تحقیر ۔۔ مختار پارس

انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو تحقیر سے دیکھے۔ مگر یہ تدبیر کام نہیں آتی اور ہر بار تحقیر ہو جاتی ہے۔ ہم انسان ہر اس شخص کو حقیر جانتا  ہے، جو زیرِدست رہتا ہے۔ تفریق اگر تحقیر کا موجب بن جاۓ تو ذمہ دار فرد کی بجاۓ معاشرہ ہوتا ہے۔ فرد تو اس جرم میں صرف یہ سوچ کر شریکِ کار ہوتا ہے کہ شاید وہ کسی دوسرے سے اس لیے برتر ہے کہ اسکے اسباب زیادہ ہیں یا دوسرے اس کے محتاج ہیں۔ انسان نے خدا کی تقسیم کی منطق کو نہیں سمجھا۔ پیدا کرنے والا سب سے یکساں محبت کرتا ہے۔ جسے کچھ دیا جاتا ہے، اسے حقارت سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسان کی کیا مجال کہ وہ اپنے زیرِدست اور زیرِاثر لوگوں کی ہتھیلی پر کچھ رکھتے ہوۓ رعونت سے انہیں دیکھے۔ ایسے لمحوں میں اسے سر جھکا کر کلمہء شکر پڑھتے کر روتے ہوۓ سروں پر ہاتھ رکھنا چاہیے کہ اس ذمہ داری کےلیے اس کا انتخاب ہوا ہے۔ وہ یہ ذمہ داری احسن طریقے سے ادا نہیں کرے گا تو خدا کی نظر میں حقیر ہو جاۓ گا۔ کیا خدا نے کسی کو کچھ دیتے وقت حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے؟ تو جس تخلیق کی مٹی اس نے اپنے ہاتھوں سے گوندھی ہے، اس سے وہ کیا توقع کر سکتا ہے؟

یہ دنیا کا طریق ہے کہ جو جتنا وفادار ہو، اس کو اتنا کمتر سمجھا جاتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ بات لغو نظر آتی ہے مگر یہی حقیقت ہے۔ قدرت نے ظرف انسان میں ایک جیسا نہیں رکھا۔ اگر کوئی ہماری وفاداری کا بھرم رکھے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا حق تھا اور اس وفادار کو یہ فرض ادا کرنا تھا۔ اپنا حق جتلاتے جتلاتے انسان دوسروں کو یوں سمجھنے لگتا ہے جیسے وہ اس کے سامنے سر جھکانے کےلیے پیدا ہوۓ ہیں۔ وہ اپنے وفاشعاروں سے یہ توقع کرتا ہے کہ خدمتوں اور عقیدتوں کا سلسلہ تمام عمر اور بلامعاوضہ قائم و دائم رہنا چاہیے۔ اور اگر اس حقیر خادم نے کبھی کسی ضرورت کے تحت کبھی اپنے لیے سوچ لیا تو اس کی سابقہ خدمات ایک ہی لمحے میں فراموش کر دی جاتی ہیں اور اسے بےوفا اور نمک حرام جیسے القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔ اسے حقارت سے یوں دیکھا جاتا ہے جیسے اس نے اپنی تخلیق کے وقت لکھے کسی معاہدے کی خلاف ورزی کر دی ہو۔ مگر ایک معاہدہ ہے جو ہر انسان اپنی تخلیق کے وقت اپنے خالق سے کرتا ہے۔ ماں کی نظر میں سارے بچے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ خدا کی نظر میں ساری تخلیق انسان ہی رہتی ہے۔ پھر معاہدے کی خلاف ورزی نہ جانے کیوں ہو جاتی ہے۔ ایک ماں کے بچے ایکدوسرے میں محکوم تلاش کرتے ہیں۔ ایک خدا کی مخلوق اپنے جیسوں کےلیے اچانک معبود بن جاتی ہے۔ جو خدا کے سامنے سر جھکانے سے کتراتے ہیں، وہ انسانوں کا سر اپنے سامنے سر جھکا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انسان کو اپنے ارد گرد ایسے حقیروں کی تلاش رہتی ہے جو اس کی وفا کا دم بھرتے رہیں۔ اور جو ان کی وفا کا دم بھرتے ہیں، وہ ہمیشہ حقیر رہتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تامل ہو سکتا ہے، مگر انکار نہیں۔

پھر میں نے ایک گروہ ایسا بھی دیکھا جو ان لوگوں کو حقیر جانتا ہے جن کے احسانوں کے بوجھ تلے وہ خود دبے ہوتے ہیں۔ آپ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو آپ کو اس حیرت انگیز حقیقت سے سامنا ہو گا کہ جو لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں، ان پر یقیناً  آپ کا کوئی نہ کوئی احسان ہوتا ہے۔ نفرتوں کے قیدی اس احساس سے نہیں نکل سکتے کہ اس شخص نے ہمارے وہ دن دیکھ رکھے ہیں جب انہیں کوئی ضرورت تھی۔ انہیں یہ احساس مارے دیتاہے کہ وہ شخص جب تخت نشیں تھا تو وہ خاک نشیں تھے اور اس نے انہیں اپنے ساتھ اٹھا کر بٹھایا تھا۔ اب جب وہ خود تخت نشیں ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ صرف تخت نشینی کے ہی قابل تھے اور احسان کا عمل صرف ایک اتفاق تھا۔ ان کی نظروں میں ان کی بقا ان نفرتوں میں ہے جو اس احسان کے بدلے میں ادا کی جانی ہیں۔ ریاضتوں اور خدمتوں کا صلہ لوگ زاہدِ نیم شب کو حقیر گردان کرادا کردیتے ہیں اور انہیں کوئی پشیمانی نہیں ہوتی۔

میں نے ایک دن بابا سے پوچھا کہ وہ سب لوگ جو تمام عمر آپکے ساتھ ساتھ چلتے رہے، کیا ہوۓ؟ وہ سارے جن کو آپ نے اپنے حصے کی مسکراہٹیں بھی دے دیں، ان کا تو رخ ہی ادھر نہیں۔ وہ جن کا دن آپ کی آنکھوں میں سورج دیکھ کر طلوع ہوتا تھا، وہ بے شرموں کے افق میں کہاں غروب ہو گئے۔ یہ دھوکہ اس نے دیا ناں جس کو آپ نے سینے سے لگایا تھا اور یہ چوٹ اس کی لگائی ہوئی ہے جن کے زخموں پر مرہم رکھتے رکھتے، جن کی خاطر دعا کے ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے آپ بوڑھے ہو گئے ؟۔۔ بابا سن کر ہنس پڑے۔ کہنے لگے کہ اچھا کیا کہ تم نے یہ بات پوچھ لی۔ تمہارا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رب نے کتنی دفعہ “فبای علی ربکما تکذبان” کہہ کر اپنے احسان گنواۓ ہیں، کبھی انسان نے رب کی طرف بھی مڑ کر دیکھا ہے؟ خود سے نفرت کرنے والوں کو حقیر مت جانو۔ ان کو اپنا کام کرنے دو اور خود اپنا کام کرو۔ تم بس رب کی پہچان رکھو اور یہ سمجھو کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ پرندے توانا ہو کر اڑ جاتے ہیں تو گھونسلوں میں واپس نہیں آتے۔ جبلتیں پہچان پر حاوی ہو جائیں تو غصہ نہیں کرتے۔ آنکھیں چرانے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ دیکھو اور انہیں جانے دو۔ وہ زخم لگانے پر اتر آئیں تو ان کےلیے دعا کا انتظام کرو اور موقع ملے تو ان کی اور مدد کرو۔ مدد بھی ایسے کرو کہ ان کو معلوم بھی نہ ہو سکے کہ وہ مدد تم نے کی ہے۔ ان کی مدد کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں آزمائش سے بچانے کےلیے  کنارہ کر لو۔ اور اپنے لیے کچھ اور محسنوں کا انتظام کرو جن کے سروں پر تم ہاتھ رکھ سکو تاکہ جب وقت آۓ تو رب کے سامنے شرمندہ نہ ہو سکو۔

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *