لاہور کے دروازے۔۔شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کل لاہور کے تاریخی مقامات کے حوالے سے ایک تحریر پر کسی صاحب نے لاہور کے دروازوں کے متعلق لکھنے کو کہا تھا۔ اور شاید ان پر “کیفیت بٹ” طاری تھی جو ساتھ ان دروازوں میں بستے لوگوں کے پکوانوں کی بابت بھی پوچھا تھا۔ اب دو باتیں شروع میں عرض کر دوں کہ میں ماہ و سال کے لحاظ سے قدیم سہی لیکن اپنی ہوش میں لاہور کے سب دروازے نہیں دیکھ سکا اور وجہ یہ بنی کہ کچھ دروازے جیسے شاہ عالم دروازہ سرے سے ہی ختم ہو چکا تھا اور اس کی باقیات بھی نہیں ملتیں۔

قدیم لاہور شہر کے گردا گرد باقاعدہ دیوار تھی جس میں داخلے کے لئے بارہ تاریخی دروازے اور ایک موری یعنی چھوٹا راستہ تھا جو اب موری دروازہ کہلاتا ہے۔

لاہور شہر پاکستان کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور یہاں منفرد قدیم و جدید تعمیرات موجود ہیں۔ لاہور شہر کو مغلیہ، سکھ اور انگریز عہد میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور لاہور میں موجود بہت سی قدیم عمارتیں بھی انہی ادوار میں تعمیر کی گئیں۔ لاہور شہر بہت عمدہ انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ اس کے چاروں اطراف کاروباری مراکز بنائے گئے تھے۔ ہر بازار میں محلے، ہر محلے میں کوچے اور ہر کوچے میں تنگ اور بالکل باریک گلیاں یا گزر گاہیں بنائی گئیں۔ حیرت انگیز طور یر تمام کوچے اور محلے ایک دوسرے سے منسلک تھے اور آج بھی کم و بیش اسی طرح موجود ہیں۔ لاہور شہر کے 12 دروزے اور ایک موری (چھوٹا دروازہ) تھا جسے اب دروازے کے طور پر ہی سمجھا جاتا ہے۔ لاہور شہر کے گرد چاردیواری حد بندی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں شہر میں داخل ہونے کے 13 راستے بنائے گئے جن کے نام درج ذیل ہیں:-
1۔ لوہاری دروازہ
2۔ شاہ عالمی دروازہ
3۔ اکبری دروازہ
4۔ بھاٹی دروازہ
5۔ مستی دروازہ
6۔ ٹکسالی دروازہ
7۔ روشنائی دروازہ
8۔ خضری یا شیرانوالہ دروازہ
9۔ زکی یا یکی دروازہ
10۔ دہلی دروازہ
11۔ کشمیری دروازہ
12۔ موچی / موتی دروازہ
13۔ موری دروازہ ہیں۔
ان تیرہ دروازوں میں سے کچھ تو وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دست برد اور امتداد زمانہ کے ہاتھوں منہدم ہو کر صفحہ ہستی سے غائب ہو چکے اور کچھ ابھی بھی موجود ہیں اور کچھ کی بحالی کا کام بھی مختلف ادوار میں ہوتا رہا ہے۔

لوہاری دروازہ

اکبر بادشاہ کے عہد میں تعمیر کردہ شہر کی دیوار کا سب سے پرانا دروازہ لوہاری کہلاتا تھا، جس کا اصل نام درحقیقت لاہور دروازہ تھا جو بگڑ کر لوہاری ہوگیا۔ اس دروازے کا رخ اس زمانے کے مرکزی علاقے سمجھے جانے والے اچھرہ کی جانب ہونے کی وجہ سے لاہور دروازہ رکھا گیا تھا۔ اب یہ شہر کا ایک مصروف ترین کاروباری علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں اکثر پیدل چلنا بھی آسان ثابت نہیں ہوتا جبکہ اس کے ساتھ ہی لاہور کا مصروف ترین انار کلی بازار ہے۔ یہ بازار میں انواع و اقسام کے لاہوری کھانوں کا گڑھ ہے۔

شاہ عالمی دروازہ

شاہ عالمی دروازہ لاہور کی مصروف ترین اور مالیاتی لحاظ سے بہت معروف مارکیٹ کے قریب واقع تھا، تاہم زمانے کی دستبرد کے نتیجے میں یہ منہدم اور سرے سے ہی غائب ہوچکا ہے۔ اس دروازے کا نام اورنگزیب عالمگیر کے بیٹے شاہ عالم پر رکھا گیا تھا۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے دوران اسے جلا کر خاک کر دیا گیا اور اب صرف اس کا نام ہی باقی رہ گیا ہے۔ جس علاقے میں یہ دروازہ واقع تھا وہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور یہاں کئی یادگاریں، حویلیاں اور قدیم بازار واقع ہیں، جن میں رنگ محل، سوہا (صرافہ) بازار، کناری بازار وغیرہ قابل ذکر ہیں جبکہ ایشیاء کی بڑی کلاتھ مارکیٹ اعظم کلاتھ مارکیٹ بھی اسی علاقے میں واقع ہے، اسی طرح سنہری مسجد المعروف اونچی مسجد، مسجد شب بھر، مسجد ایاز و مقبرہ ایاز جیسی تاریخی عمارات بھی اسی دروازے کے پاس واقع ہیں۔

اکبری دروازہ

شہر کی دیوار کی مشرقی سمت میں واقع اکبر دروازے کا نام مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نام پر رکھا گیا۔ اگرچہ برطانوی عہد میں اس کی دوبارہ تعمیر نو کی گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ اب صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ یہاں لاہور کی سب سے بڑی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ اکبری منڈی واقع ہے جہاں ہر قسم کے اجناس کی تجارت ہوتی ہے۔

بھاٹی دروازہ

محمود غزنوی نے راجہ جے پال کو شکست دی تو یہاں موجود دروازے کو راجپوت قبیلے بھاٹ یا بھٹی کا نام دیا گیا، جسے مغل بادشاہ اکبر نے اپنے عہد میں دوبارہ تعمیر کرایا۔ یہ شہر کی دیوار کے مغربی سمت میں واقع ہے اور یہ اپنے مخصوص لاہوری کھانوں کی بناء پر جانا جاتا ہے اور یہاں چوبیس گھنٹے چٹ پٹے کھانوں کے شوقین افراد کی بھر مار رہتی ہے۔
بھاٹی دروازہ کے قریب ہی ایک میوزیم واقع ہے جہاں ہندوستان کی مختلف بادشاہتوں کے عہد کی یادگاریں رکھی گئی ہیں جبکہ بازار حکیماں جیسی تاریخی مارکیٹ بھی اس دروازے کے ساتھ موجود ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ بازار حکیموں کے لیے مخصوص ہے۔
اس دروازے کی ایک خاص اہمیت یہاں شاعر مشرق علامہ اقبال کی دوران گریجویشن رہائش ہے، بازار حکیماں میں جس چھوٹی سی جگہ پر بیٹھ کر علامہ اقبال اپنی پڑھائی اور ساتھیوں سے ملاقاتیں کرتے تھے وہ بدستور موجود ہے۔ یہ دروازہ پہلوانوں کی وجہ سے بھی معروف ہے جنھوں نے یہاں سے نکل کر برصغیر میں کافی دھوم مچائی۔

مستی دروازہ

شاہی قلعے کی پشت میں واقع مستی دروازہ کا اصل نام مسجدی دروازہ تھا، جو بگڑ کر مستی ہوگیا۔ بادشاہ اکبر کی والدہ مریم کے نام سے منسوب مسجد اس دروازے میں واقع ہے۔ لوہاری اور بھاٹی کی طرح یہ علاقہ بھی اپنے بہترین کھانوں اور دودھ کی دکانوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، خاص طور پر ربڑی والا دودھ اور قلفی تو سیاحوں کی جان سمجھا جاتا ہے جن کی دکانوں پر چوبیس گھنٹے رش رہتا ہے۔

ٹکسالی دروازہ

ٹکسالی دروازہ کا نام یہاں سکے ڈھالنے کے لیے موجود ٹکسال کی وجہ سے پڑا، تاہم آج یہ ٹکسال اور دروازہ دونوں ہی منہدم ہوچکے ہیں۔ اور اب یہ جگہ کھانے پینے کے شوقین لاہوریوں کے لیے پسندید مقام ہے۔

روشنائی دروازہ

جنوبی سمت میں واقع یہ دروازہ شاہی قلعے اور بادشاہی مسجد کے درمیان واقع ہے۔ یہ دروازہ دوسرے مغلیہ دور میں تعمیر شدہ دروازوں سے اونچا اور چوڑا ہے۔ عالمگیری دروازے کے بعد مغلیہ فوج میں شامل ہاتھیوں کا دستہ اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوا کرتا تھا۔ اسی دروازے سے ملحق مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں حضوری باغ افغانستان کے شاہ شجاع سے مشہور کوہ نور ہیرا چھیننے کی خوشی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
شام کے وقت اس دروازے کو روشن کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے ہی اسے روشنائی دروازے کا نام دیا گیا۔

خضری یا شیرانوالہ دروازہ

اسے پہلے خضری دروازے کا نام دیا گیا جس کی وجہ معروف بزرگ حضرت خواجہ خضر الیاس تھا جنھیں امیر البحر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آبِ حیات دریافت کرنے میں کامایب رہے تھے تاہم مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں اس کا نام تبدیل ہوگیا اور یہ شیرانوالہ دروازہ مشہور ہو گیا۔
اس دروازے کے اندر روایتی پرانی لاہوری طرز زندگی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے اور یہاں کے تنگ بازار میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ اس دروازے کی موجودہ حالت انتہائی خستہ ہے اور اس کا پلستر اور رنگ مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے، بل بورڈز اور اشتہاری بینرز کی مہربانی سے جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں جس کی وجہ سے ڈر ہے کہ کہیں یہ تاریخی ورثہ بھی منہدم نہ ہو جائے۔

زکی یا یکی دروازہ

مشرقی سمت میں واقع ذکی دروازہ کا نام ایک شہید صوفی بزرگ زکی کے نام پر رکھا گیا۔ اس صوفی بزرگ نے شمال سے آنے والے تاتاری حملہ آوروں کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا تھا جس کے دوران اس کا سر کاٹ لیا گیا اور ان کا مزار اسی دروازے کے قریب موجود ہے۔
اس دروازے کے ارگرد متعدد حویلیاں اور مندر موجود ہیں جہاں اکثر سیاحوں کا رش رہتا ہے۔

دہلی دروازہ

لاہور کے موجود دروازوں میں سے ایک دہلی دروازہ ہے جو مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا، یہ شہر کی فصیل کے مشرق میں واقع ہے اور اس سے ملحق ہی کشمیری دروازہ ہے۔ چونکہ اس دروازے کا رخ دہلی کی جانب تھا اسی لئے اس کا نام دہلی دروازہ ہی رکھ دیا گیا، زمانہ قدیم میں یہ لاہور کا مصروف ترین علاقہ سمجھا جاتا تھا جبکہ اس کے بائیں جانب انتہائی خوبصورت شاہی حمام موجود ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر کے رکھ دیتا ہے۔
دروازے کے اندر متعدد تاریخی عمارات، پرانی گلیاں اور لنڈا بازار موجود ہیں، تاریخی وزیر خان مسجد بھی اسی دروازے کے اندر موجود ہے۔ یہاں موجود پرانی حویلیاں دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں جبکہ یہاں ایک اہم ہندو یادگار شوالہ بابا بخار گرو بھی موجود ہے۔

کشمیری دروازہ

اس دروازے کا رخ کشمیر کی جانب ہے تو اسی لئے اسے کشمیری دروازے کا نام دیا گیا، اس دروازے کے اندر کشمیری بازار کے نام سے مشہور مارکیٹ موجود ہے اور اس کی تنگ گلیوں میں بھی متعدد بازار موجود ہیں۔
اسی طرح یہاں سے ایک سڑک کے ذریعے تاریخی وزیر خان مسجد جایا جا سکتا ہے جبکہ ایک دوسری سڑک اعظم کلاتھ مارکیٹ تک لے جاتی ہے۔

موچی / موتی دروازہ

موچی دروازہ کا اصل نام بادشاہ اکبر کے دور کے ایک محافظ پنڈت موتی رام پر موتی دروازہ رکھا گیا تھا تاہم آہستہ آہستہ اس کا نام بگڑتے ہوئے موچی دروازہ مشہور ہوگیا۔
شہر کے قدیم علاقوں میں سے ایک ہونے کے باعث یہاں رونق کافی دیکھنے میں آتی ہے اور ماضی میں یہ سیاسی جلسوں کی وجہ سے بھی پورے ملک میں جانا جاتا تھا جہاں کافی یادگار جلسے بھی منعقد ہوئے، اسی طرح یہاں مغل دور کی چند مشہور حویلیاں بھی موجود ہیں جن میں مبارک حویلی، نثار حویلی اور لال حویلی قابل ذکر ہیں۔
موچی دروازے کا علاقہ قدیم دور سے ثقافت اور صنعت و حرفت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی تاریخی حویلیاں، کھانے، محلے اور بازار قدیم ادوار میں اس علاقے کی خوشحالی کی گواہی دیتے ہیں۔

موری دروازہ

یہ سب دروازوں سے چھوٹا ہے، یہ لوہاری اور بھاٹی دروازے کے درمیان میں واقع ہے، سکھ دور میں اس دروازے سے شہر کا کوڑہ کرکٹ باہر نکالا جاتا تھا۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *