وہارا امباکر کی تحاریر

کشمیر ۔ ڈوگرہ راج کو چیلنج (17)۔۔وہاراامباکر

برٹش ڈوگرہ مہاراجوں کے مضبوط حمایتی رہے لیکن درمیان میں مسائل بھی آتے رہے۔ 1889 سے 1905 تک مہاراجہ پرتاب سنگھ کو ایک طرف کر کے کونسل آف سٹیٹ نے ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ کشمیر←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ نقشے کی جارحیت (16)۔۔وہاراامباکر

جب 1889 میں برٹش نے گلگت ایجنسی بنائی، اس وقت ریاستِ جموں و کشمیر کے تین صوبے تھے۔ جموں، کشمیر اور فرنٹئیر ڈسٹرکٹ۔ سرکاری طور پر تو یہ سب کچھ مہاراجہ کے پاس تھا لیکن کئی جگہوں پر استثنا تھا۔←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ شمالی علاقہ جات (15)۔۔وہاراامباکر

ڈوگرہ راج نے گریٹر گلگت کو قابو کرنے کی کوشش 1848 سے شروع کر دی تھی۔ میرِ ہنزہ کے جنگجووں سے 1869 تک تین بار جنگ کی گئی۔ اس کے بعد امن رہا۔ اس علاقے کے دو اہم علاقے ہنزہ←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ سرحدی لکیریں (14)۔۔وہاراامباکر

دہلی میں منعقد باقاعدہ درباری تقریب میں 1877 میں ملکہ وکٹوریا نے انڈیا کی ملکہ کا لقب اختیار کیا۔ یہ وقت برٹش عروج کا تھا۔ عدن، سنگاپور، نکوبار، ماریشس، انڈیمان، آسٹریلیا میں برٹش کالونیوں نے بحرِ ہند کو برٹش جھیل←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ ڈوگرہ راج (13)

کشمیر خریدنے کے بعد گلاب اور جموں آرمی کشمیر کا قبضہ لینے گئے لیکن ہزیمت اٹھانا پڑی۔ سکھوں نے 1819 میں کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔ ان کے مقرر کردہ گورنر شیخ غلام محی الدین سکھا شاہی کا اعتماد بھی←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ سودا (12)۔۔وہاراامباکر

فروری 1846 کو پہلی اینگلو سکھ جنگ میں سکھ فوج کو شکست ہوئی۔ 9 مارچ کو لاہور میں آٹھ سالہ سکھ بادشاہ دلیپ سنگھ کے ساتھ برٹش معاہدہ ہوا۔ اس سے صرف ایک ہفتے بعد 16 مارچ کو امرتسر میں←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ خالصہ سرکار کا زوال، گلاب سنگھ کا عروج (11)۔۔وہاراامباکر

گلاب سنگھ کے بھائی دھیان سنگھ بھی لاہور دربار میں بااثر تھے۔ رنجیت سنگھ نے انہیں بھمبر، چبل اور پونچھ کی جاگیریں 1827 میں تحفے میں دی تھیں۔ 1828 میں یہ وزیرِ اعظم بنا دئے گئے۔ اور پھر ان کا←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ جموں (10)۔۔وہاراامباکر

جموں سے تعلق رکھنے والے تین بھائی گلاب سنگھ، دھیان سنگھ اور سچیت سنگھ تھے۔ سکھ سلطنت میں یہ بااثر اور طاقتور تھے۔ سکھ سلطنت میں کئی اہم عہدوں پر غیرسکھ رہے تھے اور جموں کے یہ بھائی بھی ان←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ خالصہ سرکار (9)۔۔وہاراامباکر

تبت سے سنگِ خباب نکلتا ہے جو لداخ اور گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں پہنچتا ہے۔ اس کو دریائے سندھ کہا جاتا ہے۔ پنجاب کے پانچ دریا بالآخر اس میں گرتے ہیں۔ 1947 میں انڈس←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ افغانستان (8)۔۔وہاراامباکر

برٹش کو افغانستان کی سمت سے 1839 میں بڑا خطرہ روسی سپرپاور سے تھا۔ افغانستان کے امیر اگرچہ برٹش مخالف نہیں تھے لیکن برٹش روس گریٹ گیم کے درمیان اپنی آزاد پالیسی رکھنا چاہتے تھے۔ کلکتہ حکومت کے لئے یہ←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ روسی خطرہ (7)۔۔وہاراامباکر

برٹش کو انڈیا کے بارے میں خطرہ فرنچ سے رہا تھا۔ نپولین نے 1796 میں تہران مشن بھیجا تھا۔ اور اس سے دو سال بعد مصر پر قبضہ کر لیا تھا۔ برٹش کو خوف تھا کہ انڈیا میں بھی ایسا←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ علاقے (4)۔۔وہاراامباکر

ریاستِ جموں و کشمیر 1846 میں قائم ہوئی اور 1952 میں تحلیل ہوئی۔ رقبے کے لحاظ سے یہ برٹش انڈیا کی سب سے بڑی نوابی ریاست تھی۔ اور یہ نوابی ریاستوں میں سے حاصل کرنے کے لئے سب سے بڑا←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ انڈیا (3)۔۔وہاراامباکر

عرب، فارس، یونان سے تاجر برِصغیر آتے رہے۔ ان کے لئے اس تک پہنچنے کے لئے اس علاقے کے مغرب میں ایک بڑا دریا تھا جس کو عبور کرنا مشکل تھا۔ سنسکرت میں اس دریا کو سندھو کہا جاتا تھا←  مزید پڑھیے

کشمیر ۔ کشمیری (2)۔۔وہاراامباکر

کشمیری کا لفظ وادی کشمیر میں رہنے والوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ایتھنک کشمیری بھی ہیں۔ کچھ تعداد میں بکروال اور گجر بھی۔ تھوڑی تعداد میں سکھ ہیں جو پنجاب سے کشمیر گئے تھے اور ڈوگرہ←  مزید پڑھیے

سائنسدان کی نگاہ سے ۔ دانا اور باغی (5،آخری قسط)۔۔وہاراامباکر

ایسے لوگ جو اچھوتے لیکن متعلقہ سوال پوچھ سکیں، نایاب ہیں۔ اور ایسے لوگ ہی چھپی ہوئی ازمپشن ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہم وژنری کہہ سکتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ یہ دوسروں سے نمایاں نظر آتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

سائنسدان کی نگاہ سے ۔ جمہوریت (4)۔۔وہاراامباکر

ایک تندرست کمیونیٹی کو پھلنے پھولنے کے لئے اصلاح کے مکینزم ضروری ہیں۔ بزرگ، جو نوجوانوں کے اضطراب اور جلد بازی کو روکیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں سیکھا ہے کہ کتنی بار وہ غلط تھے۔ اور نوجوان جو←  مزید پڑھیے

سائنسدان کی نگاہ سے – انسانی فطرت (3)۔۔وہاراامباکر

سائنس انسانی کلچر کے کئی آلات میں سے ایک ہے جس کا آغاز بہت پہلے ہوا۔ اس کا تعلق انسان اور انسانی فطرت سے ہے۔ ہم خود کو جس صورتحال میں دیکھتے ہیں، اس کے مطابق ردِ عمل دیتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

سائنسدان کی نگاہ سے ۔ طریقہ (2)۔۔وہاراامباکر

ویانا میں 1920 اور 30 کی دہائی میں ایک فلسفانہ تحریک مشہور ہوئی تھی جو لاجیکل پوزیٹیوزم تھی۔ اس پر تجویز کیا گیا تھا کہ دعویٰ اس وقت علم میں تبدیل ہوتا ہے جب اس کی تصدیق دنیا میں آبزرویشن←  مزید پڑھیے

سائنسدان کی نگاہ سے ۔ سائنس (1)۔۔۔وہاراامباکر

مندرجہ ذیل مضمون لی سمولن کی تحریر کا ترجمہ ہے۔ “جب میں 1976 میں ہارورڈ گریجویٹ سکول کے لئے داخل ہوا تو ایک ناتجربہ کار طالبعلم تھا۔ میں نے آئن سٹائن، بوہر، ہائزنبرگ اور شروڈنگر کے بارے میں پڑھا تھا←  مزید پڑھیے

قدیم آسٹرونومر اور گرہن۔۔وہاراامباکر

سائنس کتنی پرانی ہے؟ جب سے انسان ہے تب سے تصور، تجسس، مشاہدات، سوالات ہیں۔ ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ یہ کائنات کام کیسے کرتی ہے۔ ہزاروں سالوں سے انسان فطری مظاہر کا مشاہدہ کرتا←  مزید پڑھیے