روح اور معنی ہم جنس ہیں۔۔ادریس آزاد

لفظ جسم کی مانند ہے اور معنی رُوح کی مانند ۔ الفاظ میں معانی کے امکان کی حیثیت اور مقام بھی وہی ہے جو جسم میں روح کی حیثیت اور مقام ہے۔ جیسے الفاظ میں معنی ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے، اور نہ ہوتے ہوئے بھی ہوتے ہیں، بعینہ ویسا ہی، روح بھی جسم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔

ایک مرتبہ میں آئی بی اے سکھر کے ایک دو دوستوں کے ساتھ ویڈیو کال میں آن لائن تھا جب اُنہوں نے سوال کیا کہ ’’رُوح کیا ہے؟‘‘ تو میں نے جواب دیا کہ قرانِ کریم میں رسولِ اطہرصلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جو جواب سکھایا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ،

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ‌ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّى وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلاً۬ (٨٥)

اور آپ سے رُوح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ فرما دیجیے کہ رُوح اَمرِربّی سے ہے اور تم لوگوں کو اس کا علم نہیں دیا گیا مگر تھوڑا سا۔

میں نے عرض کی کہ ’’الاقلیلا‘‘ کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی جاسکتی۔ یہ دراصل استقرائی طریقۂ کار کا ذکر ہے جس میں فیصدی کے اعتبار سے حقائق کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہم اس کا یہ ترجمہ بھی نہیں کرسکتے کہ رُوح کا علم دیا ہی نہیں گیا۔ اس کے الٹ یہ ترجمہ بھی نہیں کرسکتے کہ علم دیا گیا ہے۔ اس آیت کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کو رُوح کا قلیل علم دے دیا گیا ہے۔ روح کا قلیل علم نناوے فیصد تک قلیل بھی ہوسکتا ہے اور ایک فیصد تک قلیل بھی۔ نہیں ہوسکتا تو زیروفیصد تک یا سوفیصد تک ۔ مثلاً بیالوجی میں ہم بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ زندگی کی اساس پروٹوپلازم ہے، جو جانوروں اور پودوں میں مشترک ہے۔ چنانچہ یہ بھی تو روح کا ہی علم ہوا۔ پروٹوپلازم بھی تو رُوح ہی کی ایک شکل ہے۔ یہ قلیل علم ہے لیکن ہے تو رُوح کا ہی۔ کیسے ایک سبز شاخ ٹوٹ جائے تو پیلی ہوجاتی ہے۔ اس میں سے پروٹوپلازم نکل جاتا ہے۔ بالفاظِ دگر اس میں سے روح نکل جاتی ہے۔

رُوح کے دراصل درجات ہیں۔ پروٹوپلازم سے لے کر روح القدس تک روح کے کتنے درجات ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ خود خداوند تعالیٰ کی ذات بھی تو ہمارے فہم کی آخری حد پر روحِ محض ہی ہے۔ اور یہ فی الاصل علامہ اقبال کے الفاظ ہیں، میں نے فقط تائیدی انداز میں دہرادیے۔

سوال یہ ہے کہ روشنی کے ذرّات کے لیے تو فاصلے کوئی معنی ہی نہیں رکھتے کیونکہ فاصلہ تو نام ہی فقط وقت اور رفتار کے حاصل ضرب کا ہے، اور روشنی کے ذرّے کے لیے وقت کے کوئی معنی ہیں ہی نہیں، کیونکہ وہ تو خود ہی روشنی کی رفتار پر ہے، پھر یوں کہنا کہ روشنی کے دو ذرات ایک دوسرے سے الگ یا دور دور کوئی وجود رکھتے ہیں کس حد تک درست ہوگا؟ بلکہ یوں کہنا زیادہ سائنٹفک ہوگا کہ تمام ایسے ذرّات جو آپس میں اِنٹینگلڈ ہیں، فقط ہمیں ہی ایک دوسرے سے دُوری پر نظر آتے ہیں، فی الاصل وہ ایک دوسرے سے ایک نقطے جتنا بھی جُدا نہیں ہیں۔ جدید دور کے سائنسدانوں میں سے بعض نے اِنٹینگلمنٹ کی پہیلی کا حل پیش کرنے کے لیے یہ مفروضہ بھی قائم کیا ہے کہ دواِنٹینگلڈ پارٹیکلز کے درمیان شاید سپیس ٹائم کا کوئی ورم ہول (Wormhole) ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ اِنٹینگلڈ ہوتے ہیں، چاہے درمیان میں فاصلہ لاکھوں کروڑوں نُوری سال کا ہی کیوں نہ ہو۔

اِس ساری بات سے میرا مدعا یہ ہے کہ روح کو اجزأ میں تقسیم کرکے دیکھنا عقل کی منفرد مہارت ہے اور عقل اپنے سامنے جس جہان اور کائنات کو مختلف اجزا کی صورت دیکھ رہی ہے یہ بقول نیلز بوھر فقط ایک ہی کُل ہے۔ عقل کی یہ مہارت یعنی اشیأ کو اجزأ میں بانٹ کر دیکھنے کی صلاحیت اگر جانوروں کے پاس ہوتی تو وہ بھی کائنات کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھنے کے اہل ہوتے۔ ایک پرندہ تب بھی لوٹ کر اپنے گھر آسکتا ہے جب واپسی پر گھر کے راستے کا کوئی پرانا نشان باقی ہی نہ ہو۔ میری دانست میں تو عقل ہی وہی بھاری ذمہ داری ہے جو انسانوں نے عجلت میں اُٹھالی اور جس کا ذکر قرانِ پاک میں بھی ہے۔

سائنسدان سائنسی تحقیقات میں بڑے کھرے اور جینیوئن ہوسکتے ہیں لیکن سائنسی ادبیات میں پکے بے ایمان ہوتے ہیں۔ اس بات کے لیے پہلے ایک مثال سمجھ لیں۔ حال ہی میں کورونا کا نام رکھتے وقت امریکہ اور چین میں ٹھن گئی تھی۔ دونوں کے دلوں میں اپنی اپنی بے ایمانیاں موجود تھیں۔ امریکہ کہتا تھا کہ ’’وُہان وائرس‘‘ نام رکھا جائے اور چائنہ کہتا تھا کہ ہمارے شہر کے نام پر نام نہ رکھا جائے۔ بالکل اسی مثال پر ہے سائنسدانوں کی مثال بھی ہے۔ وہ بھی جب کسی نئی دریافت کا نام رکھنے لگتے ہیں تو پوری کوشش کرتے ہیں کہ دریافت، مذہبی لوگوں کی تشریحات سے محفوظ رہ سکے۔ ایک کانفرنس میں، میں نے ایک سائنسدان کو غصے میں کہتے ہوئے سنا کہ جب لوگ ہِگز پارٹیکلز کو ’’گاڈ پارٹیکلز‘‘ کہتے ہیں تو میں چِڑ جاتاہوں، اِسی لیے میں اُنہیں ’’ڈاگ پارٹیکلز‘‘ کہتاہوں۔

گزشتہ صدی کے آخری چند سالوں میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور بھاگی چلی جارہی ہیں اور بھاگنے کی رفتار بدستور بڑھ رہی ہیں۔ اس کے بعد ڈارک انرجی کا تصور متعارف ہوا اور یہ تسلیم کرلیا گیا کہ کوئی توانائی ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور جو کائنات کے کل مواد کا تہترفیصد ہے اور ہم ابھی بالکل اندھیرے میں ہیں کہ وہ کیا بلا ہے۔ اور اس لیے ہم اس کا نام ’’ڈارک انرجی‘‘ رکھتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ اندھیرے میں تو آپ ہیں، اس میں انرجی بیچاری کا کیا قصور ہے؟ اس بیچاری کو بلاوجہ کالا کردیا۔ کیا پتہ وہ برائٹ انرجی ہو؟

یعنی لفظوں کی کیفیت وہی ہے جو جسموں کی ہے اور معنی کی وہی جو روح کی ہے۔ پس اگر ابھی ہمارے پاس لفظ ہی نہیں آسکے تو معنی کہاں سے آئیں گے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *