طالب علم کو اپنے مضمون کی مبادیات پر مہارت ہو جانے کے بعد، اس علم میں نئی پیش رفت کے لیے خود کو وقف کرنا پڑے گا۔ یہاں بھی کلیہ یہی رہے گا کہ نئی شئی شاذونادر اچھی ہوتی ہے← مزید پڑھیے
Vermin is the rule everywhere in the world قابل مطالعہ مصنف اپنا مواد براہ راست اپنی سوچ اور فکر سے لیتا ہے۔ مرتب،تاریخی کتب کے مصنف، یا ان جیسے دیگر لکھاری اپنا مواد براہ راست دوسری کتب سے اخذ کرتے← مزید پڑھیے
مصنفین کی اقسام (۱) مصنفین کی دو اقسام ہیں: ایک جو موضوع کی خاطر لکھتے ہیں، دوسرے وہ جو تحریر کی خاطر لکھتے ہیں۔ اوّل الذکر کے ہاں خیالات یا تجربات ہوتے ہیں جو ابلاغ میں مدد دیتے ہیں، جب← مزید پڑھیے
انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے شاعر دراصل جڑانوالہ روڈ فیصل آباد کا بدنصیب رہائشی ہے اور اپنے میل ملاقاتیوں سے کہہ رہا ہے کہ بھائیو میرے← مزید پڑھیے
کراچی پریس کلب کا شمار میری منی سی معلومات کے مطابق پاکستان کے اولین پریس کلب میں ہوتا ہے۔ پچاس کی دہائ میں پاکستان میں انگریزوں کے چھوڑے ہوۓ جم خانوں،سوشل کلبوں،نائٹ کلبوں کے بعد یہ واحد کلب بنا جس← مزید پڑھیے
’’کسی بستی کا ایک شخص بھی دکھی ہو،اور پوری بستی کے ضمیر میں خلش نہ ہو تو یہ وقت، ماتم اور ملامت کا ہے۔ اپنی ڈائری سے :میں ڈائری میں ہر بات درج نہیں کرتا۔صرف وہ بات درج کرتا ہوں،← مزید پڑھیے
عزیزم! آنکھوں کے راستے دل تک پہنچنے کا ہنر کسے آتا ہے؟ شاید ان لوگوں کو جو خاموشی میں کہانیاں سننا جانتے ہیں۔ آنکھیں بولتی نہیں، مگر جو کہتی ہیں، وہ الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں← مزید پڑھیے
کتاب :Explaining Postmodernism: Skepticism and Socialism from Rousseau to Foucault مصنف: اسٹیون آر-سی -ہُکس ترجمہ: شرح مابعد جدیدیت: تشکیکیت اور سوشلزم؛ روسو تا فوکو مترجم: ڈاکٹر نذیر آزاد مابعد جدیدیت پر کئی اہم مضامین دوران پی ایچ ڈی حیدرآباد میں← مزید پڑھیے
ادب دراصل تحریر کردہ زندگی ہے، کیوں کہ ادیب کہانیاں اپنی، یا اپنے اردگرد کے انسانوں کی زندگیوں ہی سے اخذ کرتا ہے، اور اس کے کردار، چاہے ان کا تعلق کتنی ہی دورافتادہ فنتاسی سے کیوں نہ ہوں، انہی← مزید پڑھیے
The World as Will and Idea “Arthur Schopenhauer” شوپن ہاؤر (1788ء تا 1860ء) کو انگلینڈ میں پیدا ہونا تھا لیکن اس کی ماں کے ارادے ناکام ہوئے اور اسے پورٹ آف Danzig میں پیدا ہونا پڑا۔ اس کے باپ ہائنرخ← مزید پڑھیے
اب میں شہرہ آفاق دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باب نمبر 7 پر کھڑا تھا۔ چار سو خاک اڑ رہی تھی۔تجسس اور اشتیاق میں چاروں طرف ایک اچٹتی ہوئی نگاہ دوڑائی، یہ جاننے کے لیے کہ اس دوران← مزید پڑھیے
کل صبح سے بانگ درا کو پڑھنا شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی. دسمبر کے آخری ہفتے نرم اور شرمائی ہوئی دھوپ “بانگ درا’ کی پہلی اشاعت کو وقت کا مفہوم سمجھا رہی تھی،یا خود وقت کا مفہوم← مزید پڑھیے
۱۔ سری لنکا کی نوجوان نسل اپنی روایات پر بڑی نکتہ چین ہے۔ ۲۔ کولمبو نیشنل میوزیم کی تعمیر و تزئین صدیوں پہلے سری لنکا میں آباد ہونے والی مسلمان شیخ فرید فیملی کے بیٹے آراسی ماریکر کا کارنامہ ہے۔← مزید پڑھیے
یہ 2009 نومبر کی سرد ترین دھند میں لپٹی شام تھی جب میری منیجر نے کہا کہ ،شاہین تمہارے لیے فون ہے۔ او۔کے، شکریہ ۔ ہیلو! جی بیٹا الحمداللہ سب خیریت؟ لائین پر میرا بھانجا تھا۔ لالا 2009 کا ماڈل← مزید پڑھیے
سندھ دھرتی کے بارے میں کیا لکھوں۔۔۔؟ سمندر کو کوزے میں بند کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے پھر یہاں تو اس خطے کا ذکر ہے جس کی ثقافت اتنی زرخیز ہے کہ لکھنے پہ آئیں تو کئی قلم← مزید پڑھیے
کل برادرم سرور الہدی صاحب نے اپنی فیس بک وال پر میرے نام ایک مراسلہ لکھا ۔ وہ اس مراسلے کو مکالمہ بنانا چاہتے ہیں: وقت کے مسئلے پر۔ میں خود کو اس قدیمی، ازلی ، پیچیدہ مسئلے پر گفتگو← مزید پڑھیے
”مظفر فہمی“ان قلمکاروں کے مضامین کا مجموعہ ہے جسے مختلف ادیبوں نے اپنے منفرد اندا ز میں تحریر کیا ہے۔ ان کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے اس کتاب کو ترتیب دے کر شائع کروایا ہے۔ مظفر حنفی کا ادبی← مزید پڑھیے
انسانوں کو انسانوں کے زہر سے آلودہ ہونے پر جسم نیلے نہیں ہوتے میلے نہیں ہوتے موت نہیں ہوتی ایک دن میں کچھ نہیں ہوتا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کس نے کاٹا ہے کب دانت گاڑے ہیں اور کیوں← مزید پڑھیے
ات ساعتوں نے خواب کی نگری میں خلل پیدا کرنے کی کوششیں کیں لیکن ہم بھی ساتھ ساتھ چلنے کے عادی ہیں اس لیے سات نشستوں میں “خواب نگر میں سات دن ” کا مطالعہ کیا۔ سفر نامہ کسی شخص← مزید پڑھیے
ماں میں نے گوشَت کھانا ہے بس مجھے نہیں پتا ۔۔۔تو نے اتنی مدت سے وعدہ کر رکھا ہے۔۔۔۔ پر تو نہ خود پکا کر دیتی ہے ناں تیری مالکن نے کبھی تجھے بچا کھچا دیا۔۔۔۔ مجھے بکرے کا گوشَت← مزید پڑھیے