کشمیر ۔ روسی خطرہ (7)۔۔وہاراامباکر

برٹش کو انڈیا کے بارے میں خطرہ فرنچ سے رہا تھا۔ نپولین نے 1796 میں تہران مشن بھیجا تھا۔ اور اس سے دو سال بعد مصر پر قبضہ کر لیا تھا۔ برٹش کو خوف تھا کہ انڈیا میں بھی ایسا نہ ہو۔ مصر کو بیس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ایک خبر کے مطابق روسی زار پال نے فرانس کے ساتھ مل کر 1801 میں غالباً افغانستان انڈیا پر حملے کا پلان بنایا تھا۔ بائیس ہزار کوسک اور توپخانے کو خیوا اور بخارہ کے ذریعے انڈیا پر حملے کے لئے متحرک کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی یہ اڑال سمندر تک ہی پہنچے تھے کہ زار کو قتل کر دیا گیا اور منصوبہ ختم ہو گیا۔ اگلے زار الیگزینڈر سے بھی نپولین کی اس بارے میں بات چیت کی تھی لیکن دونوں کے اچھے تعلقات نہ بن سکے۔ نپولین نے 1812 میں ماسکو پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد تعاون کی یہ صورت ختم ہو گئی۔ ایک خیال ہے کہ نپولین نے فارس کے ساتھ ملکر بھی انڈیا پر حملے کا پلان کی بات کی تھی اور یہ مکران کے دشوار ساحل سے نہیں بلکہ افغانستان کے راستے تھا۔ نپولین کی واٹرلو میں شکست کے بعد فرانس کی طرف سے حملے کا مزید خطرہ نہیں رہا۔ لیکن برٹش کو یہ یقین ہمیشہ رہا کہ روس کارروائی کر سکتا ہے۔
اس تمام پس منظر کا تعلق کشمیر پالیسی سے رہا کیونکہ یہ ایک ممکنہ راستہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روس کے حوالے سے برٹش پریشانی 1830 کی دہائی میں بہت تھی۔ 1837 میں پرشیا نے ہرات پر حملہ کیا۔ ہرات کے حکمران کامران شاہ صدوزئی تھے جن کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے تھا۔ کابل میں حکمران دوست محمد خان تھے جن کا تعلق برکزئی قبئلے سے تھا۔ (صدوزئی سے تعلق رکھنے والے چھ بھائیوں کے درمیان ہونے والی خونخوار جنگ کے بعد دوست محمد نے 1826 میں اقتدار سنبھالا تھا)۔ فارسی فوج نے نو ماہ تک ہرات کا محاصرہ رکھا۔ روس نے فارس کی حمایت کی۔ برٹش کو ڈر تھا کہ روس یا پرشیا پورے افغانستان پر قبضہ نہ کر لیں۔ برٹش افسروں نے ہرات کی مدد کی۔ برٹش بحریہ نے خلیج فارس میں ایک جزیرے پر قبضہ کر لیا اور فارس پر حملے کی دھمکی دی۔ اس وجہ سے فارس کو ہرات کا محاصرہ ختم کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارس قدیم اور طاقتور تہذیب رہی ہے۔ نادر شاہ کی 1732 کی فارسی سلطنت میں افغانستان کے بلخ اور ہرات کے علاقے اور وسطی ایشیا سے خیوا اور بخارا کے علاقے شامل تھے۔ 1739 میں نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا تھا۔ لوٹ مار کے شوقین نادر شاہ نے دہلی کا تیا پانچہ کر دیا تھا۔ نادر شاہ کے 1747 میں قتل کر دئے جانے کے بعد حکمرانی کے لئے ہونے والی لڑائیوں نے فارسی سلطنت کو کمزور کر دیا تھا۔ اس زوال کی وجہ سے جدید افغانستان وجود میں آیا۔ نادر شاہ کے قابل جنرل احمد شاہ ابدالی نے 1750 میں قندھار میں اپنی سلطنت قائم کی۔ پھر ہرات اور کابل پر قبضہ کیا اور اپنا نام درانی رکھا۔ جس علاقے پر احمد شاہ نے قبضہ کیا تھا یہ افغانستان کی جدید ریاست بنی۔ 1776 میں درانیوں نے کابول (آج کا کابل) کو دارالحکومت بنا دیا۔
احمد شاہ درانی نے 1749 میں لاہور پر قبضہ کیا۔ 1752 میں کشمیر کو مغلوں سے چھین کر 166 سالہ پرانی مغل عملداری ختم کر دی۔ 1756 میں درانی نے نادرشاہ کی طرح ہی دہلی کو لوٹ لیا۔ درانی نے 1761 میں وسطی انڈیا کے مرہٹوں کو شکست دی۔ لیکن اپنے وطن سے دور ہونے کے سبب قبضہ برقرار نہ رکھا۔ اس سے بالواسطہ طور پر ابھرتی ہوئی برٹش طاقت کو فائدہ ہوا۔ جب درانی کا 1773 میں انتقال ہوا تو ان کی حکمرانی آمو دریا سے بحیرہ عرب، فارس سے لے کر ستلج اور سندھ تک پھیلی تھی۔ ان کی وفات کے بعد علاقے کی روایت کے مطابق بھائیوں میں جنگ کی وجہ سے ریاست کمزور پڑ گئی۔ اس کے عدم استحکام اور مغلوں کی کمزوری کی وجہ سے سکھوں کو موقع مل گیا۔ سکھوں نے پنجاب سے نکل کر شمالی بلوچستان سے وزیرستان پر قبضہ کر لیا۔ کشمیر پر 1819 میں سکھوں کا قبضہ ہوا۔
رنجیت سنگھ کے کئے گئے سکھ برٹش معاہدے کے مطابق دریائے ستلج سرحد اینگلو سکھ سرحد قرار پایا۔ سکھوں نے سندھ پر حملہ نہیں کیا اور یہ اپنے نواب کے پاس رہا۔ سکھوں نے درانیوں کے علاقے فتح کئے جبکہ اس دور میں برٹش نے برما اور شمال مشرق انڈیا پر قبضہ کیا۔ پشاور 1819 میں سکھ قبضے میں آیا اور 1830 تک سکھ افغان پہاڑیوں تک پہنچ چکے تھے۔ امیرِ افغانستان دوست محمد نے اس وقت سکھوں سے مقابلہ کیا۔ رنجیت سنگھ کے کمزور پڑ جانے کے بعد امیرِ افغانستان دوست محمد نے پشاور تک کا علاقہ واپس لے لیا۔ 
روس اس وقت فارس کی زوال پذیر ریاست سے ترکستان حاصل کر چکا تھا۔ تاشقند روسی ترکستان کا دارالحکومت بنا۔ روس بحرِ اسود کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ سے چھین چکا تھا۔ امیرِ افغانستان کی عسکری سپورٹ بھی کی تھی۔ تجارتی تعلقات بھی تھے۔ فرنچ اور پرشین سلطنت کے زوال کے بعد روس برٹش کا بڑا حریف تھا۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *