قبلہ و کعبہ و چند دیگر مقدس مقامات حضرت عابد نواز صاحب ! آپ سے فون پر بات کر کے مجھے اتنی حیرت و مسرت ہوئی کہ اس کے بعد کافی دیر تک میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی رہی۔ آپ← مزید پڑھیے
کہانی “مہر ولی” کے کھنڈرات سے نکلی اور پھر ایک کبڑے کلرک کے اس اپارٹمنٹ تک لے گئی جو اس نے دلّی کے قریب “گوتم بدھ نگر کے چرّاسی گاؤں” میں لیا تھا، وہاں سے نکلی تو “تھانہ محال گنج،← مزید پڑھیے
یونیورسٹی کے وسیع وعریض لانوں میں عشائیہ تھا۔کھانے کے لیے ہندوستانیوں کی قطاریں تھیں جبکہ پاکستانی گواچی گائیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ کھانوں میں ورائٹی تھی۔ مقامی رنگو ں کا ٹچ تھا۔ چپہ بھر سائز کی روٹیاں دیکھ کر← مزید پڑھیے
اُردو میں اقبالیاتی ادب کا ذخیرہ کافی وسیع ہے۔ کہیں ضخیم کے ساتھ متوسط اور مختصر کتابیں اقبال کی شخصیت اور فکر کے حوالے سے لکھی گئی ہیں۔ ڈاکٹر طالب حسین سیال کی کتاب “علم کا مسافر” کا شمار مختصر← مزید پڑھیے
یہ تین سے چار ٹریکس کا مجموعہ ہے جو سندھ ساگر دوآب کے شہروں کو چج دوآب کے جنکشن ملکوال سے ملاتا ہے۔ شروع میں یہ ٹریک لالہ موسیٰ سے ملکوال تک میٹر گیج کے طور پہ تعمیر کیا گیا← مزید پڑھیے
’’گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول← مزید پڑھیے
آئینہ تو ہمیشہ سے سفاک ہی ہے۔ چاہے ہمارے اندرون خانہ کا آئینہ ہو، دیوار پر لگاہو،حمام کی دیوار پر چمکتا ہو ،آرائش کے لئے کسی دیوار پے آویزاں ہو،کھڑکی میں جڑا ہو،کوئی چہرہ مانند آئینہ دکھتا ہو یا دل← مزید پڑھیے
ہر نئی غزل ہے میرے گناہوں میں اضافہ پاپی اباحی کو رہین منت گناہ ہی رکھنا بار محبت سے ہے میری فروتنی قائم بندہ عاجز کو رہین منت چاہ ہی رکھنا نگاہ ناز سے ہو جاتے ہیں طبق روشن لپکتے← مزید پڑھیے
پہلے چھٹی ملی پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہو ا میں تیرتی اُس دل کش و دلربا حسینہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔ یہ ڈاکٹر شائستہ نزہت تھی جو فون پر مجھ سے مخاطب تھی۔ ‘‘وزیراعلیٰ پنجاب جنا ب← مزید پڑھیے
“ ایک ناول کا مطالعہ، ایک نئی، متبادل زندگی بسر کرنا ہے”: یوسا کی یاد میں ماریو برگس یوسا، لاطینی امریکی ادیبوں کی اس نسل کے سربرآوردہ فکشن نگار تھے، جس کے لیے یورپ، لاطینی امریکی فکشن کا گمراہ کن← مزید پڑھیے
شام کا وقت تھا میں اورٹینا ساحل پر ٹہل رہے تھے۔ ہم اکثر ہفتے کے دن وقت گزارنے یہاں آتے تھے۔ ہفتے کی مشقت بھری ملازمت سے نجات ملنے کے بعد یہاں ٹہلنا کسی خواب سے کم نہ ہوتا تھا۔← مزید پڑھیے
حال احوال کے لیے لکھی جانے والی تحریروں کے لیے اردو زبان میں لفظ خط اور مکتوب زیادہ مستعمل ہیں ، لیکن ایک لفظ چِٹھی بھی ہے ، سادہ اور مذکورہ معنی کے لیے بھرپور لفظ ۔ بہت سے ادیبوں← مزید پڑھیے
ڈاکٹر محبوب کاشمیری پیشے سے معالج اور مزاجا شاعر ہیں – پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے ایم بی بی ایس کیا – پہلا شعری مجموعہ 1998 میں شائع ہوا جس کا نام “اسے میرا غم ستائے گا ” دوسرا← مزید پڑھیے
میں نے دنیا کے سب بڑے عجائب گھر دیکھے ہیں۔ میں ایک بار پیرس کے لوغوے عجائب گھرمیں تھا۔ یہاں دنیا بھر سے لائے گئے ، نوادارت رکھے ہیں۔ میں مونا لیزا کے شاہ کا ر کے سامنے کھڑا تھا۔مجھ← مزید پڑھیے
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے کمر کی یہ وادیاں، سریں کی وہ گھاٹیاں سینے← مزید پڑھیے
وہ کافی دیر تک خاموشی کے ساتھ کپڑوں سے بے نیاز میرے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی۔ میں کتاب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار کن انکھیوں سے اسے دیکھ لیتا اور بے اختیار میرا ہاتھ اس کے جسم پر رینگ جاتا۔← مزید پڑھیے
ظفر اقبال کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ اپنی دشمنی کے لیے کسی اور کے محتاج نہیں ہیں، خود ہی یہ کام کر گزرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف زندہ و مردہ شاعروں کے ساتھ جھگڑا مول لے← مزید پڑھیے
میں اور میری بیوی ہمارے اکلوتے بیٹے سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی کسی بھی متوسط طبقے کے والدین میں پائی جاتی ہے، میں ہمیشہ کوشش کرتا کہ وہ جس چیز کی خواہش رکھے میں اسے کسی نا کسی← مزید پڑھیے
دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روازنہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت← مزید پڑھیے
عبدالباسط خان ایک تخلیقی مزاج کے حامل ادیب، شاعر اور سیاحت کے شوقین ہیں۔ آپ دو کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سفرنامہ، خودنوشت اور ناول شامل ہیں۔ آپ کے مضامین معروف اخبار روزنامہ ایکسپریس میں بھی شائع ہو چکے← مزید پڑھیے