نگارشات    ( صفحہ نمبر 81 )

پاکستانی کرکٹ زوال کیجانب کیوں؟-شیخ خالد زاہد

یوں تو باقاعدہ کچھ لکھے ہوئے بہت دن گزر گئے ہیں، ایسا نہیں کہ لکھنے کی طلب ختم ہوگئی، دراصل حالات و وقعات تواتر سے اتنے خراب ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں۔ حقیقت تو←  مزید پڑھیے

بن آئی نہ آئے/ ڈاکٹر مجاہد مرزا

یہ بات 1971 سے پہلے کی ہے۔ ہمارا گھرانہ ویسے ہی مذہبی تھا۔ جنونی نہیں علمی حوالے سے مذہبی۔ مذہب سے بغاوت جسے گھر کی مذہبیت سے انکار کہنا زیادہ مناسب ہوگا، کے جراثیم تو پہلے ہی پنپنے لگے تھے←  مزید پڑھیے

آئینی ترامیم اور عدلیہ/نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے کارکنان 26ویں آئینی ترمیم میں صوبے کا نام “پختونخوا” شامل کرنے کے حوالے سے شدید جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ فی الحال صوبے کا نام “خیبر پختونخوا”ہے۔ اے این پی کے کارکنان←  مزید پڑھیے

پاکستان بدل رہا ہے ؟ -اظہر سید

سندھ میں جس طرح ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر سول سوسائٹی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف تڑپ کر باہر نکلی, پختون جرگہ میں بھی پختون سول سوسائٹی چالیس سال سے جاری المیہ کہانی کے خلاف اپنے چاک گریبان کے ساتھ←  مزید پڑھیے

آخری بات/سعیدالرحمٰن علوی

ملک کے غیر مسلم حضرات اور اقلیتیں ہم پریہ حق رکھتی تھیں کہ ہم انہیں انسانی برادری کا حصہ سمجھ کر حکمتِ دینی کا لحاظ کر کے دین کی دعوت دیتے، ان کے انسانی مسائل کے حل کرنے میں اپنا←  مزید پڑھیے

سکون کی گھڑی / جاویدایازخان

ایک دوست جو   بینک کےپرانے ساتھی  بھی ہیں’  سینئر آفیسر عرفان میر صاحب اکثر بہت عمدہ تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں جنہیں پڑھ کر تازگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کہانیا ں بڑی سبق آموز بھی←  مزید پڑھیے

بریسٹ کینسر موومنٹ اور نیشنل بینک آف پاکستان/محمد ثاقب

پاکستان کے مشہور بزنس مین تسلیم رضا کہتے ہیں زندگی کی گاڑی امید کے پیٹرول سے چلتی ہے۔ نا امیدی کا دھکا اسے زیادہ دیر نہیں چلا سکتا۔ اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا مسکراتے چہرے چلتے پھرتے←  مزید پڑھیے

اٹلی میں کام کی تلاش/گھوڑا گدھا سب برابر( 3)-محمود اصغر چوہدری

یورپ میں آتے ہی ایک جملہ آپ کوفوراً سننے کو ملے گا کہ یہاں گھوڑا گدھا سب برابر ہیں۔ اس لئے آپ تعلیم کا رعب نہ جھاڑیں۔اوور سمارٹ بننے کی کوشش نہ کریں ۔ مجھے یہ جملہ پہلے دن ہی←  مزید پڑھیے

پشتون قومی جرگہ ہے نا /اے وسیم خٹک

پشتون قومی جرگے کے حالیہ انعقاد سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور پشتون قوم جو سو سال سے اپنے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے خاموش تھی، اب اُٹھ کھڑی←  مزید پڑھیے

بے لگام سوشل میڈیا/ محمد ذیشان بٹ

میڈیا  میڈیم کی جمع ہے  ۔ اس ذریعے کو کہتے ہیں جس کے تحت اپنی بات دوسروں تک پہنچائی جاتی ہے ۔ ابتداء میں انسان ہی میڈیا کا کردار ادا کرتے تھے پھر خط و کتابت کے ذریعے یہ کام←  مزید پڑھیے

چند واقعات اور اسباق/ڈاکٹر مجاہد مرزا

غالباََ 1974 کی بات ہے۔ میں ملتان کے نشتر میڈیکل کالج میں آخری سال کا طالبعلم تھا۔ لاہور اور ملتان کے درمیان ریل کار “غزالہ” چلا کرتی تھی۔ میں لاہور سے اس میں سوار ہوا تھا۔ نشتر کا کوئی اور←  مزید پڑھیے

خواتین سیکس کرکے احسان کن حالات میں جتا سکتی ہیں؟-ندا اسحاق

سیکس کے متعلق یہ سوال موضوعی (subjective ) ہے، لیکن میرے پاس فلسفہ اور سائیکالوجی کے کچھ آرگیومنٹز ہیں جو اس سوال کا حتمی جواب تو نہیں دے سکتے البتہ آپ کو اپنے سوال کا جواب ڈھونڈنے میں شاید کچھ←  مزید پڑھیے

چلتے ہو تو گلف کو چلیے/ندیم اکرم جسپال

قریب ایک مہینے بعد آج آرام سے ایک جگہ ٹک کے بیٹھ کے لکھ رہا ہوں۔پچھلے چند ہفتے بھاگم بھاگ گزرے ۔بھاگ دوڑ بھی ایسی کہ زندگی تین ٹائم زونز میں چل رہی تھی۔گلف میں اپنے فری لانس کے کام←  مزید پڑھیے

گاؤں سے پرائے دیس تک/سراجی تھلوی

11اکتوبر کی رات ،سیاہ چادر تانے 12اکتوبر کی صبح کی سپیدی میں داخل ہونے جارہی ہے۔لائبریری سے باہر کی فضا میں گہرا سکوت،گہری خاموشی ،مستزاد اس پر شب کی سیاہی چارسُو پھیلی ہوئی ہے۔لائبریری میں ہندوپاک کے مختلف شہروں ،علاقوں←  مزید پڑھیے

یورپ کے خاندانی نظام بارے دیسی غلط فہمی/انور مختار

بڑے عرصے سے دِل چاہ رہا تھا کہ کبھی یورپ بالخصوص برطانیہ کے خاندانی نظام پر دوبارہ سے لکھوں ۔ ہمارے ہاں ایک بڑی غلط فہمی موجود ہے کہ جیسے ہم پاکستانی دُنیا کی بڑی انوکھی قوم ہیں جو بڑی←  مزید پڑھیے

شہر میں اک چراغ تھا ، نہ رہا/ڈاکٹر عمران آفتاب

لیفٹننٹ جنرل (ر) مصطفی کمال اکبر—ایک عظیم استاد، پاکستان کے چوٹی کے ماہر امراض چشم، اور پاکستان آرمی کے سرجن جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے والی انتہائی قابل احترام شخصیت—کی وفات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے←  مزید پڑھیے

معاصر انٹرنیشنل/آغرندیم سحر

سہ ماہی’’ معاصر‘‘ انٹرنیشنل کااجرا ۱۹۷۹ء میں ہوا،یہ وہ دور تھا جب لاہور سے احمد ندیم قاسمی’’ فنون‘‘،سرگودھا سے ڈاکٹر وزیر آغا ’’اوراق‘‘ اور الہ آباد سے شمس الرحمن فاروقی’’شب خون‘‘نکال رہے تھے،ان مجلوں کی حکمرانی ادبی دنیا پر قائم←  مزید پڑھیے

(The Success Principles By Jack Canfield)-توصیف اکرم نیازی

دنیا کی سب سے بہترین سیلف ہیلپ کتابوں میں سے ایک کتاب کا تعارف اور سمری جیک کینفیلیڈ ایک مشہور مصنف اور پرسنل ڈیوپلمنٹ کے گُرو ہیں. ان کی سب سے معروف کتابوں میں Chicken Soup For The Soul سیریز←  مزید پڑھیے

اکبر بادشاہ، بیربل کی کہانیاں اور ذہنی صحت/محمد ثاقب

اکبر اعظم مغلیہ سلطنت کا اہم شہنشاہ تھا اکبر اعظم بڑا سمجھ دار ،ذہین اور جہاں دیدہ حکمران تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے 9  مشیر مقرر کر رکھے تھے۔ جن کو نورتن کے←  مزید پڑھیے

کیا میں غلط سوچ رہی ہوں؟- شہنازاحد

۲۱ ستمبر کی دوپہر میں گاڑی کی پچھلی نشست پر آدھی لیٹی ، آدھی بیٹھی کیفیت میں اس دن کا اخبار اُلٹ پلٹ رہی تھی کہ ایک خبر پے نظر پڑتے ہی میں یکدم سیدھی ہوگئی۔ خبر کو نیچے سے←  مزید پڑھیے