جوگی کی تحاریر
Avatar
جوگی
اسد ہم وہ جنوں جولاں ، گدائے بے سروپا ہیں .....کہ ہے سر پنجہ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

احباب چارہ سازی ِ وحشت نہ کرسکے۔۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔گیارہوریں ،آخری قسط

طلسم ہوش ربا میں خیال غالب سے جڑا ہوا تھا کہ اچانک ہماری نگاہیں ٹیلے کے قدموں میں پڑی ایک خالی بوتل سے جا ٹکرائیں۔ بہت ہنسی آئی کہ استاد بھی ہر جگہ اپنی موجودگی کی کوئی نہ کوئی نشانی←  مزید پڑھیے

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام۔۔۔۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط10

رات گیارہ بجے تک چوپال جمی رہی ، اور ہمارے میزبان ملک صاحب ماما اللہ ڈتہ کے دلچسپ قصہ ہائے ماضی سناسنا کرمحفل گرماتے رہے۔ ماما اللہ ڈتہ تاش کے کھیل میں لیجنڈ کھلاڑی ہیں۔ دو دو سو چائے کے←  مزید پڑھیے

شب جائے کہ من بودم۔۔۔۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط9

مزار پہ فاتحہ خوانی کے بعد ، ہم نے ہمراہیوں کو جھمر کے رنگ دیکھنے بھیج کر خود صاحبِ مزار سے کچھ نجی قسم کی گفتگو کیلئے کنکشن جوڑنے کی کوشش کی ، لیکن ناکامی ہوئی۔ شاید قلب پہ کثافت←  مزید پڑھیے

روہی کے داتا گنج بخش۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط8

بنیادی طور پر سلوک و احسان کو جانے والے تین راستے ہیں۔ ایک راستہ معروف ہے ، اس میں زیادہ پیچیدگیاں ، اور خطرات بھی نہیں ہیں ، اس لیے روز اول سے یہ زیادہ مستعمل ہے۔ اس راستے پر←  مزید پڑھیے

یہ لاشِ بے کفن ، اسدؔ خستہ جاں کی ہے۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط7

ازمنہِ قدیم سے دور مار بارودی اسلحے کی ایجاد تک ، قلعے اپنی مضبوط اور بھاری بھرکم فصیلوں کے دم سے حکمرانوں اور کسی حد تک عوام کے تحفظ کی ضمانت رہے ہیں۔سلطنتوں کی مضبوطی ان کے مضبوط اور ناقابلِ←  مزید پڑھیے

میری طرح خدا کا بھی۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط6

محل سے نکل کر ہم اور محمد نواز صیب مغربی سمت میں واقع کاروں والے حصے کی طرف بڑھے۔ محل کی بغل میں جہاں کبھی باغ ہوتا تھا ، اب وہاں خالی میدان ہے ، جس میں چند کیکر اور←  مزید پڑھیے

آ میڈے جانیاں! آ میڈے دیس وچ۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی/قسط5

چوں چوں چوں چوں چاچا گھڑی پہ چوہا ناچا گھڑی نے ایک بجایا تو کامران نے ہمیں یاد دلایا ، کہ روہی کے سفر پر روانہ ہونا ہے۔ ہم نے چاہا کہ ساجدسئیں بھی ہمارے ہمسفر ہوں۔ ہمارا خیال تھا←  مزید پڑھیے

بنا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا۔۔۔(سفرِ جوگی) اویس قرنی/قسط4

گوگل نقشہ کی مدد سے منزلوں کا تعین اور سفری دورانیے کا تخمینہ لگا کر یہ طے ہوا کہ اگر ہم صبح سات بجے دھنوٹ سے نکلیں تو مملکتِ رحیم یار خان کی حدود پار کرکے زیادہ سے زیادہ ساڑھے←  مزید پڑھیے

بیمار کا حال اچھا ہے(سفریاتِ جوگی)۔۔۔۔اویس قرنی/قسط3

کچھ دنوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ جوتی پاؤں سے چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ چونکہ ہم مساوات کے قائل ہیں ، اس لیے فرض کر لیا کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ، سب برابر ہیں۔ ہمارے فرض کرنے سے←  مزید پڑھیے