گھروندا ریت کا(قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں کہ دل اور دماغ سنبھال کر رکھتی اور اِس نئی مُصروفیت کو روزکے شیڈول میں کسی نہ کسی طرح ایڈجسٹ کر لیتی۔ دل تو پہلے ہی قابو میں نہ تھا اِک دماغ تھا جو اکثر و بیشتر اُلٹے سیدھے اعتراض کر کے اُسے اُلجھائے رکھتا پر کومیلا میں رات گذار آنے کے بعد وہ بھی خاموش ہو گیا تھا۔
کتابیں کھولتی تو ہر صفحے پر وہ بیٹھا ہوتا۔ آنکھیں بند کرتی تواُس کے سینکڑوں رُوپ تصور کے پردے پر تھرکتے نظر آتے۔ کھانا کھانے لگتی تو سوچتی کہ وہ اِس وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہوگا اور اُس کی بیوی کا خیال آتے ہی وہ اندر ہی اندر کٹنے لگتی۔ پھر اپنے آپ سے کہتی۔
”خوش قسمت ہے جو ایسا اچھا شوہر ملا۔“
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا وہ اُس کی بیوی کو غائب کر دیتی خود اُس کی جگہ لے لیتی۔ وقت کے ایسے لمحات کا تصور کس قدر جانفرا ہوتا۔ پر حقیقت کی دُنیا کی کڑواہٹ اُسے بعد میں اُتنا ہی تڑپاتی۔ اُس کی گفتگو اور روزمرّہ بات چیت سے اُس نے اتنا ضرور سمجھ لیاتھا کہ اُن کے تعلقات ناخوشگوار نہیں۔
کبھی کبھی سوچوں کے حصار میں یوں گھِر جاتی کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہی نظر نہ پڑتا۔ اپنے آپ سے لڑتی۔قسمت کو کوستی۔ صبیحہ کو بدعائیں دیتی جو اِس ملاقات کا باعث بنی تھی۔ اپنے آپ کو لعن طعن کرتی۔ اپنا خون جلاتی۔ کر بناک خیالات اُن جونکوں کا رُوپ دھار بیٹھے تھے۔ جو بدن کے ساتھ چپک کر خون پی پی کر کُپّا ہوتی رہتی ہیں اور انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلاکرتی جاتی ہیں۔
مصیبت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے دُکھ درد کا اظہار کسی سے کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اندر ہی اندر نمک کی طرح گھُلتی جا رہی تھی۔ وہ اگر کبھی کوئی بات پُوچھتا تو فوراً اُس کی تردید کر دیتی۔ کبھی وہ ہنس پڑتا۔ اُس کی ہنسی کچھ ایسی ہوتی جیسے کہتی ہو مجھ سے چھُپاتی ہو۔ میں تمہارے دل کا حال رتّی رتّی جانتاہوں اور کبھی ایسا بھی ہوتا وہ خاموش ہو جاتا۔
ہفتہ بھر سے وہ بیمار تھی۔ پہلے دو تین دن تو اُس نے کوئی پرواہ ہی نہ کی۔ نہ کوئی دوائی لی اور نہ ہی کسی قسم کا پرہیز کیا۔ اصل میں وہ نخروں کی عادی نہ تھی۔ لا پرواہ سے ماحول نے سخت جان بنا دیا تھا۔
یہاں پر دیس میں کِسے ضرورت تھی کہ دیکھے اُس کا رنگ املتاس کے پھُولوں جیسا ہو رہا ہے۔ وہ پیلی پڑتی جا رہی ہے۔ اُس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑگئے ہیں اور اُس کا جسم کمزور ہو تا جار ہا ہے۔
ہر وقت رہنے والی ہلکی ہلکی حرارت نے اُسے زیادہ نحیف کر ڈالا تھا۔ وہ جو اُسے بالکل اپنا لگتا وہ بھی ہفتہ بھر سے غائب تھا۔
پہلے تین چار دنوں میں بستر پر لیٹے لیٹے وہ اچانک اپنی بند آنکھیں کھول دیتی۔ یوں لگتا جیسے بیرا چلاّیا ہو۔
”آپا آپ کے وزیٹر آئے ہیں۔“
لیکن دروازہ بند ہوتا۔کھڑکی کی جالی سے کوریڈور کا سُونا پن اور چلتی پھرتی خاموشی نظر آتی۔
پھر ایک آس، ایک اُمید نے جگہ لے لی۔ وہ آنکھیں کھولتی۔ چونک کر باہر کی طرف رُخ کرتی کہ شایدبیرا چلاّئے۔اُمید کی یہ جوت بار بار جلتی اور بجھتی حتیٰ کہ رات گہری ہو جاتی۔ یہ جان لیوا خیال کہ وہ کیوں نہیں آیا؟ اُسے اور بھی پریشان کرتا۔ کبھی کبھی سوچتی کہ وہ اُس کی بور رفاقت سے اُکتا گیا ہے جو اُس نے پلٹ کر اُس کی خبر تک نہیں لی۔
یہ خیال اُسے اتنا تڑپاتا کہ بے کل ہو کر وہ بیڈ سے گر گر جاتی ملکہ اُسے سنبھالتی۔ بیلا اُسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لئے اصرار کرتی۔ مگر وہ کسی کی نہ سُنتی۔ یو ں لگتا تھا جیسے اپنے آپ سے انتقام لے رہی ہو۔
علاج اور پرہیز سے لاپرواہی، کربناک خیالات کی ہر لمحہ دماغ پر یورش نے جو اثر دکھانا تھا ظاہر ہے وہ دکھایا۔ ہفتہ بھر کی بیماری میں ہی مہینوں کی مریض نظر آنے لگی۔ ثریا اور نازلی اپنے کسی عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے پاربتی پور گئی ہوئی تھیں۔ وہاں سے لوٹیں تو ملنے آئیں۔ اُس کا حال دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔
”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تپ دق کی مریض لگتی ہو۔ کِسی کو چیک بھی کروایا ہے؟ یا یونہی لاپرواہی برت رہی ہو۔ چلو گھر چلو۔ ہم اپنے فیملی ڈاکٹر سے تمہارا مکمل چیک اَپ کرواتے ہیں۔ یوں بھی گھر میں دیکھ بھال اچھی طرح ہوگی۔ اب ہوسٹل میں تو پرہیز ی کھانے کا بھی مسئلہ ہے۔“
”ارے یوں ہی گھبرا گئی ہو۔ ایسے چھوٹے موٹے بخار کو تومیں نے کبھی لفٹ نہیں کروائی۔“
اُس نے اُنہیں مُطمئن کرنے کی اپنی سی پور ی کوشش کی۔
دل میں خود سے کہا بھی۔
”اچھا لگتا ہے کوئی۔ فضول میں دوسرے لوگوں پر بار بنتی پھروں۔“
ثریا اُس سے زیادہ قریب تھی۔ اِسی نسبت سے وہ زیادہ فکر مند تھی۔ اُ س کے انکار کو اُس کی ہٹ دھرمی کہتے ہوئے ملتجی تھی کہ وہ اُن کے گھر چلے۔اُس نے دونوں بہنوں کے احساس اور اُن کی فکر مندی کو محسوس کرتے ہوئے بار ی باری اُن کے ہاتھ پیار سے تھپتھپائے اور کہا۔
”میں تمہاری محبت کی بُہت شکُر گذار ہوں۔ بس دو تین دنوں کی بات ہے بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی۔ پہلے کی نسبت تو کافی بہتر ہوں۔ تم لوگوں نے چونکہ دنوں بعد دیکھا ہے اِس لئے گھبر ا گئی ہو۔“
بخار کا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ اپنی مرضی سے آتا اور جاتا تھا۔ رات بھر جسم تپتا رہتا اور صبح ٹھنڈا ہو جاتا۔ منہ کا ذائقہ کڑوا ہوگیاتھا۔ کھانے پینے میں لذت نہیں رہی تھی۔ موسم کو دیکھتی تو جیسے زہر گھُلا ہو ا نظر آتا۔ زندگی بے مصرف اور فضول نظر آنے لگی تھی۔ ایسی بے بسی اور بے چارگی کا سماں تھا کہ اپنا آپ قابل رحم محسوس ہونے لگا تھا۔
درد جب انتہاپر پہنچ گیا۔ تب ایک دن وہ اپنے آپ سے بولی۔
”پاگل پن اور حماقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ سچی بات ہے اپنے جنون میں اُسے بھی پار کر بیٹھی ہوں۔ بغیر پروں کے ہواؤں میں اُڑنا شروع کر دیا تھا۔ اب منہ کے بل زمین پر گری ہوں تو ہوش ٹھکانے نہیں آرہے ہیں۔ خوابوں کے جزیروں میں رہنا شروع کر دیا تھا۔ نتیجہ یہی ہونا تھاکہ اب بیٹھی راہ تکتی ہوں کہ کب وہ مسیحا آئے اور کب میرے زخموں پر مرہم رکھے؟“
” لعنت ہے مجھ پر۔
”تُف ہے میری صورت پر۔“
اُس نے اپنے آپ کو مضبوط کیا۔ تسلی اور حوصلے کے ہر ممکنہ لفظ سے خود کو بہلایا۔
اگلے تین چاردن اُس نے باقاعدگی سے ہال کی ڈاکٹر کو رپورٹ کی۔ ٹھیک وقت پر دوائی لی۔ کھانے پینے کا خیال رکھا۔ اپنے آپ کو بار بار سمجھایا پر دل تھا کہ پھر بھی ڈوب ڈوب جاتا۔
بخار نے ذرا سی مہلت دی تو وہ برٹش لائبریری گئی۔ ریفرنس بکز سے کچھ نوٹس بنانا تھے۔ کتاب کا آدھ صفحہ بھی نہ پڑھ پائی تھی کہ سر چکرانا شروع ہوگیا۔ جسم بھی ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اُس نے سرکتا ب پر رکھ دیا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوگئیں۔ جب اچانک اُسے احساس ہواجیسے کسی نے کہا ہو۔
”نجمی۔“
سر اُٹھایا آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچنے لگے۔ وہ کھڑا تھا۔
”کیا ہوگیا ہے تمہیں۔“ اُس کے لہجے میں تشویش تھی۔
تب اُس نے اُس کے بازو پر ہاتھ رکھا اور گھبرا کر بولا۔
”بخار ہے تمہیں۔“
چند لمحوں تک اُس کا ہاتھ اُس کے بازو پر رہا اور وہ اُسے فکرمندی سے دیکھتا رہا پھر اُس نے کہا۔
”طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو یہاں کیوں آئی تھیں؟ صحت ضرور ی ہے یا پڑھائی۔ چلو اُٹھو۔“
جی میں تو آیا ہاتھ جھٹک دے اور کہے فرصت مل گئی ہے۔ آپ کو میرا حال پُوچھنے کی؟ پرایسا کرنے اور کہنے کی جرأت کہاں سے لاتی؟ اُس کے سامنے تو یوں بھی زبان کو تالا سا لگ جاتا۔
گاڑی میں بیٹھ کر وہ خود ہی بولا۔
”طاہر ہ کے بھائی کا کلکتہ میں انتقال ہوگیا تھا۔ گیارہ بجے اطلاع ملی تو اتنا وقت نہیں تھا کہ میں تمہیں کچھ بتا سکتا۔ نیپال کے راستے کلکتہ جانا پڑا۔ جوان موت تھی دس بارہ دن لگ گئے۔ آج ہی واپس آیا ہوں۔ ہال گیا تو پتہ چلا کہ تم بیمار ہو۔“
پھر وہ اُسے لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا۔ تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا اگر احتیاظ نہ کی گئی تو بخار طول پکڑ سکتا ہے۔
”میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ مجھے ہال اُتار دیجئے۔“
اُ س نے احتجاج کرتے ہوئے کہاتھا۔ کیونکہ وہ اُسے گھر لے جار ہا تھا۔
”سُنو نجمی مجھے بے جا ضد کرتی عورتیں سخت ناپسندہیں۔ طاہرہ سے میری لڑائی اِسی بات پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے اِ س حق کو غلط استعمال کرتی ہے۔ تم کس حد تک ٹھیک ہو تمہیں ہال چھوڑنا چاہیے یا گھر لے جانا ضروری ہے اِ س کا فیصلہ کرنا میرا کام ہے۔ہاں اگر تمہیں میرے اتنے دن غائب رہنے پر افسوس اور گِلہ ہے جو یقیناً ہونا بھی چاہیے تو میں اِس کی وجہ بتا چکا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ انسان کے ناطے میری یہ عدم موجودگی نہایت ضروری تھی۔“
اُس نے بات کاٹی۔
”میں نے تو آپ سے کچھ نہیں کہا۔“
”یقیناً تم نے کچھ نہیں کہا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ پردیس میں بیماری کی حالت میں تم احساس کی جس آگ میں جلی ہو اُس کی تپش تمہارے کچھ نہ کہنے کے باوجود مجھے محسوس ہوتی ہے۔“
”اور اب آپ اُس کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔“ اُس نے ونڈ سکرین سے باہر فضاء کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اُس نے بڑی گہروں نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔ لہجے میں چھلکتے طنز اور اُس کی کاٹ کو محسوس کیا تھا اور متحمل انداز میں بولاتھا۔
”ہرگز نہیں۔“
”تم ٹھیک نہیں ہو۔ تمہیں مناسب علاج اور مکمل آرام کی ضرور ت ہے جو تمہیں ہال میں نہیں مل سکتا اور اُس کے لئے میرے گھر سے زیادہ موزوں اور کوئی جگہ نہیں۔“
”مگر میں آپ کے گھر کیسے جا سکتی ہوں؟ وہاں آپ کی بیوی بھی تو ہوگی وہ کیا خیال کرے گی؟“
وہ کسی قدر جھنجھلا کر بولی۔
”فی الحال گھر خالی ہے۔ لیکن اگر وہ ہوتی تب بھی میں تمہیں اپنے گھر ہی لے کر جاتا۔“

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *