گھروندا ریت کا(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

علی الصبح جاگنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا کام چٹا گانگ اپنی فرم کے مینجر شمس الدین عُرف گورا کو فون پر اطلاع دینا تھا کہ وہ آج تقریباً دو بجے چاٹگام پہنچ رہا ہے اور یہ کہ وہ اُس کے لئے واپڈا ہاؤس ریزرو کرا دے۔
”پر کیوں؟“
فون پر اُسے گورا کی حیرت زدہ آواز سنائی دی۔
”فرم کا گیسٹ ہاؤس خالی ہے ایسے میں واپڈا ہاؤس کی ریزرویشن کی کیا ضرورت ہے؟“
”ضرورت ہے۔ آنے پر بتاؤں گا۔“
دریچے کا پر دہ ذرا سِرکا کر اُس نے باہر جھانکا۔ملگجا سا اُجالا بکھرا پڑا تھا۔ غسل سے فارغ ہو کر وہ ناشتے کی میز پر آیا۔ گھر سکون میں ڈوبا ہوا تھا۔ ملازم کے قدموں کی چاپ اور برتنوں کی کھٹکھٹاہٹ کبھی کبھی اِس سکون کو توڑتی تھی۔
طاہر ہ اور بچے ہفتہ بھر ہوا کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ طاہرہ کا چھوٹا بھائی انور پنّی کینیڈا سے کوئی آٹھ سال بعد آرہا تھا۔سب بہن بھائی برسوں بعد اکٹھے ہو رہے تھے۔بُلایا تو اُسے بھی شدّومد سے تھا اُس کی ساس کا دو دن مسلسل فون آتا رہا کہ انور پنّی تمہیں بُہت یاد کر تا ہے اور تم سے ملنے کے لئے بے چین ہے۔
خود انور پنّی کا بھی فون تھا کہ یار مانتا ہوں تم بُہت بڑی ذمّہ دار پوسٹ پر بیٹھے ہو۔ معروف بندے ہو۔ دیکھو ملنے کے لئے آ جانا۔
اُس کے پیش نظر بھی تھوڑی سی آؤٹنگ تھی کہ چلواِسی بہانے کام کے بوجھ سے تو بندہ نکل آتا ہے۔
دو دن قبل ہی میاں بیوی کے درمیان زبردست قسم کی لڑائی ہوئی تھی۔ اُس نے سخت پیچ وتاب کھایا اور تفریح کے خیال پر دو حرف لعنت کے بھیجے۔ یہی وجہ تھی کہ جب طاہرہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ کلکتہ جانے کے لئے تیار ہوئی۔جہاں آراآپا اور دلدُو آپا کا فون اُسے ملا کہ تم بھی چلے چلو نا۔ بہت سال ہوگئے ہیں تمہیں گئے ہوئے۔
اُس نے اپنے اندر کی تلخی کو دبا کر نرمی سے کہا۔
”آپا! طاہرہ تو جارہی ہے۔ میرے لئے مُشکل ہے۔ سویڈن سے ایک ڈیلیگیشن آرہا ہے۔مجھے اُنکے ساتھ میٹنگ کیلئے ویسٹ پاکستان جانا ہے۔“
نوکر نے چائے دانی کوٹی کوزی سے ڈھانپ دیا اور خود کھانے کے کمرے سے نکل گیا۔
”دن بدن دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ٹوسٹ پر مارملیڈلگاتے ہوئے اُس نے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔
کھوٹے کھرے میں تمیز ہی نہیں رہی۔ سلیم احمد خوند کرکے تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گئی ہے۔“
زمین کی خریداری میں اُس کی اِ س درجہ دلچسپی کہ میں کنال پر مُصراور اُس کا کہنا کہ گھر کوئی روز روز بنایا جاتا ہے۔ دو کنال سے تو ہرگز کم نہیں ہونا چاہیے۔پھر ”بنانی“ (ڈھاکہ کا پو ش ایریا)میں ایسا پلاٹ جو اپنی جائے وقوع کے اعتبار سے بُہت سے لوگوں کے لئے کشش کا باعث تھا۔ اُسے خالصتاً میرے لئے حاصل کرنے کی جدوجہد میں اُس کا ہلکان ہونا،کچھ کہنے، کچھ بتانے، کچھ واضح کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔محبت اور خلوص کے بغیر ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔ خیر سے یہ ہیں کہ غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کے اژدہام میں ہی اُلجھی رہتی ہیں۔اُس کی کسی بھی کاوش کو خاطر میں ہی نہیں لاتیں۔ سمجھتی ہیں سلیم احمد خوند کر اُن کے سیدھے سادھے بھولے بھالے شوہر کو بیوقوف بنا کر اپنا اُلو سیدھا کر رہا ہے۔ شوہر بھی چُوچہ بچہ ہے جسے بیوقوف بنایا جاسکتا ہے۔سارے زمانے کا خرانٹ اور زمانہ سازآدمی جسے خوند کر لُوٹ لینا چاہتا ہے۔ لاکھ سمجھا ؤ پر مجال ہے جو اُس کے خانے میں کچھ بیٹھ جائے۔ جب دیکھو زبان زہر ہی اُگلتی ہے۔سمجھ نہیں آتا اِس کی اچھی بھلی عقل پر پتھر کیوں پڑ گئے ہیں؟
انور پنّی سے اُس کی ملاقات اپنی منگنی پر ہوئی تھی۔ بڑا ذہین اور انقلابی سا لڑکادِکھتا تھا۔ ایم ایس سی فزکس سے فارغ ہوا تھا۔ نوکر ی کی تلاش میں تھا اور اچھی جگہ نہ ملنے پر بڑا جِزبِز بھی تھا۔ اجتباء الرحمن نے کہیں پُوربو پاکستان آنے کا کہہ دیا۔ تڑ سے بولاتھا۔
”لو ڈھاکہ میں کیا دھرا ہے؟ بالکل پنڈ۔ کلکتے جیسے بڑے شہر میں مجھے اپنے ڈھنگ اور مزاج کی نوکری نہیں مل رہی ہے۔ وہاں جا کر تو آسمان سے گِر کر کجھُور میں اَٹکا والی بات ہو جائے گی۔ نہ بابا نہ۔ مجھے تو ہر صورت باہر نکلنا ہے۔“
اپنے چار روزہ قیام میں انور پنّی نے نہ صرف اُسے کمپنی دی بلکہ ہر طرح اُس کا خیال بھی رکھا۔ انگلینڈ سے امریکہ اور امریکہ سے کینیڈا اپنی ہجرتوں کی کہانیوں سے وہ اُسے ہمیشہ باخبر رکھتا تھا۔
ملاز م نے اُس کے کہنے کے مطابق اُس کی ضرورت کی تمام چیزیں اٹیچی کیس میں بند کیں اور اُسے ڈکی میں رکھ دیا۔ نوکر کو ضروری ہدایات دے کر وہ کار میں بیٹھا اور اُسے سٹارٹ کیا۔
یہ بائیس فروری کی صُبح تھی۔ اکیس فروری کا اہم دن گزر چکا تھا۔ خلاف معمول اِس سال اُردو اور بنگلہ پر جھگڑا نہیں ہوا۔ سابقہ سالوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ تو ہوئی پر نسبتاً کم پیمانے پر۔
کار چلاتے چلاتے اُس نے ریڈیوآن کیا اور مختلف اسٹیشن ٹیون کرنے لگا۔ اُس وقت وہ خاصا مسُرور نظر آرہا تھا۔ نکھری اور خوشگوار صُبح کا حُسن اُس کے چہرے اور آنکھوں میں بھی نظر آ رہا تھا۔
رقیہ ہال کے سامنے اُس نے گاڑی روکی اور اپنا کارڈ اندر بجھوایا۔ سب سے پہلے وہ اِس لڑکی کو پِک کرنا چاہتا تھا۔
اور بیک کو ریڈور کی بیرونی دیوار پر کُہنیاں ٹکائے، ہاتھوں کے پیالے میں ٹھوڑے کو تھامے وہ لڑکی جس کا نام نجمہ شمشیر علی تھا خود کو بُہت تھکا تھکا محسوس کر رہی تھی۔ اُ سکا جی چاہتا تھا وہ بیڈ پرگِرے اور آنکھیں بند کرلے۔ کیونکہ پپوٹے اِتنے بوجھل سے تھے کہ آنکھوں کو کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔
ا صل میں چٹا گانگ جانے کی اُمنگ اور ترنگ اتنی شدید تھی کہ جس نے رات بھر خاصا مضطرب رکھا تھا۔ ساری رات ہی کچھ سوتے اور کچھ جاگتے گزری۔ ذرا آنکھ لگتی تو دیکھتی کہ وہ سب لوگ اُسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور وہ حیران پریشان اپنا سامان اُٹھائے اُن کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔
چٹا گانگ ہل ٹریکس کے بارے میں کہانیوں کی فینٹسی نے اُسے بے حال کررکھا تھا۔ کاکسس بازارکی خوبصورتی کے جتنے چرچے تھے جی چاہتا تھا کہ اللہ کہیں پَر لگ جائے، اُڑ کر وہاں پہنچ جائے اور دلکش نظاروں سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔ رُوح کو سیراب کرے۔
اُسے تو اِ س وہم نے بھی گھیرے میں لے رکھا تھا کہ انسان جس چیز کے لئے زیادہ بے چین ہو، زیادہ خواہش مند ہو، زیادہ مضطر ب ہو۔ بالعموم ایسی خواہش کی تکمیل میں کوئی نہ کوئی پھڈا پڑ جاتا ہے۔ کچھ نہ کچھ آڑے آ جاتا ہے۔
”ارے بھئی اب جو پروگرام بنا ہے تو اللہ اِسے پروان چڑھا ہی دے بیچ میں کوئی روڑا نہ اَٹکے۔“
رات کے تاریک لمحوں میں اُس نے کتنی بار یہ اپنے آپ سے کہا تھا۔
”اب یہ بھی تو شوق کی انتہا ہی تھی کہ اُس اجنبی مرد کے اجنبی بیوی بچوں کی خیریت کی دُعائیں بھی مانگی گئی تھیں۔ کیونکہ کسی کی بھی بیماری اور ناسازی طبع اُن کے پروگرام کا بیڑا غرق کر سکتی تھی۔
میز پر رکھی گھڑی دیکھی۔ سوئیاں سات اور بارہ کے ہندسوں پر رقصاں تھیں۔
وقت تو سات بجے کا ہی تھا۔
وہ خود سے مخاطب ہوئی۔ لیکن یہ تو ممکن ہی نہیں کہ وہ وقت کا خیال رکھے۔ بڑے لوگ بالعموم لا پرواہ ہوتے ہیں۔ وقت طے ہونے کے باوجود دیر سے پہنچنا فخر سمجھتے ہیں۔
اور ٹھیک اُسی وقت نوکر نے اُسے کارڈ دیا۔ خوشی کی ایک لہر اُس کے انگ انگ سے اُٹھی اوراُسے مسُرور وشادمان کرگئی۔
تو گویا بڑے لوگوں کی لا پرواہی والا قیاس تو میرا غلط ثابت ہوا۔ پر پروگرام کے یقینی تکمیل پا جانے کی سرشاری کی کیفیت والی لہر جو اُس کے اندر سے اُٹھی تھی وہ فوراً اُتر بھی گئی کیوں کہ اُ س نے اپنے آپ پر نگاہ ڈالی تھی۔ اِس نگاہ نے اُسے شرمندگی کے پاتال میں پھینک دیا تھا۔
اُلجھی اُلجھی پریشان وہ کوریڈور سے کمرے میں آئی۔ دروازے میں اِ ک ذرا رُک کر اُ س نے نوکرسے کہا کہ وہ اُس کے مہمان سے کہے کہ وہ بس ابھی آتی ہے۔
”خدایا۔“
اُس نے اپنے سراپے کو دیکھا۔ برش کرنا تھا۔ باتھ لینا تھا۔ چلو ناشتہ اتنا اہم نہیں تھا۔اُس کا وقت بچا یا جا سکتا تھا پر تیار بھی تو ہونا تھا۔مائی گاڈ سارے کام کرنے والے تھے۔
وہ فوراً باتھ روم میں گھُسی۔ نہانے کا اِرادہ چھوڑ کر اُلٹا سیدھا منہ دھویا۔ کپڑے بدلے اور خالی پیٹ چیزیں اُٹھا کر باہر بھاگی۔ کاموں کو برقی رفتارسے نپٹانے کے باوجوداُس نے پندرہ منٹ لے لئے تھے۔
اِس دوران صبیحہ ہال پہنچ چکی تھی۔
اسٹیرنگ پر دونوں ہاتھ رکھے اُس نے صبیحہ کو دیکھا اور کسی قدر تلخی سے بولا۔
”تم اگر میرے بارے میں زیادہ نہیں پر تھوڑا سا تو جانتی ہی ہو۔ خاص طور پر کہ مجھے انتظار کرنے سے چڑ نہیں نفرت ہے۔ خصوصاً وہ بھی لڑکیوں کا۔ میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ سب کو ضروری اُمور پر بریفنگ دے دو کہ اُنہیں کِن کِن باتوں کا خاص خیال رکھنا ہے اور وقت کی پابندی تو سب سے اہم ہے کہ اِسی پرروزمرہ پروگرام کا انحصار ہوتا ہے۔ اب اِن کل کی چھوکریوں کے حضور خود اور گاڑی کو یوں کھڑا رکھنا میر ے لئے تو ناقابل برداشت ہے۔
اگر آئند ہ اِس امر کا خیال نہ رکھا گیاتو یہ طے ہے کہ میں آپ سب لوگوں کو وہیں چھوڑ کر واپس آ جاؤں گا۔
صبیحہ سے اُس کے گہرے مراسم تو نہیں تھے پر کبھی کبھار کی لانگ ڈرائیو دوستی میں وہ اُس کی چند مخصوص عادتوں کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی۔ اِسی لئے گھبرا کر فوراً بولی۔
”میں نے اُنہیں تاکید کی تھی۔۔۔۔۔۔۔“
صبیحہ کے مزید کچھ کہنے سے پیشتر ہی وہ آگئی۔ معذرت کا ایک لفظ بھی اُس سے بولا نہ گیا۔ یوں اُس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہ تھی کہ وہ سرتاپا معذرت بنی ہوئی تھی۔ شرمسار سا چہرہ،ہاتھوں میں پکڑا بے ترتیب سا سامان، خاموش اور جھُکی جھُکی نگاہیں۔
اُس نے ایک گہری اور تنقیدی نگاہ اُس پر ڈالی۔ دروازہ کھولا۔ اُسے بیٹھنے کے لئے کہا۔
اُس کے چہرے پرچھائے خجالت کے بادلوں نے اُس کے غصّے کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔ گاڑی جب بیت المنیرہ جانے کے لئے اُس نے ائیر پورٹ روڈ کی طرف موڑی تب اُس نے رُخ پھیر کر پوچھا۔
”میرا خیال ہے آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ پر آپ کرتی کیا رہیں۔“
وہ چُپ گُم سُم سر جھُکائے ہاتھ میں پکڑی اشیاء سے کھیلتی رہی۔ جواب کیا دیتی کہ سوچوں کہ کن گھمن گھیریوں میں پھنسی ہوئی تھی اور رات کیسے کٹی تھی؟“
اور جب اُس نے ہاتھ میں پکڑی اشیاء کو بیگ میں ڈال کر سمیٹنا چاہا۔ اُسے محسوس ہوا کہ کلائی کی وہ گھڑی جسے وہ جلدی میں باندھ نہیں سکی تھی وہ اُس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔چار سو روپے کی گھڑی جسے و ہ یہاں آنے سے پہلے خرید کر لائی تھی۔ کلیجہ دَھک سے   رہ گیا۔ اُس نے جلدی جلدی بیگ کو ٹٹولا۔دوسری چیزیں دیکھیں صبیحہ نے اُس کی یہ پھرولا پھرولی دیکھی تو پوچھا۔
اور اُس نے کہا۔ ”معلوم نہیں گھڑی کہاں گر گئی ہے؟“
اُس نے بھی یہ بات سُنی۔ گاڑی کی ایک طرف کھڑی کر کے گردن پیچھے موڑی اور نرم سی آواز میں کہا۔
”چیزیں اچھی طرح دیکھئے۔“
”اچھی طرح دیکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ وہ کوئی تھی وہاں جو ملتی۔“
صرف ایک پل کے لئے اُس کا جی اپنی اُس خوبصورت اور مہنگی گھڑی کے یُوں گم ہونے پر یہ درخواست کرنے کو چاہا کہ اگر وہ تھوڑی سی دیر کے لئے گاڑی کا رُخ ہال کی طرف موڑ دے تو وہ وہیں کہیں کوریڈور، کِسی فٹ پاتھ یا گیٹ کے پاس راستے پر پڑی ہوگی۔
پر لمحہ بھر کے لئے ایسا صرف سوچا ہی جا سکتا تھا۔ کہنا تو ناممکن سی بات تھی۔ اُس نے تو پہلے ہی خاصی دیر کروا دی تھی۔
بیت المنیرہ میں ثریا اور نازلی کا گھر تھا۔ خدا کا شکر تھا کہ وہ تیار اور گاڑی کے انتظار میں مین سڑک پر موجود تھیں۔ سرکٹ ہاؤس کے یوٹیرا فلیٹز سے صفیہ شامل ہوئی۔
صفیہ کے والدین کا تعلق پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے تھا۔ اُس کا باپ علی گڑھ کالج سے گریجوایشن کے بعد کلکتہ میں سیٹ ہوگیا تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پُور بو پاکستان آگیا اور پھر یہیں کے ماحول میں رَچ بس گیا۔ اُس کی دونوں بڑی بہنیں بنگالی گھروں میں بیاہی گئی تھیں۔
گاڑی کو میلاروڈ پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔
پتہ نہیں کون سا اسٹیشن تھا۔ بُہت اچھے گیت آ رہے تھے۔ سبھی خوش وخرّم تھے اور خوب خوب باتیں ہو رہی تھیں۔ جب اُ س نے پیچھے رُخ پھیر کر اُس سے کہا۔
”لڑکی تم اتنا چہک رہی ہو۔ تمہیں گھڑی گُم ہونے کا ذرا افسوس نہیں۔“
”اب کیا افسوس کروں؟ چیزیں گُماناتو میری پرانی عادت ہے۔واپس آکر ابّو کو لکھوں گی نئی بھیج دیں گے۔“
اُس نے اپنی خوبصورت لابنی گردن اُونچی کی۔ نتھنوں کو پھُلایااور اپنے آپ سے کہا۔
”اب جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ بار بار اظہار سے اپنی تھڑ دلی اور چھوٹے پن کو ظاہر کروں۔ یہ تو مناسب نہیں اور ایسا کرنے سے اگر کھوئی ہوئی چیز واپس مل جائے تب بھی ایک بات ہے۔ جب یہ سب ممکن نہیں تو فائدہ؟“
یوں یہ اور بات تھی کہ ہر پندرہ بیس منٹ بعد اُ س کے دل سے ایک درد بھری ہوک سی اُٹھتی اور اُسے بے کل کر جاتی۔
”ارے ابھی تو پہننے کا چاؤ بھی پورا نہیں ہوااور گُم بھی ہوگئی۔ جانے کِس کے جوگے لگی۔“

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *