رینگتا ہوا ذہنی ارتقاء

پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کا رواج ہوا تو اکثر لوگوں نے اس”شیطانی ڈبے” کو دجال سے تشبیہ دے کر قرب قیامت کا واویلا مچایا۔ بعض “معزز” خاندانوں نے تو ان لوگوں پر بے حیائی اور بے غیرتی کے فتوے بھی صادر کیے جنہوں نے اپنے گھروں میں ٹی وی کو جگہ دی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شیطانی ڈبہ ہر گھر کی زینت بن گیا اور سارے گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگے۔ ڈش کا دور آیا تو ناظرین کو کئی چینلز دیکھنے کی سہولت میسر آئی۔ لیکن تب ڈش کو چھت پر کسی ایسی جگہ نصب کیا جاتا جہاں ہمسایوں کی نظر پڑنے کے امکانات کم سے کم ہو۔ کیونکہ “معزز گھرانوں” کے لوگ ایسے خاندانوں سے میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے تھے جہاں”غیر ملکی اور بے ہودہ”پروگرام دیکھے جاتے تھے۔ لیکن وہ وقت بھی آیا جب لوگوں کی اکثریت نے نہ صرف چھتوں پر ڈشیں لگوائیں بلکہ ان کی تعداد اور سائز میں بھی مقابلے کا رجحان بھی پیدا ہوا۔

شروع میں جب گھروں میں ٹیلی فون لگنے شروع ہوئے تب بھی اکثر لوگوں نے اس خدشے کے پیش نظر اس سہولت سے دور رہنے کو ترجیح دی کہ اس سے بچوں کے اخلاق پر برا اثر پڑے گا۔ ان کا یہ خدشہ اس لحاظ سے بجا تھا کہ جس گھر میں بھی ٹیلی فون لگتا وہاں کے باسی رات دن رانگ نمبرز یا بلینک کالز کے ہاتھوں پریشان رہتے۔ بلینک کالز کرنے والے عموماً وہ نوجوان ہوتے جو کوئی بھی نمبر گھما کر اس انتظار میں رہتے کہ سامنے سے کسی خاتون کی آواز آئے گی تو ان کے دل کے تار جھنجھنا اٹھیں گے۔ بعض اوقات آدھی رات کو اس وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی جب سب گہری نیند سو رہے ہوتے۔ ایسے میں جب کوئی ریسیور اٹھاتا تو کسی کی آواز آتی کہ”بھائی صاحب ٹائم کیا ہوا ہے؟” اب اس مصیبت سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہوتا کہ انسان ریسیور نیچے رکھ کر بھول جائے۔

بلینک کالز کا یہ سلسلہ لمبے عرصے تک قائم رہا، خصوصا ً جب ٹیلی فون کے محکمے نے فٹ پاتھوں پر بھی فون بوتھ لگانے شروع کیے تو رانگ کالز کی تعداد میں اور بھی اضافہ ہوا۔ لیکن اس سلسلے نے بھی کہیں جاکر تھمنا ہی تھا۔ موبائل فون کی آمد اس لحاظ سے ایک انقلابی مرحلہ ثابت ہوا کہ اب فون گھر ، دکان اور دفتر سے نکل کر لوگوں کی جیبوں میں منتقل ہوگیا تھا۔ پہلے پہل موبائل فون کا خرچہ چونکہ بہت زیادہ تھا اس لیے لوگ اسے بڑے احتیاط سے استعمال کرتے تھے لیکن جب سے سم کارڈز مفت ملنے لگے اور سستے پیکیجز کی بھرمار ہونے لگی تو صارفین سے احتیاط کا دامن بھی چھوٹنے لگا۔البتہ میڈیا کی صورت حال اس کے بالکل برعکس رہی اور جب تک پی ٹی وی کو اکلوتے چینل کی حیثیت حاصل رہی، زبان و بیان میں تہذیب اور شائستگی کا عنصر بھی برقرار رہا۔

لیکن پرویزمشرف کے دور میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار سے جہاں عوام کو سرکاری میڈیا پر انحصار سے نجات ملی وہاں ریٹنگ کے حصول کی خاطر سنسنی خیزی کے رجحان میں بھی تیزی آئی اور خبروں، گفتگو اور تبصروں کے دوران زبان و بیان کا ایک ایسا انداز متعارف ہوا جسے مہذب ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس انداز بیان کو متعارف کروانے میں ان ڈاکٹروں، عاملوں، مولویوں، اداکاروں، اداکاراؤں ، بھانڈوں اور مداریوں کا بڑا ہاتھ تھا جو اپنے شعبوں میں ناکامی کے بعد صحافت پر ہاتھ صاف کرنے اور صارفین کے سینوں پر مونگ دلنے میڈیا پر آٹپکے تھے۔

اس طرح جھوٹی سچی خبر سب سے پہلے صارفین تک پہنچانے اور”سب کچھ” لائیو دکھانے کی دوڑ نے گھر بیٹھے صارفین کو عوامی شخصیات خصوصاًسیاستدانوں کا وہ چہرہ بھی دکھایا جس سے وہ مکمل طور پر نا آشنا تھے۔ اس کے بعد رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی جس پر آزادی کا”بھر پور فائدہ” اٹھایا گیا اور یار لوگوں نے انہیں سرکاری بیت الخلاء سمجھ کر ان کی دیواریں رنگین کرنی شروع کردیں۔ فرق بس اتنا رہا کہ یہاں لوگ پیٹ کا بوجھ ہلکا کرنے کے بجائے اپنے باطن کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے آنے لگے۔ پھر کیا تھا؟۔ سیاستدان جلسوں اور ذاتی محفلوں میں جو پھلجھڑیاں چھوڑتے، وہ یا تو ٹی وی کیمروں کے اندر محفوظ ہوجاتیں یا پھر موبائل فون کے کیمروں کی یادداشت میں۔ جنہیں بعد میں نمک مرچ لگا کرسوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا کے “سینئر تجزیہ نگاروں اور مبصرین” کا کام شروع ہوجاتا جو نمک اور مرچ میں گالیوں کا تڑکا لگا کر ایسے ایسے نکتے بیان فرماتے جنہیں پڑھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے۔

کہتے ہیں کہ”جیسی روح ویسے فرشتے”۔ ملک کی سیاسی پارٹیاں، حکمران، سیاست دان اور میڈیا دراصل وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنا اجتماعی چہرہ دیکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ چہرہ بڑا ہی بھیانک اور مکروہ ہے۔ غیر شائستہ گفتگو، بے ہودہ الزام تراشیاں، گالم گلوچ، لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں تانک جھانک، ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا، ہر موضوع پر بے جا تبصرے کرنا، مفت مشورے دینااور اختلاف کی صورت میں ایک دوسرے کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گھروں سے نکال کر بیچ چوراہے کھڑی کرنا۔ یہ وہ اینٹیں ہیں جن پر ہماری ساری اخلاقیات کی بنیادیں کھڑی ہیں۔ تبھی تو ہم کبھی عائشہ گلالئی کا قصہ اچھالتے اور اس پرچسکے لے لے کر تبصرے کرتے ہیں تو کبھی عائشہ احد کی داستان پر رال ٹپکاتے نظر آتے ہیں۔

ہم بڑے اعتماد سے دوسروں کا پردہ چاک کرتے اور ان کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے ہماری تربیت اور اخلاقیات کا جو بھانڈا پھوٹتا ہے ہمیں اس کی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔ ارتقا ء کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، نہ ہی فتوے یا گالیاں فطرت کے اس اصول کو آگے بڑھنے سے روک سکتی ہیں۔ ہاں دیواریں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے اس عمل میں سستی ضرور لائی جاسکتی ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود رینگ رینگ کر ارتقاء کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس ذہنی بے ہودگی کو بھی کہیں نہ کہیں تھم جانا ہے۔ لہٰذا یقین رکھنا چاہیے کہ وہ صبح ضرور آئے گی جب پیمانہ لبریز ہوگا اور ہمارا ذہنی ارتقاء ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔تب عائشاؤں کو کوئی اپنے لیے ڈھال نہیں بنائے گا نہ ہی عائشاؤں کو گالیاں دی جائیں گی!۔

حسن رضا چنگیزی
حسن رضا چنگیزی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک بلاگر جنہیں سیاسی اور سماجی موضوعات سے متعلق لکھنے میں دلچسپی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *