سائنسدان کی نگاہ سے ۔ طریقہ (2)۔۔وہاراامباکر

ویانا میں 1920 اور 30 کی دہائی میں ایک فلسفانہ تحریک مشہور ہوئی تھی جو لاجیکل پوزیٹیوزم تھی۔ اس پر تجویز کیا گیا تھا کہ دعویٰ اس وقت علم میں تبدیل ہوتا ہے جب اس کی تصدیق دنیا میں آبزرویشن سے ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنسی علم تصدیق شدہ تجاویز کا مجموعہ ہے۔ سائنس تصدیق کے عمل کی وجہ سے ترقی کرتی ہے۔ اس تحریک کا مقصد فلسفے سے میٹافزکس کو خارج کرنا تھا، کیونکہ میٹافزکس نے ضخیم کتابوں کو ایسے فقروں سے بھر دیا تھا جن کا حقیقت سے تعلق نہیں تھا۔ اس لئے یہ اچھی پیشرفت تھی۔ نہ صرف اچھی فزکس کے لئے بلکہ اچھی میٹافزکس کے لئے بھی۔ یہ ری ایکشنری تحریک تھی جس میں کچھ حد تک کامیابی ہوئی، لیکن اتنی سادہ تعریف نے کام نہیں کیا۔ کئی مسائل تھے۔ کوئی آسان کورسپونڈنس نہیں تھی جس سے کہا جا سکے کہ مشاہدے اور سٹیٹمنٹ کا تعلق کیا ہے۔ سادہ ترین مشاہدات کی وضاحت میں مفروضات اور تعصبات در آتے تھے۔ نہ صرف یہ قابلِ عمل نہیں بلکہ ناممکن ہے کہ سائنس کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑا جا سکے۔ اس میں سے تھیوری کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اور تھیوری انسانی تصور ہے جس کو ریڈیوس نہیں کیا جا سکتا۔
جب یہ ناکام ہوا تو اگلی تجویز یہ تھی کہ سائنس ترقی کرتی ہے کیونکہ ایک طریقہ ہے جس کی پابندی ترقی کی ضمانت ہے۔ اس طریقے کی ڈیفی نیشن رڈولف کارناپ اور پال اوپن ہائم نے کی۔ کارل پوپر نے بھی اپنی تجویز رکھی جس کے مطابق سائنسی تھیوری کو فالسیفائی ایبل ہونا چاہیے۔ اگر تھیوری کو بار بار غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ امتحان میں پاس ہوتی رہتی ہے تو ہم اس پر اعتماد رکھ سکتے ہیں، تاوقتیکہ وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ آئیڈیا عملی نہیں۔ عام طور پر فالسیفائی ہو جانے کے بہت بعد بھی تھیوری زندہ رہتی ہے۔ نئی توجیہات بنا لی جاتی ہے۔ نتائج کو چیلنج کر دیا جاتا ہے۔ تھیوری کی نئی تشریح پر غور کیا جاتا ہے۔ کئی بار تھیوری کو زندہ رکھنے کی کوشش میں بند موڑ بھی آ جاتے ہیں۔ ایسی تاویلات کرنا کئی بار بالکل درست ہوتا ہے۔ ہم کیسے بتا سکتے ہیں کہ ہم کونسی صورتحال میں ہیں؟ کیا غلط خیالات کا دفاع کیا جا رہا ہے؟ یا درست خیالات کو بچایا جا رہا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ریشنلائزیشن کی حد پہچاننا مشکل ہے جبکہ فائرابینڈ اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ بتانا مشکل نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔ اس صورتحال میں مختلف سائنسدان مختلف نکتہ نظر اپنا لیتے ہیں اور الگ راستوں کو ڈویلپ کرنے میں قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا عمومی اصول نہیں جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ کب کس خیال کو ترک کر دیا جائے اور کب اسے زندہ رکھا جائے۔
فائرابینڈ ایک اور تصور کو نشانہ بناتے ہیں جو سائنسی میتھڈ کا ہے۔ وہ بہت اچھا آرگومنٹ پیش کرتے ہیں کہ تاریخ کے اہم مواقع پر سائنس کی ترقی اس وقت کے مروجہ اصول توڑنے سے ہوئی ہے۔ اگر سائنسی میتھڈ کے اصول ہمیشہ اپنائے جائے رہتے تو سائنس رک جاتی۔ اور سائنسی میتھڈ کے بارے میں یہی بات سائنس کے مورخ تھامس کوہن بھی (زیادہ شائستہ طریقے سے) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف طریقے رہے ہیں۔ ایک نارمل سائنس کے لئے، ایک انقلابی سائنس کے لئے۔
ہنگری کے فلسفی امرے لاکاٹوس بھی اسی طرح کا آرگومنٹ پیش کرتے ہیں کہ “ایک زرد مرغابی اڑتی دیکھ کر آپ کے لئے مرغابیوں کے سفید ہونے کے یقین کو ترک کرنے کے بجائے زیادہ معقول طرزِ عمل یہ ڈھونڈنا ہے کہ وہ کونسا بندہ تھا جس نے اس پر پینٹ کیا ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائرابینڈ اور دوسروں کے کئی اچھے نکات ہیں لیکن یہ آرگومنٹ کئی مسائل چھوڑ جاتے ہیں۔
پہلا یہ سوال کہ “سائنس کامیاب کیوں ہے” کا جواب وضاحت طلب رہ جاتا ہے۔ دوسرا پوپر کا سوال کہ فزکس اور بائیولوجی جیسی سائنسز کو بیلیف سسٹم جیسا کہ انٹیلی جنٹ ڈیزائن، ساحری، مارکسسٹ ہسٹری وغیرہ سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ اگر یہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر ہم ہر قسم کے بے کار خیالات کیلئے بھی دروازہ کھول دیتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ سائنس کامیاب ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بیلیف سسٹم اور نیچرل سائنس میں تفریق کی جا سکتی ہے۔ لیکن ان جوابات کے لیے ہمیں فکشن تخلیق کرنے کی ضرورت نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی پریکٹسنگ سائنسدان اس پر یقین نہیں رکھتا کہ سائنس کا کوئی ایک طریقہ ہے لیکن فائرابینڈ کے سوال کا جواب بغیر کسی فکشن کے بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہم سائنس کے انسانی فطرت اور کلچر کے کردار کا معائنہ کر لیتے ہیں کیونکہ اس کا جواب یہاں پر ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *