• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام۔۔۔۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط10

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام۔۔۔۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط10

رات گیارہ بجے تک چوپال جمی رہی ، اور ہمارے میزبان ملک صاحب ماما اللہ ڈتہ کے دلچسپ قصہ ہائے ماضی سناسنا کرمحفل گرماتے رہے۔ ماما اللہ ڈتہ تاش کے کھیل میں لیجنڈ کھلاڑی ہیں۔ دو دو سو چائے کے پیالے ، اورسوا دو لیٹر جمبو کولڈ ڈرنک کی شرط بد کر کھیلتے تھے اور بہت کم ہی کبھی شکست کا منہ دیکھا۔

تجمل رفیق صاحب اس دوران چولستان کے سیبوں اور لذیز دودھ پتی سے ہماری خاطر تواضع کرتے رہے۔ ذاتی طور پر ہم ان کی شائشتہ مزاجی ، دھیمے پن اور وسعتِ اخلاق سے بہت متاثر ہوئے۔ اسی لیے جب چائے آئی تو ہم ان کے اصرار کے سامنے مزید انکار نہ کرسکے۔ لیکن چائے نہ پینے والے کو چائے کا یہ مگ بھاری پڑا ، اور رات بھرہم نیند کی راہ دیکھتے رہے۔ ارادہ تو اختر شماری کا تھا ، لیکن ایک تو ہم اندر لیٹے ہوئے تھے ، دوسری وجہ آسمان پہ چمکتا چاند تھا ، جس کے رعب سے ستارے آسمانی کونوں کھدروں میں چھپے رہے۔

ساڑھے گیارہ بجے تک ، سب ہمراہی ایک ایک کرکے نندیا پور کی سیر کو چلے گئے ، اور وہاں پہنچتے ہی ان پانچوں میں خراٹوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ ہماری سونے کی ساری کوششیں اس مقابلے کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ کمبل لپیٹ لیا ، حتیٰ کہ سر پہ تکیہ رکھ لیا ، کوئی ایک خراٹا ہوتا تو تکیہ بھی آڑے آتا ، یہاں تو خراٹوں کا اتوار بازار لگا ہوا تھا۔ چھوٹے خراٹے ، بڑے خراٹے ، ہلکے خراٹے ، وزنی خراٹے ، آہستہ خراٹے ، نیوخان خراٹے۔ غرضکہ خراٹوں کی ایک باڑھ تھی ، جس کی زد میں ایک نمانڑا جوگی آیا ہوا تھا۔ بعضے سریلے خراٹےبھی سنائی دیے ، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہی۔

دو بجے کے قریب ہماری پڑوسی چارپائی پہ خفتہ خالد نجیب صیب نے ہڑبڑا کر کروٹ بدلی ، ہم نے موقع غنیمت جانا اور موصوف کو آواز دے کر بیدار کر لیا ، کہ اسی بہانے خراٹوں کا ایک یونٹ تو کم ہوجائے گا۔ موصوف نےہم سے یوں بے وقت جگانے کا ڈاہڈا خراج وصول کیا۔ اور ہمیں “بقلم خود شاعر” ہونے کی اطلاع دے کر ہمارے رونگٹے کھڑے کردیے۔ ہم بہت پچھتائے کہ یہ ہم سے کیا انرتھ ہوگیا ہے ، لیکن اب پچھتائے کیا ہوت۔ شاعر نے اپنی یاداشت والی بیاض پہ درج کلام سنانا شروع کیا تو ہمیں ماننا پڑا کہ شاعر کی شاعری میں نہ صرف دم ہے، بلکہ یہ اس خراٹیات سے بھی توجہ ہٹانے کا ایک معقول سبب ہے۔ خالد نجیب نے ہمیں اپنے کچھ “سرائیکو” اور ایک نظم “پلوتا” سنا کر ہم سے داد و دعائیں وصول پائیں۔ قاضی کے گھر کے تو چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ جبکہ موصوف تو اس گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ جو سرائیکی شاعری کی نشاطِ ثانیہ کا مرکز اور سرخیل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنی شاعری کی بنیاد بھی سستے رومان کی بجائے ، سرائیکی ثقافت اور وسیب کی زریں روایات پہ رکھی ہے۔ ان کی شاعری کا آہنگ بتارہا تھا کہ اگر یہ اپنے اندرٹھہراؤ اور استاد کی سننے اورسمجھنے والا ہنر استعمال میں لائیں تو وہ دن دور نہیں جب ان کا نام آسمانِ سرائیکی شاعری پر قطبی ستارے کی مانند روشن اور دشتِ شعر میں نوواردان کیلئے سمت نما ہوگا۔

خدا خدا کرکے صبح کے آثار نمودار ہوئے ، تو ایک اور خراٹا یونٹ بند ہو گیا۔ لیاقت صبح کی نماز کیلئے اٹھ چکا تھا۔ ہمیں بھی شرم نے آن گھیرا کہ یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ، خان بھی ہو۔ اس دوران نواز بھائی بھی جاگ گئے۔ اور شرم کی تاب نہ لا کر ہم دونوں نے بھی نماز ادا کر لی۔ اب کامران اسلم کو جگانے کا سب مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ سو جتن سے انہیں بھی جگا لیا گیا۔ اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم طلوعِ آفتاب دیکھنے چل پڑے ۔

چنن پیر کا گاؤں ، مشرق میں آخری پاکستانی آبادی ہے۔ اس کے بعد بین الاقوامی سرحد تک بس صحرا ہی صحرا ہے۔ ہم اس گاؤں سے بھی آگے نکل آئے ، کچھ دور تک پکی سڑک نے ہمارا ساتھ دیا ، لیکن آخر وہ بھی تھک گئی اور آگے جانے سے انکاری ہو گئی۔ ہم نے ہمت نہ ہاری اور کچی سڑک اور ریت پر ہی سفر جاری رکھا۔ ہماری منزل یہاں سے کچھ دور اس علاقے کا سب سے بلند ٹیلہ “دبئی آلا ٹبہ” تھی۔ ہم پاک فوج کے مورچوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتے چلے گئے۔ ابھی ہم اس ٹبے سے کچھ ہی دور تھے کہ مشرقی افق سے سورج کی پہلی کرن دکھائی دی۔ مطلع اور چٹیل صحرا بالکل صاف تھے۔ افق پر سرخی پھیل گئی ، جیسے کسی حسینہ نے اپنے گلگوں رخساروں پہ غازہ تھوپ لیا ہو۔ اور پھر افق میں سے سورج اگتا دکھائی دیا۔

یہ ایک مسحور کن منظر تھا۔ الحمد للہ ہم بھی پینڈو ہیں ، اور بارہا طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھا ہے ، لیکن کسی میدانی گاؤں میں اور یوں کھلے صحرا میں طلوع کے منظر میں وہی فرق تھا جو غالب کے کلام اور ذوق کے کلام میں ہے۔ افق سے اگتا سورج ایک بڑے سے سرخ توے کی مانند دکھائی دیا ، گویا ابھی کسی لوہار نے بھٹی میں سے نکالا ہو۔ اس دوران ہم بھی دبئی آلے ٹبے کے دامن میں پہنچ گئے۔ جوتے وہیں کار میں چھوڑے اور پیادہ پا اس بلند ترین ٹیلے پر چڑھ گئے۔

نسیم سحر کے جھونکوں نے دف بجا بجا کر ہمارا استقبال کیا۔ سر پہ تمبو کی طرح تنا ہوا آسمان جھک گیا۔ گویا ہم مہمانِ خصوصی تھے ، جن کیلئے یہ ٹیلہ نما سٹیج تیار کیا گیا تھا۔ کائنات کا موسیقار کھڑا ہوا اور آرکسٹرا بجنے لگا۔ غالب جب بنارس گئے تھے ، تو وہاں مندروں کی گھنٹیوں ، اور بھجنوں کے آہنگ میں طلوعِ آفتاب کا نظارہ دیکھ کر انہوں نے ایک شاعرانہ معجزہ “مثنوی چراغِ دیر” کہی تھی۔ جو دنیائے شعر میں عدیم النظیر مانی گئی ہے۔ ہم غالب نہیں مگر شاگرد تو انہی کے ہیں ، اس وقت ہمارے سامنے بنارس کے مندر نہیں ، بلکہ روہی میں پھرتی بھیڑوں ، گایوں اور اونٹوں کے ریوڑ تھے۔ جن کے گلے میں بندھی سینکڑوں گھنٹیاں ، ایک کائناتی آہنگ میں سماعتوں میں شکر گھول رہی تھیں ، سرائیکی بول رہی تھیں۔

افق کی سرخی پہ سنہرا پن غالب آگیا تھا ، گویا کارپردازان ِ قدرت نے پگھلے ہوئے سونے سے ملع کاری کردی ہو۔ دکھنی ہوا ساقی گری پہ مامور تھی ، اس کے مخمور جھونکوں نے ہمیں بھی خمار آلود کردیا۔ سورج افق کے کنارے سے ذرا سا بلند ہو چکا تھا ، اور اب ایسا لگ رہا تھا کہ کائنات کی نبضیں تھم گئی ہیں ، بس ایک نسیم سحر ہے جو چل رہی ہے باقی سب موجودات میں ایک ٹھہراؤ سرایت کرگیا ہے۔ ہم روہی میں اور روہی ہم میں جذب ہو گئی۔ احساسات جامد ہو گئے ، زبان گنگ ہو گئی ،ہمیں اپنے لفظ بھول گئے ، گویا شہنشاہ افراسیاب کے ہوش ربا طلسم میں عمرو عیار کو عیاریاں بھول گئیں۔

بس ایک قدرت تھی جو سرائیکی بول رہی تھی

جاری ہے۔۔۔

Avatar
جوگی
اسد ہم وہ جنوں جولاں ، گدائے بے سروپا ہیں .....کہ ہے سر پنجہ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *