• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • طبی عملہ اور املاک کے خلاف تشدد کے واقعات کا شرعی جائزہ(دوسرا حصّہ )۔۔۔ڈاکٹر محمد عادل

طبی عملہ اور املاک کے خلاف تشدد کے واقعات کا شرعی جائزہ(دوسرا حصّہ )۔۔۔ڈاکٹر محمد عادل

طبی   عملہ اور املاک و تنصیبات  پر حملوں کا شرعی جائزہ

طبی  عملہ اور املاک پر حملوں  کا شرعی جائزہ دوحصوں میں پیش کیا جائے گا،پہلے حصہ میں مسلح تصادم کے وقت طبی عملہ اور املاک پر حملوں کی شرعی حیثیت   بیان کی جائے گی اور دوسرےحصہ میں عام حالات میں ان پر حملوں کا شرعی حکم تلاش کیا جائے گا۔

tripako tours pakistan

(۱)مسلح تصادم کے وقت طبی عملہ  پر حملوں کی شرعی حیثیت:

اسلامی قانونِ جنگ میں مسلح تصادم کے وقت مخالف  فریق کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،ایک مسلح یعنی لڑائی میں حصہ لینے والے  اور دوسرے غیر مسلح  یعنی  وہ لوگ جو لڑائی میں شریک نہیں ہوتے۔ شریعت نے  غیر مسلح لوگوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے،سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ([7])۔

ترجمہ: اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو، مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

امام ابو بکر جصاصؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

أنه أمر فيها بقتال من قاتل والكف عمن لا يقاتل ([8])۔

ترجمہ: ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جو  لڑنے والے ہوں اوران لوگوں سے  لڑنے سے منع کیا  گیا ہے جو جنگ نہ کرے۔

اسی طرح علامہ زمخشری  نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی حکم دیگر الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے:

رسول اللَّه صلى اللَّه تعالى عليه وعلى آله وسلم يقاتل من قاتل ويكف عمن كف([9])۔

ترجمہ: رسول اللہﷺ  لڑنے والوں سے جنگ کرتے اور جو لڑائی سے رکتے ان سے آپ ﷺ بھی   رکتے تھے۔

فقۂ  حنفی کے نامور فقیہ اورقانون دان علامہ سرخسیؒ   یہ حکم ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں:

إنما يقتل منهم من يقاتل دون من لا يقاتل ([10])۔

ترجمہ: ان سے جنگ کیا جائے گا جو جنگ کرتے ہوں  نہ کہ ان سے  جو جنگ نہیں کرتے۔

مندرجہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ  غیر مسلح افراد کو قتل کرناور ان پر حملہ کرنا شریعت کی رو سے جائز نہیں۔

فوج میں شامل طبی عملہ   مقاتل ہیں یاغیر مقاتل

اسلامی قانونِ جنگ میں غیر مقاتلین کے قتل سے منع کیا گیا ہے ،جن میں بچوں ،عورتوں اور ضعیف العمر  افراد کے  متعلق تو صریح نصوص موجود ہیں،لیکن  دیگر غیر مقاتلین کے متعلق واضح احکامات موجود نہیں البتہ بعض نصوص  سے کچھ غیر مقاتلین کو قتل یا ان پر حملہ کرنے کی ممانعت  معلوم ہوتی ہے،جیسےرسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

لا يقتلن امرأة ولا عسيفا([11])۔

ترجمہ: عورت اور عسیف کو قتل نہ کرو۔

علامہ ابن عربیؒ  فرماتے ہیں:

الْعُسَفَاءُ: وَهُمْ الْأُجَرَاءُ وَالْفَلَّاحُونَ، وَكُلٌّ مِنْ هَؤُلَاءِ حَشْوَةٌ([12])۔

ترجمہ: عسفاء سے مراد مزدور ، کسان اور اسی طرح کے دیگر لوگ ہیں۔

ڈاکٹر محمدخیرہیکل   عسیف کی اصطلاح  کومزید وسعت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

العسفاء یصدق علی الاعمال المستأجرین  فی المصانع وعلی المستأجرین للعناية بشؤون الطب والاسعاف والتمریض([13])۔

ترجمہ: عسفاء کا اطلاق  فیکٹریوں میں کام کرنےوالے مزدوروں، طب، زخمیوں کے لے جانے اور امراض کے شعبوں میں کام کرنے والوں پر ہوتا ہے۔

پاکستان کے معروف قانون دان شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کے سابق  ڈائریکٹرڈاکٹر محمد مشتاق  صاحب نے اپنے  آرٹیکل میں  دلائل  کی روشنی میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ طبی  عملہ جنگ میں مخصوص کردار اداکرنے کے باجود قانونی لحاظ سے مقاتلین نہیں اور ان پر حملہ کرنا ناجائز ہے([14])۔

عالمی قوانین  پر دستخط   امان تصور ہوگا

علامہ کاسانیؒ نے بدائع الصنائع میں اسلامی قانونِ جنگ کا ایک قاعدہ ذکر کیا ہے:

أن دم الكافر لا يتقوم إلا بالأمان([15])۔

ترجمہ:  کافر کا خون امان کے بعد ہی محترم ہوتا ہے۔

اس قاعدہ سے ثابت ہوتا ہے کہ متصادم فریقین کے جنگ کے اہل افراد کو تحفظ تب ہی حاصل ہوگا جب مخالف فریق کی طرف سے ان کو امان دیا جائے۔ عصر حاضر میں  انفرادی طور پر امان کا تصور موجود نہیں بلکہ حکومت یا مسلح فریق ہی یہ فیصلہ کرتا ہے۔ ذیل میں اس نکتہ پر تفصیلاً بحث کی جائے گی:

کسی بھی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ  اپنی فوج کو یک طرفہ طور پر کسی شخص یا گروہ پر حملہ کرنے سے منع کرے،جیسے رسول اللہ ﷺ نے  غزوہ بدر میں بعض اشخاص کے قتل سے منع فرمایا تھا([16]) اور اسی واقعہ  سے استدلال کرتے ہوئے ڈاکٹر خیر محمد ہیکل لکھتے ہیں:

لصاحب السلطة الحق فی ان یصدر امرا للجیش ان لایتعرضو بالقتل لاشخاص معینین بذواتهم اور باوصاف محددة تمیزهم عن غیرهم وذلک اما  علی مصلحة یراها فی ذالک  واما بناء  علی اتفاقیة  دولیة اور ثنائیة ۔۔۔ ومثل هذا التصرف انما هو من باب الامان([17])۔

ترجمہ: حاکم کو اختیار حاصل ہے کہ اپنی فوج کو معین اشخاص یا دوسروں سے ممتاز اوصاف  کے لوگوں پر حملہ نہ کرنے کا حکم دے،چاہے کسی مصلحت کی بناء پر ہو یا بین الاقوامی یا دو ممالک کے درمیان معاہدہ کی وجہ سے۔۔۔ اور یہ تصرف امان تصور کیا جائے گا۔

موجود زمانے میں حکومتیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو مان کر اور بین الاقوامی قانونِ انسانیت (Law humanitarian International)پر دستخط کرکے خود کو ان قوانین کا پابند بناتی ہیں اور مذکورہ قوانین میں یہ دفعات موجود ہیں کہ طبی  عملہ اور املاک  پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور ایسا کرنا جرم تصور ہوگا۔لہٰذا کسی حکومت یا مسلح گروہ کی طرف  سے اقوام متحدہ  کی قرادادوں کو ماننا  اور  آئی ایچ ایل پر دستخط کرنا  اس کی طرف سے امان تصور کیا جائے گا  اور طبی عملہ اور تنصیبات پر حملہ امان کی خلاف ورزی اور جرم ہوگا۔

اسی طرح حکومت کی طرف سے عالمی قوانین پر دستخط کرکے اس کا حصہ بن جانا ایک معاہدہ ہے اور معاہدے کی خلاف ورزی شریعتِ اسلامی کی نظر میں ایک بدترین جرم ہے، قرآن کریم میں معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ([18])۔

ترجمہ:اے ایمان والو! عہد پورے کیا کرو۔

پھر جنگ سے متعلق معاہدات کو پورا کرنے کی خاص طور پر پورا کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے ،جیسے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

من كان بينه وبين قوم عهد فلا يحلن عهدا ولا يشدنه حتى يمضي أمده أو ينبذ إليهم على سواء ([19])۔

ترجمہ: جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کیا جائے، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے۔

لہٰذا سکیورٹی کونسل کی قرادادوں کو ماننے اور بین الاقوامی قانون انسانیت(IHL)پردستخط کے بعد طبی عملہ یا تنصیبات کو نشانہ بنانا   معاہدہ کی خلاف ورزی اور شرعاٍ ً ممنوع  ہے،اور ایسے افراد کے لئے سخت وعیدات آئی ہے۔

طبی تنصیبات اور املاک پر حملہ کرنے کی شرعی حیثیت

اسلامی قانونِ جنگ میں واضح طور پر درج ہے کہ کسی ملک پر حملہ اور پھر غالب آجانے کے بعد غیر ضروری غارت گری کی  شرعاًٍ اجازت نہیں،جیسے سیدنا ابوبکرؓ جب کسی لشکر کو رخصت کرتے وقت ہدایات دیتے تو اس میں یہ بھی فرماتے :

لا  تقطعن شجرا مثمرا ولا تخربن عامرا ([20])۔

ترجمہ: پھلدار درخت کو نہ کاٹو،عمارتوں کو نہ ڈھاؤ۔

اسی طرح عمارتوں میں  خاص طور پر مخالفین کی عبادت گاہوں کو منہدم کرنے سے گریز کیا گیا ،جیسے  حافظ ابن قیمؒ  فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً وَأَقَرَّهُمْ عَلَى مَعَابِدِهِمْ فِيهَا وَلَمْ يَهْدِمْهَا ([21])۔

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو بزور فتح کیا اور ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کئے بغیر برقرار رکھا۔

ان دلائل کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوامی مقامات اور عوام کی  املاک کو جنگ میں  بلاضرورت نقصان نہیں پہنچایا جائے گا ۔ ہسپتال  اور دیگر طبی املاک جیسے ایمبولینس وغیرہ تو نہ صرف عوامی مقامات ہیں بلکہ عوام کی زندگی و موت  سےان کا تعلق ہے۔پھر عالمی قوانین میں طبی املاک و تنصیبات پر حملوں کی ممانعت  کی گئی ہے اور تمام ممالک ان قوانین  پر دستخط کرکے ان کی پاسداری کا عہد کرتے ہیں ،لہٰذا طبی املاک جس قسم کی بھی ہوں ،ان کو نشانہ بنانا شرعی  اور قانونی طور پر جرم ہے۔

 (۲)عام حالات میں طبی  عملہ اور املاک  پر حملوں کی شرعی حیثیت:

مسلح تصادم کے علاوہ عام حالات  میں طبی عملہ اور املاک پر حملے روزانہ کامعمول ہیں،درج سطور میں اصول شریعت کی روشنی  میں اس کا شرعی حکم بیان کیا جائے گا۔

انسان جان کو کسی قسم کا نقصان پہنچانا شرعی اور قانونی طور پر قابل سزا جرم مانا جاتا ہے،قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ([22])۔

ترجمہ:اور ہم نے ان پر لازم قرار دیا تھا کہ جان کےبدلہ جان ہے ،آنکھ کے بدلہ آنکھ ،ناک کے بدلہ ناک ،کان کے بدلہ کان،دانت کے بدلہ دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔

اسی طرح حدیث مبارک میں بھی انسانی جان ومال اور عزت کو نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیا گیا ہے،رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم بينكم حرام([23])۔

ترجمہ: تمہارا خون،تمہارےاموال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہے۔

بلکہ شریعتِ اسلامی کے بنیادی کے پانچ مقاصد میں جان کی حفاظت شامل ہے،امام غزالی ؒ مقاصد شریعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:

مقصود الشرع من الخلق خمسة، وهو أن يحفظ عليهم دينهم، ونفسهم، وعقلهم، ونسلهم، ومالهم([24])۔

ترجمہ:مخلوق سے مقصود شرع پانچ ہیں:یہ کہ ان کے دین،جان،عقل ،نسل اور مال کی حفاظت کی جائے۔

پھر  طبی عملہ اور  ان کے املاک کا احترام دوسرے کےمقابلے کہیں بڑھ کر ہے ،کیونکہ  لوگوں کا علاج و معالجہ اور تیمارداری ان کے ذمے ہیں اور اس ذمہ داری سے عہدہ برآں ہونا ایک دوستانہ اور صحت مند ماحول کے بغیر ممکن نہیں۔لہٰذا طبی عملہ اور ان کی املاک کا تحفظ دوسروں کے مقابلے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

طبی عملہ پر بھی قانون کی پاسداری لازم ہے،کہ کوئی غیر تربیت یافتہ شخص یا عطائی ڈاکٹر ان کے عملہ میں شامل نہ ہو ،کیونکہ ان کا تعلق براہ راست انسانی جان سے ہوتا ہے اور ایک انسانی جان کی حرمت پوری انسانیت کی حرمت کے برابر ہے۔

طبی عملہ سے غلطی صورت میں شرعی حکم

بعض اوقات کسی مریض کا علاج کرتے ہوئے طبی عملہ سے غلطی سرزد ہوجاتی ہے اور مریض  جسمانی یا جانی نقصان  ہوتا ہے،ایسی صورت میں شریعت نے احکامات دی ہیں،رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

من تطبب ولا يعلم منه طب فهو ضامن([25])۔

ترجمہ:ایسا طبیب  جو طب سے ناواقف ہو  ،تو (نقصان کی صورت میں) وہ ضامن ہوگا۔

اسی طرح سیدنا عمرؓ  نے فرمایا :

من وضع يَده من المتطببين فِي علاج أحد فَهُوَ ضَامِن إِلَّا أَن يكون طَبِيبا مَعْرُوفا([26])۔

ترجمہ: طبیب معروف کے علاوہ جو کوئی کسی کا علاج کرے گا ،تو (نقصان کی صورت میں) وہ ضامن ہوگا۔

علامہ ابن رشد اس حکم کو مزید تفصیل سے بیان کرتے  ہوئے لکھتے ہیں:

وإن لم يكن من أهل المعرفة فعليه الضرب، والسجن، والدية([27])۔

ترجمہ: اگر طبیب فن طب سے واقف نہ ہو تو سرزنش ہوگی  اور قید کی سزا اور دیت واجب ہوگی۔

مندرجہ بالا دلائل سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں:

Advertisements
merkit.pk
  1. طبیب اگر تربیت یافتہ اور اس سے علاج میں کوئی غلطی سرزد ہوئی ، تو ایسی صورت میں شریعت کی رو سے وہ جوابدہ نہ ہوگا اور نہ وہ مجرم متصور ہوگا۔
  2. غیرتربیت یافتہ طبیب کا پریکٹس کرنا شرعا و قانوناً جائز نہیں اور اس سے علاج میں غلطی ہوئی اور کسی مریض کو نقصان پہنچا تو اسے قید، دیت یا کوئی اور تعزیری سزا دی جائے گی۔
  3. غیر تربیت یافتہ طبیب کو سزا دینا حکومت کا کام ہے نہ کہ مریض کے لواحقین یا عام لوگوں کا،لہٰذا نقصان کی صورت میں  لواحقین قانونی کاروائی کریں  گے۔اگر کسی مریض کے لواحقین نے خود سے کسی بھی قسم کا تشدد کیا تو یہ بذات خود ایک قانونی جرم ہوگ۔

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ڈاکٹر محمد عادل
تھیالوجی ٹیچر ،خیبر پختونخوا ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply