ضبط کا بندھن

صادق نانبائی کے گھر میں ہونے والا شور شرابہ مسلسل بڑھ رہا تھا جس میں اب عورتوں اور بچّوں کے رونے کی صدائیں بھی شامل ہو گئی تھیں، جبکہ گھر سے اٹھا پٹخ کی بھی مسلسل آوازیں آرہی تھیں۔ شور شرابہ سن کر محلے والے باہر گلی میں نکل آئے تھے۔ وہ باپ بیٹے کی اس روز روز کی لڑائی سے تنگ آچکے تھے اس لیے انہوں نےفیصلہ کرلیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو آج وہ اس معاملے کو ختم کرکے ہی دم لیں گے۔ اب انہیں انتظار تھا تو علاقے کے کونسلر صاحب کا جو کسی بھی وقت پہنچنے والے تھے۔
صادق نانبائی ایک محنتی اور خوش اخلاق آدمی تھا۔ اس کی ساری زندگی تنور میں روٹیاں لگاتے گزری تھی جس کی آگ میں تپ کر اس کا اپنا چہرہ بھی تانبے جیسا بن چکا تھا ۔ اگرچہ وہ اب بوڑھا ہو چکا تھا لیکن تنور میں روٹیاں لگاتے وقت اس کے بازوؤں میں اب بھی بجلیاں سی بھر جاتیں۔
اس کا ایک ہی بیٹا تھا، اصغر۔ جسے اس نے بڑے نازو نعم سے پالا تھا۔ اصغر کی شادی ہوچکی تھی اور وہ اپنی بیوی اور دو بچّوں سمیت اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا تھا جبکہ اس کی دونوں بیٹیاں جو عمر میں اصغرسے بڑی تھیں شادی کرکے سسرال جا بسی تھیں۔ اصغر کسی سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ وہ اپنے باپ کے برعکس ایک روکھے مزاج کا نوجوان تھا۔ محلے والوں کی اس سے کم ہی بنتی تھی اس لیے وہ بھی ان سے لیے دیئے رہتا تھا۔
محلے والوں کی آپس میں کھسر پھسر جاری تھی جب پاس ہی ایک گاڑی آکر رکی اور کونسلر صاحب گاڑی سے اترنے لگے۔ تب کسی نے صادق نانبائی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
دستک کی آواز کے ساتھ ہی گھر میں تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ کچھ لمحے گزرے ہونگے جب گھر کا دروازہ کھلا۔ دروازہ کھولنے والا صادق تھا۔ اس کا چہرہ سوجھا ہوا تھا جبکہ ناک سے خون بہہ کر اس کی سفید داڑھی کو رنگین بنا رہا تھا۔
ہمیں آپ سے اور آپ کے بیٹے سے کچھ بات کرنی ہے۔ کونسلر نے صادق سے کہا!
کونسلر صاحب کے ساتھ ہمسایوں کی بھیڑ دیکھ کر صادق پہلے ہی صور ت حال بھانپ چکا تھا ۔اس لیے کچھ کہے بغیر اس نے دروازہ پوری طرح کھول دیا تاکہ سب اندر آسکیں۔ پھر کہیں سے اس نے ایک چھوٹی دری بھی لاکر صحن میں بچھادی اور آنے والوں کو اس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ گھر میں بنے ایک کمرے سے اب بھی بچّوں اور عورتوں کے رونے کی دبی دبی آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ دیر بعد اصغر بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کی آستینیں چڑھی ہوئی تھیں اور چہرے پر غصہ صاف نظر آرہا تھا۔ اس نے سب پر ایک سرسری نگاہ ڈالی اور بڑبڑاتے ہوئے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے دوسری طرف صادق نانبائی بیٹھا ہوا تھا جس نے کمال ضبط سے اپنے آنسووں کو پلکوں پہ روک رکھا تھا۔
پھر جب سارے ایک ایک کرکے بیٹھ گئے تو کونسلر صاحب کی گونجدار آواز ابھری اور اس نے اصغر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا!
“تمہیں شرم آنی چاہئے، آج پھر تم نے اپنے بوڑھے باپ پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ وہ باپ جس نے ساری زندگی محنت مزدوری کرکےنہ صرف تمہیں پالا پوسا بلکہ اچھی تعلیم بھی دلائی، تبھی تم آج کسی تندور میں روٹیاں لگانے کے بجائے آرام کی زندگی گزار رہے ہو۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے ماں باپ نے تم اور تمہاری بہنوں کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے؟ لیکن تم ہو کہ آئے دن نہ صرف ان کی بے عزتی کرتے رہتے ہو بلکہ ان پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہو۔”
“یہ میرے گھر کا معاملہ ہے جس میں آپ لوگوں کو دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں!”اصغر نے کونسلر صاحب کی بات کاٹ کر پھنکارتے ہوئے کہا۔
“دیکھو فضول بکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارے ہمسایوں کو تم سے بہت ساری شکایات ہیں۔ تم نے بار ہا نہ صرف اپنے بوڑھے ماں باپ کو مارا پیٹا ہے بلکہ محلے والوں کو بھی گالیاں دی ہیں، جس کی وجہ سے تم پر مقدمہ بن سکتا ہے اور تمہیں جیل بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے غرانا بند کرو اور یہ بتاؤ کہ تمہیں اپنے والدین سے کیا شکایت ہے تاکہ یہ معاملہ یہی حل ہو اور کورٹ کچہری کی نوبت نہ آئے” کونسلر نے بھی تیور دکھاتے ہوئے کہا۔
مجھے مکان میں اپنا حصہ چاہئے! اصغر نے ٹھنڈا پڑتے ہوئے جواب دیا۔
“لیکن میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہ مکان اس قابل نہیں کہ اس کے حصّے بخرے کئے جائیں”صادق اپنی رندھی ہوئی آواز پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ اور بیٹے تمہیں تو معلوم ہے کہ اس گھر میں دو ہی تو کمرے ہیں جن میں سے ایک تم لوگوں کے استعمال میں ہے جبکہ دوسرا میرے اور تمہاری امی کے استعمال میں۔ صحن بھی اتنا بڑا نہیں جس کے درمیاں دیوار کھڑی کی جا سکے۔ پھر ایک نیا باورچی خانہ اورغسل خانہ بھی بنانا پڑے گا جس کے لیے جگہ بالکل نہیں”
“مجھے اس مکان میں رہنا بھی نہیں۔ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہ مکان بیچ کر مجھے میرے حصے کی رقم دے دیں تاکہ میں اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکوں” اصغر نے ایک بار پھر روکھائی سے جواب دیا۔
صادق کچھ کہنے ہی والا تھا لیکن کونسلر صاحب نے اشارے سے روک دیا۔ پھر اصغر سے مخاطب ہوکر کہنے لگا “کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر یہ مکان نہ رہا تو تمہارے بوڑھے ماں باپ کہاں جائیں گے؟ دیکھو ایک بات تو گرہ سے باندھ لو کہ تم اس طرح زبردستی اپنے باپ کو جائیداد کی تقسیم پر مجبور نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس فیصلے کا اختیار بھی تمہارے باپ کو حاصل ہے کہ وہ تمہیں اس مکان میں کوئی حصہ دیتے بھی ہے یا نہیں۔”
کونسلر صاحب کی باتیں سن کر اصغر نے برا سا منہ بنایا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا قریبی مسجد سےاذان کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ فوراَ اٹھا اور تیزی سے باہر کی طرف جانے لگا۔ کونسلر صاحب نے آواز دے کر اسے پکارا اور پوچھا کہ کہا ں جارہے ہو، بات ابھی ختم نہیں ہوئی؟
اصغر لمحے بھر کو رکا اور سب کی طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ ابھی میری نماز کا وقت ہوگیا ہے اور میں مسجد جارہا ہوں ورنہ جماعت نکل جائے گی۔
یہ کہہ کر وہ گھر سے نکلا تو صحن میں بیٹھے سارے لوگ حیرانی سے ایک دوسرے کا منھ تکنے لگے۔ اس دوران کونسلر صاحب کی نظریں غیر ارادی طور پر نانبائی پر پڑیں جس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کی سفید خون آلود داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔
اس کے ضبط کا بندھن بالآ خرٹوٹ گیا تھا۔!

حسن رضا چنگیزی
حسن رضا چنگیزی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک بلاگر جنہیں سیاسی اور سماجی موضوعات سے متعلق لکھنے میں دلچسپی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *