اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے،مگر کیسے؟۔۔احمد علی کورار

سیاسی ژرف نگاہوں کا نقطہ نظر اپنی جگہ صائب ہے کہ اختلاف راۓ جمہوریت کا حسن ہے ،ان کے نزدیک حزبِ  اختلاف اور حکومت  میں ہم آہنگی کیونکر  ہو سکتی ہے، جبکہ حزب اختلاف کا  کام بھی یہی ہوتا ہے حکومت کی کارکر دگی پر نظر رکھنا  ان کی بنائی گئی  پالیسیز کی نشاندہی کرنا ،معاملات اگر قومی مفادات سے ہٹ کر  ہوں حکومت پہ جائز تنقید کرنا،  لیکن جب معاملات کرونا جیسی عفریت سے نمٹنے جیسے ہوں تو  اتفاق راۓ پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس کی طرف  جھکاؤ   سیاسی بالغ نظری ہے۔باقی اتفاق رائے کے بجاۓ اختلاف راۓ کو قائم رکھنا مزید دراڑیں پیدا کرنے کے مصداق ہے۔

اس وقت لفظی گولہ باری  محاذ آرائی اور خرافات سے گریز کرنا چاہیے، اختلاف تب درست مانا جاتا ہے جب کوئی مسئلہ حکومت  یا اپوزیشن کی وجہ سے پیدا ہوا ہو ، اور وہ ملکی سطح کا ہو،  لیکن اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور وبا نے  نظام حیات خواہ وہ معاشی نظام ہو ،سماجی نظام ہو، یا مذہبی معاملات ہوں ،سب کچھ تلپٹ کر دیا ہے۔ایسی صورتحال میں دست و گریباں ہونا  صائب بات نہیں ہے۔یہ وبا سیاسی قیادت کی نا اہلی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی ،یا یہ صرف ایک ملک ،خطے کا مسئلہ نہیں ہے،  البتہ یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ  سیاسی عدم ہم آہنگی کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس وطن عزیز کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، کرونا کے باعث سنگین معاملات در پیش ہیں، وبا نے معاملات زندگی کا  تیا پانچہ  کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن ملک میں سیاسی چپقلش بڑھتی جا رہی ہے، ایسے حالات میں تُو تُو میں میں “میں پڑنا غیر سنجیدہ اور غیر دانستہ فعل ہے ، جب دشمن سب کا ایک ہو تو اختلاف کی بھی گنجائش نہیں بنتی لیکن افسوس کا مقام ہے گتھم گتھی بڑھتی جا رہی ہے اور ایک عدم اعتمادکی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

حکومت یہ سمجھتی ہے وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ درست راہ پر گامزن ہے اور وہ اپوزیشن کو ساتھ لینے کے حق میں نہیں ہے اور اپوزیشن بھی اس گمبھیر صورتحال میں موجودہ حکومت کی  سست اور ناقص کار کردگی کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے، یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ     وہ عوامی مفادات پر اثر انداز ہو رہے ہیں حالتِ  جنگ میں پارلیمنٹ کی یکسوئی بڑی ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں  اس طرح کا ماڈل موجود  نہیں ہے اور جب ہم پولیٹیکل لیڈرشپ کی بات کرتے  ہیں تو اس میں صرف حکومت کی کردگی پر پھبتیاں کستے نہیں  تھکتے،  بلکہ پولیٹیکل لیڈرشپ میں اپوزیشن بھی آتی ہے اور ایسے حالات میں جب لیڈرشپ ایک ابتلا سے گزرتی ہے تو اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لاتی ہے۔

سیاسی اتفاق رائے کے فقدان کے باعث  ابھی تک کئی دیہاڑی دار مزدوروں کا ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جا سکا ہے، لاکھوں غریب لوگ امداد سے ابھی تک محروم ہیں بنیادی وجہ یہ کہ صوبوں اور وفاق کا مشترکہ پلان نہیں ہے۔ عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اور اتفاق کی ضرورت ہے یہ تب ممکن ہے  جب  روایتی بیان بازی سے پر ہیز کیا جائے۔

اگر یہ روایت بر قرار رہی تو منظر بدلنے کا انتظار کیجیے سائیں!پھر کوئی کام نہ آوے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *