چڑیا کا سفر ۔ زندگی (2)۔۔وہاراامباکر

سردی کی آمد آمد ہے۔ اس بار کہرا جلد پڑنے لگا ہے اور شام کی خنک ہوا چل رہی ہے۔ نوجوان چڑیا کے ذہن میں دبا ہلکا سا احساس اور ارادہ مضبوط تر ہو رہا ہے۔ یہ یورپ کی لال چڑیا (روبن) ہے۔ اس نے پچھلے چند ہفتوں میں کیڑوں، مکڑیوں، کیچووں اور جھاڑی سے پھلوں کی مقدار عام حالات سے زیادہ مقدار میں لی ہے۔ جب اس کا کنبہ کچھ ماہ پہلے یہاں پہنچا تھا، اس کا وزن اس وقت سے اب تک دگنا ہو چکا ہے۔ اس میں زیادہ اضافہ چربی کا ہے۔ یہ اُس لمبے سفر پر اس کے لئے ایندھن کا کام کرے گا جس پر یہ روانہ ہونے لگی ہے۔

سویڈن کے سفیدے کے جنگل سے اس کا پہلا سفر ہے۔ اس کے بچے اب خودمختار ہو چکے ہیں۔ اپنی والدہ کے طور پر ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانے کے بعد یہ جنوب کی طرف گرم موسم کی طرف جانے کے لئے آزاد ہے۔

سورج غروب ہوئے دو گھنٹے گزر چکے ہیں۔ شاخ کی نکڑ پر بیٹھی یہ اپنا جسم ہلا رہی ہے جیسے میراتھن بھاگنے سے پہلے ایتھلیٹ وارم اپ کر رہا ہو۔ نارنجی سینہ چاند کی روشنی میں چمک رہا ہے۔ وہ گھونسلہ جسے اس نے بڑی محنت سے بنایا تھا، اس سے چند فٹ دور ہے۔ درخت کی کائی بھری چھال سے ڈھکا اس کا گھر اب پرانی مدہم یاد رہ جائے گا۔

نر اور مادہ ۔۔۔ بہت سی چڑیوں نے آج رات نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رات کی مخلوقات کی آوازوں میں ان سب کی چہچہاہٹ کی اونچی آوازیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جیسے یہ جنگل کے دوسرے باسیوں کے لئے اپنی رخصت کا اعلان کر رہی ہوں اور بتا رہی ہوں کہ گھونسلے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ وہ بہار کو یہاں لوٹیں گے۔

سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا اور شام کے آسمان کی طرف اڑان بھر لی۔ سردیوں میں راتیں لمبی ہیں۔ دس گھنٹے اڑنے کے بعد ہی یہ آرام کے لئے نیچے اترے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے سفر کے لئے رخ متعین کیا اور یہ زاویہ 195 ڈگری کا ہے۔ آنے والے دنوں میں اسی سمت سفر کرتے ہوئے یہ بڑھتے جائیں گے۔ اچھے دن میں دو سو میل کا سفر کر لیں گے۔ اس کو معلوم نہیں کہ سفر میں کیا ہو گا۔ نہ ہی معلوم ہے کہ وقت کتنا لگے گا۔ سفیدے کا درخت مانوس جگہ تھی لیکن چند میل کے بعد چاندنی میں نہائی ہوئی جھیل، وادیوں اور شہروں کے اوپر سے گزرنا ہے۔

بحیرہ روم کے قریب یہ اپنی منزل پر پہنچے گی۔ اس کا ٹھکانہ کوئی خاص جگہ نہیں۔ جب کوئی اچھی جگہ ملی تو قیام کر لے گی۔ مقامی نشانیاں یاد رکھے گی تا کہ اگلے برسوں کے سفر میں کارآمد ہوں۔ اگر اس میں اتنی طاقت ہوتی تو یہ شمالی افریقہ تک پہنچ جاتی لیکن یہ اس کی پہلی ہجرت ہے اور اس کا مقصد نورڈک سردی کی شدت سے بچنا تھا۔

اس کے ساتھ آنے والی دوسری چڑیاں بھی اسی سمت کا سفر کر رہی ہیں۔ ان میں سے کئی کے لئے یہ پہلا سفر نہیں۔ اس کی رات کی نظر اچھی ہے لیکن یہ کسی لینڈمارک کو نہیں دیکھ رہی ۔۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں ۔۔ نہ ہی یہ ستاروں کے پیٹرن دیکھ رہی ہے ۔۔۔ جیسا کہ رات کو ہجرت کرنے والے کئی پرندے دیکھتے ہیں۔ اس کے پاس ایک بڑی انوکھی صلاحیت ہے۔ جو اس کے لئے دو ہزار میل کا یہ سالانہ سفر ممکن کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہجرت جانوروں میں عام ہے۔ سالمن مچھلی سمندر سے سفر کر کے اس جگہ پر جاتی ہیں جہاں پیدا ہوئی تھیں۔ مونارچ تتلیاں خزاں میں ہزاروں میل جنوب کا سفر کرتی ہیں اور بہار میں واپسی کا۔ جنوبی بحرِاوقیانوس میں سبز کچھوے ہزاروں میل کا سفر ہر تین سال بعد کرتے ہیں کہ اس جگہ پر انڈے دئے جائیں جہاں یہ پیدا ہوئے تھے۔ اور یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ وہیل، پرندے، مینڈک، سالامینڈر، کاریبو، کانٹوں والے لابسٹر، کئی اقسام کی شہد کی مکھیاں ایسے سفر باقاعدگی سے کرتے ہیں جو عظیم انسانی مہم جووٗں کے لئے بھی چیلنج ہوں۔

یہ صدیوں سے معمہ رہا کہ یہ کیا کیسے جاتا ہے۔ اب ہمیں علم ہے کہ اس کے کئی طریقے ہیں۔ کچھ دن کو شمسی نیوی گیشن کا استعمال کرتے ہیں اور رات کو ستاروں کی مدد سے راستہ دیکھتے ہیں۔ کچھ راستے کے اہم مقامات یاد رکھتے ہیں۔ کچھ اپنی قوتِ شامہ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس چڑیا کا طریقہ یہ نہیں۔ یہ زمین کے مقناطیسی فیلڈ کی سمت اور طاقت ڈیٹکٹ کرتی ہے۔ اس کو میگنیٹوریسپشن کہا جاتا ہے۔ کئی دوسری مخلوقات بھی یہ صلاحیت رکھتی ہیں لیکن یہ چڑیا جس طرح راستہ تلاش کرتی ہے ۔۔۔۔ یہ دریافت سب سے دلچسپ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا مکینزم کہ کتنی دور اور کس سمت اڑنا ہے، اس کے ڈی این اے کا حصہ ہے جو اسے والدین کی طرف سے ملا تھا۔ اور اپنی اس حس کی مدد سے یہ راستہ تلاش کرتی ہے۔ مینگنیٹوریسپشن ایک پہیلی تھی۔ کیونکہ زمین کا مقناطیسی فیلڈ بہت ہی کمزور ہے۔ ایک عام فریج میگنیٹ سے سو گنا کمزور۔ اور یہ اس کا معمہ تھا۔ اس کو ڈیٹکٹ کرنے کے لئے جاندار میں کسی کیمیائی ری ایکشن کا رونما ہونا ضروری تھا کیونکہ ہمارے سمیت ہر جاندار کسی بھی بیرونی سگنل کا اسی طرح پتا لگاتا ہے۔ لیکن جتنی توانائی زمن کا مقناطیسی فیلڈ مہیا کرتا ہے، یہ نامیاتی مالیکیول کے بانڈ توڑنے کا ایک اربواں حصہ ہے۔ تو پھر یہ کیسے؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرسرار مظہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں، دلچسپی اور توجہ کا باعث ہوتی ہیں کیونکہ یہ ہماری دنیا کے بارے میں سمجھ کی بنیاد ہلا سکتی ہیں۔ کوپرنیکس کو بطلیموس کی جیومٹری سے چھوٹا سا مسئلہ تھا اور اس نے کائنات میں زمین کی مرکزی حیثیت ختم کر دی۔ ڈارون کا جنون جانوروں کی جغرافیائی تفیق پر تھا کہ آخر جزیروں پر جانور الگ کیوں؟ اور اس نے بائیولوجی کی سائنسی بنیاد استوار کی۔ عطارد کے مدار کے چھوٹے سے مسئلے نے جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی اور بلیک باڈی ریڈی ایشن کا چھوٹا سا مسئلہ حل کرنے کے عمل نے کوانٹم فزکس کو جنم دیا۔ کیا اس چڑیا کی ہجرت کا حل بائیولوجی میں اس پیمانے کا انقلاب برپا کر سکتا ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسرار فکری مداریوں اور سوڈوسائنس کے کھیلنے کا میدان بھی ہوتے ہیں۔ اور مقناطیسی فیلڈ اس طرح کے طوفانوں کی زد میں رہا ہے۔ ٹیلی پیتھی سے قدیم ذہین مخلوق کی لگائی غیرمرئی لکیروں اور روحانی توانائی کے خیالات کی بھرمار کی وجہ سے سنجیدہ سائنس میں اس بات پر شک کا اظہار کیا جاتا رہا کہ جانور مقناطیسی فیلڈ کو محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسا کوئی مالیکیولر مکینزم تھا ہی نہیں جو اسے ممکن بناتا۔ کم از کم روایتی بائیوکیمسٹری کی نظر سے ایسا ہونا ناممکن تھا۔ اس بارے میں بات کرنے والے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

جرمن پرندوں کے ماہر میاں بیوی وولف گینگ اور روسویتھا ولشکو نے “سائنس” نامی جریدے میں 1976 میں اپنا پیپر شائع کیا جس میں اس کو ثابت کر دیا گیا تھا کہ یہ چڑیاں مقنایطیسی فیلڈ پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ اور اس سے زیادہ انوکھی بات یہ تھی کہ یہ عام قطب نما کی طرح نہیں۔ عام قطب نما شمالی اور جنوبی قطبین کی مدد سے اس کو بتاتا ہے۔ جبکہ اس چڑیا کا ڈیٹکٹر قطب اور خطِ استوا میں تفریق کرتا تھا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قطب نما کیسے کام کرتے ہیں؟ اس کا تعلق مقناطیسی فیلڈ لائن سے ہے۔ نا دکھائی دینے والی لکیریں جو مقناطیسی فیلڈ کی تعریف کرتی ہیں اور قطب نما کی سوئی اس فیلڈ میں ان کے مطابق ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ شاید آپ نے بار مقناطیس کے فیلڈ میں لوہے کے برادے سے تجربہ کر کے دیکھا ہو۔ زمین بھی ویسا ہی بڑا سا میگنٹ ہے اور اس کا فیلڈ قطب، جنوبی سے نکل کر قطبِ شمالی کی سمت لوپ بنا کر جاتا ہے۔ قطبین کے نزدیک یہ عمودی طور پر زمین کی طرف آتا ہے جبکہ خطِ استوا کے قریب جاتے وقت فلیٹ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی کمپاس یہ زاویہ معلوم کر لے تو اسے انکلی نیشن کمپاس کہا جاتا ہے۔ یہ خطِ استوا اور قطبین کے درمیان تفریق کر سکتا ہے لیکن قطبِ جنوبی اور قطبِ شمالی کے بیچ نہیں۔ ولشکوز کی تحقیق نے واضح کر دیا تھا کہ اس چڑیا کا طریقہ انکلی نیشن کمپاس والا ہے۔

اگلا مسئلہ یہ تھا کہ کسی کو معمولی سا آئیڈیا بھی نہیں تھا کہ بائیولوجی میں یہ ممکن کیسے ہے۔ کیونکہ نہ صرف ایسا مکینزم معلوم نہیں تھا بلکہ تصور بھی نہ تھا کہ ایک جانور کے جسم میں زمینی مقناطیسی فیلڈ کا زاویہ محسوس کرنے کی صلاحیت آخر کیسے ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ چھوٹا سا مسئلہ تھا جس کا جواب چونکا دینے والا تھا۔ اور اس نے اکیسویں صدی میں سائنس کا نیا شعبہ شروع کرنا تھا جو محض چند سال قبل تک متنازعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس چڑیا کا سفر بائیولوجی کو کوانٹم مکینکس کی عجیب سائنس میں لے جانے والا پہلا قدم تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *