عشق لاحاصل(دوسری ،آخری قسط)۔۔محمد خان چوہدری

شاہ جی کو ہر بزرگ کی طرح ایک برخوردار چاہیے تھا جو ان کی بیک گراؤنڈ سے واقف ہو اور ان کی کہانیاں شوق اور دلچسپی سے سنے۔ ہم ان کے سارے کولیگز  کو اپنے درجنوں فوجی انکلز کی معرفت  سے جانتے تھے ۔ محفل جمتی ، ماضی کے قصے یاد کیے جاتے، ہم سچے جھوٹے لقمے ساتھ دیتے رہتے، بے تکلفی بڑھتی گئی، ایک روز ہم نے چھیڑ دیا۔
“ انکل آپ اتنے ہینڈسم اب بھی ہیں، جوانی تو قیامت ہو گی، عشق تو کیے ہوں گے ؟
لمبی آہ بھر کے بولے۔ یہ پیار محبت تو سب ہی کرتے ہیں۔ ۔بھول جاتے ہیں۔
لیکن مسئلہ اس عشق کا ہوتا ہے جب کوئی  بغیر بتائے ، اظہار کیے بِنا، آپ سے محبت کرے اور اپنی زندگی تیاگ دے”
ہم ماتھے پہ ہاتھ رکھے ہمہ تن گوش تھے ۔
اردلی کو کافی لانے کا کہہ کے ، نظریں خلا میں جمائے ۔ وہ کسی اور سے مخاطب ہوئے۔ “ ماریا تم کدھر ہو ؟
ماریا سُوسن میں تو اب بھی تمہیں نہیں  بھولا۔ تم مجھے کیسے بھول سکتی ہو۔ سُن رہی ہو ! میں اب بھی وہی تمہارا مُش ۔۔۔ مشتاق ہوں، اب تو بالکل تنہا ہوں۔ آؤ مل لو ، کل میں نہ ہوں یا تم ہی نہ ہو ۔ ماریا پلیز ۔۔۔۔ “

عشق لاحاصل(قسط1)۔۔محمد خان چوہدری

مجھے محسوس ہوا کہ شاہ جی کی ہارٹ کال کہیں مل گئی ہے، وہ دل میں جواب سن رہے ہیں۔۔
کافی آنے سے سلسلہ ٹوٹ گیا، شاہ جی نے رومال سے چہرہ ڈھانپ لیا، توقف کے بعد کہنے لگے۔،، کافی پھینٹ کے بناؤ،
بہت دیر گزر گئی، وہ شاید خود کو سمیٹ نہیں  پا رہے تھے، میں نے کپ تھماتے کہا۔۔
“انکل ! میں طالب علم سہی لیکن آپ کی کیفیت محسوس کر رہا ہوں، مجھے چھوٹا سا دوست سمجھ کے آپ یہ غبار نکال لیں، میں بھی آنٹی ماریا سے ملنے کو بیتاب ہوں۔ ایڈریس ہے آپ  کے پاس ؟۔۔وہ خاموش رہے ۔ کافی کی چُسکی لیتے رہے۔۔
ماریا سُوسن سینٹ ۔۔ سکول میں انکل کی کلاس فیلو تھی، اس کی ماں سکول ٹیچر تھی ، سکول سے ملحق گھر ملا ہوا تھا۔۔
دونوں ساتھ کھیلتے بڑے ہو گئے، میٹرک میں پہنچے ، اس وقت کے ماحول میں باہر گھومنے پھرنے کی پابندی نہیں  تھی لیکن ماریا کی ماں کے مذہبی سٹیٹس سے یہ میل نہیں  کھاتا تھا،عشق اور دریا اپنا راستہ خود بناتے ہیں، حل نکل آیا، دونوں ، ہفتے دس دن میں دوسرے کے کسی مہمان کو لینے کا بہانہ کرتے، ریلوے سٹیشن چلے جاتے، پلیٹ فارم ٹکٹ لیتے، وہاں برآمدے کے کونے پہ  پڑے بنچ پر بیٹھ جاتے۔
ریڑھی والے سے کچھ کھانے کو لے لیتے، گاڑیوں کا آنا جانا، کالے انجن سے بوگیوں کی شنٹنگ، کبھی دور سے آتی ریل کی وسل، کبھی پٹڑیوں کی گڑگڑاہٹ، ٹرین سے اترنے والوں اور چڑھنے والوں کی قلیوں  سے  بحث۔۔
کبھی خوف میں ، کبھی جوش اور کبھی یوں ہی ہاتھ پکڑنا، مطلب یار کی مطلوب قربت میسر اور بس۔۔۔
گھنٹہ بھر وہاں گزار کے واپس ہو جاتے۔
شاہ جی نے یہ تفصیل خود کلامی میں بیان کی۔

ہماری اسلام آباد میں جاب کی بات طے ہو گئی، پورشن بھی کرایہ پر لے لیا ۔ایک ہفتہ کی گیس پراجیکٹ سے چھٹی لی،
شاہ جی کے دیئے اشارے لے کر انکے سکول والے ایریا کی مارکیٹ سے پرانے جاننے والوں سے پتہ لگاتے ہم آنٹی ماریا تک پہنچ گئے، کیا مضبوط اعصاب کی بزرگ ہستی، روحانیت سے سرشار۔
پھر اتوار کی دوپہر کو شاہ جی سے کار اور ڈرائیور مانگا کہ کچھ ضروری سامان اسلام آباد چھوڑ کے آنا ہے۔
ساتھ یہ بجھارت ڈالی کہ ممکن ہو تو ڈرائیور واپس آئے تو اس کے ساتھ ریلوے سٹیشن آ جائیں، میرے خاص مہمان آنے والے ہیں، ان سے مل کے آپ خوش ہوں گے۔
دن کے دو بجے ہم پلیٹ فارم ٹکٹ لے کر  آنٹی ماریا کا ہاتھ تھامے چل رہے تھے کہ شاہ جی پہنچ گئے، ہم تینوں مین آفس کی سائیڈ کے برآمدہ میں پڑے بنچ پر بیٹھ گئے،وہ دونوں تو ایک دوسرے کو دیکھے بغیر پہچان چکے تھے، بغلگیر ہوئے تو ہچکیاں بندھنے لگیں، لیکن وہ جگہ کچھ سنسان تھی۔۔
“ مُش تمہیں بتاؤں میں تین دن ایمر جنسی میں رہی، بچنے کی امید نہیں تھی۔۔

رات کو میں نے خداوند یسوع مسیح سے بات کی، ورجن لیڈی کا وسیلہ دیا، میں نے کہا خداوند اگر میں مُش سے ملے بغیر مر گئی تو آپ کو مجھے زندہ کرنا پڑے گا، صبح کو میں ٹھیک تھی، گھر آ گئی۔ تمہارا پیغام بھی مجھ تک پہنچ گیا۔
اب میں راضی برضا چلی جاؤں گی۔۔
شاہ جی نے  بات بدلتے ہوئے  کہا، میں نے تمہیں کتنے گریٹنگ کارڈ بھیجے، کبھی تم نے جواب نہیں  لکھا !
آنٹی نے بیگ سے ڈائری نکال کے اسے تھما دی،اور کہا یہ وہی ڈائری ہے جو کالج چھوڑتے  وقت تم نے دی تھی۔۔
اسے کھول کے دیکھو۔ ۔ ڈائری کی دونوں کور پاکٹس کارڈز سے بھری تھیں۔ ہر صفحے پر موٹے حروف میں لکھا تھا۔
“ مُش تم نہیں  ہو “
اس بنچ پر بیٹھے وقت کتنے عشرے ماضی میں آتا جاتا رہا، لاہور کی طرف سے ریل کار اسی پلیٹ فارم پر آئی،ہم اس سے پہلے ایک دوسرے کو تھامے باہر آئے، کالج کی باؤنڈری وال سے ملحق آفس میں آنٹی اور انکل کو الوداع کے لئے تنہا چھوڑ کے میں باہر سڑک پر آ گیا، عشق کی آتش بس سے باہر تھی،
دو دن میں اسلام آباد شفٹنگ ہو گئی ، شاہ جی کو خدا حافظ کہا تو فرمانے لگے، “ تم یہاں بھی رہ سکتے تھے”
میں نے کہا آئیں آپ کے ساتھ آج کی واک کرتے ہیں، ہارلے سٹریٹ پارک پہنچے تو سامنے گورا قبرستان میں کوئی تدفین کی رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ وہاں چلے گئے، پادری صاحب دعا مانگ رہے تھے۔۔
خدا وند خدا یہ تیری بھیڑ تھی، واپس لے لی گئی، یسوع مسیح کے خدا اس ” ماریا سُوسن” کے درجات بلند فرما۔
ہم نے اونچی آواز میں آمین کہی، انکل سے کہا، اس لئے میں یہاں نہیں  رہ سکتا، موج در موج عشُاق کی جگہ ہے۔۔
میں نے آج سے یہ علاقہ اس کے مکین، ہوا، بادل فضا سب چھوڑ دیئے، آپ میرے لئے دعا ضرور کیجیے گا!

میرے محترم بزرگ مشتاق شاہ جی ، آپکی شفقت، عنائیت اور مروت کا بہت ممنون اور مشکور ہوں لیکن ۔۔ مجھے لگتا ہے میں آپ کی الفت اور محبت کا دلدادہ ہو رہا ہوں، شاہ جی میں اس قابل نہیں  کہ آپ جیسی ہستی کے عشق کی طریقت کا بوجھ اٹھا سکوں، اس لئے مفارقت کی اجازت دیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *