جنسی ہراسمنٹ اور ہمارا عمومی رویہ۔۔۔۔نوشی بٹ

سوچتی ہوں کہ کہاں سے شروع کیا جائے وہاں سے کہ جب اپنے گھر میں ہی اپنے مامووں کے ہاتھوں ہراس ہوئی یا وہاں سے جب بیسٹ فرینڈ کے گھر شادی پہ رات رکی تو اس کے چاچو کے ہاتھوں ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔۔جسے میں بھی چاچو ہی کہتی تھی. کیا وہاں سے کرنا بہتر ہے جب ممانی کی بہن کا شوہر ہر روز رات کو مجھے ہراس کرتا جب سب سو جاتے اور ایک دن اس کی بیوی نے دیکھ لیا تو اس نے کہا کہ یہ مجھے خود بلاتی ہے۔۔۔ یاد رہے تب میں صرف پندرہ سال کی تھی جسے سیکس کا علم تو دور کی بات نام بھی نہ پتہ تھا(یہ بلکل سچ بات ہے ایسے لفظ گھر میں کوئی نہیں بولتا تھا) بیچ کے سب واقعات کو چھوڑوں تو فیس بک پہ آئی ڈی بنانے کے بعد انباکس آنے والے پیغامات سے شروع کروں یا لڑکی بن کے ایڈ ہو جانے کے بعد لڑکا ظاہر کر کے تنگ کرنے سے شروع کروں، اس آئی ڈی سے شروع کروں جہاں میرے نام سے فیک نیوڈز پھیلائی گئیں میرے خلاف پوسٹس لگوائی گئیں اور لوگوں کے انباکس میں  میری جھوٹی تصاویر بنا کے بھیجی گئیں وہاں سے شروع کروں جب میری ڈھائی سالہ بیٹی کو اس کے سکول کے پیون نے ہراس کیا۔۔۔

پتہ نہیں کتنی چیزیں میرے دل میں چھید کئے ہوئے ہیں۔کچھ دوست شاید ان باتوں کے بھی ثبوت مانگیں گے،کیونکہ ان کی اپنی ایک عدالت ہے جس میں وہ واقعات کی تلخی یا بندے پہ گزرنے والی کیفیت کی بجائے انسانوں کے ناموں سے فیصلے لیتے ہیں
ہراسمنٹ کی تعریف سمجھنے کی سب سے پہلے ہمیں خود ضرورت ہے میں بچی تھی مجھے ان سب باتوں سے عجیب فیلنگ تو آتی تھی لیکن مجھے ڈر لگتا تھا کہ اگر میں نے گھر کے کسی بڑے کو یہ بتایا تو کہیں مجھے ہی ڈانٹ یا مار نہ پڑے کیونکہ یہ تو گندی بات ہے امی نے مجھے ہی ڈانٹنا ہے تو اس سے کیا ہوا کہ میں چپ رہنا شروع ہو گئی میں نے ہر بات کو خود سے کرنا شروع کر دیا میری فرینڈز تو ہر دور میں بہت بنتی رہیں مگر میں کبھی ڈر کے مارے ان سے بھی بات نہ کر سکی اپنی سب سے بڑی استاد میں خود ہوں کتابوں رسالوں فلمز ٹی وی نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔۔
مجھے دنیا کی سمجھ ان ہی چیزوں سے لگی لیکن جو ایک خوف تھا کہ اگر کسی سے بات کی تو کیا ہو گا سب مجھے ہی برا سمجھیں گے ایسا کیوں تھا….؟
ایسا اس لئے تھا کہ مجھے گھر کی جانب سے کھیلنے پہننے اوڑھنے کی کسی حد تک آزادی تو تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ سختی بھی تھی مجھے بال کٹوانے کی اجازت نہیں تھی کلاس سیون کے بعد… غرض کہ عجیب قسم کا ماحول تھا جہاں کھانا کیا ہے یہ کہنے کی تو آزادی تھی مگر آپ کو کوئی ہراس کرتا ہے یہ کہنے کی آزادی نہیں تھی۔۔

قصور ہمارے معاشرے کا بھی ہے جہاں بیٹی ہونا اور بدقسمتی سے اچھی شکل کا ہونا بھی عذاب بن جاتا ہے۔۔
گلی میں کسی نے چھیڑ دیا گھر آ کے بتا دیا تو پہلا ری ایکشن یہ ہو گا کہ کل سے پڑھنے نہیں جانا.والدین کی  اکثریت ہمارے یہاں بچے پیدا کرنا بھی ایک فرض سمجھتی ہے ان کو بس جنسی اختلاط اس نیت سے کرنا ہوتا ہے کہ بچہ ہو جائے بیٹی پیدا ہو گئی تو بیٹے کے پیدا ہونے تک یہ عمل جاری رہتا ہے ، اب اس دوران میں مزید کتنی بیٹیاں پیدا ہو گئیں ان کے حقوق کیا ہیں ان سے چشم پوشی بھی والدین ہی کرتے ہیں. ہمارے بچپن جوانی میں موبائل فون نہیں تھا اور جب آیا بھی تو ہمیں اجازت نہ تھی رکھنے کی، میں نے پہلا موبائل فون 2005 میں لیا تھا اور اس کے بعد بھی کبھی پاس رہا کبھی نہیں. مجھے یاد ہے اکثر مجھے میسج آتا (asl) مجھے ڈیڑھ سال لگا اس میسج کو سمجھنے میں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔۔۔
اس کی وجہ میرا محدود رہن سہن اور لوگوں سے انٹریکشن کم ہونا تھا. خیر تب کی بات چھوڑتے ہیں اب بھی ہمارا معاشرہ ویسی ہی گھٹن کا شکار ہے جیسا کئی سال پہلے تھا۔

جنسی ضروریات کو ہوا بنا دیا گیا ہے آجکل ایسے حالات میں لڑکے ہوں یا لڑکیاں انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں موبائل فونز نے زندگیوں میں جہاں آسانیاں دی ہیں، وہیں جنسی گھٹن کے شکار نوجوانوں کو اس گھٹن سے نکلنے کے مواقع بھی دیے ہیں، فون سیکس، نیوڈز مانگنا یا دینا، محبت کے نام پہ فریب دینا اور وقت پڑنے پہ ان سب چیزوں کو ایک دوسرے کے مخالف استعمال کرنا بھی ایک فیشن بن چکا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ دو لوگوں کی پرسنل باتوں میں بولنے کا اختیار بطور انسان کسی کو نہیں ہے لیکن مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں لوگ اپنی پرسنل باتوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے لا کے پھوڑتے ہیں اور پھر ایسی ہی باتوں سے تنگ یا پریشان ہو کے خودکشی تک کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں یا مار دیے جاتے ہیں. بطور والدین یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں خاص طور پہ بیٹیوں کو اعتماد دیں، ان کو یہ بتائیں کہ بیٹا  یہ زندگی غلطیوں سے سیکھنے کے لئے بنی ہے اگر غلطی ہو جائے تو ہم ہیں ناں. ہمارے پاس آو۔۔ان کو آزادی دیں اب ہمارے یہاں آزادی کا مطلب کچھ لوگ یہ لیتے ہیں کہ جیسے سیکس ایک لائسنس ہے اور اگر ہم نے اپنی بیٹیوں کو آزادی دی تو سیکس کا لائسنس دے دیا۔
بھئی ایسا نہیں ہوتا جب ایک چیز کو آپ دباو گے تو ایک وقت پہ آ کے وہ پھٹے گی بچوں کے ہارمونل چینجز کو سمجھتے ہوئے ان کی تربیت کریں ان کے گارڈین بنیں نا کہ ان کو اپنی پراپرٹی سمجھ کے اپنی مرضی چلانے کی کوشش کریں. جتنی آزادی آپ بچوں کو خاص طور پہ اپنی بیٹیوں کو دیں گے ان کے اندر اتنا ہی کانفیڈنس آئے گا.

نوٹ. لڑکیوں سے بس ایک گزارش ہے کہ جو چاہے کرو جتنے مرضی ریلیشن شپس بناو مگر اگر کوئی تتے توے پہ بیٹھ کر بھی کہے کہ اپنی نیوڈ بنا کے بھیجو تو اسے مت بھیجو۔کیونکہ عام طور پہ لڑکوں کا ہاضمہ خراب ہی ہوتا ہے اس معاملے میں وہ چاہے شو مارنے کے لئے ہی سہی لیکن دکھاتے ضرور ہیں. جو مرد یا لڑکے ایسا نہیں کرتے وہ اس بات سے خود کو مستثنی سمجھیں.
اپنی زندگی کی چند چیزیں شئیر کرنے کا مقصد ہمدردی بٹورنا نہیں صرف یہ بتانا ہے کہ ایک لڑکی کی زندگی کس حد تک مشکل ہو سکتی ہے۔کل میں بول نہیں سکتی تھی مگر آج میں بولتی بند کرانے کی ہمت رکھتی ہوں یہ میرے سیکھنے کے سفر کی چند جھلکیاں ہیں بس۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *