• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یہ لاشِ بے کفن ، اسدؔ خستہ جاں کی ہے۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط7

یہ لاشِ بے کفن ، اسدؔ خستہ جاں کی ہے۔۔۔(سفرِ جوگی)اویس قرنی۔۔۔قسط7

ازمنہِ قدیم سے دور مار بارودی اسلحے کی ایجاد تک ، قلعے اپنی مضبوط اور بھاری بھرکم فصیلوں کے دم سے حکمرانوں اور کسی حد تک عوام کے تحفظ کی ضمانت رہے ہیں۔سلطنتوں کی مضبوطی ان کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قلعوں سے مشروط تھی۔ مؤرخین کااتفاق ہے کہ قلعہ بندی کا تصور اہلِ مشرق کی ایجاد ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ قلعے ایشیا میں پائے گئے ہیں۔ ابتداً قلعے کچی مٹی کے تودوں اور اینٹوں سے بنائے جاتے تھے ، پھر پختہ اینٹوں کا زمانہ آیا تو قلعے بھی پختہ بننے لگے۔

ریاست بہاولپور کی حدود میں چھوٹے بڑے پچاس قلعے تھے۔ جن میں سے بعض اب صفحہ ہستی سے مٹ کر تاریخ کا رزق ہو گئے ہیں۔ جبکہ 34 قلعے ایسے ہیں جن کے آثار اور کھنڈرات موجود ہیں۔ سرزمین روہی کے نقشے پر قدیم قلعوں کی دو دفاعی لائنیں ملتی ہیں۔ ان میں سے اکثریت چھوٹے قلعوں (گڑھی / فورٹریس) کی ہے۔ زیادہ تر قلعے دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ کنارے ملتے ہیں۔ انہی میں سے ایک قلعہ ڈیراور کے دروازے پر ہم موجود تھے۔

اپنی تعمیر کے پہلے دن سے آلِ عباس کے قبضے میں آنے تک ، قلعہ ڈیراور بھی مٹی کے تودوں اور کچی اینٹوں والا قلعہ تھا۔ عباسی حکمرانوں نے اسےمستحکم بنیادوں پر استوار کیا اور کچھ اضافے کر کے اسے پختہ اینٹوں سے تعمیرکروایا۔ اس کی تعمیر کیلئے پختہ اینٹیں اُچ شریف سے ڈیراور تک انسانی ہاتھوں کی ایک طویل زنجیر کے ذریعے لائی گئیں۔ اور ڈیراور 1895 تک باقاعدہ آباد اور ریاست بہاولپور کا دارالخلافہ رہا۔

دفاعی طرزِ تعمیر کے حساب سے یہ قلعہ عجائباتِ عالم میں شمار ہوسکتا ہے۔ چٹیل و ہموار علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی تعمیر میں دفاعی ٹیکنیکس کا ایسا خوبصورت استعمال ہوا ہے کہ تعمیر کرنے والوں کی ذہانت پر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس قلعے کی مضبوط ترین فصیل تیس میٹر اونچی اور چالیس دمدموں پرمشتمل ہے۔ جس نے لگ بھگ بیس میٹر بلندکرسی (فاؤنڈیشن) والے قلعے کو چاروں طرف گھیر رکھا ہے۔ ہرسمت سے فصیل میں موجود دمدموں کی کثرت اور ایک خاص گولائی میں ان کی تعمیر پر غور کرنے سے ہمیں اس کا ناقابلِ تسخیر ہونا سمجھ آگیا۔ اس قلعے کی فصیل میں بہت کم مقامات ایسے ہیں ، جہاں قلعے کی دیوار سیدھی ہے۔ جنگ کی صورت میں حملہ آور فوج کے توپخانے کیلئے مشکل یہ ہے کہ وہ تاک کر فصیل میں موجود سیدھے حصوں پر گولے داغیں ، کیونکہ فرش سے تیس میٹر تک بلند دمدمے ایک خاص تناسب سے گولائی لیے ہوئے ہیں۔ توپ کا گولہ بھی گول ہوتا ہے۔ ذرا چشم تصور سے ایک گول ساخت کا گولہ ایک گول ساخت سے ٹکراتا ہوا دیکھیے۔ تو یہ حیران کن حقیقت واضح ہوگی کہ ایک گھومتا ہوا گول گولہ ایک گول دمدمے سے آکر ٹکرائے تو لامحالہ دمدمے کی گولائی اس کی حرکی تونائی کو ہی استعمال کرکے اسے کوئی نقصان پہنچانے کا موقع دیے بغیر ایک طرف گرنے پہ مجبور کردے گی۔ گولے کے فصیل کو نقصان پہنچانے کیلئے ضروری ہے ، کہ گولے فصیل میں عین اس مقام پر آکر لگیں ، جہاں سے فصیل بالکل سیدھی ہے۔ لیکن اس مقام پر لگنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ گولا بیس میٹر سے زیادہ اونچائی پر ٹکرائے۔ ورنہ چاہے ایک ہزار توپیں بھی عین اسی جگہ نشانہ باندھ کر گولے برسا لیں ، اور فصیل ٹوٹ بھی جائے ، تب بھی داغے گئے گولے بیس میٹر فاؤنڈیشن کی کچی مٹی میں دھنس کر بے اثر ہوتے رہیں گے۔

ایک بوسیدہ دمدمے کو دیکھا ، جس کا پختہ اینٹوں والا کورگر چکا تھا ، لیکن مٹی کا تودہ ابھی تک اپنی اصل حالت باقی رکھے ہوئے تھا۔ ان تودوں میں جھانکتی ہوئی پیلو کے درخت کی موٹی موٹی شاخیں دیکھ کر ہم ایک بار پھر اس قلعے کے معماروں کو داد دینے پر مجبور ہو گئے۔ یہ دراصل اپنے زمانے کا جدید ترین لینٹر تھا۔ جیسے کنکریٹ کے لینٹر میں سیمنٹ اور بجری کے آمیزے میں لوہے کے سریے ، اس سٹرکچر کی مضبوطی بناتے ہیں۔ اسی طرح پیلو کے درخت کی شاخیں اپنی مضبوط بندشوں ، اور دیمک سے محفوظ ہونے کے باعث کچی مٹی کے تودے کو کسی سٹیل فکس میٹریل کی طرح مضبوط اور قائم سٹرکچر بنائے ہوئے تھیں۔ حتیٰ کہ سینکڑوں سال کے عرصے میں جب کہ پکی اینٹیں بھی بوسیدہ ہو کر گر چکیں ، کچی مٹی کا یہ سٹرکچر ابھی تک اپنی اصل حالت میں موجود تھا۔

قلعے کے دروازے کے سامنے فصیل کے مشرقی پانچ دمدمے مرمت شدہ دکھائی دے رہے تھے۔ قلعے کی ڈیوڑھی میں بھی نئی مرمت کے پیوند دکھائی دیے۔ قلعے کا دیوہیکل دروازہ بیرون سے لوہے اور اندرون سے مضبوط موٹی لکڑی سے بنا ہوا پایا۔سینکڑوں میخیں ان دونوں کا اتحاد برقرار رہنے کا سبب تھیں۔ دروازے کے اوپری جانب کئی قطاروں میں لوہے کی نوکدار سلاخیں دروازے کو حملہ آور فوج کے ہاتھیوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کی ضامن تھیں۔ اس دیوہیکل دروازے میں موجود ایک چھوٹی سی کھڑکی میں سے گزر کر ایک اندھیری ڈیوڑھی میں داخل ہوئے۔ یہ نیم بوسیدہ ، اور قوس کی صورت گھومتی ہوئی بتدریج ڈھلوانی راستہ بناتی قلعے کے اندر جا رہی تھی۔ اندر داخلے کا راستہ بھی نئی اینٹوں سے بنا ہوا دیکھ کر کچھ اطمینان ہوا کہ سست ہی سہی ، لیکن بحالی کا کام جاری ہے۔ یہ ڈھلوانی راستہ طے کرکے ہم قلعے کے صحن میں جا پہنچے ۔

صحن کیا تھا ، ٹوٹی ہوئی اینٹوں ، اور بوسیدہ دیواروں کا قبرستان تھا۔ جہاں صرف اداسی ہی نہیں ، بوسیدگی نامی ڈائن بال کھولے سو رہی تھی۔ اتوار کا دن تھا ، اسی لیے ہم جیسے عظمتِ رفتہ کی یادگاروں کے شیدائی خاصی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔ قلعے کے شمال مشرقی کونے میں واقع بلند ترین دمدمے پر نواب محل واقع ہے۔ اس طرف خواتین و حضرات کا رش تھا۔ لہذا ہم نے اپنی قلعہ بینی کا آغاز ادھر سے کرنے کی بجائے، جنوب مشرقی کونے سے کیا۔ ایک بڑی توپ ، اپنے کیریئر پہ نصب شدہ صحن کے ایک طرف کھڑی تھی۔ جہاں کچھ مشٹنڈے فوٹوگرافی کا شوق مٹھا کر رہے تھے۔ انہوں نے جو چار مشٹنڈوں کو توپ کی جانب آتا دیکھا تو اپنا شوق ادھورا چھوڑ کرتتر بتر ہو گئے۔

اس قلعے کی دو بڑی توپیں تھیں۔ جن میں سے ایک کو رنگ روغن کرکے جی پی او چوک بہاولپور پہ کھڑا کردیا گیا ہے۔ جب کہ دوسری توپ قلعے میں آنے والوں کی سواری اور فوٹو گرافی کا نشانہ بننے کو اکیلی رہ گئی ہے۔ ہم بھی جا کر اس پہ سوار ہو گئے۔ تصاویر بنائیں اور پھر قلعے میں موجود چند نامعلوم مرحومین کی قبروں کو نظر انداز کرتے ہوئے قلعے کے جنوب مغربی دمدمے کی طرف بڑھے۔

حق مغفرت کرے ، عجب آزاد مرد تھا

قلعے کی جنوبی فصیل میں ، ایک کچا ڈھلوانی راستہ فصیل پر جا رہا تھا۔ ہم اس کی انگلی پکڑ کر اس کے ساتھ ہو لیے۔ راستے میں کئی جگہ بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے کی وجہ سے بے ہنگم گڑھے ، اور تہہ خانوں کے بیٹھ جانے کی وجہ سے فرش دھنس کر غاروں کی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔ فصیل پر چڑھے تو اسے بھی شکستہ پایا۔ فصیل کے سامنے نگاہ دوڑائی تو ڈیراورشہر کے کھنڈرات کے اس پار مشرقی جانب شاہی قبرستان اورمقبرے دکھائی دیے۔ تاحدِ نگاہ ویرانی اور بیابانی پھیلی ہوئی تھی۔ اونچے نیچے ٹیلے اور خودرو جھاڑیاں تھیں۔ چلتے چلتے ہم فصیل کے جنوب مغربی کونے میں واقع دمدمے کی بلندی پر پہنچے۔ اس طرف بھی منظر ایسا ہی تھا۔ صبح سے انسانوں کی بداعمالیاں دیکھتے دیکھتے سورج مایوس ہو کر سرجھکائے مغرب کی سمت جا رہا تھا۔ اسی سمت میں کچھ دور کچھ مقابر دکھائی دیے ، جن کے بارے میں مقامی روایات مُصر ہیں کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آخری آرام گاہ ہیں۔ وہ عرب سے یہاں آئے تھے ، یہاں کا راجہ ان کی راہ میں مزاحم ہوا اور انہیں شہید کرا دیا۔

دمدمے کی بلندی سے قلعے کے اندرنظر ڈالی تو زوال ہی زوال نظر آیا۔ جن اینٹوں کو اُچ سے یہاں تک ایک طویل فاصلہ طے کروانے کیلئے ہزاروں لوگ ایک قطار کی صورت کھڑے ہوکر مشقت کرتے رہے ، آج وہ یوں بے محابا شکستگی ، اور ناقدری سہتے سہتے ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ ہمیں یوں دمدمے پہ دندناتا دیکھ کر سیرکو آئی خواتین کی اکثریت نے شاید یہ سمجھا کہ وہاں چونسے بٹ رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے بھی یہاں ہلہ بول دیا۔ ہم نے مزید وہاں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا ، اور دمدمے سے اتر کر مغربی فصیل پر وحشت خرامی کرنے لگے ، کچھ فاصلہ طے کرنے پر فصیل کا ایک شکستہ تر حصہ مانعِ وحشت خرامی ہوا ، یہاں اندر اور باہر سے فصیل گر چکی تھی ، بس مٹی کا ایک پگڈنڈی نما تودہ باقی تھا۔ ہم نے ہیرو بننے کی کوشش نہ کی ، اور اس تودے کو پھلانگ کر آگے جانے کی بجائے ، شرافت سے واپس مڑ آئے۔

ہمراہیوں کو فوٹوگرافی میں مشغول چھوڑ کر ہم فصیل سے اترے اور قلعے میں موجود شکستہ حرم سرا ، دیوان خانہ ، توشہ خانہ ، اسلحہ خانہ اورفوجیوں کی بیرکیں دیکھنے ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔ یہاں بھی شکستہ حالی اور وحشت کے سوا کچھ نہ تھا۔ طویل عرصے سے خالی اور ویران پڑے رہنے سے کمروں میں سیلن اور بدبو نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ ہم ٹوٹے برآمدوں اور اندھیری گیلریوں میں کسی بے چین آتما کی طرح گھومتے پھرے ، چشمِ تصور سے یہاں رونق و چہل پہل کا زمانہ دیکھنے کی بجائے ، ہم نے اس وحشت اور شکست و ریخت کو محسوس کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ بیرکوں سے ہوتے ہوئے ہم حرم سرا میں داخل ہوئے۔ قلعے کا یہ حصہ بلند دیواروں اور ایک مرکزی دروازے کی مدد سے باقی قلعے سے الگ تھلگ لگتا ہے۔ یہاں کے کھنڈر دیکھ کرسمجھنا مشکل نہ تھا کہ یہ عمارتیں اپنے وقت میں نہایت خوبصورت اورعظیم تھیں۔ دیواروں پر وسیب کے رنگ (نیلے) میں گلکاریاں اور پچی کاری کے شاندار نمونے دیکھ کر معماروں کی فنکاری اور رہنے والوں کے ذوق کو رشک آمیز داد دی۔ حرم سرا کی چھتوں کو رنگین ٹائلز اور منقش شہتیروں ، کڑیوں سے سجایا گیا تھا۔ اس شکستہ انٹیریئر میں انتہا کی سادگی اور بلا کی پُرکاری دیکھ کر خاصی دیر ہم ان میں کھوئے رہے۔ حرم کے ایک کمرے میں نیچے جاتی سرنگ دیکھی۔ اس سرنگ میں سیڑھیوں کے ساتھ قائمہ زاویے والی دو آہنی پٹڑیاں بھی نیچے جا رہی تھیں۔ یہ سرنگ ، قلعے کے فاؤنڈیشن کے نیچے بنے محل کی طرف جاتی ہے۔ جہاں بہاولپور کے نواب موسمِ گرما گزارتے تھے۔ اس زیرِ زمین محل میں ہوا کے گزر کیلئے قلعے کے تین مقامات پہ راستے بنے ہوئے دیکھے۔ ان کی تعمیر میں بھی قدیم زمانوں کے معماروں کی ذہانت کار فرما پائی۔ گرم ہوا ہمیشہ اوپر کو اٹھتی ہے۔ لہذا جب زیرزمین محل میں ہوا گرم ہو کر اوپر کو اٹھتی تھی ، تو تین اطراف سے بنے راستوں سے ٹھنڈی ہوا یہ خلا پُر کرنے کو تیزی سے اندر داخل ہوتی تھی۔ یوں تیزی سے اندر داخل ہوتے ہوئے ہوا کے یہ جھونکے نہ صرف زیرِ زمین محل کا درجہ حرارت کم کرتے تھے ، بلکہ وہاں تازگی بھی برقرار رکھتے تھے۔ اور اس طرح صحرا کے بیچوں بیچ موسمِ گرما کی تپتی دوپہریں بھی بے اثر رہتیں۔ ایک کمرے میں سرنگ کی پٹڑی پر دوڑنے والا ٹھیلہ بھی گرد سے اٹا ہوا ، افسردہ کھڑا اپنے وقتِ فنا کا منتظر تھا۔ ہم اسے غالب کا شعر سنا کر آگے بڑھ گئے۔

اس اثنا میں ،ہمارے ہمراہی ہمیں تلاش کرتے کرتے اس طرف آ نکلے۔ وہاں فوٹوگرافی کا شوق مٹھا کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کی گئی۔ وہاں سے نکلے تو اس احاطے کے کونے میں ایک چھوٹی سی مسجد کو ویران و شکستہ پایا۔ جس کا حال ہم سے دیکھا نہ گیا۔ ہم دانت بھینچے احاطے کی ڈیوڑھی سے نکل کر قلعے کے فوجی علاقے میں داخل ہوئے۔ یہاں توشہ خانے اور کچھ بیرکیں واقع تھیں۔ ان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے آگے بڑھے ، ناگاہ ایک بلند قامت عمارت نظر آئی۔ یہ کسی زمانے میں پھانسی گھاٹ تھا۔ جو دوسروں کو فنا کے گھاٹ اتارتے اتارتے اب خود مکافاتِ عمل کا نشانہ ہے۔ پھانسی گھاٹ کی دیوار میں لکڑی کا وہ چوکھٹا ثابت و سالم کھڑا تھا ، جس پر معتوب کو کھڑا کرکے نیچے سے پھٹہ کھینچ لیا جاتا تھا۔ اس گھاٹ کی چھت کا اکثر حصہ زمین بوس ہو چکا تھا۔ اندر ٹوٹی ہوئی ٹائلز اور ایک مضبوط شہتیر پڑا تھا۔ ہم کچھ دیر یہاں کھڑے ، اس مقام کی کیفیات کو جذب کرتے رہے ، اور ہمارے ہمراہی باہر سے ہی اس کی تصاویر بنا کر آگے بڑھ گئے۔

مغرب کا وقت ہو چلا تھا ، اور شب کی جادوگرنی منتر پڑھ پڑھ کر قلعے کی شکستگیوں اور ویرانیوں پر اندھیرا پھونک رہی تھی۔ ہم یہاں سے آگے بڑھ کر فصیل کے شمال مشرقی کونے میں واقع لکھوہا مینار کی طرف آئے۔ یہ اس قلعے کا سب سے بلند ترین مقام ہے۔ اس دمدمے کا نام اس کے معمار کی نسبت سے لکھوہا پڑ گیا تھا۔ اس دمدمے پر نواب محل واقع ہے۔ اس نام نہاد محل کی ڈیوڑھی میں سے دروازہ غائب تھا ، اور ایک بتدریج ڈھلوان کی صورت میں راستہ اوپر محل کی طرف جا رہا تھا۔ محل تو بس نوابوں کے خوشامدیوں نے مشہور کردیا ، ورنہ محض دو تین مرلے کا ایک گھر ہے ، جس میں دو کمرے ، ایک برآمدہ اور چھوٹا سا صحن ہے۔کبھی یہاں نواب رہتے تھے ، اب یہاں ویرانی رہتی ہے۔ یہاں سے قلعے کے مشرق میں واقع ڈیراور کی شاہی جامع مسجد ، نوابوں کا گیسٹ ہاؤس ، اور ڈیراور کا خشک ٹوبہ دکھائی دے رہا تھا۔ ہم نےفصیل سے نیچے جھانکا ، تو سرخ سیمنٹ کی کچھ بوریاں ، پختہ ٹائلز کا ڈھیر اور ایک سیڑھی پڑے نظر آئے۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ حکومت نے حاتم طائی کی قبر کو لات مار کر نو کروڑ روپے کا جو بحالی فنڈ جاری کیا ہے ، اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ اس طرف سے فصیل میں ٹوبے کے سامنے ایک لوہے کا دروازہ رکھا گیا تھا۔ تاکہ حملہ آور اگر قلعے کا محاصرہ کریں ، تو ایک مکینزم کے ذریعے یہ دروازہ کھول دیا جائے ، یوں باہر موجود ٹوبے کا سارا پانی ، قلعے کی تہہ میں واقع ایک پختہ تالاب میں منتقل ہو جاتا ، اور حملہ آور پانی کی نایابی اور پیاس کی شدت سے تنگ آکر خود ہی محاصرہ چھوڑ کر بھاگ جاتے۔

شب کی جادوگرنی کے منتر رنگ لانے لگے تھے ، اور قلعے کے اندر اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا جارہا تھا۔ ہم قلعے کی ویرانی پر ایک الوداعی نگاہ ڈال کر باہر نکل آئے۔

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا

قلعے سے نکلتے وقت ، نگران نے ہمیں شاہی مہمان خانہ دکھانے کی نوید سنائی۔ یہ خصوصی پیکج صرف ہمارے لیے تھا۔ ہمیں قدیم شہر کے دروازے سے نکل کر مسجد کی محراب کے پاس انتظار کرنے کو کہا گیا۔ لیکن ہم نے خالی خولی انتظار کھینچنے سے ، اس کے آنے تک مسجد دیکھ لینا زیادہ مناسب سمجھا۔

دہلی کی بادشاہی مسجد کی طرز پرتعمیر شدہ ، ڈیراور شہر کی یہ قدیم جامع مسجد 1865 عیسوی میں نواب بہاول خان عباسی (سوم) نے تعمیر کروائی تھی۔ اس عظیم الشان جامع مسجد کی تعمیر سے پہلے ایک چھوٹی سی مسجد ہوتی تھی۔ حسبِ روایت اس مسجد کی تعمیر میں بھی سرائیکیت جھلکتی ہے۔ اس سادگی و پُرکاری کے شاہکار میں اعلیٰ معیار کا سفید سنگ ِ مرمر ، اور فرش پر سرخ پتھر استعمال ہوئے ہیں۔ ہم نے اس مسجد میں سنگِ بنیاد جیسی کوئی لوح تلاش کی کہ شاید اس پر اس کی تعمیر سے متعلق مزید کچھ معلومات حاصل ہوں ، لیکن ایسا کوئی سنگ میسر نہ آسکا۔ اور تاریخ بھی اس بارے میں خاموش ہے کہ اس صحرا میں ایسا اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر کہاں سے لایا گیا تھا۔

اس مسجد کے دو بغلی دروازے اور ایک بڑی ڈیوڑھی ہے جو مشرقی جانب واقع ہے۔ ہم جنوبی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے ، تو مسجد کی سادگی سے جھلکتے جلال نے ہمیں اپنے سحرمیں جکڑ لیا۔ دو میناروں اور تین گنبد والی اس مسجد کا صحن بہت وسیع ہے۔ جس میں ہشت کونہ ٹائلز اور بڑے بڑے سرخ پتھر جڑے اس کی سادگی کو رنگین بنا رہے ہیں۔ صحن کے درمیان میں سنگِ مرمر سے بنا ایک وزنی دورا (کونڈا) رکھا ہوا ہے۔ صحن کو پار کر کے ہم مسجد کے ہال میں داخل ہوئے۔ جو سادگی باہر سے تھی اندر سے بھی وہی سادگی تھی ، یا پھر سستا چونا پھیر کر پُرکاری چھپا دی گئی تھی۔ محراب کے پاس سنگِ مرمر کا خوبصورت ترین منبر پڑا تھا۔ (یاد رہے! ہمارے کاغذات میں سادگی بھی خوبصورتی کا جزو ہے) محراب کے اندر سامنے کی طرف ایک دریچہ تھا۔ یہ دریچہ سنگِ مرمر سے بنے ایک خوبصورت جھروکے میں کھلتا ہے۔ اور اس جھروکے سے قدیم شہر کا دروازہ اور سامنے قلعہ ڈیراور دیکھا جا سکتا ہے۔ افسوس اس جھروکے کی ایک گرل کو ٹوٹا ہوا پایا۔

اس اثناء میں شاہی مہمان خانے کے نگران کی طرف سے بلاوا آگیا۔ ابھی کچھ دیر پہلے تک یہاں نواب صلاح الدین عباسی اپنے کچھ مہمانوں کے ساتھ موجود تھے۔ اب ان کے جاتے ہی ہمارے لیے یہ مہمان خانہ اندر سے دیکھنے کی سبیل کھل گئی۔ ہم مسجد سے نکل کر اس کی شمالی سمت واقع ایک بند گیٹ پر پہنچے ، جہاں نگران ہمارا منتظر تھا۔ تالا کھلا اور ہم اندر داخل ہو گئے۔یہ مسجد اور مہمان خانے کے درمیان میں ایک آرئشی گھاس اور پھولوں سے سجا لان تھا۔ علامہ اقبال جس سکوت کو ترستے تھے کہ “سکوت ایسا جس پہ تقریربھی فدا ہو” وہ سکوت یہاں اس قدر وافر تھا کہ ہمیں اپنے آپ پہ رشک آگیا۔ ایسا گہرا سکوت کہ خیال کی لہریں بھی واضح ہلچل کے ساتھ نظرآنے لگیں۔ یہ گویا سکوت کا ایک جھیل تھی جس میں ہم آہستگی سے جذب ہو گئے ، ہمیں اپنے اندر جذب کر کے یہ جھیل ہمارے اندر جذب ہو گئی۔ اور ہم اس جھیل کا ایک حصہ ہوگئے۔ مغرب کے پھیلتے دھندلکے میں دورکہیں سے آتی پرندوں کی آوازیں گویا اس جھیل کی سطح پر پھینکے جانے والے کنکر تھے۔ جن میں سے ہرکنکر سے الگ الگ طول موج کی دائروی لہریں اٹھ اٹھ کر ہم میں سے گزر رہی تھیں۔ یہ سکوت اس قدر لذت انگیز تھا کہ ہمارا نہ ہونا بھی رشک کے مارے ہمارے ہونے سے آن ملا ، وہ اکیلا نہ آیا تھا ، روحِ غالب بھی ہمراہ تھی۔ انہیں اپنے قریب محسوس کرکے ہماری لذت دوچند ، سہ چند ، چار چند ہوتے ہوتے الف چند ہو گئی۔


ہم نے کہا :۔ استاد جی کوئی منتر پڑھیے ، اس سلگتے مچ پہ اپنا عودِ ہندی ڈالیے
استاد جی مسکرائے اور فرمایا :۔
میں چمن میں کیا گیا ، گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزلخواں ہوگئیں
اس خوابناک ماحول میں نیم خوابی کے عالم میں چلتے ہوئے اچانک ہمیں خالد نجیب کی آواز نے جھنجھوڑ دیا۔ وہ مجھے پرندوں کی آوازوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتے تھے ، جن کی موسیقیت پہلے ہی ہمارے روحانی ارتعاش (فریکوئنسی) سے ہم آہنگ و یکجان ہو چکی تھی۔ افسوس کہ ان کی مداخلت نے یہ کنکشن توڑ دیا ، اسے پھر جوڑنے کی کوشش کرتے کرتے ہم مہمان خانے تک پہنچ گئے۔

مہمان خانہ کیا تھا ، ایک اور اجڑا دیار تھا۔ چوبی ستونوں اور لکڑی ہی کے خوبصورت مگر بوسیدہ تر چھجوں (شیڈز) کے چوسمتی برآمدے میں گھری یہ بارہ دری نما عمارت کسی زمانے میں شاندار ترین ہوگی۔ وقت کی مار سہتے سہتے ان ستونوں پر سیاہی مائل نیل پڑ چکے ہیں۔ ہوادار دالان میں بید کے آرام دہ صوفے دھرے تھے۔ ان پہ طائرانہ نگاہ ڈالتے ، ہم عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ یہ مہمان خانے کا کمرہ نہ تھا ، طلسم ہوشربا کا کوئی طلسم تھا۔ اندر حیرانی ہماری گھات میں تھی ، قدم رکھتے ہی ہمیں سالم نگل گئی۔ کوئی خوبصورتی سی خوبصورتی تھی۔ اور ہم جو اپنی غالبانہ نسبت سے حسن پسند ہیں ، اس حسنِ بلاخیز کی تیزابیت میں تحلیل ہوگئے۔ اس خوبصورتی کے رنگوں کا ایک حصہ بن گئے ، تو اس حسن نے ہم پہ اپنا آپ کھول دیا۔ اس بے خودی کے عالم میں ربط پھر جڑ گیا ، عرض کی :۔ اے جادوگروں کے جادوگر! ساقی گری فرمائیے
ساقی نے ہماری سماعت کی اوک میں صراحی لنڈھا دی:۔
جلوہ از بس کہ تقاضائے نگاہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی ، چاہے ہے مژگاں ہونا

ابھی ہم ھل من مزید کا نعرہ لگانے ہی والے تھے ، کہ نگران کی آواز نے مداخلت کی اور کنکشن پھر ٹوٹ گیا۔ وہ ہمیں ان معلومات سے مستفید کرنے میں لگا ہوا تھا جو ہمیں پہلے ہی معلوم تھیں۔ ناگواری سے اس کی طوطا مینا کو نظر انداز کرتے ہوئے ، ہم ایک اندرونی کمرے میں داخل ہو گئے۔ شب کے اندھیرے میں زیادہ تو کچھ دکھائی نہ دیا ، لیکن حسن کی تابناکیوں کو اندھیرا کہاں چھپا سکتا ہے۔

پختہ اینٹوں پہ سیمنٹ تھپی اور کنکریٹ سے بنی دیواروں پر بھی کم ہی ایسا شاہکار بنائے جاتے ہیں ، کجا کہ ان کچی مٹی کی اینٹوں سے بنی دیواروں پر فنکاروں نے یہ الف لیلیٰ رقم کردی ہے۔ نگران نے تہہ خانے کا ذکر کیا تو ہماری متجسس رگ پھڑکی ، اس نے جان چھڑانی چاہی کہ اب تو مغرب ڈھل چکی ہے ، نیچے بہت اندھیرا ہوگا۔ ہم نے موبائل ٹارچ روشن کر کے کہا چل بھئی ہن اگوں لگ۔ ناچار وہ ہمیں تہہ خانہ دکھانے لے گیا۔ گرد سے اٹی ہوئی کچی مٹی اور لکڑی کی ٹیک سے بنی سیڑھیاں خستہ تھیں۔ اندھیرے میں ٹٹولتے ٹٹولتے نیچے اتر گئے۔ اندر موت جیسی ٹھنڈک کا راج تھا۔ اس نے جو اپنے راجواڑے میں کچھ گھس بیٹھیوں کو دیکھا تو ناراضی کے اظہار کیلئے ہم پر بُو کی گولیاں برسائیں ، لیکن ہم نے اس کا خاطرخواہ نوٹس نہ لیا۔ ناک کی بجائے منہ سے سانس لیتے رہے ، لیکن تب تک باہر نہ آئے جب تک سارا تہہ خانہ نہ دیکھ لیا۔ اس تہہ خانے میں تازہ ہوا کی آمد کیلئے کئی ڈھلوانی روشندان سطح زمین یہاں تک بنائے گئے تھے۔ لیکن ان روشندانوں کی جالیوں میں مٹی نے ڈیرے ڈال کر ہوا گزرنے کے راستے بند کررکھے ہیں۔ نگران نے اس کی بحالی کا ٹینڈر جاری ہونے کی خبر سنا کر ہماری ناگواری خاصی کم کردی۔ ہم ایک بار پھر اندھیرے میں اندھے کی طرح ٹٹولتے ہوئے باہر آئے ، اور لمبے لمبے سانس لے کر پھیپھڑوں پہ آیا دباؤ کم کرنے کی کوشش کی۔

نگران کی ادائیں بتا رہی تھیں کہ اب وہ ہمیں یہاں سے گو وینٹ گون ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ ہم نے اس سے اگلی بار شاہی قبرستان دکھانے وعدہ لے کر ہی اس کی جان چھوڑی۔ اور گاڑی میں بیٹھ کر چنن پیر جانے والے رستے کے ساتھ ہو لیے۔

قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہمسفر غالب

ڈیراور سے نکل کر سوئے چنن پیر روانہ ہوئے۔ راستے میں گفتگوئی توپوں کے منہ ایک بار پھر کھل گئے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جب ہم بولتے ہیں تو سننے والوں پر سحر طاری ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس بار جوگی کی مُرلی اپنا جادو نہ جگا سکی۔ ایسا بھی نہیں کہ سامعین بہرے تھے۔ اس کے باوجود ہمارا جادو نہ چل سکا۔ ہمارے منتر ماٹھے نہ تھے ، اس بار ہمارا بے قدری سے واہ پئے گیا تھا۔

پہلی بار ہم داستاں سرائے میں منعقدہ ایک نشست میں شریک ہوئے تو وہاں ایک صاحب کو دیکھا۔ دورانِ محفل انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرکے بانو آپا سے سوال پوچھا :۔ “آپا جی ! آپ کے خیال میں صبر کیا ہے؟” آپا جی ایک شفیق ماں کی طرح حاضرین میں موجود تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل کو بھی اظہارِ خیال کا موقع دیتی تھیں۔ سو حسبِ عادت انہوں نے حاضرین سے اظہارِ خیال کرنے کو کہا۔ سب نے بساط بھر صبر اور اس کے متعلقات کی وضاحت کی۔ بانو آپا سب کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ لیکن جن صاحب نے یہ سوال پوچھا تھا ، ان کے چہرے اور باڈی لینگوئج سے عجیب سے لاتعلقانہ اور بھنچے بھنچے تاثرات عیاں تھے۔ صاف محسوس ہو رہا تھا ، وہ صاحب کچھ سننا ہی نہیں چاہتے ، وہ کچھ کہنے کی جلدی میں ہیں۔ سب اظہارِ خیال کرچکے تو پھر آپا جی نے جامع اور مختصر جملوں میں صبر کی وضاحت کردی ، گویا سمندر کو کوزے میں بند کردیا۔ لیکن ان صاحب کے بشرے سے اب بھی وہی لاتعلقی ٹپکتی رہی ، جیسے یہ سوال کسی اور نے کیا تھا۔ جب یہ سب ہو چکا تو وہ صاحب نہایت فلسفیانہ انداز میں گویا ہوئے :۔ “آپا جی چلیں یہ سب تو ٹھیک ہے ، لیکن جہاں تک میں نے غور فکر کیا ہے ، اس کے مطابق صبر یہ ہے۔” اس کے بعد آنجناب نے صبر کے متعلق سستی جذباتیت اور کچھ دورازکار کتابی باتوں کا تڑکا لگا ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد جب بھی داستاں سرائے کی ادبی نشست میں شرکت کا موقع ملا ، وہ صاحب ہمیشہ انہی تاثرات کے ساتھ اور وہی کسی کی نہ سننے اور اپنی مدھانی مارنے کی عادت سمیت موجود پائے۔

اس بار بھی ہمارا ایک ایسے سامع سے پالا پڑا ، جو سوال ہی اس لیے پوچھتے تاکہ انہیں اپنے جواب کےنکاس کیلئے جواز میسر آسکے۔ ہمیں موسیٰ علیہ السلام کا درد سمجھ آگیا اور ان کا کلیمی کا حقدار ہونا بھی خوب واضح ہوگیا۔ انہیں ایک ایسے ریوڑ کی گلہ بانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جس نے پانی کیلئے 12 چشمے مانگے تو ملے ، جس پر صحرا میں دوران سفر بادل سایہ کرتے ، جنہیں جنت سے من و سلویٰ لا کر دیا گیا ، تو انہیں مصر میں کھائے جانے والے ساگ ، لہسن اور پیاز کی یاد ستانے لگی۔ جنہیں ان دیکھے خدا کی بجائے سونے سے بنا ہوا بچھڑا زیادہ پسند آیا ، کیونکہ اصلی خدا نظر نہیں آتا تھا ، اور کلام بھی کرتا تھا تو بس عمران کے بیٹے سے کرتا تھا ، جبکہ یہ والا بچھڑے کی شکل ہی سہی ، نظر تو آتا تھا ، کلام تو کرتا تھا۔

ہمیں غالب کا درد بھی سمجھ آگیا جنہوں نے مدعی کا ہمسفر ہونے کو قیامت کہا تھا۔ ہمیں بھی ایک ایسے مدعی کے ساتھ سفرکرنا پڑا۔ کہ ایک بار کسی نے مجھ سے یدِ بیضا کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا تو ہم نے بساط بھر جواب دینے کی کوشش کی۔ مدعی صاحب نے فرمائش کی کہ یدِ بیضا کی کہانی بھی لکھیں۔ ہم سے غلطی ہوئی کہ وہ کہانی عام سمجھ کر نہیں لکھی کہ بندے بندے کو وہ کہانی معلوم ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک ماسٹر لیول کا بندہ یدِ بیضا کی حکمتوں کو سمجھنے اور ان پر غور کرنے کی بجائے صرف اسی ” ہاتھ بغل میں ڈال کر چمکتا ہوا باہر نکالنے والی” کہانی میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اور ہماری اسی ناسمجھی پر ہمیں بتایا گیا کہ میں بات کرتے کرتے کہیں سے کہیں نکل جاتا ہوں۔

شیخ سعدی نے فرمایا تھا :۔ برخوردار اگرچہ تمہاری بات سچے موتیوں سے زیادہ قیمتی ہی کیوں نہ ہو۔ مجمع میں کسی کو قدردان نہ پاؤ تو تمہارے لیے خاموشی بہتر ہے۔ جن مشاہدات کیلئے ہم نے دہائیاں بھر اپنی نیندیں حرام کیں ، اپنا خون ساڑ ساڑکرجگر ناکارہ کرلیا ، ان کی یوں بے قدری ہوتے دیکھ کر شیخ سعدی کی نصیحت مان لی۔ اور چنن پیر پہنچنے تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔

جب ہم چنن پیر پہنچے ، رات گہری ہو چکی تھی۔ دن بھر کی بھاگا دوڑی میں سب کھایا پیا خرچ ہو چکا تھا۔ اور بھوک بھی اپنا گرز اٹھائے ، میدانِ معدہ میں دندنا رہی تھی۔ یہاں ہماری شب بسری کا انتظام کامران اسلم کے ماموں کے ہاں تھا۔ وہاں پہنچے اور میزبانوں سے ملے تو ہمیں بے اختیار اشفاق احمد صاحب کا زاویہ یاد آگیا۔ جس میں انہوں نے پوٹھوہار کے ایک گاؤں کی طرف سفر کا واقعہ سنایا تھا۔ کہ اس گاؤں کا ہر باشندہ “بابا” دیکھا۔ آج قسمت ہمیں بھی ایک ایسے گاؤں میں لائی تھی ، جس کے تمام باشندوں کا تو اللہ جانے ، لیکن اس گھر کے ہر بندے کو ہم نے “بابا” پایا۔ شائستگی ، حسنِ اخلاق اور مہمان نوازی جیسی خوبیاں سرائیکی وسیب کا طرہِ امتیاز ہیں۔ لیکن اس گھر کے مکین اس معاملے میں سارے وسیب میں سب سے زیادہ بااخلاق ، سب سے زیادہ مہمان نواز ، نہایت ہی شائستہ مزاج اور وسعتِ قلبی میں روہی کے ہم پلہ پائے۔ چاہے وہ ملک رفیق صاحب ہوں ، یا برادرِ نستعلیق تجمل رفیق ہوں ، ماما اللہ ڈتہ ہوں۔ سب کے حسنِ اخلاق نے ہمیں متاثر کیا۔ جو کج فہم اسے” ٹُکر حلال کرنا” سمجھ رہے ہیں۔ انہیں ایک حدیث شریف سنانی ہے ، جس کا مفہوم ہے :۔ “تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔

کھانا آیا تو معلوم ہوا کہ ان کا صرف اخلاق ہی اچھا نہیں ہے ، کھانے کا ذائقہ بھی بہت اچھا ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں لگا لیں کہ ہم جو چاولوں کے معاملے میں سختی سے پرہیز گار ہیں۔ سامنے پڑا مٹر پلاؤ دیکھ کر بس ایک چمچ چکھا تو پھر اپنی پرہیزگاری بھول بھال گئے۔

کھانے کے بعد جب حواس ٹھکانے آچکے تو ، ہم چنن پیر دربار پہ فاتحہ خوانی کیلئے روانہ ہو گئے۔

جاری ہے

Avatar
جوگی
اسد ہم وہ جنوں جولاں ، گدائے بے سروپا ہیں .....کہ ہے سر پنجہ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *