غربت کا خاتمہ۔۔عفت سلیم

عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اسّی فیصد آبادی غریب دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور ملک کے تمام صوبوں میں سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سترہ اکتوبر کو غربت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ١٩٩٣ سے مناۓ جانے والے اس دن کا مقصد غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور غریب کے معیار زندگی کو بلند کرتے ہوئے اسے بہتر بنانا ہے۔ غربت زیادہ ہونے کا ایک اہم پہلو ” فوڈ انفلیشن“ یعنی اشیاۓ خوراک کی چیزوں کا بہت زیادہ مہنگا ہو جانا  ہے۔ اوسط طبقے کی آبادی اپنی آمدن کا ستر فیصد سے زائد خوراک پر ہی خرچ کر دیتی ہے۔

ہمارے ملک میں یہ حال ہے کہ یہاں انجینئرز بیکار بیٹھے ہیں اور گریجویٹس سموسے بیچ رہے ہیں۔  انہیں  ان کے معیار ِ  تعلیم کے مطابق کوئی ملازمت نہیں ملتی،اور وہ در در کی ٹھوکریں  کھانے پر مجبور ہیں ۔ غربت کا خاتمہ تب ہو گا جب روزگار کے نئے  مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ عوام کو زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔ تبھی افراط زر کی شرح بھی قابو میں رہے گی۔ معاشی پالیسی بنانے کے لیے ماہرین درکار ہیں ، جو کہ ایک مزدور پیشہ فرد کی اوسط آمدنی کے مطابق بجٹ بنائیں۔حکومت کی ناقص پالیسیوں نے غریب افراد کے مسائل کو کم کرنے کی بجائے اُن میں اضافہ کیا ہے،لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ۔

غربت اور مسائل کے اس انبار سے نکلنے کے لیے حکومتِ وقت کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”غربت کا خاتمہ۔۔عفت سلیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *