گوشہ ہند    ( صفحہ نمبر 2 )

پچاس سال پہلے کی ایمرجنسی یاد ہے مگر / شکیل رشید

ایمرجنسی پچاس سال پہلے لگی تھی ، لیکن بی جے پی کے نیتا اور سنگھی پرچارک و اندھ بھکت ، ایمرجنسی کا مرثیہ یوں پڑھ رہے ہیں جیسے یہ کل ہی کی بات ہو ! مجھے ایمرجنسی خوب یاد ہے←  مزید پڑھیے

استنبول میں اسلامی دنیا کی نئی صف بندی (2)-افتخار گیلانی

اسلئے ان دو ممالک کا رتبہ اسلامی تنظیم میں وہی تھا، جو اقوام متحدہ میں امریکہ اور سویت یونین کا ہوتا تھا۔ مگر تین دہائی قبل ہی آہستہ آہستہ پاکستان اس تنظیم کیلئے غیر متعلق ہوتا گیا اور یہ سیٹ←  مزید پڑھیے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے/ڈاکٹر محبوب حسن

میرے لیے انتہائی مسرت کی بات ہے کہ عزیز دوست ڈاکٹر ابھے کمار کی تقرری بہار میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوئی  ہے۔ جناب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات۔اس سے قبل ان کا  تقرر  خواجہ←  مزید پڑھیے

استنبول میں اسلامی دنیا کی نئی صف بندی(1)-افتخار گیلانی

بیسویں صدی کے اوائل میں متحدہ ہندوستان کے دور میں مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری اپنے ایک طنزیہ مضمون ’مرید پور کا پیر‘ میں رقم طراز ہیں کہ جس شہر میں وہ مقیم تھے، وہیں کانگریس والوں نے اپنا سالانہ←  مزید پڑھیے

اردو زبان اور دینی مدارس: حقیقت کیا ہے؟ -محمد علم اللہ

اردو زبان کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اور بعض اخبارات میں ایک مخصوص طبقہ دینی مدارس پر تنقیص کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایک←  مزید پڑھیے

یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (6)- محمد ہاشم خان

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر بوڑھا شیر نرغے میں، ابن البار کی آمد سے فوجیوں کی ہمت بلند بادشاہ اپنی تقریر مکمل کرنے کے بعد آگے کے دونوں آہنی پنجے زمین میں گاڑ کر اسی جگہ چوتڑ←  مزید پڑھیے

یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (5)- محمد ہاشم خان

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں حلقہ زن عسکریوں سے امیر جنگل کا خطاب جمعہ کا مقدس دن تھا، کلیلہ کی فوج نے شیر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ شیر اپنے جاہ و جلال اور عظمت و حشمت کے ساتھ←  مزید پڑھیے

یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (4)- محمد ہاشم خان

شیر کا محاصرہ، دانا پانی بند کلیلہ کی فوج کا جوش عروج پر، گھمسان کی جنگ ناگزیر فرطوت نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ جہاں پناہ یہ پیغام لے کر میں نہیں جا سکتا، باغیوں کی آپ سے نفرت اور آپ←  مزید پڑھیے

عبرت نہیں، عزم کی علامت ہیں ہماری بستیاں: سچ کی تلاش میں ایک مکالمہ /محمد علم اللہ

جب کوئی قلم اٹھاتا ہے اور اپنی تحریر کے ذریعے معاشرے کے زخموں کو کھولتا ہے، تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یا تو مرہم رکھے گا یا کم از کم زخم کی وجہ کو سمجھنے کی←  مزید پڑھیے

ترکیہ کا وقف نظام اور ہندوستانی پارلیمنٹ میں اس کا تذکرہ /افتخار گیلانی

ہندوستانی پارلیامنٹ میں جب کسی موضوع کو یا مجوزہ قانون کو بحث کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، تو بر سر اقتدار پارٹی کی طرف سے پارلیامانی امور کے وزیر جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں سے ان کے چیف وہپ بحث←  مزید پڑھیے

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات/ محمد ہاشم خان

گردش لیل و نہار وہی ہے جو تھی، زیر سماوات کوئی چیز اپنے محور سے نہیں ہٹی ہے؛ نہ تو کہکشائیں اپنے مدار سے باہر نکلی ہیں اور نہ ہی سورج سوا نیزے پر آیا ہے، سمندر نے بھی ابھی←  مزید پڑھیے

بھارت کا نیا وقف قانون: مسلمانوں کے حقوق پر شب خون/ افتخار گیلانی

غالباً 2018 میں جب جموں و کشمیر کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی مدت ختم ہو رہی تھی دہلی میں ان کے ممکنہ جانشین کے بطور ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل سید عطا حسنین کا نام گردش کر رہا تھا۔ جنرل حسنین←  مزید پڑھیے

ّتپن بوس۔دہلی میں کشمیر کیلئے دھڑکتا دل رک گیا(3،آخری حصّہ)-افتخار گیلانی

اسی طرح رپورٹ کے مطابق یکم مارچ1990 کو نصف ملین سے زیادہ افراد سری نگر کی سڑکوں پر تھے ۔ اس دن تین مختلف مقامات ،زکورہ، ٹینگ پورہ،بمنہ بائی پاس، اور شالیمارپر بھارتی نیم فوجی دستوں نے لوگوں پر گولی←  مزید پڑھیے

عام آدمی پارٹی کا زوال-ٹوٹ گئے خواب/ افتخار گیلانی

تہلکہ ڈاٹ کام کے سیاسی بیورو میں غالباً 2011 میں کام کرتے ہوئے ایک بارایڈیٹر ان چیف ترون تیج پال نے اپنے دفتر بلاکر ایک شخص سے متعارف کراتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انکم ٹیکس محکمہ کے حوالے←  مزید پڑھیے

میں لبرل نہیں ایک نارمل مسلمان ہوں /محمد ہاشم خان

اس کالم کو میں نے جو عنوان دیا ہے ابھی اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔ فی الحال تو ان اسباب و عوامل پر کچھ اجمالی روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو اس عنوان اور اس کالم کا محرک←  مزید پڑھیے

تپن بوس۔دہلی میں کشمیر کیلئے دھڑکتا دل رک گیا (2) افتخار گیلانی

یہ جرنل ان حالا ت میں کشمیر کے روز مرہ کے واقعات دہلی کے مختلف حلقوں تک پہنچانے میں خاصا مدد گار ثابت ہوا۔اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جگموہن کے آفس سنبھالنے کے پہلے دن ہی سری نگر کے←  مزید پڑھیے

تپن بوس۔دہلی میں کشمیر کیلئے دھڑکتا دل رک گیا(1)-افتخار گیلانی

90کی دہائی کی ابتدا میں زمانہ طالب علمی میں امتحانات سے فراعت کے بعد دہلی کے اوکھلا علاقے سے متصل سرائے جولینا بستی میں ایک کمرہ کرایہ پر لیکر میں چھٹیاں منانے کشمیر چلا گیا تھا۔ پندرہ بیس دن کے←  مزید پڑھیے

منموہن سنگھ: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم /افتخار گیلانی

یہ شاید 1998-99 کا سال رہا ہوگا۔ نئی دہلی کے 24، اکبر روڈ پر واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر میں دیر رات گئے کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجلس کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ کور کرنے کے بعد میں بس←  مزید پڑھیے

سقوط دمشق کی کہانی /افتخار گیلانی

مشرقی ترکی کے قصبہ کیلس میں سرحد سے بس 500میٹر دور شامی پناہ گزینوں کے کیمپ میں پچھلی اتوار کی رات شاید ہی کوئی سویا تھا۔ کئی دہائیوں سے بے گھر مکین الجزیرہ عربی اور ا پوزیشن گروپوں سے وابستہ←  مزید پڑھیے

بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو /محمد ہاشم خان

یہ ہم کہاں آ گئے ہیں؟ یہ کس معاشرے میں زیست کرتے ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں جو بات بات پر اپنی گھٹن اور فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں جنہیں بات کرنے کا سلیقہ نہیں، اختلاف←  مزید پڑھیے