نجی زندگی کا فریب۔۔۔ انعام رانا

عرصہ ہوا کہ رات گئے اک دوست حالت سرور یا خالص لاہوری زبان میں کہوں تو صوفی حالت میں گاڑی چلاتے روک لئیے گئے۔ کیونکہ میں “گھر کا وکیل” تھا تو ان کی خاطر پیش بھی مجھے ہی ہونا پڑا۔ لائسنس پہ پوائنٹس اور جرمانے کرا کے باہر نکلے تو غصے میں بولے “لعنت ہے اس ملک پہ، ذرا سی پی کیا لی سالے اتنی کڑی سزا دینے پہ اتر آئے، ان سے اچھا تو اپنا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں سپاہی بات تو سن لیتا ہے”۔ عرض کی کہ شکر کرو سستے میں چھوٹ گئے، اگر تمھاری جگہ میں ہوتا تو اپنے وکالت کے لائسنس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا۔ وہ حیران ہوئے تو بتایا کہ وکیل کو اس معاشرے میں ایک قابل تقلید شخص تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قانون کا نمائندہ ہے۔ اسی لئیے اس پہ ذمہ داری بھی زائد عائد ہوتی ہے۔ (پاکستانی وکلا دوستوں کیلئیے یہ تصور کافی اجنبی اور روح فرسا ہو گا)۔

دو ہزار سات کی بات ہے کہ گلاسگو یونیورسٹی میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئیے نیا نیا پاکستان سے آیا تھا۔ یکدم ایک سکاٹش سیاستدان، جو عوام میں کافی محبوب تھا، اسکا ایک سکینڈل سامنے آیا۔ موصوف اور انکی بیگم ایک عدد “وائف سویپنگ کلب” کے خفیہ ممبر نکلے جہاں وہ خفیہ خفیہ جاتے رہے تھے۔ وائف سویپنگ کلب، یعنی ایک ایسا کلب جہاں اپنے اپنے ساتھی سے بور ہوے جوڑے ممبر بنتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ساتھی بدل کر انسان میں “چِیٹنگ” کا جو فطری جنسی رجحان ہے اسکی تسکین کرتے ہیں۔ گو قانون اسکی اجازت نہیں دیتا مگر ایسے کلب موجود ہیں اور ہزار ہا جوڑے انکے ممبر۔ ہاں مگر اخلاقی طور پہ ابھی بھی یہ اک برائی ہی سمجھی جاتی ہے۔ سو خبر نکلی تو موصوف سیاستدان، جو اپنی عوامی و سیاسی خدمات کی وجہ سے معروف تھے اور سیاست میں اعلی مقام پا لینے کا امکان تھا، اپنی “نجی زندگی” کی دہائی دیتے ہوے پردہ سیاست سے غائب ہو گئے کیونکہ عوام نے انکی نجی زندگی کی تاویل ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

میرا ماننا ہے کہ مغربی معاشروں کی مثالیں اپنے معاشرے پہ لگاتے ہوے کسی مسلئے کو دیکھنا شاید غلط ہے۔ سو چلئیے اپنی مفروضہ مثال سامنے رکھتا ہوں۔ دو ہزار سولہ سے قبل میں فیس بک پر انعام رانا تھا، میری نجی زندگی تھی، میرا انباکس یا اس میں موجود گفتگو قطعا میری نجی زندگی تھی اور اس میں کسی قسم کا دخل میری نجی زندگی پہ حملہ تصور ہوتا۔ مگر یکم ستمبر دو ہزار سولہ سے میں اس سائیٹ، مکالمہ، کا چیف ایڈیٹر ہوں جو اس وقت پاکستان کی دوسرے نمبر پہ موجود بلاگنگ سائیٹ ہے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ ہی میری نجی زندگی کی تعریف بھی بدل گئی۔ بالخصوص یہ تعریف ہر اس انسان کے حوالے سے بدل گئی جسکا مجھ سے تعلق مکالمہ کے حوالے سے بنا۔ میرے انباکس میں یقینا سینکڑوں کی تعداد میں خواتین میسج کر چکی ہیں، بطور لکھاری کے، اپنی تحریر کے حوالے سے، مکالمہ کے حوالے سے یا پھر میری کسی تحریر یا مکالمہ کی تحسین کیلئیے۔ اب اگر میں ان خواتین سے اپنی گفتگو میں، یا ان سے تعلق میں اس اخلاقی پیمانے سے گر جاؤں جس کا تقاضا میری چیف ایڈیٹری کرتی ہے یا اس عہدے کا فائدہ اٹھاؤں تو میں قطعا اپنی نجی زندگی کی ڈھال سامنے نا رکھ سکوں گا۔

یقینا قارئین یہ جان ہی چکے ہیں کہ اس مضمون کی وجہ تسمیہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے منسوب تازہ ترین سکینڈل ہے۔ جسٹس جاوید کے جاوید چوہدری کو دئیے انٹرویو سے ہی ماتھا ٹھنکا تھا کہ حضرت کچھ حفظ ماتقدم فرما رہے ہیں۔ ان سے قبل انکے “لیڈر” سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری، بیٹے کی کرپشن کا کیس دبانے کیلئیے ایسا ہی ہتھکنڈہ استعمال کر چکے تھے جب اپنے چہیتے صحافیوں سے الزامات لیک کروا کے خبر کی “اینگلنگ” کروائی گئی اور پھر “مظلوم ایماندار“ چیف جسٹس کے خلاف “سازش“ ناکام ہو گئی۔ حالیہ قضئیے میں بھی یہی داؤ آزمانے کی کوشش ہوئی مگر ناکام ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہماری قوم بہرحال کرپشن کو اگرچہ ایک “اخلاقی جرم” ماننے میں ابھی متامل ہے مگر سر تا پا چوم کر منانے کو اخلاقی برائی مانتی ہے۔ لیک کی گئی” وڈیوز اور آڈیو میں موجود خاتون کون ہے، اک مجبور عورت یا کوئی پارسا؟ خاتون جج صاحب کو استعمال کر رہی تھی یا کہ خود استعمال ہو گئی؟ یہ الگ سوال ہے۔ موضوع سے ذرا رکتے ہوئے عرض کروں کہ کئی بار ایسے “بلیک میلرز” کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ استعمال ہو گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی ہم نے دیکھا کہ اک خاتون نے ملک کے معروف ایڈیٹر ضیا شاھد کی جنسی کجرویوں پہ مبنی گفتگو لیک کی اور پھر اس سے متعلق کچھ مضامین لکھے۔ ضیا شاھد وہیں ہیں، وہ جن خواتین کو “بچانا تھا اس جنسی بھیڑیئے سے” وہ نجانے بچیں یا نہیں، دو چار دن چسکارے لئیے گئے، مضامین چھاپنے والی سائیٹ کی رینکنگ بہتر ہوئی اور۔۔۔ اور بس۔ سو ہو تو شاید تازہ ترین قضیہ میں بھی یہ ہی مگر نجی زندگی کے تحفظ کا نعرہ لگ گیا ہے۔

بہت سے دوستوں کو دیکھا کہ وہ جسٹس جاوید کی قانونی مہارت، دیانت داری اور “مگر مچھوں” پہ ہاتھ ڈالنے کی جرات کی تعریف کرتے ہوے انکی نجی زندگی کو اگنور کرنے کی تائید کر رہے ہیں۔ بہت سے دانشور دوست نجی زندگی کی اہمیت کا اقرار کرتے ہوے دبے دبے لفظوں میں جج کی غیر محتاطی پہ شکوہ کناں ہیں۔ کچھ دوست تاویل کرتے ہیں کہ “خاتون اپنی رضامندی سے جج کو پھانس رہی تھی اور ہاو فیر مرد تو مرد ہے پھنس ہی جاتا ہے، سو نجی زندگی کا احترام کریں۔” اس طالب علم کو البتہ “نجی زندگی کے اس فریب” سے اختلاف ہے۔

جیسا کہ اوپر مثالوں سے بیان کیا کہ کسی بھی عہدے یا ذمہ داری کے تقاضے ہوتے ہیں۔ اگر جج مذکور کی آڈیو اپنی بیگم سے “لاڈیاں “ کرتے ہوے ہوتی تو یقینا یہ نجی زندگی ہوتی کہ وہ اپنی بیگم کو سر سے پا چومیں یا جپھیاں ڈالیں۔ مگر ایک شخص جو ملک کی اعلی ترین عدالت کا جج رہ چکا ہے اور اس وقت بھی ایک آئینی عہدے پہ رونق افروز ہے، اسکی نجی زندگی قانون اور اخلاقیات کی حدود کی پابند ہو گی۔ قانون و اخلاقیات کسی بھی غیر عورت کو سر تا پا چومنے یا دفتر میں بوس و کنار کی اجازت نہیں دیتے خواہ وہ جتنا بھی ناراض ہو جائے۔ بالخصوص اگر وہ عورت یا اسکا شوہر زیر تفتیش ہوں تو اس سے کسی قسم کی قربت کی کوشش اس عہدے کے ناجائز استعمال میں شمار ہوتی ہے۔ گو جج صاحب کی رومانوی طبیعت سے میری ہمدردی اپنی جگہ، لیکن وہ اپنے عہدے کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ انکو مروجہ قانون و اخلاقیات کا ذرا احترام نہیں۔ چنانچہ انکی اس حرکت پہ کسی بھی طور نجی زندگی یا پرائیویسی کی تاویل کر کے انھیں رستہ دینا اس خواب کی توہین ہو گا جو کچھ عرصہ قبل نوجوان نسل نے ایک ایسے ملک کے بارے میں دیکھا جہاں قانون سب کیلئیے برابر ہو اور مذہبی، سیاسی یا آئینی عہدہ مالی یا اخلاقی کرپشن کے تحفظ کیلئیے استعمال نا کیا جا سکے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *