گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(15)۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

“آج، ابھی، چند گھنٹوں میں”حنان مراقبے کی حالت سے باہر چکا تھا۔

“اور حنان میری Distinction؟؟” طیبہ بے دھڑک بولی۔

ڈسٹنکشن کا لفظ سنتے ہی حنان نے سر اٹھا کے غور سے طیبہ کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو ‘یہ منہ اور مسور کی دال’۔

“طیبہ، آپ نے میرے مراقبے کا ردھم توڑ دیا۔ بارہ سیکنڈ اور مراقبے میں رہتا تو Distinction کا پتا کر کے ہی  آتا۔”

طیبہ مایوس ہو گئی۔ رزلٹ آرہا تھا اور ابھی تک اس کی ڈسٹنکشن کنفرم نہیں ہو رہی تھی۔ حنان کی  آنکھیں باہر آرہی تھیں۔ مراقبے میں اس کی انہی آنکھوں میں پیتھو اور فارما کے پیپرز دوڑ رہے تھے۔ حنان خوفزدہ ہو چکا تھا۔ اسے کچھ نظر آرہا تھا۔ کچھ دھندلا سا، کچھ انجانا سا!

“حنان! میں چلتی ہوں۔”

“یار طیبہ ادھر ہی رزلٹ دیکھ کے جائیں گے۔ ابھی آنے والا ہے رزلٹ”

“نہیں حنان، میرے پاس data نہیں ہے۔”

“میرے پاس ہے،” حنان فوراً بولا۔”4G ہے۔ ہمیں فوراً ایک سیکنڈ میں رزلٹ پتا چل جائے گا۔ باقی سب سے پہلے۔”

طیبہ کنفیوز ہو گئی۔ اسے ڈر تھا۔عثمان بھائی دوبارہ آسکتے تھے۔
“نہیں حنان، کافی ٹائم ہو گیا ہے۔ سردی بھی بڑھ گئی ہے۔” طیبہ نے دانتوں سے تھر تھر کانپتے ہوئے حنان سے کہا۔”کال پہ  ابھی بات کر لیں گےنا ۔۔۔رزلٹ آتے ہی۔”

حنان خوش ہوگیا۔ طیبہ واپس روانہ ہوگئی۔ حنان “فارما، فارما، پیتھو، فارما ” کا ورد کرتے ہاسٹل روم  پہنچا۔

بارہ بج چکے تھے۔ حنان موبائل سے چپکا ہوا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ رزلٹ ابھی آیا ہی آیا۔
طیبہ گھر پہنچ چکی تھی۔ رزلٹ کا انتظار ہو رہا تھا۔
“Alhamdulillah, third year MBBS passed”
رزلٹ آچکا تھا۔ انعم پاس ہو چکی تھی۔ طبل بج  چکا تھا۔طیبہ کا دل اچھلنے لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ رزلٹ لنک کلک کیا۔File or Directory not found -404″ طیبہ کو دھچکا لگا۔ اسے لگا جیسے UHS نے اسے عاق کر دیا ہو۔ دوبارہ Refresh کیا۔ پھر سے وہی رکاوٹ۔ ویب سائٹ ڈاؤن تھی۔ طیبہ کی سانس بھی گلے میں پھنس گئی۔ نہ اوپر جانے کی نہ نیچے آنے کی۔ اس نے دوبارہ ٹرائی کیا۔ کچھ نہ بنا۔ اچانک سے حنان کی کال آنے لگی۔ طیبہ نے فوراً اٹیند کی۔

“طیبہ میں پاس ہو گیا۔طیبہ میری پیتھو، فارما دونوں پاس ہیں۔ مجھے یقین نہیں آرہا-” حنان کے لہجے سے لگ رہا تھا وہ اکیلا روم میں چڈی پہن کے ڈانس کر رہا تھا۔

“یار، ادھر سائٹ نہیں کھل رہی۔میری Distinction پھنسی ہوئی ہے۔ خانہ خراب ہو UHS کا، ایک اچھی ویب سائٹ نہیں بنا سکتے۔” طیبہ UHS کو گندی گندی گالیاں دینے لگی۔

“اوہ۔ Details بتائیں اپنی۔ میں ابھی 4G سے چیک کر کے بتا دیتا ہوں۔ بتائیں رولنمبر۔”

“ہاں بتاتی ہوں۔ لکھیں ، ایک منٹ حنان۔سائٹ کھل رہی ہے”

طیبہ نے کال کاٹ دی۔فوراً اپنا رولنمبر لکھا، نام درج کیا۔اور 12+4 کا حساب لگانے لگی۔ UHS والوں کو شک تھا کہ طیبہ کہیں روبوٹ نہ ہو۔ بڑی مشکل سے طیبہ نے حساب لگا لیا کہ 12+4 سے 16 بنتا ہے۔ یہ انٹر کرتے ہی طیبہ نے “Search Results” پہ   لک کیا۔ اس کا دل بند ہو رہا تھا۔ اس کے منہ سے پانی  ٹپک رہا تھا۔ اس خوفناک لمحے میں بھی اسے Distinction کا خیال آرہا تھا۔ رزلٹ اس کے سامنے تھا۔ “Pass,Pass, Pass, Pass” خوشی کی ایک لہر دوڑنے لگے۔

طیبہ پاس ہو چکی تھی۔پہلا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے  ہو چکا تھا۔ دل میں پٹاخے پھوٹنا شروع ہو گئے تھے۔ اب مارکس کی باری تھی۔ “652” یہ طیبہ کے نمبر تھے۔ فارما تھیوری 75/150 py پاس تھی اور پیتھو 76 پے۔ Distinction کا کہیں دور دور تک نشاں نہیں تھا۔ طیبہ کے پٹاخے پھٹے بغیر ہی  پُھس ہونے لگے۔ وہ خوشی اور اداسی کا مکس اچار بنی بیٹھی تھی۔

حنان کی بار بار کال آرہی تھی۔ طیبہ نے کال اٹھائی،
“ہاں طیبہ رزلٹ؟؟۔۔۔۔ فارما؟”

“پاس ہوں حنان۔”

“واہ ماشا اللہ مبارک ہو بہت بہت۔ I knew you would do it. I’m so proud of you. میں بھی پاس، آپ بھی پاس۔ فِٹ ہو گیا۔” اس کے ساتھ ہی حنان کال پہ  ہی واہیات Emojis  بھیجنے  لگا۔ ایسے لگ رہا تھا اس نے پورا سال یہی پلان بنایا تھا کہ پاس ہونے پہ  کیسی کیسی Emojis دینی ہیں اور وہ بھی کال پہ ۔ طیبہ کو صاف محسوس ہو رہا تھا کہ حنان پاس ہونے کے بہانے بے غیرتی پہ اترا ہواہے۔ اسے بھی سکون محسوس ہو رہاتھا۔

“حنان، میری ڈسٹنکشن نہیں آئی۔”

“کون سی Distinction؟” حنان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ اپنے اور طیبہ کے تعلیمی ریکارڈ سے بخوبی واقف تھا۔

“وہی جو آنی تھی۔۔۔۔۔عثمان بھائی نے کہا تھا۔” طیبہ نے دانت بھنچتے ہوئے الفاظ روکنے کی کوشش کی۔مگر وہ بول چکی تھی۔

“کون عثمان بھائی؟” حنان نے لاعلمی سے پوچھا۔اس نے پہلی بار طیبہ کے منہ سے کسی نامحرم کا نام سنا تھا۔

“یار حنان مجھے لگتا تھا میری فارما میں Distinction آئے گی۔ میں نے بہت محنت کی تھی۔ بہت پڑھا تھا۔” طیبہ بات کو گول کر رہی تھی۔

“اوہ کوئی بات نہیں، کتنے مارکس بنے آپ کے؟”

“کافی اچھے ہیں۔” طیبہ بولی۔

“بتائیں تو سہی۔”

“652 اور تمہارے؟”

“میرے 653” حنان نے پر مسرت لہجے میں جواب دیا۔ “دیکھ لو، دل کے ساتھ ساتھ ہمارے نمبر بھی ملتے ہیں۔”

حنان کا طیبہ سے ایک نمبر زیادہ تھا۔ طیبہ کو لگنے لگا کہ اگر حنان کا یہ ایک نمبر زیادہ نہ ہوتا تو اس کی Distinction پکی تھی۔ اس ایک نمبر نے حسد کی آگ لگا دی۔

” میں بہت تھک گئی ہوں۔ سوتی ہوں۔ گڈ نائٹ۔”

حنان کے واپسی گڈنائٹ بولنے سے پہلے ہی طیبہ کال کاٹ چکی تھی۔ حنان نہ سمجھا۔

طیبہ نے فوراً عثمان بھائی کو لگاتار پانچ چھے ٹیکسٹ کیے۔ اس نے غصے اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاس ہونے کی خوشی اور Distinction نہ آنے کا غم۔

عثمان بھائی نے کچھ دیر بعد جواب دیا۔

“جی ہاں، مجھے پہلے ہی علم تھا۔رزلٹ سے آدھا گھنٹا پہلے کال آئی تھی مجھے UHS سے،”

“سٙر، میری Distinction کیوں نہیں آئی پھر؟”

“اُس سے پوچھیں جس کے ساتھ ابھی دو گھنٹے پہلے آپ مینگو گارڈن میں امب چوس رہی تھیں۔”

عثمان بھائی غصے میں آگئے تھے۔ طیبہ حیران رہ گئی تھی کہ اس کے اندازوں اور مہارت کے برعکس عثمان بھائی اسے پہچان کر ہی گئے تھے۔ طیبہ چپ کر گئی۔

“ایسا نہیں ہو سکتا طیبہ کہ آپ گھومیں کسی اور کے ساتھ اور Distinction مٙیں دلواوں آپ کو۔ ایسے نہیں چلے گا۔”

“میں نہیں تھی مینگو گارڈن۔ کوئی اور ہوگی۔۔۔مجھ سے ملتی جلتی۔۔۔میں تو اتنی سردی میں باہر نہیں نکلتی۔۔۔زکام ہوجاتا مجھے۔”

“یہ دیکھو! ایسے جھوٹ نہیں بولتے طیبہ۔ بری بات ہے۔
میں نے خود اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا۔
ایسے نہیں کہتے ہوتے۔ میں Expert ہوں، حدِنگاہ صفر بھی ہو تب بھی دو سو میٹر کے فاصلے سے پہچان سکتا ہوں۔
“مجھے غصہ آگیا تھا۔ ورنہ آپ کی Distinction تو کرانی تھی میں نے۔” عثمان بھائی ایک شفیق باپ کی طرح طیبہ کو سمجھا رہے تھے۔ طیبہ کو محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے آج مینگو گارڈن جا کر غلطی کی۔

“سوری عثمان بھئی۔” طیبہ معذرت کر رہی تھی۔

“وہ تو UHS والے آپ کو فیل کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں حکم دیا کہ پاس کریں۔ تب جا کر آپ پاس ہوئی ہیں۔”

طیبہ کے چہرے پر لالی پھیل رہی تھی۔عثمان بھائی نے اسے سپلی سے بچا لیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو کوس رہی تھی کہ کاش وہ آج مینگو گارڈن نہ جاتی۔ ‘مینگو گارڈن منحوس ہے۔ حنان بھی منحوس ہے۔ بلکہ حنان زیادہ منحوس ہے۔ نہ میں اس کے ساتھ جاتی، نہ عثمان بھائی مجھے وہاں دیکھتے اور نہ ہی میری Distinction کینسل کراتے۔’ طیبہ سوچ رہی تھی۔

اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔
“حنان مجھے آج کے بعد مجھ سے رابطہ نہ کرنا۔” فیصلہ ٹیکسٹ کر دیاگیا۔

حنان کی کالز آنے لگیں۔ طیبہ کاٹتی گئی۔ ساتویں بار کال کرنے پہ  طیبہ نے حنان کا نمبر بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔

“کیوں طیبہ، کیا ہوا؟” حنان پوچھ رہا تھا۔

“تمہاری وجہ سے میری پکی پکائی Distinction کینسل ہوگئی۔”

“کیا مطلب؟
کیسے؟ کیوں یار؟”

“بس آج کے بعد مجھے نہ تمہارا ٹیکسٹ آئے نہ تمہاری کال۔ بائے”

حنان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ مگر پاس ہونے کی خوشی اس سب پر حاوی تھی۔ دال تو بعد میں بھی پیلی کی جاسکتی تھی۔ اس دن حنان اکیلا اکلوتی چڈی میں رات دو بجے تک خوشی سے ناچتا رہا!

جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *