آج کل ملک کے دگردوں حالات دیکھ کر سوشل میڈیا پر حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک جملہ بہت جگہ زیرِ بحث ہے: پاکستان نور ہے ، نور کو زوال نہیں” جملے پر بحث، تبصرہ یا تنقید کرنے سے پہلے← مزید پڑھیے
غالب علیہ الرحمۃ کہتے ہیں، ہر قطرے کے دل میں اناالبحر کا ساز مائل بہ ترنگ ہے۔ ہمیں یقین ہے۔ غالبؔ کو اک گونہ مشاہدہِ وجود الوجود میسر ہو گا۔ یہ ساز ”جس تن لاگے سو تن جانے“ کے مصداق← مزید پڑھیے
یا اللہ!…… یا رب العالمین!…… یا رب الارباب!…… یا مالک المک!…… یا قادر و قیوم!…… یا حیّ لایموت!! تُو نے اپنے قرآن میں کہا…… اور سچ کہا، تُو سچ ہی کہتا ہے…… یقیناً تیری اس بات کے مخاطب ہم ہی← مزید پڑھیے
عجب بات ہے، انسان زمین اور آسمان کے حصار توڑ کر نکلتا چاہتا ہے لیکن کسی سلطان کی ہمراہی قبول کرنا پسند نہیں کرتا۔ در آن حالے کہ سلطان ہی کے پاس وہ قوت ہے جو اقطار ااسماوات والارض سے← مزید پڑھیے
دنیا ظاہر ہے، دین باطن ! ظاہر کبھی طاہر نہیں ہوتا۔ ظاہر پرست خواہ دین کے نعرے میں پناہ لے، درحقیت وہ دنیا پرست ہوتا ہے۔ ظاہر پرست دین کی ظاہری پرت کو کافی و شافی سمجھتا ہے۔ اسے باطن← مزید پڑھیے
جب سے دنیائے رنگ و بو میں آدم کا نزول ہوا ہے، دو فکری قبیلے شناخت ہوئے ہیں۔ ایک قبیلہ قابیل کی فکر کا ہم نوا ہے، دوسرا ہابیل کی فکری نوع سے تعلق رکھتا ہے۔ بلا تخصیص مذہب و← مزید پڑھیے
انسان بھی عجب ہے، یہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی خواہشِ نفس کی پرورش کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ دل کے پالنے میں قرب کی خواہش بھی پالتا رہتا ہے۔ دو کشتیوں کا سوار کب پار لگا ہے؟ ایک← مزید پڑھیے
یہ کہاوت درست نہیں کہ فلاں زبان کا کڑوا ہے، لیکن دل کا بہت اچھا ہے۔ یہ ڈھکوسلا ہے— کسی شخص کی بدزبانی کی بے ڈھب توجیہہ ہے۔زندگی سادہ ہے — سادہ زندگی ہی سیدھی زندگی ہوتی ہے۔ اس میں← مزید پڑھیے
”سر! کیا پہلے ظاہر کی اصلاح ضروری ہے یا باطن کی؟ کیا ظاہر و باطن کے یکساں ہونے کی کوشش میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے بُرا بیان کر دینا چاہیے؟ جیسا کہ ایک انسان لوگوں میں اچھا ہو← مزید پڑھیے
خیال ازل سے رقص میں ہے …… اصل مسئلہ وجود کا ہے۔ جب روح اور وجود کی سُرتال ایک ہو جاتی ہے تو خیال میں رقص میں آ جاتا ہے …… اور یہ رقص عالمِ شہود میں دید کے قابل← مزید پڑھیے
گزشتہ ہفتے کچھ ہوا یوں کہ شائع شدہ کالم پر اچانک نظر پڑی، دیکھا کہ کالم کے آخری تین پیراگراف شاملِ اشاعت ہونے سے رہ گئے۔ میں نے جھٹ فون اٹھایا اور برادرم زاہد رفیق کو شکایت سے بھرپور کال← مزید پڑھیے
اسلام آباد سے شہباز صاحب نے ایک سوال ارسال کیا ہے۔ یہ سوال بظاہر گستاخانہ معلوم ہوتا ہے لیکن اگر سمجھنے کی جستجو ہو، حقائق جاننے کی تمنا ہو تو سخت سے سخت سوال بھی نگاہِ عنایت کا مستحق ہو← مزید پڑھیے
اے شہرِ مکّہ!— تْو شہرِ عتیق ہے … کہ تیرے اندر بیت العتیق ہے۔ اے شہرِ مکّہ !—تْوشہرِ قدیم ہے—کہ تیرے اندر بیتِ ذاتِ قدیم ہے۔ اے شہرِمکّہ !—تْو اْمّ القریٰ ہے—تْو اْس مشفق ماں کی طرح ہے جو ہرقریے← مزید پڑھیے
فی زمانہ تصوف ایک ایسی اصطلاح کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کے متعلق ایسا ابہام پیدا کر دیا گیا ہے کہ اتفاق کم اور اختلاف زیادہ واقع ہو چکا ہے۔ اتفاق سے اختلاف تک کے اس سفر← مزید پڑھیے
برادرم ڈاکٹر شفقت کہ آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں، گزشتہ روز اپنے ہمجولی ڈاکٹر مظہر بھٹی کے ہمراہ تشریف لائے۔ تبادلہ خیال اور اشعار کے دوران میں ایک طرح مصرع دے گئے۔ کہنے لگے کہ گزشتہ برس دربار حضرت← مزید پڑھیے
ہمارے برخوردار عبداللہ بن اظہر نوخیز ڈاکٹر ہیں، سیاسی خبروں اور تبصروں سے باخبر رہتے ہیں، کل خبریں دیکھتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہنے لگے، یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا، میں سوچ رہا ہوں کہ اپنا بندوبست باہر← مزید پڑھیے
کل کراچی سے محسن آئے تھے، بغرضِ ملاقات۔۔ تقریب بہرملاقات یہ تھی کہ ایک جاپانی کمپنی میں کام کرتے ہیں، اور کمپنی کے کام کے سلسلے میں لاہور آئے تھے۔ روحانی بندہ تجارتی اسفار کو بھی اپنے روحانی سفر کا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر ناصر رضا اعوان کے گروپ کے ایک رکن کہ ہمارے ہم جماعت کے چچا ہیں، یورپ میں ایک عرصے سے مقیم ہیں، ایک عام پاکستانی کی نسبت کافی زیادہ خوش حال زندگی گزار چکے ہیں، وہاں گورنمنٹ کے اداروں← مزید پڑھیے
سیّد طاہر نظامی صاحب کی بنوائی ہوئی فہرستِ مشائخ دہلی میں ایک نام پر ہم ٹھٹھک گئے، وہ نام تھا حضرت محمود بحارؒ۔ میں نے فوراً زیرِ لب یہ نام مکمل کیا ”حضرت محمود بہار برقعہ پوش“ مجھے یہ نام← مزید پڑھیے
دلّی کے سفر میں ہم نے مشہور زمانہ انڈیا گیٹ دیکھا اور نہ قطب مینار ہی کی سیر کر سکے۔ دراصل یہ سفر سفرِسیاحت نہیں بلکہ سفرِ زیارت تھا۔ دوستوں کا خیال تھا کہ دلّی کی اورنج ٹرین میں کسی← مزید پڑھیے