کے جعلی ہونے پر ہے۔ دوسرا مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر علی← مزید پڑھیے
ماں کوئی گھنٹہ بھر سے وقفے وقفے سے اُسے آوازیں دئیے جا رہی تھی۔ ”اُٹھ نا پُتر۔ تیرے انتظار میں کب سے بیٹھی ہوں تو ناشتہ کرے تو کسی اور کام میں لگوں۔ ابھی مجھے ہانڈی لینے بازار بھی جانا← مزید پڑھیے
تو پھر ترکی کی کونسل آف اسٹیٹ نے دس جولائی کو اپنا فیصلہ سُنا دیا جو عین طیب اردگان کی توقعات اور وعدے کے مطابق تھا۔فیصلے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد اس نے بڑی جی داری سے اس کا اعلان← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہِ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائیبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ دورِ جدید کی← مزید پڑھیے
چاندنی فسوں خیز تھی اور ماحول سحر زدہ۔دھان منڈی کے غربی حصّے میں واقع شاندار گھر کی بیرونی منڈیر پر وہ چُپ چاپ بیٹھی تھی۔اُس کے پاس ہی وہ بھی بیٹھا ہو ابائیں ٹانگ کو ہولے ہولے ہلا رہا تھا۔اُس← مزید پڑھیے
اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں← مزید پڑھیے
وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔اظہاریہ کا طریقہ کیا ہوگا؟اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں← مزید پڑھیے
”میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ ایک پوری رات گزارو۔“ اُس وقت وہ باہر نظاروں میں گُم تھی۔ تاحدّ نظر دھان کے سر سبز کھیتوں کے پھیلاؤ نے دھرتی پر گہر ے سبزے کے جیسے قالین بچھا رکھے تھے۔ اِن← مزید پڑھیے
کیسی طوفانی بارش تھی۔ لگتا تھا جیسے آسمان کے سینے میں چھید ہو گئے ہوں۔ گھُلے ہوئے بادلوں میں سارا ماحول دُھواں دُھواں ساہو رہا تھا۔ہوا کے تیز تھپیڑے کسی پاگل جنونی کی طرح جو بپھرا ہوا اپنے شکار کا← مزید پڑھیے
کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔جدھر دیکھتی ہوں ادھر کروناکی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ہسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پیناوالا معاملہ← مزید پڑھیے
”ٹھیک سے بیٹھو۔گھبرا کیوں رہی ہو؟ اور ہاں شیشہ نیچے کرو۔ تمہیں ٹھنڈی ہوا لگے۔“ اُس نے شیشہ آہستہ آہستہ نیچے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سختی سے بھینچے ہونٹ یوں بند تھے جیسے کبھی نہیں کھُلیں گے۔← مزید پڑھیے
” تُف ہے اِس لُتری پر۔“ اتنی لگائی بُجھائی کی اُس نے رحمان بھائی سے کہ خود چیزیں پہچانے کی بجائے اُس نے اُنہیں اِس چھمک چھلّو کے ہاتھ بھیج دیں اور وعدہ کرنے کے باوجودخود نہیں آئے۔ ٹام بوائے← مزید پڑھیے
چٹا گانگ کے اِس اعلیٰ درجے کے چینی ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے اُسے شدید خفّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ایسے کھانے اور کھانوں کے یہ ایٹی کیٹس بھلا اُس نے کب دیکھے اور کہاں سیکھے تھے؟ وہ تو← مزید پڑھیے
علی الصبح جاگنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا کام چٹا گانگ اپنی فرم کے مینجر شمس الدین عُرف گورا کو فون پر اطلاع دینا تھا کہ وہ آج تقریباً دو بجے چاٹگام پہنچ رہا ہے اور یہ کہ← مزید پڑھیے
میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی← مزید پڑھیے
یقین کیجیے یہ میرا بیانیہ ہرگز نہیں۔ اس لیے عنایت ہوگی اگر لعن طعن کی سان پر چڑھائی نہ جاؤں۔سچی یہ تو چند دن پہلے کی مکالمہ بازی ہے اُن پانچ نوجوان ڈاکٹر بچیوں سے جو لاہور کے نامی گرامی← مزید پڑھیے