ڈاکٹر کاشف رضا کی تحاریر
ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(8)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

آج منگل کا دن تھا۔ فارما کے پیپر میں نو دن رہتے تھے۔ طیبہ سے سلیبس کور ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا۔ آج وہ بہت دکھی دکھی لگ رہی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ پری چہرہ گڑیا←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(5)۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

2 بجنے والے تھے۔   دو دن بعد وارڈ ٹیسٹ تھا۔ سر عثمان  سب کو باری باری بلا کر اپنی زیرِنگرانی اور زیرِسایہ Methods کی مشق کرا رہے تھے۔ طیبہ کلاس روم کے آخری کرسی پر بیٹھی تھی جس کے←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(4)۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اسٹوڈنٹس ویک کا تیسرا دن تھا۔ طیبہ پچھلے سال اسٹوڈنٹ ویک پر  نہیں آئی تھی۔ اس بار وہ اپنے حنان کی خاطر آئی تھی۔ وہ اپنی دوست انعم کے ساتھ پیچھے والی نشستوں پر بیٹھ کر حنان کے آنے کا←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(3)۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اسے Dissection Hall) DH )سے نفرت تھی۔ بڑے نازوں سے پلی تھی وہ۔ اسے فارمالین سے چکر آتے تھے۔ اسٹول پر بیٹھے بیٹھے وہ ہمیشہ تھک جاتی تھی۔ طیبہ ایسی ہی تھی۔ BD   Chaurasia   پڑھتے ہوئے اس کی سانس اکھڑتی←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(2)۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اتوار کی شام تھی۔ کل کی بارش کی وجہ سے آج موسم سہانا لگ رہا تھا۔ اس کے گھر کے لان میں پرندے چہک رہے تھے۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سب حمدوثنا کر رہے ہوں۔ وہ انہیں←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(1)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

آج جمعے کا مبارک دن تھا۔ کل سے عیدِ قربان کی چھٹیاں ہوجانی تھیں۔ طیبہ آج بہت پریشان تھی۔ اس کا دل یہ سوچ سوچ کر بیٹھا جا رہا تھا کہ کل کے بعد اگلے پانچ دن وہ حنان کو←  مزید پڑھیے

نقاب اتر رہا ہے۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

یہ لاش دراصل فرشتہ کی نہیں تھی ، یہ اس تعفن زدہ معاشرے کی لاش تھی جو اندرونی طور پر بے حس اور کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کتابی طور پر ہمارا معاشرہ سنہری اقدار اور روایات میں لپٹا ہوا دکھائی←  مزید پڑھیے