مست قلندر مست/قیامت ہے(2)۔۔اویس قرنی جوگی

قسط اوّل  :حیرت(1)۔۔اویس قرنی جوگی

اللہ جانے یہ بے خودی کتنی دیر جاری رہی۔ اس دوران جو رہی سو بے خبری رہی۔ حواس بحال ہونے پہ جو پہلا احساس ہوا وہ سست روی کا ہوا۔ فرشتے اپنے کاغذات میں بھلے ہی براق رفتاری سے چل رہے ہوں۔ ہمیں وہ رفتار کسی کبڑی بڑھیا کی سست خرامی سے مشابہ محسوس ہوئی۔زور لگا کر ہم نے پنڈلیاں اور بازو چھڑائے اور چاہا کہ سر کے بل ہی استاد جی کے قدمین میں جا پہنچیں۔ لیکن یاد آیا زندگی بھر جتنی بھی رنگ بازیاں کی ہوں ، یہ بازیگری اور جمناسٹک اپنے بس میں نہ تھی۔ پس دوسرا لمحہ ضائع کیے بغیر قدمین کا ترلہ لیا اور انہوں نے ترلے کا حق ایسا ادا کیا کہ چاروں فرشتے نجانے کتنا پیچھے رہ گئے۔
راستہ کوئی کیا بتاتا ، ہمارا عشقِ غالب ہی ہمارا رہبر ہوگیا۔ مصر سے یوسف علیہ السلام کی خوشبو جس اللہ کے حکم سے کنعان پہنچ گئی تھی۔ ہم نے بھی لمحہ اول سے اب تک صرف اسی کو الہٰ مانا تھا۔ پس کسی کو شک نہ ہونا چاہیے کہ ہم تک خوشبوئے غالب کس میڈیم سے پہنچی ہوگی۔
دوڑتے دوڑتے ہم جہنم کے قریب پہنچ گئے۔ یہ تپش ہری پور والوں کیلئے سوزندہ ہو تو ہو ، ہماری عمر ملتان کے مضافات میں گزری تھی۔ ہمارے لیے چنداں پریشان ایبل نہ تھی۔ البتہ رفتار میں فرق تب آیا ، جب ہم نے سائن بورڈ دیکھا جس پہ لکھا تھا :- “احتیاط کیجیے۔ آگے پل صراط ہے۔” پل کے بارے میں درج باقی تفصیلات بھی تقریباً وہی تھیں جو ہم نے ہر مسلک کے حقیقی علمائے کرام کی تحاریر و تقاریر میں سنی اور پڑھی تھیں۔
رفتار میں آنے والا یہ تغیر لمحاتی تھا۔ کیونکہ فوراً ہی ہمیں جانِ جاناں کا کلام یاد آگیا۔
اس کی امت میں ہوں میں ، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب! گنبدِ بے در کھلا
اس شعر کا ورد کرنا ہمارے لیے اسمِ اعظم کی سی تاثیر لایا۔ بہت سے بزعمِ خود اہلِ علم غالب کی کرامات ، ان کی داڑھی کا ناپ اور ان کا شیعہ یا سنی ہونا دیکھتے رہ گئے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں “یومنون بالغیب” والوں میں شامل کرنا پسند فرمایا۔ ورنہ ہم کیا اور ہماری غالب پسندی کیا۔ واللہ ہم تو یہ چاہ بھی نہ سکتے اگر اللہ نے ایسا نہ چاہا ہوتا۔ ہم بھی چشم زدن میں پل صراط پار کرنے کی بجائے وہی کتابی باتیں کر رہے ہوتے کہ غالب کا کلام اسمِ اعظم کیونکر ہوسکتا ہے۔
قصہ مختصر، پل صراط پار بھی کرلی اور پتا ہی نہ چلا۔ ہم کسی سیاحتی سفر پہ نکلے ہوتے تو ہر مقام کی ایچی بیچی بغور دیکھتے۔ پل سے نیچے جھانک کر طبقاتِ جہنم کا نظارہ کرتے ، لیکن نہ سفر سیاحتی تھا ، نہ ہی ہمیں جہنم میں سری دیوی کے درشن کرنے کا ہوش تھا
لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالب
جادہِ راہ کششِ کاف کرم ہے ہم کو
پل پار ہوا تو اعراف شروع ہوگیا۔ یہ جنت اور جہنم کے درمیان بفرزون ہے۔ہم نے زندگی میں پہلی بار اعراف کا ذکر شیخ سعدی کے ایک شعر میں پڑھا تھا ، جس کا مفہوم آج بھی پہلی محبت کی پہلی انگڑائی کی طرح لوحِ دماغ پہ نقش ہے۔ جہاں باقی سفر گزرتے دیر نہ لگی تھی۔ ہمارے عشق نے اعراف کی بیکرانی کو ایک جست میں پار کرلیا۔ پہلے جنت کی بلند و بالا فصیلیں نظر آئیں۔ پھر دروازہ بھی دکھائی دیا۔ دروازہ دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ سورۃ الرحمٰن اور سیدی غالب کے ایک شعر کی رو سے تو انہیں دو جنتیں عطا ہوئی ہیں۔ جنت تک تو پہنچ آئے ہیں اب یہ کس سے پوچھیں کہ اس وقت سیدی کونسی جنت کی رونق بڑھا رہے ہیں
نیز ان کی چلبلی طبع اور شعر کے پردے میں پنہاں ارادے پہ نظر ہو تو کچھ بعید نہیں انہوں نے فرمائش کرکے جنت و دوزخ کو مدغم کروا کے سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور ایجاد کروا لی ہو
سوچا دروازے پہ کوئی انکوائری کاؤنٹر نہ سہی نیم پلیٹ تو مل ہی جائے گی۔ اس سے آگے کی پھر دیکھی جائے گی۔ نیم پلیٹ تاڑنے کو بغور دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے جگہ جگہ خوشہ ہاے انگور کو دیوارِ جنت سے باہر کی جانب لٹکتا پایا۔ اپنی منہ پھٹ طبع سے مجبور ہم سے رہا نہ گیا۔ ہم نے طنزاً کہا: تم سب کو جنت کے اندر چین نہیں جو یوں باہر کی جانب منہ لٹکائے کھڑے ہو؟ اللہ کی قدرت سے کیا بعید ، وہ سب خوشے بیک زباں بولے: اے بندہِ ناداں تو کیا جانے رشک کیا ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ہمارا ایک ہم جنس خوشہ کسی سبب دیوار سے لٹکا تھا تو رحمت للعالمین نے اپنے دستِ شفقت سے اسے دیوار سے اندر کردیا تھا۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہم سب رشک کے مارے جان بوجھ کر باہر کی طرف لٹکے ہوئے ہیں کہ اسی بہانے جانِ کائنات و شانِ کائنات کا لمس مبارک ہی نصیب ہوجائے۔ لیکن تم تو ابنِ آدم ہو۔ تم کیا سمجھو گے کہ رشک کیا ہے اور محبت میں ڈوبے انتظار کی کیا لذتیں ہیں۔
ہم جو دنیا میں خود کو حاضر جواب سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا تھے۔ انگور کے خوشوں کے اس مسکت جواب سے ہم پہ سکتہ طاری ہوگیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

جوگی
اسد ہم وہ جنوں جولاں ، گدائے بے سروپا ہیں .....کہ ہے سر پنجہ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply