اُداس قبیلے کے لوگ۔۔علامہ اعجاز فرخ

ایک عرصہ دراز کے بعد حضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب کی ایک تحریرمیرے(وصی بختیار)  نام ایک خط کی صورت موصول ہوئی۔ آپ تمام قارئین کی نذر  کر رہا ہوں۔

عزیز از جان برخوردار سید وصی اللہ بختیاری طولعمرہ
خوش رہو، آباد رہو، سلامت رہو۔
ہر چند کہ اس کرّہ ارض پر کوئی وجود سلامت نہیں رہے گا۔ نہ بحرنہ بر۔ نہ کوہ نہ دشت، سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ بس اس کا نام باقی رہ جائے گا۔ صبح صبح میرے پوتے نے یہ نوید سنائی کہ خط آیا ہے اور وہ بھی تمہارا۔ میں نے پوچھا:”بیٹا! سب کچھ تو سنسان پڑا ہے۔ شہر خالی، کوچہ خالی، جادہ خالی، راہ خالی، حرم خالی، بت خانہ خالی، کلیسا خالی، آتش کدہ خالی، شاخ خالی، بلبل اداس، مطربِ خوش نوا خاموش، نغمہ گر کے سر چپ، سوار رہوار کو ترسے تو عاشق دیدار ِ یار کو۔ اور پاؤں کوچہ ء  دلدار کو ترسے۔ آنکھیں خواب، اور خواب تعبیر کی راہ دیکھے۔ ایسے میں نامہ بر کہاں سے آگیا۔ سچ بتلاؤ، انسان تھا کہ فرشتہ؟۔ میرا سلام کہیواگر نامہ بر ملے۔“ وہ ہلکے سے مسکرا اٹھا جیسے اس کے بچپن میں اس کی معصومیت پر میں مسکرا اٹھتا تھا۔ پھر کہنے لگا ”دا دا! نامہ بر نہ انسان ہے نہ فرشتہ، نہ حور نہ پری۔ اب وہ دن نہیں رہے کہ اگر کبھی خط نہ آئے تو آپ کہا کرتے تھے:
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

پھر اپنی جیب سے کوئی مستطیل چیز نکال کر انگلی سے دو چار ٹھونگیں مار کر میرے روبرو کر دیا۔ کوئی رنگا رنگ شیشہ تھا۔ میں نے پوچھا”بیٹا! یہ کیا ہے؟۔“ اس نے کہا ”اسے ہم لوگTABکہتے ہیں۔ آپ کے زمانے کا جامِ جم ہے۔ اب جام جم کسی جمشید کی ملکیت نہیں ہے اورنہ اس کے ٹوٹ جانے کا غم ہے۔ اب تو ”اور بازار سے لے آئیں اگر ٹوٹ گیا”۔ اب جام سفال ڈھونڈنے سے نہ ملے گا۔ جام جم ہزار ہزار مل جائیں گے۔ یہی جام جم ڈاک بھی، ڈاک خانہ بھی۔ ہاتف بھی، سیربیں بھی، آئینہء  جہاں نما بھی۔ آپ لوگ تو اداس قبیلے کے افراد ہیں، پل بھر کا فاصلہ برسوں میں طے کرنیوالے سُست قدم، خوش پریشاں لوگ۔ ہجر وفراق کے نوحہ کناں لوگ۔ اب چلمنوں کے دھندلکوں میں روئے یار کی جھلک کے لیے پیہم طواف ِ کوچہ ء جاناں کے دن گئے۔ اب تو آئینہ میں ہے تصویرِ یار۔ جب ذرا گردن جھکائی، دیکھ لی۔ بولتی ہوئی، نکھری ہوئی، سجی ہوئی، جیسے چاہیں روبرو کر لیں۔ مندرجہء بالا بھی، حسب ِ ذیل بھی۔ وہ مجھے خط تھما کر ہنستا ہوا چلا گیا۔ میں نے خط کو چوما۔ تمہاری تحریر نہیں تھی، عکسِ تحریر تھا۔ آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، لیکن عکس اور ہے، حقیقت اور۔ بادِ صبا اور ہے اور بند کمرے میں پنکھے کی ہوا اور۔ ۔خط پر ہاتھ پھیرا تو کاغذ میں مہک تھی، لمس کی خوشبو نہ تھی۔ بہر حال تمہارے خط نے فرحت بخشی ورنہ تو ”وہ حبس ہے کہ لو ء کی دعا مانگتے ہیں لوگ“۔

تمہیں تو پتا ہے کہ سولہ مارچ دو ہزار بیس کو میں نے 77عیسوی  سال پورے کیے، اب 78 میں چل رہا ہوں، مگر مجھے غور سے دیکھو۔ میرے چہرے پر پڑی جھریوں کا شمار کرو۔ ہر شکن میں صدیوں کی داستان پوشیدہ ہے۔ مجھے ماہ و سال میں مت دیکھو۔ میں وقت کا بیٹا نہیں ہوں۔ وہ تو سیاست دان ہوتے ہیں،”ابن الوقت“۔ میں تو صدیوں کا فرزند ہوں۔ انسانیت کا بار ِ امانت اٹھائے ہوئے صدیوں کے پیچ و خم میں رقم کردہ انسانوں کی داستانوں کا محافظ۔ انسان کی بزرگی، عظمتوں، بلندیوں  کے ساتھ ساتھ اس کی پستیوں کا بھی گواہ۔ زر آسودہ قلم سے لکھی ہوئی تاریخ کا بھی قاری اور فگار انگلیوں سے خونچکاں لکھی جانے والی تاریخ کا بھی امین۔ سنتا ہوں کہ دنیا میں کوئی وباء  چل رہی ہے۔ اجل  کا پیٹ خالی ہے سو ہزاروں کو نگل کر بھی منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ وقت نے انسانوں کے پیر میں خوف و دہشت کی بیڑی ڈال دی ہے۔

تمہارے خط سے یوں لگا جیسے جھلستے ہوئے ریگستان میں نرم ہوا کا جھونکا۔ ساری دنیا وبا کی لپیٹ میں ہے۔ جب دلی وبا کی لپیٹ میں تھی، غالبؔ سے احوال پرسی کی گئی تو فرمایا ”میں اکہتر برس کا بوڑھا اور انہتر برس کی میری بیوی۔ جو وبا ان میں کسی کو نہ لے گئی تو کیا خاک وبا۔“ اچھا سنو! وبائیں تو دنیا میں بہت آئیں۔ جب سے دنیا میں حمل و نقل کے ذرائع بڑھے، انسان نے سیر و سفر کی ٹھانی۔ کبھی شوق سیاحت، کبھی حصول دو لت کے لیے۔ تم نے تو پڑھا ہوگا، کولمبس نے امریکہ دریافت کیا۔ وہ دراصل چلا تھا ہندوستان کی طرف۔ بحر اوقیانوس میں سفر کرتے ہوئے، لیکن بحر اوقیانوس میں سفر کرتے ہوئے پہنچ گیا امریکہ۔ واپسی میں وہاں کے باشندوں میں سے کچھ افراد کو قید کر کے واپس  پہنچا لیکن ساتھ ہی متعدی بیماریاں بھی لے آیا۔ یہ واقعہ 1492کا ہے۔ ایک اور نام سے بھی تم واقف ہو۔ لوئی پاسچر۔ جس نے جرثومے کی دریافت کی، اچھے اور بُرے کردار کے جرثومے۔ اس نے ٹیکے بھی دریافت کیے۔ ملک ملک میں اس کے نام کی یادگاریں قائم ہیں۔ آخر کو انسانیت پر احسان کیا۔ فرانسیسیوں کی یہ دریافت بھی تمہیں دلچسپ معلوم ہوگی کہ فر انسیسی میں قرن کہتے ہیں چالیس کو اور طائن کہتے ہیں دن کو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ انسان کے بدن میں ہر آن ٹوٹ پھوٹ اور تعمیر جاری رہتی ہے اور چالیس دن میں سوائے قلب، دماغ اور آنکھ کے سارا بدن ازسر نو تعمیر ہو جاتا ہے۔ متعدی بیماریوں کا یہ علاج دریافت ہوا کہ بیمار کو صحت مندانسانوں سے اگر چالیس دن دور رکھا جائے تو وہ از خود ٹھیک ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی لفظ اور یہی طریقہ کم و بیش آج تک قرنطینہ کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہے۔

میں تو یوں بھی بدنام ہوں کہ مجھے حیدرآباد کے سوا کچھ نہیں سوجھتا۔ الزام خوبصورت ہو تو اس کی تردید کو گناہ سمجھتا ہوں۔ حیدرآباد اور طاعون، یہ رشتہ بہت پرانا رہا ہے۔ گولکنڈہ میں طاعون پھیلا۔ قلی قطب شاہ نے ایک کھلے مقام پر نماز پڑھ کر دعا مانگی کہ وبا سے رعایا کو نجات مل جائے۔ سنتے ہیں کہ آناً فاناً یہ مرض دفع ہو گیا۔ یوں بھی شہر کی وسعت ناگزیر ہو گئی تھی، سو اس نے جب شہر کی بنیاد رکھی تو جس مقام پر نماز پڑھی تھی وہیں چار مینار تعمیر کیا گیا۔ اوپر مسجد بھی، مدرسہ بھی۔

میرے بچپن میں بھی یہ مرض عود کر آیا۔ اس شدت سے کہ محلے میں کوئی میت ہوئی، اسے دفن کر کے لوٹو تو دوسری میت تیار ہوتی تھی۔ آصف جاہ سابع فرمان روائے دکن، خد اان کے درجات عالی کرے  انہوں نے، فوراً کیمپ بنوائے۔ پیٹلہ برج جہاں آج پولیس کی پریڈ ہو تی ہے وہاں، کالی قبر کے آگے ایک اور، چار گھاٹ تک یہ علاقے رودِ موسی ٰ کے کنارے تھے۔ فرحت بخش علاقے۔ اڈیکمیٹ میں ایک عارضی ریلوے اسٹیشن قائم کیا۔ اس کے قریب کیمپ بنوایا۔ مادنا پیٹ عید گاہ کے مقابل وسیع میدان میں ایک وسیع کیمپ،رعایا کو علاج، غذا، پھل، دوائیں سب مفت فراہم کیں۔ یہ وبا ابھی دفع ہوئی کہ دق کے موذی مرض نے آن گھیرا۔ اس وقت تک PENICILLIN انجکشن وجود میں آ چکا تھا۔ بارہ روپے میں ملتا تھا۔ اس وقت سونا پچیس تیس روپیے تولہ تھا۔نطام نے درآمد کرکے اُسکی قیمت آٹھ آنے رکھی۔ دوا خانہ دق و سل دبیرپورہ میں قائم کیا۔ صحت بخش ہوا کے لیے ٹی بی سینیٹوریم اننت گری کے پہاڑی علاقے میں قائم کیا۔ سرسبز و شاداب پہاڑیاں، خوبصورت وادیاں، پُر پیچ بل کھاتی سڑکیں، گیت گاتی دکن کی سانولیاں، قوت بخش غذائیں، صحت بخش آب و ہوا، دلفریب منظر، فرشتہ صفت ڈاکٹر، سفید لباس میں ملبوس حور شمائل نرسیں۔ سمجھ ہی میں نہ آئے کہ صحت ہونے کے بعد بھی کیوں بیمار رہنے کو دل چاہے۔ اسی کے چلتے چلتے ایک اور وبا نے آن گھیرا، چیچک نے۔ چیچک سے سارا بدن چھالوں سے بھر جایا کرتا تھا۔ کیسے کیسے خوبرو، کیسی کیسی مہ جبین چاند زادیاں، اس موذی مرض نے یوں برباد کیا کہ آئینہ دیکھنے کی ہمت نہ رہی۔ لوگ تو چہرہ دیکھتے ہیں، ظاہر کا چہرہ۔ باطن کا یا اندر کے انسان کے حسین چہرے پر کس کی نظر جاتی ہے۔ یہ کب سوچتا ہے کہ حسن اور چاند نی کے چار دن۔ بس۔ ملا، مولوی، مفتی، مجتہد سب کہتے ہیں سوائے مسلمانوں کے سب دوزخی ہیں۔ وہ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ لیکن اسی لوئی پاسچر نے چیچک کا ٹیکہ دریافت کیا تھا۔ یہ وبا چلی تو نظام نے محکمہ بلدیہ میں صیغہ چیچک براری قائم کیا۔ گلی گلی، گھر گھر بچوں کو ٹیکے لگائے جاتے تھے۔ کبھی حیدرآباد آؤ تو میں اپنے بازو پر دکھلاؤں، چیچک کے ٹیکوں کے نشان۔ دق کے ٹیکے کے نشان۔ کالی کھانسی سے بچاؤ کے ٹیکے۔ نظام نے ہر متعدی مرض سے بچاؤ کے طریقے اختیار کئے۔ برکت پورہ کے قریب قرنطینہ قائم کیا، سو آج بھی ہے۔

میرے پوتے نے سچ کہا ہے، ہم اداس قبیلوں کے لوگ ہیں، پل بھر کا فاصلہ برسوں میں طے کرنے والے، سست قدم لوگ، خوش پریشاں لوگ، ہجر و فراق کے نوحہ کناں لوگ۔ ماضی کی راتوں کو سینے سے لگائے اپنی لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے زندہ در گور لوگ۔ قصور کچھ ہمارا بھی نہیں ہے۔ بچپن میں کھانے کو دال، چاول، سبزی،۔ چھلواری، ہرک کا پہناوا، شام ڈھلے مٹی کے تیل کے دیے، جن کو صاف کر کے دالان کے کنارے رکھ دیا جاتا تھا۔ جب شام گیسوئے برہم سنبھال کر نکل آتی تو چراغوں کی لو بڑھا کر ہماری ماں کلمہ، درود پڑھا کر دو سورے یاد کرواتی تھی۔ ان دیوں کی روشنی میں ہم پڑھ بھی لیتے تھے، لکھ بھی لیتے تھے، ہماری ماں کھانا بھی پکا بھی لیتی تھی، ہماری دادی سوئی میں دھا گا بھی پرو لیتی تھی اُس وقت روشنی ہمارے وجود کے اندر تھی،ہم خارج کی روشنی کے محتاج نہیں تھے۔، آج وہی حیدرآباد روشنیوں کا جنگل ہے، مگر کوئی چہرہ صاف نہیں دکھائی دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں شہر بے چہرہ ہو گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ مجھ سے بینائی چھن گئی ہے۔ ورنہ آج بھی شب کی تاریکی میں مجھے ہر چیز روشن نظر آتی ہے، جیسے رات کی سیاہی، جیسے اپنے گناہ۔ اس زمانے میں سب ہی اپنے تھے، کوئی پرایا نہ تھا۔ماں باپ تو ماں باپ ہی تھے، دادا، دادی، نانا، نانی تو خیر رشتہ دار ہی تھے، پڑوس کے بزرگوں کا بھی وہ احترام تھا کہ کوئی پان کھائے ان کے آگے سے نہ گزرتا تھا۔ ہم اداس قبیلوں کے لوگ تھے۔ قدامت پسند لوگ۔ ماں باپ کو اپنے گھر میں رکھنے والے۔ ان کے آگے سانس بھی آہستہ لینے والے۔تم نے تواپنے بزرگوں کے لئے بیت المعمرین تعمیر کر لئے،یہ بھی نہ سوچا کہ تم سے چار دن کی نظر بندی نہ برداشت ہوئی،وہ کیسے آخری عمرقید تنہائی میں بسر کریں گے۔تم ترقی یافتہ لوگ بھلا تمھارہ اور اُن فرسودہ لوگوں کا کیا جوڑ۔ ہمارے ماں باپ نے ہمیں پڑھا لکھا کر قناعت کا توشہ ساتھ دے کر زندگی کے سفر میں روانہ کر دیا۔ ہم نے بھی زندگی گزاری۔ تم لوگوں کی پرورش کرتے ہوئے ہم کو نا آسودہ تمنائیں یاد تھیں۔ ہم نے سوچا۔۔
ہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی
انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے

تم جامعاتی تعلیم مکمل کر کے گاؤن پہنے سند تھامے ہوئے تصویر کے ساتھ گھر آئے تو ہماری آنکھیں چھلک اٹھیں۔ ہم نے آخری قرض پورا کیا۔ قناعت کا توشہ تمہارے ساتھ کر کے زندگی کے سفر پر روانہ کر دیا۔ لیکن تم نے راستے میں قناعت کے توشے کو ہوس کے خوان ہفت رنگ سے بدل لیا۔ ترقی کے نام خواہشات کے نام، زر و سیم کے نام، فلک بوس عمارتوں کے نام، تیز رفتار سواریوں کے نام،اقتدار کے نام، صنعت جنون قد آوری کے نام، ملک گیری کے نام، شہرتوں کے نام، جھوٹی عزتوں کے نام۔

اب تم اپنی اگلی نسلوں کو کیا ورثہ دو گے۔ دوگنی چوگنی فصلوں کی پیداواری کے لیے تم نے دوائیں ڈال ڈال کر انہیں بانجھ کر دیا۔ دو دو ہزار فیٹ تک اس کا سینہ چھید کر اس میں بوند بھر پانی نہ چھوڑا۔ پیڑ کاٹ کر تم نے فلک بوس عمارتیں یوں بنالیں جیسے تمہارے لیے خدا کی زمین تنگ ہو گئی تھیکوری مٹی کی سوں سوں کرتی صراحیوں کی جگہ ناس پیٹی برف ساز الماریوں نے لے لی۔ مشینوں سے اپنے گھروں کو ٹھنڈا جہنم بنا لیا۔تمہاری جدت طرازیوں اور قدرت سے چھیڑ چھاڑ نے ساون کوپیاسا کردیا تو تم نے مصنوعی بارش برساکرفضاء کی رہی سہی رطوبت بھی چوس لی اور اب ترقی کے نام پربند بوتلوں میں پانی لا کر اپنے بچوں کودوا کے قطروں کی طرح پانی پلاتے ہو۔ہوا میں زہر، پانی میں زہر،مٹی میں زہر، غذا زہریلی،نہ دوا اصلی،نہ پھل اصلی،ہر چیز تمہاری ہوس کی نذ ر ہوگئی۔علم تمہارا ورثہ تھا تم نے بڑے سستے داموں اسے مغرب کے حوالے کردیا۔تمہارے پاس ہر خشک وتر کا علم تھا،قیامت تک کا علم،وہ متروک ہوا تو اُس کی جگہ قیاس نے لے لی۔یقین کی جگہ وہم نے گھیر لی۔شریعت پیچھے رہ گئی فتویٰ آگے ہو گیا۔ ہمارا خدا تو احد تھا،واحدتھا،ملک و قدوس تھا،صرف مالک المُلک ہی نہیں مالک یوم الدین بھی تھا سو اب بھی ہے، ہمیشہ رہے گا۔مسجد اسکا گھر ہے۔تم لوگوں نے تو مسجدوں کو بھی ا پنے اپنے عقیدوں پر تقسیم کر لیا،جیسے ہر مسجد کا خُدا الگ ہے۔ہم نے تو مروت میں کافر کو بھی کافر نہ کہاتم لوگ تو مسلمان کو بھی کافر کہتے ہواور اب یہ حال ہے کہ واعظ تنگ نظر نے مجھے کافر سمجھا  اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں۔۔
تمہاری تیز رفتاری نے ساری دنیا کو یوں سمیٹ لیا کہ ساری دنیا ایک گاؤں ہو گئی۔ بیماریاں بھی اسی تیز رفتاری سے اس گاؤں کو لپیٹ رہی ہیں۔ اجل نے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں۔ درد تو ہے تمہیں درماں میسر نہیں۔ بلکتی ہوئی انسانیت اپنے درد کے لیے دست طلب دراز کئے ہوئے۔ ترقی کے نام پر نہیں، انسانیت کے نام پر۔
بوڑھا ہو گیا ہوں۔جانتا ہوں کہ خط میں کچھ تلخی سی آگئی ہے،پھاڑ کر پھینک دینا، مگریاد رکھوجب بندہ ناشکر گزار ہوجائے توپرودگارجابر و ظالم حُکمرانوں کواُس پر مسلط کردیتا ہے۔خدا تم لوگوں کوخوف سے نجات دیکرامن میں لائے۔رحمتیں تمہارے سر پر سایہ فگن رہے۔
سنتا ہوں کہ دنیا نقاب پوش ہو گئی ہے۔ مصافحہ ممنوع ہے۔ گھروں میں نظر بند ہو۔ شہر خالی، کوچہ خالی، راہ خالی، حرم خالی، بت خانہ خالی، لیکن سنو! ایک آواز تم کو سنائی دے رہی ہے۔ سب سے بڑا کفر مایوسی ہے۔ پکارو،اپنے مولا پکارو۔ مسجدیں خالی ہیں لیکن وہ تو تمہاری رگ ِ جاں سے قریب ہے۔ اگر تم نے بلوغیت سے آج تک کوئی نماز قضاء نہ کی ہو اور فجر مسجد ہی میں پڑھی ہو تو جاؤ تم کو مسجد کھلی مل جائے گی۔ رات کی تنہائیوں میں اپنے رب سے سرگوشی کرو۔ وہ تم کو مایوس نہیں کرے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *