حسن رضا چنگیزی کی تحاریر
حسن رضا چنگیزی
حسن رضا چنگیزی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک بلاگر جنہیں سیاسی اور سماجی موضوعات سے متعلق لکھنے میں دلچسپی ہے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا۔۔۔حسن رضا چنگیزی

1987 کی بات ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا میں وہ میرا پہلا سال تھا۔ سردیوں کی طویل چٹھیاں قریب آ رہی تھیں اور مختلف شعبوں کے طلبا حسب روایت مطالعاتی دوروں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔  ہماری کلاس←  مزید پڑھیے

چار دیواری۔ حسن رضا چنگیزی

ان چاروں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا۔  ان میں سے تین سبزی فروش تھے جو ہزارہ قبرستان کے ایک کونے میں ٹھیلے لگاکر سبزیاں فروخت کرتے تھے۔ ان کے ٹھیلے آس پاس تھے اس لیے ان کی آپس میں←  مزید پڑھیے

کیا آگ میں کودنا ضروری ہے؟ حسن رضا چنگیزی

ہم میں سے کتنے لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ آج سے تقریباَ پانچ سو سال قبل یورپ میں مسیحیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں ایک کروڑ سے زائد لوگ مارے گئے تھے؟ یہ جنگیں←  مزید پڑھیے

پاک افغان بگڑتے تعلقات۔ حسن رضا چنگیزی

افغانستان کے نئے حکمرانوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات ہمیشہ نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ ایک دور وہ بھی تھا جب کرزئی کو افغانستان کا صدر منتخب کروانے کے لیے پاکستان بھر کے افغان مہاجر کیمپوں اور بستیوں←  مزید پڑھیے

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ۔حسن رضا چنگیزی

ابھی عملی سائنس کی عمر ہی کتنی ہے؟ زیادہ سے زیادہ  دو  ڈھائی سو سال! گلیلیو کو گزرے محض پانچ سو سال ہوگئے ہیں جس نے نظام شمسی سے متعلق فرسودہ نظریات کو چیلنج کیا تھا۔ تب جدید سائنسی ایجادات←  مزید پڑھیے

رینگتا ہوا ذہنی ارتقاء

پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کا رواج ہوا تو اکثر لوگوں نے اس”شیطانی ڈبے” کو دجال سے تشبیہ دے کر قرب قیامت کا واویلا مچایا۔ بعض “معزز” خاندانوں نے تو ان لوگوں پر بے←  مزید پڑھیے

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں

بحث زوروں پر تھی۔ نوجوان دوستوں کا یہ گروپ پکنک منانے آبادی سے دور پہاڑ کے دامن میں آیا ہوا تھا۔ چائے کا دور چل رہا تھا اور زمین پر بچھی دریوں پر بیٹھے یہ نوجوان تاش، لوڈو یا موسیقی←  مزید پڑھیے

شہید

وہ نماز روزے کا پابند اور اپنے والدین کا فرمانبردار ایک دین دار اور خوش اخلاق نوجوان تھا۔ اس کی تربیت ایک دینی ماحول میں ہوئی تھی جس کا اندازہ اس کے رکھ رکھاؤ سے بہ آسانی لگا یا جا←  مزید پڑھیے

ضبط کا بندھن

صادق نانبائی کے گھر میں ہونے والا شور شرابہ مسلسل بڑھ رہا تھا جس میں اب عورتوں اور بچّوں کے رونے کی صدائیں بھی شامل ہو گئی تھیں، جبکہ گھر سے اٹھا پٹخ کی بھی مسلسل آوازیں آرہی تھیں۔ شور←  مزید پڑھیے

کہاں تک سنو گے؟ (ہزارہ قتل عام سے جڑی چند سچی کہانیاں)

1۔ کرب اس کے دونوں جوان بیٹوں کو ایک ایک کرکے قتل کر دیا گیا۔ بڑے بیٹے کو 2011 میں تب خون میں نہلایا گیا جب علمدار روڑ پر ہزارہ عید گاہ کے قریب خود کش کار دھماکہ کیا گیا۔←  مزید پڑھیے

نمک نہ چھڑکیں ،مرہم رکھیں

پچھلے دنوں کوئٹہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان بہن بھائی کی سڑک پر پڑی خون آلود لاشوں کی تصویر دیکھی تو دل پر لگے گھاؤ پھر سے ہرے ہوگئے اور نظروں کے سامنے تین سال قبل←  مزید پڑھیے

ثواب دارین کی جدلیات اور ترقی پسندی کا نیا بیانیہ

ہماری نوجوانی خصوصاَ ًکالج اور یونیورسٹی کا زمانہ بڑا ہی تلاطم خیز تھا۔ ان دنوں کوئٹہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ان طلباء تنظیموں کا راج تھا جو سوویت یونین کی کھلم کھلا حمایت←  مزید پڑھیے

بلوچستان میں بیروزگاری کا عفریت اور عوامی وسائل کی لوٹ مار

جب سے بلوچستان اسمبلی میں صوبے کی 27 ہزار خالی اسامیوں کا ذکر خیر ہوا ہے بلوچستان کے عوامی حلقوں بالخصوص نوجوانوں میں یہی موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پچھلے←  مزید پڑھیے

کلبهوشن یادو کو پهانسی دو

یہ کہانی بڑی لمبی اور کئی دہائیوں پر محیط ہے لیکن ہم اسے تھوڑا مختصر کیے دیتے ہیں۔ یہ اس زمانے کا قصہ ہے جب ضیاء الحق کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا←  مزید پڑھیے

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب عقیدے یا سیاسی نظریات کی بات ہوتی ہے تو ہم ساری نزاکتیں، گفتگو کا سارا سلیقہ اور ساری وسیع النظری فراموش کرکے گالی گلوچ اور ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں؟ حالانکہ زندگی کے←  مزید پڑھیے

بیانیہ کیسے تشکیل پاتا ہے؟

پچھلے دنوں جب وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ میں خطاب کے دوران دہشت گردی کے خلاف نیا بیانیہ تشکیل دینے کی بات کر رہے تھے تو مجھے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہورہی تھی۔ خوشی اس بات کی کہ بالآخر←  مزید پڑھیے

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور قتل وغارت کی جس آگ میں جھلس رہا ہے اس کی تپش یقیناً اب وہ لوگ بھی محسوس کررہے ہوں گے جو اس سے قبل خودکو محفوظ تصور کرتے تھے کیونکہ گلگت←  مزید پڑھیے

گولی مار بھیجے میں

اکتوبر 2014 کی بات ہے۔ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ایک خفیہ مراسلہ جاری کیا تھا جو صوبے میں داعش کی سرگرمیوں سے متعلق تھا۔ اس مراسلے میں واضح طور پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ←  مزید پڑھیے

سلمان بھائی؛ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا!

سلمان بھائی یقین جانیے کہ جب سے آپ کی گمشدگی کا سنا ہے میرے دل کوکسی پل قرار نہیں۔ حالانکہ میری آپ سے کوئی ذاتی جان پہچان بھی نہیں ، نہ ہی ایک دو ٹیلی فونک گفتگو یا مختصر پیغامات←  مزید پڑھیے

اے نیا سال

گزشتہ برسوں کی طرح میں ایک بار پھر تیری آمد پر تجھے خوش آمدید کہتا ہوں۔ اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ میرے خوش آمدید کہنے یا نہ کہنے سے تمہارا کچھ بھی نہیں بگڑنے والا۔ نہ ہی تو میرے یا←  مزید پڑھیے