عافیہ صدیقی کیس کی حقیقت

عافیہ صدیقی کیس کی حقیقت
ثنا اللہ احسن
1.بتائیے آپ میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ عافیہ پر کیا الزامات ہیں اور ان کو کن جرائم کی سزا دی گئی ہے؟
2. عافیہ کا کیس ایک بدترین مثال ہے کہ میری قوم کے اخبارات میں لکھنے والے سینکڑوں دانشوران، اور پھر کروڑوں عوام جذبات میں آ کر فورا ًعقل سے پیدل ہو جاتے ہیں۔
3. مس ریڈلی اور صدیقی فیملی چیٹ ہیں اور سالہا سال سے عافیہ کیس پر تحقیق کر رہے ہیں اور قیدی نمبر 650 کی رٹ لگا کر انہوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ قوم کے دانشوران قیدی نمبر 650 پر سینکڑوں کالم لکھ کر کروڑہا صفحات کالے کر چکے ہیں۔ کروڑوں عوام قیدی نمبر 650 پر ڈھائے جانے والے ظلم کا سن کر اپنا سیروں خون جلا چکے ہیں۔۔۔
4. ۔ یہ سب کچھ ہو چکا ہے مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ ایک صاف اور آسان سی بات دیکھ سکتا کہ یہ جھوٹ ہے کہ عافیہ قیدی نمبر 650 تھی۔ جی ہاں، یہ مس ریڈلی، صدیقی خاندان اور عمران خان کا جھوٹ ہے کہ عافیہ بگرام میں قید ی نمبر 650 ہے۔ یہ بات ناممکنات میں سے ہے کہ عافیہ قیدی نمبر 650 ہو۔
5. معظم بیگ وہ شخص ہے جس کے بیان پر عافیہ کو قیدی نمبر 650 بنا دیا گیا۔
6. مگر معظم بیگ فروری 2002 میں بگرام جیل لایا گیا، اور پھر اسکے ایک سال بعد ٹھیک 2 فروری 2003 کو وہ بگرام سے گوانتاناموبے کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ (لنک)
7. جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد تک کراچی میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھیں اور وہ یکم اپریل 2003 کو روپوش ہوئیں۔
8. جبکہ معظم بیگ جس قیدی عورت کے چیخنے کی آوازیں سننے کی بات کرتا تھا، وہ تو معظم بیگ سے بھی پہلے جیل میں موجود تھی۔
9. تو اب کوئی عقلمند یہ بتا سکتا ہے کہ پھر صدیقی فیملی، مس ریڈلی اور قوم کے دانشوران نے سالہا سال کی عافیہ کیس پر تحقیق کے بعد بھی عافیہ کو قیدی نمبر 650 کیوں بنا کر پیش کرتے رہے
10کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ عافیہ کیس میری قوم کی جذبات میں آ کر اندھا ہو جانے کی بدترین مثال ہے کہ جہاں قوم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور اُسے جذبات میں کچھ نظر نہیں آ رہا���
11. عافیہ کی کہانی کا دوسرا رُخ، انکے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کی زبانی (عافیہ کو اغوا نہیں کیا گیا، بلکہ اُس نے اپنی روپوشی کا ڈرامہ خود کیا)

12. 22 مئی 2009 کو امت اخبار میں عافیہ کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کا طویل انٹرویو شائع ہوا ہے جس کے بعد بہت سے پہلو کھل کر سامنے آئے ہیں۔
13.. کہانی کا یہ رخ سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ بنت حوا پر ظلم کا نہیں رہا، بلکہ اس سے قبل سچ اور جھوٹ کے فیصلہ کا معاملہ ہے کہ آیا واقعی اس بنت حوا پر ظلم بھی ہوا ہے کہ وہ شروع سے لیکر ابتک پوری قوم کے جذبات سے کھیلتے ہوئے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہوئے بے وقوف بنائی جا رہی ہے؟
یہ وہ بات ہے جس کی گواہی ڈاکٹر امجد کی یہ تحریر دے رہی ہے۔
14. تو اب سچ کو بے نقاب ہو جانا چاہیے۔ اگر مشرف صاحب پر قوم کی بیٹی بیچنے کا الزام ہے تو ان کو سزا ہو جائے، لیکن اگر یہ فقط تہمت ہے تو اس رائیٹ ونگ میڈیا پر ایک آدم کے بیٹے پر یہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والی تہمت کے الزام دہرانے پر جتنی بھی لعنت کی جائے وہ کم ہو گی۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی کیسا بھی دشمن ہو اس پر بیٹی کو غیروں کے ہاتھوں بیچنے کا الزام یوں لگایا جانا چاہیے۔
15. آپ میں سے ہر ایک کو بہرحال ڈاکٹر امجد کی یہ طویل تحریر خود پڑھنی پڑھنی ہو گی۔ یہاں پر ہم فقط وہ تصویر انتہائی مختصر الفاظ میں اور بہت سے ثبوت جن کا ذکر ڈاکٹر امجد نے کیا ہے، انہیں حذف کرتے ہوئے پیش کر رہے ہیں۔
18.
19. 1۔ عافیہ جنونی کیس ہے۔ خاص طور پر جب جہاد کا مسئلے آئے تو یہ جنون بے قابو ہے۔
20.
21. 2۔ عافیہ اگر جہادی تنظیموں کی ممبر نہیں تھیں، مگر پھر بھی عافیہ کے جہادی تنظیموں سے رابطے تھے، اور خالد شیخ گروپ سے بھی رابطے تھے، امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ نیو ہمپشائر میں گروپ کے ساتھ کیمپنگ کیا کرتیں جس کا مقصد جہاد کی تیاری تھا جس میں پانچ چھ بار وہ خود لے کر گئے۔ نیز انہوں نے نائٹ ویژن اسکوپ اور دو بلٹ پروف شکاری جیکٹس، سی فور دھماکہ خیز مواد بنانے کے مینوئل وغیرپ خریدے جس کی وجہ فطری دلچسپی اور شکار بتائی اور ان کی خرید و فروخت ممنوع نہیں تھی ملک سے باہر لے جانا ممنوع تھا۔
22.
23. 3۔ جب پہلی مرتبہ امریکی اداروں نے ان کا انٹرویو لیا تو عافیہ نے جان بوجھ کر ان ادارے والوں سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا، حالانکہ تمام چیزں بینک سٹیٹمنٹ وغیرہ کے ذریعے ثابت تھیں اور ناقابل انکار تھیں (یعنی بلٹ پروف جیکٹیں اور نائٹ ویژن اسکوپ وغیرہ۔ جب ڈاکٹر امجد نے اس کی وجہ پوچھی تو عافیہ کہنے لگیں کہ کافروں کو انکے سوالات کے صحیح جوابات دینا جرم ہے اور ان سے جھوٹ بولنا جہاد۔ [پتا نہیں پھر وہ کافروں کے ملک امریکہ گئی ہی کیوں تھیں]
24.
25. 4۔عافیہ کے اس جھوٹ کے بعد ڈاکٹر امجد اور عافیہ امریکہ میں مشتبہ ہو گئے اور انہیں امریکا چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہونا پڑا۔
26. ڈاکٹر امجد نے عافیہ اور اپنی ذاتی زندگی کے متعلق جو واقعات لکھے ہیں، وہ ہم یہاں مکمل حذف کر رہے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ لوگ یہ ڈاکٹر امجد کی تحریر کو ضرور پڑھیں۔
27.
28. 5۔ پاکستان شفٹ ہونے کے بعد عافیہ نے ڈاکٹر امجد کو افغانستان میں جہاد پر جانے کے لیے لڑائی کی اور نہ جانے کی صورت میں طلاق کا مطالبہ کیا [عافیہ نے امریکہ میں انہیں پڑھائی ادھوری چھوڑ کر چیچنیا اور بوسنیا جا کر جہاد کرنے کے لیے بھی کہا تھا جو بعد میں لڑائی کی صورت اختیار کر گیا تھا]
29.
30. 6۔ دیوبند مکتبہ فکر کے مشہور عالم مفتی رفیع عثمانی نے عافیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی۔
31.
32. 7۔ بہرحال طلاق ہوئی۔ مگر ڈاکٹر امجد بچوں سے طلاق کے بعد سے لیکر اب تک نہیں مل سکے ہیں۔ وجہ اسکی عافیہ اور اسکی فیملی کا انکار ہے۔ یہ ایک باپ پر بہت بڑا ظلم ہے جو بنت حوا اور اسکے حواریوں کی جانب سے کیا گیا اور ابھی تک کیا جا رہا ہے۔
33.
34. 8۔ 2003 میں عافیہ نے خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی تھی، مگر اسکو خفیہ رکھا گیا، ورنہ قانونی طور پر بچے ڈاکٹر امجد کو مل جاتے۔
35.
36. 9۔ 2003 میں ہی خالد شیخ کو پکڑا گیا، اور وہاں سے چھاپے کے دوران ملنے والے کاغذات سے پتا چلا کہ عافیہ کا اس گروپ سے تعلق ہے اور یہ کہ وہ خالد شیخ کے بھانجے سے دوسری شادی کر چکی ہیں اور نکاح نامہ پر انکے دستخط ہیں۔ پاکستانی اور امریکی ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی اور ساتھ میں عمار بلوچی کے خاندان والوں نے بھی اسکی تصدیق کی، مگر صدیقی خاندان مستقل طور پر جھوٹ بولتا رہا کہ عافیہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ بعد مین عافیہ نے عدالتی کاروائی کے دوران خود اس دوسری شادی کی تصدیق کی۔
37.
38. 10۔ پاکستان واپس آ کر عافیہ بجائے ڈاکٹر امجد کے گھر جانے کے، زبردستی اپنے والدین کے گھر جا کر بیٹھ گئی۔ پھر اُس نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ مفتی رفیع عثمانی نے عافیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود۔
39.
40. پھر عافیہ خفیہ طور پر 5 دن کے لیے امریکہ گئیں اور وہاں پر خالد شیخ کے ساتھی ماجد خان کے لیے اپنے شوہر ڈاکٹر امجد کے کاغذات استعمال کرتے ہوئے ایک عدد پوسٹ بکس کو کرائے پر لے لیا۔ ڈاکٹر امجد کی تحریر کے مطابق انہیں اس پوسٹ باکس کا علم تھا نہ عافیہ کے اس 5 دن کے خفیہ دورے کا۔
41.
42. 11۔ سن 2003 میں خالد شیخ کے پکڑے جانے کے بعد عافیہ بہت خطرے میں آ گئی اور خالد شیخ کے گروہ اور عافیہ نے بہتر سمجھا کہ وہ روپوش ہو جائیں کیونکہ انکا تعلق خالد شیخ سے ثابت تھا اور پھر خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچی سے شادی کرنے کے بعد اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر ماجد خان کے لیے پوسٹ بکس باکس لینے کے بعد یہ یقینی تھا کہ ایف بی آئی انکا پیچھا کرتی۔
43.
44. 12۔ چنانچہ ڈاکٹر عافیہ نے باقاعدہ طور پر اپنی روپوشی کا ڈرامہ کھیلا۔
45. روپوش تو عافیہ 31 مارچ سے کچھ دن پہلے ہی ہو چکی تھی، مگر پھر عافیہ نے اپنی فیملی کو فون کر کے بتایا کہ وہ باقاعدہ ساز و سامان باندھ کر کراچی سے اسلام آباد اپنے ماموں سمش الدین واجد صاحب کے پاس جا رہی ہیں۔
46. مگر پھر راستے میں روپوش ہو گئیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اس روپوشی کا جواز بھی دینا تھا کیونکہ ڈاکٹر امجد بچوں سے ملنے کی خاطر عافیہ کے خلاف قانونی کاروائی کر رہے تھے۔
47. اس لیے اس روپوشی کا جواز یہ بنایا گیا کہ عافیہ کو ایجنسی کے لوگ ہی بچوں سمیت اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
48. یوں عافیہ نہ صرف ڈاکٹر امجد سے بچ گئیں، بلکہ ان کے خاندان والے بھی ان سوالات سے بچ گئے کیونکہ اس دوران عافیہ کا نام گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا۔
49.
50. 13۔ مگر ڈاکٹر امجد نے عافیہ کے غائب ہو جانے پر یقین نہیں کیا، اور خاندان کی درزن اور دو اور لوگوں نے اسکے بعد کراچی میں دیکھا، اور داکٹر امجد لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو بطور گواہ عدالت میں بھی پیش کیا۔
51.
52. 14۔ پھر لیڈی صحافی ریڈلی نے دعوی کیا عافیہ بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 ہے۔ مگر مس ریڈلی نے یہاں چیٹنگ کی اور یہ بالکل صاف اور سیدھی سی بات تھی کی عافیہ قیدی نمبر 650 نہیں ہو سکتی کیونکہ معظم بیگ 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانا موبے منتقل ہو چکا تھا جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد 31 مارچ 2003 کو روپوش ہوئی۔
53.
54.
55.
56. 15۔ سب سے بڑا ثبوت: عافیہ کا 2008 میں اپنے ماموں شمس الدین واجد کے گھر نمودار ہونا
57.
58. ڈاکٹر امجد لکھتے ہیں دو بڑے انگریزی اخبارات میں انہیں ایک دن شمس الدین واجد [عافیہ کے ماموں] کا بیان پڑھنے کو ملا جس سے انہیں شاک لگا۔
59. شمس الدین واجد کہتے ہیں کہ سن 2008 میں عافیہ ان کے گھر ایک دن اچانک نمودار ہوئی۔ اور تین دن تک رہی۔
60.
61. ڈاکٹر امجد نے پھر بذات خود شمس الدین واجد صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تفصیلات طلب کیں۔
62. شمس الدین واجد صاحب نے جواب میں انہیں باقاعدہ ای میل تحریر کی ہے جو کہ بطور ثبوت ڈاکٹر امجد کے پاس موجود ہے۔
63.
64. شمس الدین واجد صاحب کے مطابق انہوں نے عافیہ کی ماں کو بھی وہاں پر بلایا اور انکی بھی عافیہ سے ملاقات ہوئی۔
65.
66. مزید یہ کہ عافیہ نے کھل کر نہیں بتایا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہے، مگر اس دوران میں شمس الدین واجد صاحب کو عافیہ کی ناک پر سرجری محسوس ہوئی جو زخم کی وجہ سے تھی یا پھر شکل تبدیل کرنے کی غرض سے، بہرحال عافیہ پورے عرصے نقاب کا سہارا لیتی رہی اور کھل کر سامنے نہیں آئی۔
67. پھر عافیہ نے اپنے ماموں سے ضد شروع کر دی کہ وہ انہیں طالبان کے پاس افغانستان بھیج دیں کیونکہ طالبان کے پاس وہ محفوظ ہوں گی۔ مگر ماموں نے کہا کہ انکے 1999 کے بعد طالبان سے کوئی رابطے نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں عافیہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اس پر عافیہ تیسرے دن وہاں سے غائب ہو گئی۔
68.
69. چنانچہ عافیہ نے یہ گیم کھیلی اور وہ اس پورے عرصے کے دوران خالد شیخ کے گروہ یا کسی اور جہادی گروہ کی مدد سے روپوش رہی، اور اسی گروہ کے لوگ عافیہ کے گھر والوں کو اس عرصے میں فون کر کے عافیہ کی خیریت کی خبر دیتے رہے۔
70. نیز واجد شمس الدین کی گواہی کے مطابق جس عافیہ سے سن 2008 میں ملے تھے، وہ اپنے پورے ہوش و حواس تھی۔ جبکہ بگرام کی قیدی 650 اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی۔ اس حقیقت کے بعد قیدی نمبر 650 کی حقیقت بالکل واضح ہو چکی تھی مگر افسوس کہ یہ مشرف دشمنی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ابھی تک قیدی نمبر 650 کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے حوا کے بیٹے پر تہمتیں لگائے جا رہے ہیں۔
71.
72. 16 عافیہ کے بچے تمام عرصے عافیہ کے پاس تھے
73.
74. عافیہ کے ساتھ اسکا بیٹا احمد موجود تھا جس کے متعلق پکڑے جانے پر عافیہ نے جھوٹ بولا تھا کہ احمد اسکا بیٹا نہیں بلکہ احمد مر چکا ہے اور تمام عرصے وہ احمد کو علی حسن بتلاتی رہی۔ مگر ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی کہ وہ احمد ہی ہے۔
75.
76. نیز احمد اپنی ماں کو عافیہ کے نام سے نہیں جانتا تھا، بلکہ صالحہ کے نام سے جانتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عافیہ اس پورے عرصے کے دوران اپنی آئڈنٹیٹی تبدیل کر کے صالحہ کے نام سے روپوشی کی زندگی گذارتی رہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”عافیہ صدیقی کیس کی حقیقت

  1. اچھی تحریر ہے۔لیکن دو باتیں مزید وضاحت طلب ہیں۔ایک ڈاکٹر امجد کی تحریر کا لنک لگایا جاۓ۔دوسرا جنرل مشرف اس کیس کا اہم ترین فریق بنتا ہے کہ سارا الزام ان کی شخصیت پر ہے کہ انہوں نے قوم کی بیٹی کا سودا کیا تھا۔۔لہذا جنرل مشرف صاحب کے ویوز لازمی لیئے جائیں جو موجودہ وقت میں مشکل نہی ہے کیونکہ وہ عام طور پر میڈیا کو دستیاب ہیں۔وہ اس راز سے کافی ردہ ہٹا سکتے ہیں۔باقی صاحب تحریر ے کافی محنت کی ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *